0
Wednesday 29 Oct 2014 09:52

بھارت کے حالیہ فسادات پر تشویش کا اظہار، جھارکھنڈ اور جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات میں مسلمان فرقہ پرستوں کو شکست دیں، مولانا قاسمی

بھارت کے حالیہ فسادات پر تشویش کا اظہار، جھارکھنڈ اور جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات میں مسلمان فرقہ پرستوں کو شکست دیں، مولانا قاسمی
اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے ملک کے کشیدہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب سے بی جے پی کی حکومت مرکز میں قائم ہوئی ہے فسادات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور ہر چھوٹی موٹی واردات کو فرقہ وارانہ شکل دیا جارہا ہے۔ انہوں نے گجرات کے ڈابھیل اور دہلی کے ترلوک پوری میں ہونے والے فسادات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ملک میں یہ چلن ہوگیا ہے کہ کشیدگی پھیلاؤ اور ووٹوں کی صف بندی کرو، انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور جھارکھنڈ میں ہونے والے اسمبلی انتخاب میں ایک خاص پارٹی اسی طریقہ کار پر عمل کرکے اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہے۔ یہ ملک کے سیکولر عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں امن قائم رکھیں اور ایسی پارٹیوں کے منصوبوں کو ناکام بنائیں۔ مولانا عرفی نے ہریانہ اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی کامیابی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی لہر کے پیچھے کوئی عوامی طاقت نہیں، بلکہ کانگریس کی کمزور قائدانہ صلاحیت اورگاؤں گاؤں زمینی سطح پر محنت نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگرسیکولر علاقائی پارٹیوں کو نظر انداز کر دینے کی وجہ سے ہی اس ملک میں سیکولر طاقتوں کے بجائے نفرت کی سیاست کرنے والی پارٹیاں کم ووٹ ملنے کے باوجود اقتدار کی کرسی پر متمکن ہوجاتی ہیں۔

انہوں نے موجودہ مرکزی حکومت کے ذریعے مخصوص اقلیتی طبقے کو روزگار اور ترقی کے مواقع سے محروم رکھنے کی درون خانہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بر سر اقتدار پارٹی گرچہ وہ مخصوص آئیڈیالوجی کی ہی پابند کیوں نہ ہو، ملک کے ہر مذہب اور ہر طبقے کی نمائندہ ہوتی ہے اور اس کو ہر طبقے کی ترقی اور خوش حالی کے لیے پالیسی وضع کرنا چاہیے۔ اگر کوئی پارٹی جمہوری طرز حکومت میں کسی طبقے کو نظر انداز کرتی ہے تو یہ اس ملک کے آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ واضح اکثریت کے ساتھ حکومت تشکیل کرنے کے بعد ملک کے طول و عرض میں جس طرح ایک خاص پارٹی کے ذریعے اشتعال انگیز اور فرقہ پرستانہ خیالات کی تشہیر اور تبلیغ کی جارہی ہے، اس سے اس ملک کی کثیر قومی مشترکہ گنگا جمنی تہذیب کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ انھوں نے پچھلے عام انتخابات کے حیران کن نتائج اور کمزور حزب مخالف کے تعلق سے کہا کہ اگر بی جے پی ملک کے جمہوری نظام میں بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے، تو اس کو عوام کے اس فیصلے کا احترام کرتے ہوئے یہاں کی کثرت میں وحدت سے عبارت تہدیبی روایات کی پاس داری کرنا چاہیے۔ اور ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کے فارمولے پر عمل کرکے دکھانا چاہیے۔

مولانا اعجاز قاسمی نے بھارت کے موجودہ نازک حالات سے سبق لیتے ہوئے ملک کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے ساتھ تعصب اور نا انصافی کا رویہ برتا جارہا ہے تو اس سے انھیں دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اس ملک کا مسلمان تقسیم ہند اور ایمرجنسی کے بدترین اور ناقابل بیان دور سے گزر چکا ہے، انھیں ان حالات سے کسی خوف و ہراس میں مبتلا ہونے کے بجائے، اس ملک کے سیکولر آئین پر یقین رکھتے ہوئے اپنے مستقبل کے تعلق سے جامع اور پختہ منصوبہ بندی کرنی چاہیے، انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ اور جموں و کشمیر اسمبلی کے انتخاب کا اعلان ہوچکا ہے، لوک سبھا، ہریانہ اور مہاراشٹر اسمبلی کے انتخابات سے سبق لیتے ہوئے سیکولر پارٹیوں کو متحد ہوکر فرقہ پرست پارٹی کا مقابلہ کرنا چاہئے اور خصوصاً مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلکی تنازعات اور علاقائیت پرستی کو پس پشت ڈال کر ایسے نمائندوں کو منتخب کریں جو ملک کی جمہوریت کو مضبوط کریں اور مسلمانوں کے لئے ان کے دل میں نرم گوشہ ہو۔
خبر کا کوڈ : 416770
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب