0
Friday 21 Nov 2014 18:59

مخالفت کے باوجود دہلی کے شاہی امام سید احمد بخاری کے بیٹے کی تاج پوشی

مخالفت کے باوجود دہلی کے شاہی امام سید احمد بخاری کے بیٹے کی تاج پوشی
اسلام ٹائمز۔ دہلی ہائی کورٹ میں جمعرات کو مرکزی حکومت اور وقف بورڈ نے دلیل دی تھی کہ جامع مسجد نئی دہلی کے شاہی امام سید احمد بخاری کی طرف سے اپنے بیٹے کو نائب امام اور جانشین بنانے کے لئے منعقد تقریب کی کوئی قانونی منظوری نہیں ہے، ہائی کورٹ کو یہ معلومات دیتے ہوئے وقف بورڈ نے اس طرح کا رویہ اپنانے پر سید احمد بخاری کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی دھمکی دی اس معاملے پر عدالت نے جمعہ کو فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کرسکتی، کورٹ نے اپنے فیصلے میں مندرجہ ذیل اہم باتوں کی طرف اشارہ کیا، مرکزی حکومت اور وقف بورڈ کا یہ کہنا ہے کہ شاہی امام احمد بخاری کی طرف سے ان کے بیٹے کی دستار بندی غیر قانونی ہے، اگرچہ ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے اس لئے اسے روکا نہیں جا سکتا، کورٹ نے وقف بورڈ کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت سے اس نے اس معاملے کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی، چونکہ امام بخاری طویل جامع مسجد میں رہے ہیں ایسے میں انہیں کسی کی ذاتی پروگرام کو کرنے سے روکا نہیں جاسکتا، چیف جسٹس جی روہیڑی اور جسٹس اریس ایڈلا کی بینچ کے سامنے جمعرات کو مرکزی حکومت اور وقف بورڈ نے شاہی امام کے خلاف سخت رویہ اپنایا تھا، دونوں نے واضح کر دیا کہ جامع مسجد، شاہی امام کی ذاتی ملکیت نہیں ہے اور وہ وقف بورڈ کے ملازم کے طور پر مسجد میں مذہبی احکامات پورا کرتے ہیں، جامع مسجد کا مکمل ملکیت و انتظامی ذمہ وقف بورڈ کا ہے، انہوں نے شاہی امام کی طرف سے بیٹے کو نائب امام بنانے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران یہ دلیل رکھا، اسی کے ساتھ 22 نومبر کو جانشین مقرر کرنے سے متعلق پروگرام پر بھی سوال اٹھنے گیا تھا، اگرچہ کورٹ نے اپنے فیصلے نے یہ بات بھی کہی ہے کہ جامع مسجد کے نائب کی تقرری اور اسے انفرادی جائیداد بنائے جانے کا الزام سنگین ہے جس پر غور کرنے کے لئے کورٹ نے وقف بورڈ اور حکومت سے اپنا موقف تفصیل سے رکھنے کو کہا ہے۔ اس سے صاف ہے کہ جامع مسجد میں بھلے ہی کل ہونے والی دستاربندی کے عمل پر روک نہیں لگی ہے لیکن کورٹ نے اس معاملے کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا اور اس پر سماعت آگے بھی جاری رہے گا۔
خبر کا کوڈ : 420699
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب