0
Friday 10 Jul 2020 20:50

بھارت نے ناانصافی کی تمام حدیں پار کیں، شیخ مصطفٰی کمال

بھارت نے ناانصافی کی تمام حدیں پار کیں، شیخ مصطفٰی کمال
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کا ایک خصوصی اجلاس پارٹی ہیڈکوارٹر پر معاون جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں رکن پارلیمان و شمالی زون صدر محمد اکبر لون، محمد سعید آخون ،شوکت احمد میر اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔ اجلاس میں جموں و کشمیر کی موجودہ دگرگوں حالات، امن و قانون کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور لوگوں کے مسائل و مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور بھارتی حکومت کی جموں و کشمیر پالیسی کو سرے سے ہی ناکام قرار دیا گیا۔ ڈاکٹر مصطفٰی کمال نے کہا کہ بھارتی حکومت نے دفعہ 370 اور 35 اے سے متعلق بھارتی عوام کو گمراہ کیا اور اس بات کے دعوے کئے گئے کہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے ساتھ ہی یہاں امن قائم ہوگا اور یہاں تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا، لیکن زمینی صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے نئی دہلی نے ناانصافی کی تمام حدیں پار کرکے جموں و کشمیر کے عوام کو غیر آئینی طور پر اپنے حقوق سے محروم کردیا ہے تب سے لیکر آج تک ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز پڑھے لکھے نوجوان عسکریت پسندی کی طرف راغب ہورہے ہیں، آئے روز معرکہ آرائیاں ہورہی ہیں، آئے روز انسانی جانوں کا اتلاف ہورہا ہے، آئے روز بے گناہ اور معصوم لوگ مر رہے ہیں، آئے روز کسی نہ کسی گھر کا چراغ گُل ہورہا ہے اور بھارتی حکومت اس زمینی صورتحال کی طر ف آنکھیں موند کر بیٹھی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہوگئیں ہیں، پینے کے پانی کی قلت سے ہاہاکار مچی ہوئی ہے، گرما میں بھی صارفین کو بجلی کی معقول سپلائی نہیں ہورہی ہے، بے روزگاری عروج پر ہے،تعمیر و ترقی کا فقدان ہے، انتظامیہ کا کہیں نام و نشان نہیں، اقتصادی بدحالی نے عوام کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت جھوٹے پروپیگنڈا کے ذریعے اپنے نااہل اور غیر دانشمندانہ فیصلوں کو صحیح قرار دینے میں لگی ہوئی ہے۔ اس دوران اکبر لون نے اقامتی قانون کو جموں و کشمیر کے عوام حقو ق پر شب خون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ بھارتی حکومت کی یہ ناانصافی تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور لکھا جائے گا۔ انہوں نے جموں میں ڈومیسائل قانون کے خلاف احتجاج کو خوش آئندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بالآخر جموں کے عوام کو ناانصافی کا احساس ہونے لگا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق سٹیٹ سبجیکٹ کے تحت محفوظ رکھے جانے چاہئیں اور 5 اگست کے بعد کے تمام فیصلوں کو واپس لیا جانا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 873631
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش