0
Friday 8 Nov 2013 20:55

لاہور کی تاریخی عزاداری (حصہ اول)

لاہور کی تاریخی عزاداری (حصہ اول)
تحریر: سید صفدر ہمدانی
ترتیب و اضافہ: سردار تنویر حیدر


لاہور میں عزاداری کے واضح اور مستند شواہد حضرت داتا گنج بخش اور بیبیاں پاکدامناں کے علاوہ شاہ حسین زنجانی اور حضرت میاں میر کے عہد میں بھی ملتے ہیں اور پھر ملا احمد ٹھٹھوی اور قاضی نوراللہ شوستری کے عہد میں بھی عزاداری پورے اہتمام سے تھی۔ تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہونے کی بجائے اگر ماضی قریب میں دیکھیں تو لاہور میں پرانے شہر میں اندرون موچی دروازے کا علاقہ اہمیت کا حامل ہے، جہاں کا محلہ شیعاں دنیا بھر میں عزاداری کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ موچی دروازے ہی کی نثار حویلی بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہے جہاں قزلباش خاندان نے اٹھارہ سو کے اوائل میں محرم کی مجالس کرنا شروع کیں اور اب ماڈل ٹاؤن کے جامعہ المنتظر اور اس سے آگے راۓ ونڈ روڈ تک پھیلی نئی آبادیوں میں قائم عزا خانوں میں سینکڑوں کی تعداد میں علم اور ماتمی جلوس نکالے جا رہے ہیں۔

نواب خاندان میں نواب مظفر علی قزلباش کو مقبولیت ملی کیونکہ وہ پنجاب کے چیف منسٹر بھی رہے۔ اس خاندان کی اہم شخصیت نواب رضا خان تھے جن کے اجداد میں سر نوازش علی خان نواب آف لاہور قرار پائے اور انکا انتقال 1890ء میں ہوا اور عزاداری کا کام انکے چھوٹے بھائی نواب ناصر علی کے ذمے آیا جو 1898ء میں انتقال کر گئے، جسکے بعد یہ انتظام نواب فتح علی کے ذمے تھا اور یہیں سے لاہور میں عزاداری کا عروج شروع ہوتا ہے۔ آج بھی لاہور میں نثار حویلی کا جلوس وقت کے اعتبار سے طویل ترین جلوس ہے جو چوبیس گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہنے کے بعد بھاٹی دروازے میں گامے شاہ پر ختم ہوتا ہے۔ مصطفیٰ علی ہمدانی نے ریڈیو پاکستان کے لئے تیار کئے جانے والے دستاویزی پروگرام میں بتایا تھا کہ گامے شاہ اور مائی گاماں دراصل دونوں مجذوب تھے، جو عاشور کے دن سر پر گتے کا تعزیہ رکھ کر کرشن نگر سے داتا دربار تک آتے تھے جہاں اسوقت دریائے روای بہتا تھا اور یہاں تعزیہ ٹھنڈا کر دیتے تھے۔ جب بابا گامے کا انتقال ہوا تو اسے داتا دربار کے عقب میں دفن کیا گیا اور اسکا نام گامے شاہ پڑ گیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نواب ناصر علی خان کے علاوہ اردو ادب کے ایک شہنشاہ مولانا محمد حسین آزاد کا بھی مزار موجود ہے۔

لاہور کا دوسرا بڑا تاریخی مرکز وسن پورہ میں ہے جہاں عزداری کی بنیاد مولانا سید علی الحائری کے والد شمس العلماء مولانا ابوالقاسم نے ڈالی تھی اور انہیں کے گھر میں بعد ازاں پہلا جامعہ المنتظر کھلا تھا جو بعد میں ماڈل ٹاؤن منتقل ہو گیا۔ کیسے کیسے نابغہ روزگار علماء اور ذاکرین تھے جو کسی مفاد اور تمنا کے بغیر ذکر امام کرتے تھے۔ خطابت اور ذاکری میں کمرشل ازم نہیں آیا تھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ شیعہ سُنی کا کوئی فرق معلوم نہیں تھا۔ سب مسلمان کیا بلکہ غیر مسلم بھی کربلا والوں کا غم مل کر منایا کرتے تھے۔ جب علامہ حائری مجلس پڑھتے علامہ اقبال سننے آتے۔ پرانے دریائے راوی کے کنارے سے کچھ دور آباد ہونے والی اس بستی میں لاہور کی اہل تشیح کی پہلی جامعہ مسجد علامہ سید علی الحائری کے والد شمس العلماء مولانا ابوالقاسم نے تعمیر کروائی تھی۔ علامہ سید علی الحائری کا خاندان عشروں تک یہاں رہا ہے۔ مصطفیٰ ہمدانی کے فرزند صفدر ہمدانی کہتے ہیں کہ وسن پورہ میں ہمارے گھر کا دروازہ اور مسجد علامہ حائری کا دروازہ بالکل آمنے سامنے تھے اور اسکے میناروں سے پانچ وقت آذان کی آواز دور دور تک مسلمانوں کو حیی علی الفلاح اور حیی علی الصلٰوۃ کی دعوت دیتی تھی۔ یہ کوئی صدیوں پہلے کی بات نہیں بلکہ چند عشروں پہلے کی بات ہے جب ہم ابھی بچے تھے اور نوجوانی کی طرف قدم بڑھا رہے تھے کہ وسن پورہ سمیت لاہور کے کتنے ہی ایسے علاقے تھے جہاں عزاداری فروغ پا رہی تھی اور ان تمام علاقوں میں سُنی اور شیعہ کا کوئی فرق نہیں تھا۔ سب مسلمان شیعہ سُنی مل کر نواسہ رسول کا غم مناتے تھے۔

علامہ حافظ کفایت حسین قبلہ کی مجالس میں بعض اوقات اہل تشیع سے زیادہ تعداد اہل سنت کی ہوتی تھی۔ اور کیوں نہ ہوتی؟ شاعر انقلاب حضرت جوش ملیح آبادی نے تو یہ سچی بات یہاں تک کہی تھی کہ ‘‘ کیا صرف مسلمانوں کے پیارے ہیں حسین‘‘۔ ہم اس بات میں کیوں اچنبھا محسوس کرتے ہیں کہ کربلا والوں کی یاد میں ہونے والی مجالس میں اہل سنت بھی شرکت کیا کرتے تھے۔ صفدر ہمدانی کہتے ہیں کہ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ ہمارے محلے میں ایک مسیحی خاندان رہا کرتا تھا جس کے سربراہ مرحوم ماسٹر رلیا رام تھے اور پھر انکے بیٹے آر سی سوڈھی پورے محلے میں ایک استاد کے طور پر بڑی عزت سے دیکھے جاتے تھے اور انہی سوڈھی مرحوم کا بھائی ‘‘جان کرسٹوفر‘‘ جو بعد میں میجر ہو کر پاک فوج سے ریٹائرڈ ہوا اور آج کل برطانیہ میں نوٹنگھم کے علاقے میں مقیم ہے وہ جان کرسٹوفر بھی، ہم سب شیعہ سنی افراد کے ساتھ مجالس میں شریک ہوتا تھا اور کبھی کبھی اہل تشیع دوستوں کے ساتھ ماتم بھی کیا کرتا تھا۔ یہی نہیں جان کرسٹوفر رمضان میں ہمارے ساتھ مل کر روزہ بھی رکھتا تھا۔

یہ تو صرف ایک مثال ہے جس کا گواہ میں خود ہوں اس کے علاوہ بھی سینکڑوں ایسی مثالیں موجود ہوں گی جہاں مختلف مسالک کے لوگ نہیں بلکہ سب مسلمان مل کر نواسہ رسول کی قربانی کی یاد مناتے ہوں گے۔ یہ ساری تباہی اور بربادی جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں پروان چڑھی، جس نے اپنی حکومت بچانے کے لئے مسالک کے درمیان نفرتوں کو فروغ دیا اور پھر یہ نفرتیں اس قدر بڑھیں کہ صحابہ اور آلِ محمد کی تعلیمات کے برعکس سپاہ صحابہ بنی جنہوں نے اسلام کی وہ خدمت کی کہ غیر مسلم کہنے لگے کہ مسلمانوں کے خلاف رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہی نہیں وہ خود ہی اپنے آپ لڑ لڑ کے مر جائیں گے۔ یہ ساری تفرقہ بازی کس نام پر ہوئی؟ اسلام کے نام پر کہ جس کا خمیر ہی امن و سلامتی سے اٹھا ہے۔
(جاری ہے)

خبر کا کوڈ : 318912
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب