1
1
Wednesday 23 Oct 2019 18:47

میں طالبان کی فیکٹری سے آیا ہوں

میں طالبان کی فیکٹری سے آیا ہوں
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

میں اوکاڑا کے پاس ایسے علاقے میں پیدا ہوا، جہاں دور دور تک کوئی شیعہ نہیں تھا اور نہ ہی کوئی شیعہ مرکز تھا۔ میں نے شیعہ کے بارے میں جو کچھ سنا، وہ سب منفی ہی تھا، بلکہ اتنا منفی تھا کہ عام آدمی کو ان کا دشمن کر دے اور لوگ ان سے ملنا جلنا ترک کر دیں۔ دینی تعلیم کے لیے جامعہ ابوبکر کراچی میں داخل ہوگیا، وہاں مجھے شدید خواہش ہوئی کہ میں شیعہ جلوس دیکھوں۔ جب میرے دوستوں کو معلوم ہوا تو سب نے کہا کہ کیوں اپنی جان کے دشمن ہو، پہلی بات تو تمہیں جانے نہیں دیں گے اور اگر چلے گئے تو وہاں تمہاری جان کو شدید خطرہ ہوگا۔ میں اور میرا دوست پکا اراد کرچکے تھے اور پروگرام فائنل تھا کہ ہم نے ہر صورت میں دس محرم کے جلوس میں جانا ہے۔ جب ہم جلوس کے لیے نکلے تو دل میں شدید خوف تھا، طرح طرح کے خیالات آ رہے تھے، بچپن کی سنی باتیں اور دوستوں کی تازہ نصیحتیں سب مشوش کر  رہی تھیں۔ خیر ہم دھڑکتے دل کے ساتھ جلوس میں پہنچ گئے، تلاشی وغیرہ کے بعد جلوس میں جانے لگے تو خوف بہت زیادہ ہوگیا، مگر جیسے جیسے ہم جلوس میں داخل ہوئے یہ خوف آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا اور تھوڑی دیر بعد ہر چیز نارمل ہوگئی۔ ہم کافی دیر جلوس میں رہے، ہر کوئی اپنا کام کر رہا تھا اور ہم میں کسی کو کوئی دلچسپی نہ تھی، جو باتیں سنی تھیں اور جو باتیں دیکھی تھیں، وہ کچھ اور کہہ رہی تھیں۔

پھر میری خواہش تھی کہ کوئی شیعہ اہل علم میرا دوست ہو اور میں شیعہ علمی مرکز کا دورہ کروں، اسلامک یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی میں ایڈمیشن لیا، تو پتہ چلا ہمارا ایک کلاس فیلو شیعہ ہے، ان سے بہت سے سوالات کیے۔ ہم نے خواہش کی کہ ہم شیعہ ادارہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس پر انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا اور جب میں جامعۃ الکوثر میں داخل ہو رہا تھا تو بہت سے وسوسے میرے ذہن میں تھے۔ اسی طرح ملاقات اور گفتگو سے پہلے بہت سے سوالات ذہن میں مچل رہے تھے، یہاں دوستوں کی باتیں سن کر سکون ملا، اپنائیت کا احسان ملا، اب میں خود اس سلسلے کو اسی طرح جاری رکھوں گا۔ یہ ایک اسکالر یا مدرسہ کے فاضل کے الفاظ نہیں ہیں، اب تک جتنے لوگوں کو بھی شیعہ علمی مراکز لے جانے کا اتفاق ہوا، سب کے سب تقریباً اس سے ملتے جلتے الفاظ سے انہی خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ جب وہ دوست اپنی ذہنی کیفیت بیان کر رہے تھے، تو مجھے اپنا پہلی بار مولانا سمیع الحق سے اکوڑہ خٹک ملنے کا منظر یاد آگیا۔ جب ہم ان سے ملنے کے لیے اکوڑہ کے دروازے پر پہنچے تھے، میرے دل کی دھڑکنیں تیز تھیں کہ ایک شیعہ اپنی مکمل شناخت کے ساتھ اکوڑہ جیسے ادارے میں داخل ہو رہا ہے۔ وہ اکوڑہ جس کا تعارف کئی حوالے سے سالوں سے معاشرہ مجھے کرا رہا ہے۔

سچی بات ہے، لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر اکوڑہ میں کسی کو پتہ چل گیا کہ کوئی شیعہ یہاں ہے، تو اس کی تکہ بوٹی کر دی جائے گی اور لاش کی بھی بے حرمتی ہوگی۔ داخل ہوئے تو کھلے چہروں سے استقبال کیا گیا، مولانا درس حدیث میں مشغول تھے، جو غالباً برصغیر کا سب سے بڑا درس حدیث ہے۔ ہمارے میزبان ہمیں وہیں درس میں لے گئے اور سٹیج پر مولانا حامد الحق صاحب کے پہلو میں بٹھا دیا۔ درس اگرچہ پشتو زبان میں تھا، اتنا پتہ چلا کہ حلال حرام کی بحث ہے اور بریلر مرغی پر کافی بحث کی گئی۔ جیسا شیعہ مدارس میں درس خارج ہوتا ہے، تقریباً درس حدیث بھی ویسا ہی تھا۔ اصل تعداد تو معلوم نہیں، مگر دو ہزار کے قریب طلاب ہوں گے، ایک طالب علم بڑے دلنشین انداز میں حدیث پڑھتا تھا اور مولانا وضاحت کرتے تھے۔ درس کے فوراً بعد نماز تھی۔ ہم نے اکوڑہ کی زیر تعمیر مسجد میں ہاتھ کھول کر شیعہ طریقے کے مطابق نماز پڑھی۔ ہمیں حیرت سے دیکھا تو ضرور گیا، مگر وہ گھورنا نہیں تھا، نماز کے بعد مولانا سمیع الحق صاحب سے ملاقات ہوئی، بڑی شفقت سے ملے اور ہماری شدید خواہش کے باوجود علمائے اسلام کانفرنس میں شرکت نہ کر پانے پر بہت معذرت کی اور وعدہ کیا کہ اگلے سال ان شاء اللہ ہر صورت میں شریک ہوں گا، مگر قضا نے مہلت نہ دی۔

ہمارے مہربان دوست، اس وقت مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے استاد اور شعبہ تحقیق کے سربراہ  مولانا اسرار مدنی صاحب، ہمیں ملنے کے لیے جامعۃ الکوثر تشریف لائے۔ میرے پہنچنے میں ذرا تاخیر ہوگئی تو  ہمارے پختون گارڈ نے پوچھا کہاں سے آئے ہیں؟ مولانا نے کہا میں طالبان کی فیکٹری سے آیا ہوں۔ گارڈ نے حیرانگی سے پوچھا طالبان کی فیکٹری۔؟ مولانا اسرار نے جواب دیا جی میں حقانیہ اکوڑہ خٹک سے آیا ہوں، آپ نے بعد میں کہنا ہے، میں پہلے کہہ رہا ہوں، اس پر زور دار قہقہہ لگا۔ برصغیر کے تمام مسالک کے علماء میں یہ مضبوط روایت تھی کہ ایک دوسرے کے پاس آنا جانا تھا۔ استفادے اور افادے کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ فرہنگی، محلی علماء اس سلسلے میں قائد کی حیثیت رکھتے ہیں، تمام مسالک کے بڑے بڑے علماء نے اس مدرسہ سے تعلیم حاصل کی۔ خاندان اجتہاد کے عظیم مجتہد سید دلدار علی غفران مآب نے یہیں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اسی طرح محدث نذیر حسین اہلحدیث اور دیگر مسالک کے علماء کی اچھی خاصی تعداد وہیں کی فاضل ہے۔ فرہنگی محلی مدرسہ کے نصاب تعلیم اور ان کے اساتذہ کی کے پڑھانے کے طریقہ کار پر تحقیق پاکستان کی مدرسہ اصلاحات میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، برادرم محمد جان اخونزادی نے اس پر کام شروع کیا تھا، معلوم نہیں کہاں پہنچا۔؟

کتنا خوبصورت ماحول ہوگا کہ ایک ہی استاد کے پاس شیعہ، بریلوی، اہلحدیث اور دیوبندی مل کر تعلیم حاصل کر رہے ہوں گے۔ محترم ثاقب اکبر صاحب کے بقول کہ عراق کے چار مراجع اعلیٰ میں شامل آیۃ اللہ حافظ بشیر حسین نجفی نے جامعہ نعیمیہ لاہور سے تعلیم حاصل کی اور آج پوری دنیا میں شیعہ ان کی تقلید کرتے ہیں۔ جامعۃ المنتظر کے بانی اور پہلے سربراہ شیخ الجامعہ مولانا اختر عباس نجفی نے بھی جامعہ نعیمیہ سے تعلیم حاصل کی۔ قائد ملت جعفریہ مفتی جعفر حسین مرحوم نے ابتدائی تعلیم گوجرانوالہ میں اہلسنت اساتذہ مولانا چراغ علی اور حکیم قاضی عبد الرحیم سے حاصل کی۔ مشہور محقق اور فقہائے ہند اور اس جیسی کئی کتب کے مصنف اسحاق بھٹی صاحب نے بزم ارجمندان کے نام سے اپنے ہم عصر لوگوں کا تذکرہ لکھا، جس میں مفتی جعفر حسین کے پاس آنے جانے اور ان سے ملاقاتوں کو لکھا ہے، حالانکہ اسحاق بھٹی صاحب ایک بڑے اہل حدیث عالم تھے۔

معروف محقق برادرم عمار خان ناصر ڈائریکٹر شریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ نے واقعہ سنایا تھا، ابھی تصدیق کے لیے فون کیا تو انہوں نے پورا واقعہ اپنے والد کی زبانی ہی بھجوا دیا۔ ان کے والد اور مشہور محقق ابو عمار مولانا زاہد الراشدی لکھتے ہیں، صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے ابتدائی دور کی بات ہے کہ راقم الحروف مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں باغ جناح کی جانب اپنے کمرہ کی کھڑکی کھول کر اس کے ساتھ بیٹھا تھا کہ گلی سے مولانا مفتی جعفر حسین صاحب چند ساتھیوں کے ہمراہ گزرے۔ مفتی صاحب اہل تشیع کے قومی سطح پر بہت بڑے عالم تھے اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے بانی و سربراہ تھے، انہوں نے گلی سے گزرتے ہوئے مجھے دیکھا تو جامع مسجد کی سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں آگئے اور میں نے اٹھ کر ان کا خیرمقدم کیا اور احترام سے بٹھایا۔ مفتی صاحب کہنے لگے کہ میں ماضی کی یاد تازہ کرنے کے لیے اوپر آگیا ہوں، میں اس کمرہ میں چار سال تک پڑھتا رہا ہوں اور حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ میرے استاذ ہیں۔

وہ تھوڑی دیر بیٹھے اور اپنے دورِ طالب علمی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے رخصت ہوگئے۔ اب سوچتا ہوں کہ دس پندرہ برس میں صورتحال کس قدر بدل گئی ہے کہ ان باتوں کا اب تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مولانا قاسم نانوتوی کا میر حامد لکھنوی کے پاس آنا جانا تھا اور مکالمہ ہوتا تھا، اس کی تفصیل ملفوظات قاسمیہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اکابر کے ان تمام واقعات کے لکھنے کا مقصد فقط اور فقط یہی تھا کہ پچھلی چند دہائیوں میں جس اختلاف کو بین الاقوامی حالات کے نتیجے بڑھاوا ملا، جس نے ہمیں چار دیواریوں میں مقید کر دیا۔ اب ان سے نکلنے کا وقت ہے، اب کچھ نیا سوچنے اور نیا کرنے کا وقت ہے، وہ نسل جس کی تربیت خاص مقاصد کے لیے فاصلے بڑھانے پر کی گئی تھی، وہ گزر چکی ہے۔ ریاست نے نئے حالات میں نئے پیمانے سیٹ کیے ہیں۔ اب نئے عزم کے ساتھ نئے جوان میدان عمل میں آرہے ہیں، جو ان فاصلوں کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ نفرت کے تاجروں کی دکانیں بند ہونے کو ہیں اور محبت کی باد نسیم آیا چاہتی ہے۔ بقول شاعر؎
اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دُور کا آغاز ہے
خبر کا کوڈ : 823659
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

خلیل اللہ سیفی جعفری ولدحافظ سیف اللہ جعفری
Pakistan
کم از کم مدارس کے سالانہ جلسوں میں یہ کوشش کی جا سکتی ہے کہ بین المذاھب میں سے ہر فرقہ کا ایک ایک عالم مدعو کیا جائے، تاکہ موجودہ تعصب کی فضا کو کِسی حد تک کم کیا جاسکے۔ اگر میری رائے پر عمل کیا گیا تو ان شاء اللہ حالات بہتری کی طرف راغب ہوں گے۔۔۔ شکریہ