0
Sunday 29 Jan 2012 15:14

دفاع پاکستان کونسل خفیہ قوتوں کی جانب سے تشکیل دیا گیا اتحاد ہے، قاری محبوب الرحمان

دفاع پاکستان کونسل خفیہ قوتوں کی جانب سے تشکیل دیا گیا اتحاد ہے، قاری محبوب الرحمان
جمعیت علماء اسلام (ف) خیبر پختونخوا کی شوریٰ کے رکن قاری محبوب الرحمان کا بنیادی تعلق ضلع ایبٹ آباد کے گائوں گھمانواں سے ہے اور آپ یہیں پیدا ہوئے، ابتدائی دینی تعلیم سعودی عرب سے حاصل کی، اس کے بعد پاکستان تشریف لے آئے اور یہاں دینی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا، دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جمعیت علماء اسلام میں شمولیت اختیار کر لی اور مختلف عہدوں پر فائض رہے، آپ ایبٹ آباد سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات میں بھی حصہ لے چکے ہیں، آج کل آپ تاریخی الیاسی مسجد ایبٹ آباد میں خطیب کی حیثیت سے بھی فرائض سر انجام دے رہے ہیں جبکہ جے یو آئی ایبٹ آباد کے ضلعی سرپرست بھی ہیں، اسلام ٹائمز نے قاری محبوب الرحمان کیساتھ انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔

اسلام ٹائمز:سب سے پہلے ہمیں یہ بتائیں کہ ہزارہ ڈویژن میں مذہبی جماعتوں کے مابین کس حد تک ہم آہنگی ہے۔؟
قاری محبوب الرحمان: جہاں تک ہزارہ ڈویژن کا تعلق ہے تو آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا کہ یہاں فرقہ ورانہ واقعات ہوئے ہوں، یہاں مذہبی جماعتوں کے مابین مکمل ہم آہنگی ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اس بات پر عمل کرتے ہیں کہ اپنا مسلک چھوڑو نہیں اور دوسرے کو چھیڑو نہیں، جب بھی مختلف مسالک کے مذہبی ایام آتے ہیں تو ہم ایک دوسرے سے مکمل تعاون کرتے ہیں، جس طرح ملک کے بعض علاقوں میں تنگ نظری پائی جاتی ہے ویسی صورتحال ہزارہ ڈویژن میں نہیں، ہزارہ میں اہل حدیث، دیوبند، بریلوی اور اہل تشیع مسلک کے پیرو کار مقیم ہیں لیکن ایسا کوئی بڑا اختلاف نہیں پایا جاتا، نظریات کا اختلاف ہوتا ہے، لیکن اس اختلاف کو ہم نے کبھی بھی تصادم کی صورت میں نہیں بدلنے دیا۔

اسلام ٹائمز:جمعیت علماء اسلام ف نے ایبٹ آباد سمیت ہزارہ ڈویژن میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے کیا اقدامات کیے ہیں۔؟
قاری محبوب الرحمان: جے یو آئی لوگوں کی رہنمائی کرتی ہے کہ وسعت نظر اور وسعت قلبی کے ساتھ معاملات کو دیکھیں اور انہیں حل کریں، یہاں ہمارا ایک بہت بڑا حلقہ ہے، ہمارے حلقے میں مختلف نظریات کے لوگ موجود ہیں لیکن ہم انہیں ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، ایم ایم اے کے دور حکومت میں بھی لوگوں کی جانب سے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا گیا، ہم نے اس وقت بھی کوشش کی کہ معاملات کو بیلنس رکھا جائے۔

اسلام ٹائمز:آپ کے خیال میں کیا متحدہ مجلس عمل کی بحالی ممکن ہے اور اس وقت اس کی بحالی میں رکاوٹ کون ہے۔؟
قاری محبوب الرحمان: متحدہ مجلس عمل کی بحالی پاکستان کے عوام کی اشد ضرورت ہے کیونکہ مذہبی جماعتوں کا اتحاد انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے، پاکستان میں جو بھی اتحاد قائم ہوتے ہیں ان کے پیچھے بعض ایسی خفیہ قوتیں ہوتی ہیں جو انہیں اپنے مفادات کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں، اور آ ج بھی وہی قوتیں یہ اتحاد قائم نہیں ہونے دے رہیں، ماضی ہمیں یہ سب بتا چکا ہے، جب مجلس عمل کا دور تھا تو آپ نے دیکھا کہ اس صوبے سمیت فاٹا میں امن و امان کی جو صورتحال آج درپیش ہے وہ اس وقت نہیں تھی، افغانستان کے ساتھ بھی اس نوعیت کے مسائل نہیں پیدا ہوئے تھے، تو میں سمجھتا ہوں کہ جو قوتیں مذاکرات پر یقین نہیں رکھتیں اور اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتی ہیں اس وقت تصادم کی صورتحال پیدا ہوتی ہے، جو قوتیں مجلس عمل کو بحال نہیں ہونے دے رہیں وہ بہت بڑی غلطی کر رہی ہیں، اس کے نقصانات ملک اور قوم کو برداشت کرنا پڑینگے اور اگر ایسا ہوا تو یہ ٹھیک نہیں ہو گا۔

اسلام ٹائمز:ایک تاثر یہ ہے کہ جنرل مشرف نے اپنے مفادات کی خاطر متحدہ مجلس عمل تشکیل دی اور اب شائد اسٹیبلشمنٹ اس اتحاد کو بحال نہیں ہونے دے رہی، اس بارے میں آپ کیا کہیں گے۔؟
قاری محبوب الرحمان: متحدہ مجلس عمل مشرف دور سے قبل وجود میں آئی اور الیکشن کے وقت جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد ہوا، ہم سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے کراچی سے خیبر تک کوئی اتنی کامیابی حاصل نہیں کی جبکہ جے یو آئی کی سیاسی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ بلوچستان اور موجودہ خیبر پختونخوا میں ہماری جماعت نے اپنا پارلیمانی وجود برقرار رکھا، جبکہ دوسری مذہبی جماعتوں نے اتنی کامیابی حاصل نہیں کی، اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ جمعیت علماء اسلام کی وسعت نظری تھی کہ اس نے اپنی سیٹوں پر اپنا حق چھوڑ کر دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد کیا، اور اگر اب اتحاد نہ کیا گیا تو یہ غیر دانشمندی ہو گی۔

اسلام ٹائمز:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مرکزی سطح پر مذہبی رہنماء حقیقی طور پر اتحاد بین المسلمین کیلئے کوشاں ہیں۔؟
قاری محبوب الرحمان: کوئی بھی عالم دین نہیں چاہتا کہ اتحاد نہ ہو، اگر مذہبی اتحاد کی بات کی جائے تو وہ پہلے ہی موجود ہے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی مسلک کے پیروکاروں کیلئے مشکلات پیدا کی گئی ہوں، اور جہاں تک سیاسی اتحاد کا تعلق ہے تو اس بارے میں یہ کہوں گا کہ یہ وہ علماء کر سکتے ہیں کہ جن کے پاس سیاسی قوت موجود ہو، عوام بھی چاہتے ہیں کہ دینی جماعتوں کے مابین سیاسی اتحاد بھی قائم ہو، اور انتخابات میں ایسی ایڈجسٹمنٹ کی جائے کہ گزشتہ دو انتخابات میں جن جماعتوں کو جن حلقوں میں اکثریت رہی ہے وہ سیٹیں اسی جماعت کو دی جائیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کافی عرصہ سے دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے، گزشتہ دنوں بھی خانپور میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا، آپ کے خیال میں ایسے واقعات میں کون سی قوتیں ملوث ہو سکتی ہیں۔؟
قاری محبوب الرحمان: اس بارے میں یہ کہوں گا کہ آپ اپنے سے کمزور کسی شخص کو تھپڑ ماریں تو اگر اس میں تھپڑ مارنے کی قوت نہ ہو تو وہ کم از کم گالی تو دے سکتا ہے، تو میں سمجھتا ہوں کہ دہشتگردی ہماری خارجہ پالیسی کا ردعمل ہے، اگر ہم دوسروں کے اشاروں پر نہ چلیں تو آج بھی پاکستان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں، اگر یہ کہیں کہ اس صورتحال کے ذمہ دار طالبان ہیں تو جب افغانستان میں طالبان کا کنٹرول تھا تو ایسے حالات اس وقت افغانستان میں کیوں نہیں پیدا ہوئے؟ دنیا جانتی ہے کہ اس وقت افغانستان میں ہشیش اور افیون کی کاشت نہ ہونے کے برابر تھی، اصل میں ہمارا میڈیا امریکی اور یورپی میڈیا سے متاثر ہے، اور غیر ملکی میڈیا ایسی باتوں کو اچھالتا ہے جو ان ممالک کے مقاصد کی تکمیل میں مددگار ہوتی ہیں، البتہ گزشتہ کچھ عرصہ میں ہمارے میڈیا کا کردار کچھ بہتر ہوا ہے، اور میں امید کرتا ہوں کہ وقت کیساتھ ساتھ ہمارا میڈیا مزید میچور ہو جائے گا۔

اسلام ٹائمز:جمعیت علماء اسلام پاکستان میں فرقہ واریت اور شدت پسندی کا باعث بننے والی کالعدم جماعتوں کو کس نگاہ سے دیکھتی ہے۔؟
قاری محبوب الرحمان: جو جماعتیں آج کالعدم ہیں ان پر پابندی امریکہ کے کہنے پر لگائی گئی، کسی بھی دینی جماعت کے اندر اگر ایسے لوگ موجود ہوں جو خلاف قانون اور خلاف آئین کام کرتے ہیں تو ان کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے، جے یو آئی کا ایسا کوئی ایجنڈا نہیں ہے کہ مسلح جدوجہد کے ذریعے انقلاب لایا جائے، ہم پارلیمانی انداز میں آئین کے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں۔

اسلام ٹائمز: جے یو آئی نے دفاع پاکستان کونسل میں کیوں شمولیت اختیار نہیں کی۔؟
قاری محبوب الرحمان: جہاں تک اس پلیٹ فارم کے نام کا تعلق ہے تو دفاع پاکستان کیلئے جمعیت علماء اسلام نے ہر موقع پر اپنا کردار ادا کیا، بعض خفیہ قوتیں اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے اپنی ہم مزاج قوتوں کو سامنے لاتی ہیں، تاکہ ان کے کندھے پر بندوق پر رکھ کر بات کی جائے، ایسی قوتوں کو معلوم ہے کہ جمعیت علمائے اسلام ان کے مقاصد کی تکمیل کیلئے استعمال نہیں ہو سکتی، دفاع پاکستان کونسل بعض خفیہ قوتوں نے اپنے مقاصد کیلئے تشکیل دی ہے، اور اس میں شک کی کوئی بات بھی نہیں، ہماری خارجہ پالیسی کے ٹیڑھے رخ کو سیدھا کرنے کیلئے یہ اقدامات کئے جا رہے ہیں، آج کل جو صورتحال نظر آ رہی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بظاہر حکومت کسی اور کی ہے اور درحقیقت کسی اور کی۔

اسلام ٹائمز:پاکستان کو توانائی کے بہت بڑے بحران کا سامنا ہے، دوسری جانب ایران اور چین نے ہمیں بجلی اور گیس کی پیشکشیں کی ہوئی ہیں، آپ کے خیال میں کیا وجوہات ہو سکتی ہیں کہ ہمارے حکمران اب تک ان پیشکشوں سے فائدہ نہیں اٹھا پائے۔؟
قاری محبوب الرحمان: اقتدار میں آنے والی ہر جماعت سوچتی ہے کہ معلوم نہیں آئندہ دور ہمارا ہو گا کہ نہیں، یہ سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کی سیاست کرتی ہیں، اسی وجہ سے ملک و قوم کو فائدہ نہیں پہنچتا، آج بھی حکومت یہی رٹ لگا رہی ہے کہ ملک کو درپیش بحران سابقہ حکومتوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے، عوام ان سے پوچھتے ہیں کہ انہیں بھی اقتدار میں آئے ہوئے 4 سال ہو چکے ہیں، انہوں نے کیا اقدامات کئے؟ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہماری معیشت تباہ ہو چکی ہے، بیرونی قرضے روز بروز بڑھ رہے ہیں، صنعتیں اور کارخانے بند ہو چکے ہیں، بیروزگاری اور غربت بڑھ رہی ہے۔

اسلام ٹائمز:آپ کے خیال میں پاکستان سے امریکی مداخلت کے خاتمے کیلئے کس قسم کے اقدامات کی ضرورت ہے۔؟
قاری محبوب الرحمان: امریکی مداخلت کے خاتمے کیلئے ہمیں غیور قوم کی حیثیت سے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی مرتب کرنی چاہئے، اگر ہم آج اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں اور یکجہتی ہو تو دنیا کی کوئی طاقت ہمارے ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، ہمارے حکمران غلامی کی حیثیت سے ہمارے ملک کو چلانا چاہتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہماری خارجہ پالیسی درست ہو تو پاکستان ایسا ملک ہے جو امریکہ کو صحیح جواب دے سکتا ہے، ہمارے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ اسرائیل، افغانستان، امریکہ اور بھارت ہماری فوج اور آئی ایس آئی کیخلاف ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہماری صلاحیتیں ہیں تب ہی یہ ممالک ہماری مخالفت کر رہے ہیں، اگر ہم اپنی صلاحیتوں کا درست استعمال کریں تو انشاءاللہ مستقبل میں پاکستان خوشحال ہو گا۔
خبر کا کوڈ : 133943
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب