0
Sunday 11 Nov 2012 23:20

انگریز کی غلامی کے بعد امریکہ کی غلامی میں دیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمان

انگریز کی غلامی کے بعد امریکہ کی غلامی میں دیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمان
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک کو انگریز کی غلامی کے بعد امریکہ کی غلامی میں دیا جا رہا ہے۔ ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس کی غلامی قبول کریں یا اس سے اسی جذبے سے جنگ کریں جو انگریز کے خلاف اپنایا تھا۔ مسلمان ممالک اور امت مسلمہ کو منظم ہو کر اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہے۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں ہر طرف خون ہے اور موت رقص کر رہی ہے، یہ اتحاد کا وقت ہے اور ہمیں اپنی مٹی کا قرض ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے کہا تھا کہ امریکی غلامی قبول کرلو، میں نے جواب دیا کہ ہمیں غلامی سے نجات کے لیے لڑنا سکھایا گیا ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان میں جنرل مشرف جنگ لے کر آیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ علماء دیوبند نے عسکریت سے لاتعلقی اختیاری کی، مگر پھر بھی انتہا پسندی کا الزام دیا جا رہا ہے۔ اب ملک اور معاشرے میں مغربی اثرات بڑھانے کے لیے قانون سازی ہو رہی ہے۔ اسلحہ کے زور پر اسلام نافذ کرنا اگر جرم ہے تو پارلیمنٹ کے ذریعے اسلام نافذ نہ کرنا اس سے بھی بڑا جرم ہے۔ نوجوانوں میں تبدیلی کی خواہش کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔ اس سے ملک میں مغربی معاشرہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ایم ایم اے کی بدحالی کی پہلے وجوہات تلاش کریں، ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا انہوں نے ملی یکجہتی کونسل کی بحالی کے وقت اس کے زوال کے اسباب ڈھونڈے تھے، اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ایم ایم اے کی بحالی کیلئے یہ شرط کیوں ہے۔
خبر کا کوڈ : 211080
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب