0
Tuesday 28 May 2013 20:30

کراچی کی تمام نشستوں پر فوج کی مکمل نگرانی میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں، آل پارٹیز کانفرنس

کراچی کی تمام نشستوں پر فوج کی مکمل نگرانی میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں، آل پارٹیز کانفرنس
رپورٹ: ایس زیڈ ایچ جعفری

پاکستان تحریک انصاف کے تحت منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں شریک جماعتوں کے رہنماوں نے ایک مشترکہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کی تمام نشستوں پر پاک فوج کی مکمل نگرانی میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔ کراچی سے بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم کے خاتمے کیلئے ریاستی ادارے بھرپور کوششیں کریں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کو غیر مسلح کیا جائے اور ان ونگز میں موجود دہشت گردوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔ ملک بھر میں فوری طور پر مردم شماری کرائی جائے اور نادرا کی نگرانی میں موجودہ ووٹر لسٹوں کو ازسرنو مرتب کیا جائے جبکہ انتخابی دھاندلی کرنے والے عناصر کے خلاف سپریم کورٹ فوری ایکشن لے۔ الیکشن کمیشن انتخابی ٹریبونلز کی تعداد میں اضافہ کرے اور ان ٹریبونلز میں حاضر سروس ججوں کو شامل کیا جائے۔ حالیہ انتخابات میں جن حلقوں میں دھاندلی ہوئی ہے وہاں کاسٹ کئے گئے ووٹوں کی جانچ پڑتال کیلئے نادرا سے مدد لی جائے اور انگوٹھے کی تصدیق کا عمل فوری شروع کیا جائے اور اس کا آغاز کراچی سے کیا جائے۔ 

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کراچی کے مقامی ہوٹل میں کیا گیا۔ آل پارٹیز کانفرنس میں تحریک انصاف کے رہنماوں مخدوم شاہ محمود قریشی، نادر اکمل لغاری، ڈاکٹر عارف علوی، پاکستان پیپلز پارٹی کے تاج حیدر، مسلم لیگ (ن) نہال ہاشمی، جماعت اسلامی کے محمد حسین محنتی، مسلم لیگ (ق) کے حلیم عادل شیخ، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سید جلال محمود شاہ، پاکستان سنی تحریک کے مطلوب اعوان، مسلم لیگ فنکشنل کے جام مدد علی، جمعیت علمائے اسلام (س) کے مفتی عثمان یار خان، مہاجر قومی موومنٹ کے شمشاد قریشی، جمعیت علماء پاکستان کے صاحبزادہ اویس نورانی، نیشنل ورکرز پارٹی کے یوسف مستی خان، مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے سیکرٹری جنرل علامہ سید صادق رضا تقوی اور دیگر سیاسی، قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کے رہنماوں نے شرکت کی۔
 
آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماء شاہ محمود قریشی نے کہا کہ شفاف انتخابات ہم سب کی ضرورت ہیں۔ شفاف انتخابات کے بغیر ملک کے ادارے مضبوط نہیں ہوں گے اور نہ ہی ملک میں جمہوریت مستحکم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن و امان اور استحکام کے بغیر ملک کی خوشحالی ممکن نہیں کیونکہ پورے ملک کی معیشت کا دار و مدار کراچی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں متعدد بار آئین کو توڑا گیا اور جمہوریت کی بساط کو لپیٹا گیا لیکن گذشتہ پانچ سالہ جمہوری دور حکومت کو مکمل ہونے سے ملک کو ایک مثبت راہ ملی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 1970ء کے بعد 2013ء کے انتخابات میں عوام کا جوش و خروش اور ووٹنگ کا ٹرن آوٹ قابل دید تھا اور اس تمام عمل کو دیکھ کر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اب عوام بالخصوص اس ملک کے نوجوان اور خواتین اس ملک کو ایک مثبت سوچ کی جانب گامزن ہونا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر تمام جماعتوں کے تحفظات اور بالخصوص کراچی میں انتخابات میں دھاندلیوں کے باوجود تمام سیاسی جماعتوں کا انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنا ایک مثبت پیش رفت ہے کیونکہ اب تک کسی بھی ایک سیاسی جماعت نے کسی کا تختہ الٹنے کی بات نہیں کی ہے۔ 

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ عدلیہ پر پوری قوم کا اتفاق بھی ہے۔ ملک کے جمہوری اداروں کے تحفظ کیلئے عدلیہ کا کردار اہم ہے لیکن افسوس کہ عدلیہ کے زیر نگرانی ہونے والے موجودہ انتخابات میں ریٹرننگ افسران اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کا کردار سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک بھر میں مختلف سیاسی جماعتوں میں موجود عکسری ونگز کے خاتمے کے بغیر امن ممکن نہیں۔ کراچی کو اسلحے سے پاک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی خوشحالی ملک کی خوشحالی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کراچی میں قیام امن کیلئے جہاں عسکری ونگز کا خاتمہ اور شہر کو اسلحہ سے پاک کرنا ضروری ہے وہاں پر یہاں کی پولیس سمیت دیگر امن و امان کی بحالی کے اداروں کو بھی غیر سیاسی بنانا ہوگا۔
 
آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنماء تاج حیدر نے کہا کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران کراچی میں پیپلز پارٹی کے 522 سے زائد کارکنان کو شہید کیا گیا۔ ہم نے اس کے باوجود بڑے بڑے سمجھوتے کئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے فیصلوں کو غلط کہا گیا لیکن ہم نے تمام فیصلے اور سمجھوتے جمہوریت کے استحکام اور بقاء کیلئے کئے۔ تاج حیدر نے مزید کہا کہ حالیہ انتخابات کے نتائج پر تحفظات ہونے کے باوجود ہم نے انہیں اس لئے تسلیم کیا ہے کہ ملک میں جمہوریت کا پہیہ رواں دواں رہے۔ 

جماعت اسلامی کے رہنماء محمد حسین محنتی نے کہا کہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ نے 11 مئی کو ہونے والے انتخابات میں تاریخ کی ریکارڈ توڑ بدترین دھاندلی کی اسی وجہ سے ہم نے پولنگ کا بائیکاٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں دوبارہ پاک فوج کی نگرانی میں انتخابات ہونے چاہیئیں۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کے رہنماء جام مدد علی نے کہا کہ کراچی یا سندھ کا امن درست نہیں ہو گا تو ملک میں بھی امن و امان قائم نہیں ہو سکتا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (س) کے مفتی عثمان یار خان نے کہا کہ کراچی میں قیام امن کیلئے تمام جماعتوں کو مشترکہ جدوجہد کرنی ہو گی۔ مہاجر قومی موومنٹ کے رہنما شمشاد غوری نے کہا کہ کراچی میں انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی۔ الیکشن کمیشن کراچی کے انتخابات کو کالعدم قرار دے۔ تحریک انصاف کے رہنماء ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ کراچی کے عوام تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔ تبدیلی کا آغاز ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کراچی کے انتخابات پر سوموٹو ایکشن لے۔ سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے جلال محمود شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نادرا کی نگرانی میں ملک بھر کی ووٹر لسٹوں کو ازسر نو مرتب کرے اور ملک بھر میں درست حلقہ بندیاں کی جائیں۔
 
مسلم لیگ ﴿ن﴾ کے رہنماء نہال ہاشمی نے پاکستان تحریک انصاف کے تحت منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ میں تشکیل دی جانے والی نئی حکومت میں دہشت گردوں کے بجائے اچھے لوگوں کو شامل کرے۔ پاکستان سنی تحریک کے ملک مطلوب اعوان نے کہا کہ جمہوری نظام کی مضبوطی کیلئے ملک بھر میں شفاف بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔ مسلم لیگ ق کے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی۔ تمام صوبوں میں ملنے والا مینڈیٹ جعلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کی توہین کی گئی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کراچی کے سیکرٹری جنرل علامہ صادق رضا تقوی نے کہا کہ شہر میں امن کیلئے ہر سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اپنا عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح این اے 250 میں پاک فوج کی کڑی نگرانی میں دوبارہ الیکشن کرائے گئے کہ ٹھپہ مافیا بالکل بےبس نظر آئی اور عوام نے آزادی کے ساتھ حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کو مسترد کر دیا اسی طرح سندھ خصوصاً کراچی میں انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دے کر پاک فوج کی کڑی نگرانی میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔ 

جمعیت علماء پاکستان کے صاحبزادہ اویس نورانی نے کہا کہ حالیہ انتخابات الیکشن نہیں پری پیڈ الیکشن تھے۔ پاکستان عوامی تحریک کے سید علی اوسط نے کہا کہ نظام کی تبدیلی کے بغیر ملک کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ نیشنل ورکرز پارٹی کے یوسف مستی خان نے کہا کہ ہم دہشت گردوں کا مقابلہ جمہوریت اور الیکشن کے ذریعہ ہی کر سکتے ہیں ملک کو چلانے کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ آل پارٹیز کانفرنس میں متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی نے شرکت نہیں کی۔ اعلامیہ میں پیپلز پارٹی اور پاکستان عوامی تحریک نے فوج کی نگرانی میں الیکشن کرانے کی مخالفت کی۔
خبر کا کوڈ : 268374
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب