0
Sunday 26 Jun 2011 00:00

ملک میں دہشت گردی کیخلاف جنگ پاکستان کی نہیں بلکہ امریکہ کی ہے، اسداللہ بھٹو

ملک میں دہشت گردی کیخلاف جنگ پاکستان کی نہیں بلکہ امریکہ کی ہے، اسداللہ بھٹو
کراچی:اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی سندھ کے امیر و سابق رکن قومی اسمبلی اسداللہ بھٹو نے کہا کہ وانا وزیرستان سمیت ملک میں دہشت گردی کیخلاف جنگ پاکستان کی نہیں بلکہ امریکہ کی جنگ ہے، آصف زرداری نے اوباما کے ساتھ صدر پاکستان کی طرح نہیں بلکہ ایک امریکی غلام کی طرح بات کر کے پوری قوم کی توہین کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع گھوٹکی کے نواحی گاؤں گل بیگ گڈانی میں جماعت اسلامی کے رابطہ عوام مہم کے سلسلے میں منعقدہ ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسداللہ بھٹو نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ نے فوجی آپریشن کو مکمل طور پر مسترد کر دیا، حالیہ اجلاس میں اپنی جنگ کہنے کے بجائے امریکہ کے ساتھ تعلقات و پالیسی پر نظرثانی کی بات کی گئی۔ صدر پاکستان کا حالیہ بیان پارلیمنٹ کی 2008ء اور 2011ء کی قراردادوں کے منافی ہے، وہ قوم کو بتائیں کہ امریکی جنگ کو پاکستان کی جنگ قرار دینے کا فیصلہ کہاں ہوا ہے۔؟
انہوں نے کہا کہ اسلام امن و خوشحالی کا علمبردار ہے، لیکن نبی کریم ص کے دور سے لے کر آج تک کفار مسلمانوں کے معاشرے میں دہشت گردی و معاشی بدحالی کے پھیلانے کیلئے کوشاں رہے ہیں۔ نائن الیون کے بعد امریکہ اور نیٹو ممالک اس ایجنڈا پر عمل پیرا ہیں۔ آج پاکستان کی اقتصادیات امریکی جنگ کے نتیجے میں تباہ ہو کر رہ گئی ہے، ہماری قومی آمدنی کا ایک بڑا حصہ اس پر خرچ ہو رہا ہے، ایک تصوراتی دہشت گردی کا ہوا کھڑا کر کے افغانستان، عراق اور پاکستان سمیت اس علاقے میں امریکہ نے اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ عراق پر حملے میں امریکہ نے جھوٹ بولنے کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔
 انہون نے کہا کہ خود وزیراعظم بجٹ اجلاس کے موقع پر اعتراف کر چکے ہیں کہ پاکستان کی معاشی تباہی کی وجہ امریکی مسلط کردہ جنگ ہے، پاکستان میں جاری فوجی آپریشن کو اپنی جنگ قرار دینا افسوس ناک ہے، صدر پاکستان امریکہ کی بولی بول رہے ہیں، امریکہ کی مسلط کردہ دہشت گردی کی جنگ سے پہلے پاکستان کے اندر امن اور معیشت کی صورتحال بہتر تھی اور آج ڈرون حملوں و ایبٹ آباد اور مہران بیس سانحات جیسے اقدامات سے دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن وسنت اور پارلیمنٹ کی منظور کردہ قراردادوں کی روشنی میں امریکہ کے ساتھ تعلقات و پالیسیوں پر نظرثانی کر کے ملکی مفاد اور عوامی امنگوں کے مطابق پالیسیاں بنائی جائیں۔
خبر کا کوڈ : 81088
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب