0
Thursday 13 Nov 2014 22:19

اردو شاعری میں کربلا کا تاثر (1)

اردو  شاعری میں کربلا کا تاثر  (1)
تحریر: حسن رضا نقوی

کربلا نہ بیعت کے اصرار و انکار کا کوئی بے سمجھا بوجھا فوجی مناظرہ ہے اور نہ ہی کربلا کوئی حادثاتی واقعہ ہے، کربلا نہ کوئی اتفاقی دھماکہ ہے اور نہ ہی کربلا حصولِ اقتدار کے سلسلہ میں رسہ کشی ہے، کربلا نہ کوئی ناگہانی طور پر بھڑک اٹھنے والی جنگ ہے اور نہ ہی کربلا دنیا کی افزوں طلبی کے لئے کوشش کا نام ہے بلکہ کربلا دوسرے لفظوں میں حق و باطل کا وہ فیصلہ کن معرکہ ہے جو ہر دو طرفہ اپنی پوری پوری توانائیاں صرف کرکے، اپنے پورے پورے وسائل کو استعمال کرکے تیار کیا گیا اور عمل میں لایا گیا ہے البتہ حق و باطل کی یہ جنگ اس سے پہلے بھی مختلف شکلوں میں ظہور کرتی رہی ہے۔ بقول اقبال۔
نہ ستیزہ، گاہ، جہاں نئی نہ حریفِ پنجہ فگن نئے
وہی فطرتِ اسد اللہی وہی مرحبی وہی انتری
ستیز یعنی جنگ، رزم، پےکار، یہ جہان ستیزہ گاہ ہے اور یہ ستیز نئی نہیں ہے اور حریفِ، پنجہ فگن بھی نئے نہیں ہیں، پنجہ فگن یعنی پنجہ آزما، وہ حریف وہ رقیب جو ایک دوسرے کے پنجہ میں پنجہ ڈال کر، ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر برسرِ پیکار ہیں، وہ بھی نئے نہیں ہیں اور وہ دو طاقتیں ایک اسد اللہی طاقت اور دوسری مرحبی و انتری طاقت، ایک محمدی اور دوسری ابوجہلی و ابولہبی طاقت ہر زمانے میں برسرِ رزم رہی ہے۔ کربلا یہی ستیزہ گاہ ہے یعنی ایک حق کی طاقت اور اسکے مقابلے میں باطل کی طاقت حسینؑ یعنی حق و حقیقت و عزت و سربلندی اور یزید یعنی باطل و ناحق و ظلم و ستم و ذلت و رسوائی۔ جگر گوشہ بتول ؑ پر جب پسِ گردن خنجر چلایا گیا اور کربلا کی سرزمین ان کے خون سے لہولہان ہوئی تو درحقیقت وہ خون صحرائے کربلا پر نہیں گرا بلکہ اسلام کی بنیادوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سینچ گیا۔ حسین ابنِ علی ؑ کی اس بےمثال شہادت نے اسلام کے فلسفہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر و جہاد و قربانی کی جس روایت کو دوبارہ زندہ کیا اس کا گہرا اثر ادبیات پر بھی پڑا۔

برِصغیر میں اردو زبان کے ابتدائی ایام میں مختلف علاقائی ادبی اصناف میں اِن دردناک واقعات کا اظہار ہوتا رہا ہے اردو میں صنفِ مرثیہ کے باقاعدہ وجود میں آنے سے پہلے نوحے کا تصور موجود تھا یا سوز و سلام کہے جاتے تھے اور پھر میر ضمیر اور میر خلیق نے اسے شعری اظہار دے کر مسدس کی شکل میں برتا۔ سلام اور نوحے غزل کی ہیئیت میں لکھے جاتے ہیں، لیکن مسدس مرثیے سے مخصوص ہو گیا۔ انیس اور دبیر نے اس صنف کو ایسی ترقی دی کہ ان کے بعد پھر کسی کو ایسی بلندی نصیب ںہیں ہوئی ہے اردو شاعری کی شاید ہی کوئی ایسی تاریخ ہو جس میں مرثیے کا ذکر نہ ہو۔ مرثیہ عربی لغت میں کسی کی موت پر رونے، غم منانے اور مرنے والے کے اوصاف بیان کرنے کو کہتے ہیں اس لحاظ سے ہر اس شعری صنف کو مرثیہ کہا جا سکتا ہے، جس میں کسی کی موت پر غم کا اظہار کیا گیا ہو اردو ادب میں افراد کی موت پر درجنوں ایسے مرثیے کہے گئے ہیں جو شعری لحاظ سے بلند ہیں۔ مثلاً غالب پر مولانا حالی کی نظمیں، غالب و داغ پر علامہ اقبال کی نظمیں، مولانا شبلی پر سجاد انصاری کی نظمیں اور اس طرح کی اور بہت سی نظمیں ہیں جن پر مرثیے کا اطلاق ہوتا ہے، لیکن جب اردو شاعری میں مرثیے کا اصطلاحی مفہوم لیا جاتا ہے تو اس کے معنی میں وہ عمومیت نہیں، جسکا اظہار اوپر کیا ہے، شاعری کی اصطلاح میں مرثیہ صرف ایسی نظم کو کہتے ہیں جو شہدائے کربلا اور انکے واقعات و اذکار پر مشتمل ہو۔

انیس و دبیر کے بعد شاد عظیم آبادی، جوش ملیح آبادی، جمیل مظہری، رئیس امروہوی، ڈاکٹر صفدر حسین، امید فاضلی، سید آلِ رضا کے نام مرثیہ گو شعراء میں خصوصیت سے ذکر ہوتے ہیں۔ مرثیہ اگرچہ مذہبی صنف ہے مگر اسکو فروغ دینے میں غیر مسلم شعراء کے نام بھی ملتے ہیں۔ مثلاً مہاراجہ بلوان سنگھ، چھینو لال، دلو رام کوثری، روپ کماری، کنور مہندر سنگھ بیدی، ناتھ پرشاد، چند بہاری لال کا کلام اکثر کتابوں میں ملتا ہے۔ سانحہ کربلا کے کرداروں اور استعاروں کو اردو شاعری میں جگہ جگہ ڈھونڈا جا سکتا ہے جیسے کربلا کے علاوہ بھی مختلف مذہبی استعاروں نے اردو ادب میں اپنی جگہ بنا لی ہے مثلاً حضرت مسیح کا صلیب پر جانا عیسائیت میں ایک مذہبی اہمیت رکھتا ہے لیکن صلیب کا تصور آج بھی صرف عیسائیت تک محدود نہیں بلکہ صلیب علامتی تصور میں دکھ سہنے اور دکھ جھیلنے کے حوالے سے نمایاں ہے۔ سانحہ کربلا اور اسکے محترم کرداروں کو اردو غزل کے استعاراتی اظہار میں دیکھا جا سکتا ہے۔ غالب فارسی غزل میں حمد کے انداز کہہ چکے ہیں۔
بزم ترا شمع و گل خستگی بوتراب
ساز ترا زیر و بم واقعہ کربلا
میر تقی میر کی عشقیہ شاعری میں بھی بعض جگہوں پر واقعہ کربلا کے محترم کرداروں کی جھلک استعاروں میں نظر آتی ہے۔
وا اس سے سرِ حرف تو ہو گو کہ یہ سر جائے
ہم حلقِ بریدہ ہی سے تقریر کریں گے۔
اس شعر میں " سرجائے" اور " حلقِ بریدہ ہی سے تقریر کریں گے" یہ اشارہ امام حسین ؑ کی شہادت کے بعد سے اخذ کیا گیا ہے۔ مولانا محمد علی جوہر جو تحریکِ خلافت کے قائدین میں سے تھے اور قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔ جیل میں لکھی انکی ایک غزل کا شعر جو زبانِ زدِ عام ہو گیا۔
قتلِ حسین ؑ اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
اقبال کی اردو اور فارسی شاعری میں جگہ جگہ کربلا کے استعاروں کا ذکر ملتا ہے بلکہ " رموزِ بے خودی" میں ایک نظم لکھی جس کے ذریعے شاید وہ اپنی قوم کو درسِ حریت کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اس نظم کا عنوان ہے
" در معنی حریت اسلامیہ و سرِ حادثہ کربلا"
جاوید نامہ میں ٹیپو سلطان کا ذکر کرتے ہوئے اسے "وارثِ جذب حسین" کہا۔ اقبال کی اردو شاعری میں بھی اس تاریخی حوالے کی مختلف علامتیں ظہور کرتی ہیں۔
حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری
بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی
بالِ جبریل میں بھی اقبال نے اپنی ایک نظم " ذوق و شوق" میں بھی تصور عشق بیان کیا ہے۔
صدقِ خلیل ؑ بھی ہے عشق صبر حسین ؑ بھی ہے عشق
معرکہء وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق
اقبال کا یہ شعر بھی اسی تاریخی واقعہ کی طرف متوجہ کرتا ہے
قافلہ حجاز میں ایک حسین ؑ بھی نہیں
گرچہ ہے تابدار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات
جوش ملیح آبادی کے مرثیے بھی انقلاب، قومی آزادی اور حریت کا مظہر نظر آتے ہیں۔ آزادی سے پہلے 1941 میں انہوں نے ایک مرثیہ لکھا جس کا عنوان "حسین ؑ اور انقلاب" میں کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کربلا کے استعاروں سے کیا ہے۔ اسی زمانے میں جوش نے کہا۔
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین ؑ
خبر کا کوڈ : 419247
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے