0
Saturday 15 Oct 2016 21:23

یمن کے خلاف سعودی بربریت اور مغربی میڈیا کی مجرمانہ خاموشی

یمن کے خلاف سعودی بربریت اور مغربی میڈیا کی مجرمانہ خاموشی
تحریر: حمید ہوشنگی

چند روز قبل یمن کے دارالحکومت صنعا میں ایک مجلس ترحیم کا انعقاد کیا جا رہا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے اسے وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنا ڈالا جس کے نتیجے میں 400 افراد جاں بحق جبکہ 900 کے قریب زخمی ہو گئے۔ اس حملے کے بعد امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کی سربراہی میں یمن کے خلاف سرگرم فوجی اتحاد سے "مشورے کی حد تک تعاون" پر نظرثانی کرے گا! [بی بی سی ورلڈ نیوز کے مطابق]۔ یاد رہے سعودی عرب نے 9 ممالک پر مشتمل ایک فوجی اتحاد تشکیل دیا اور 26 مارچ 2015ء کو یمن پر فوجی چڑھائی کر دی۔ سعودی عرب نے اس جنگ کا نام "فیصلہ کن طوفان" رکھا۔ یہ جنگ درحقیقت یمن کے اندرونی مسائل میں کھلی مداخلت تھی۔ 22 اپریل 2015ء کو اس جنگ کا نام تبدیل کر کے "امید کی بحالی" رکھ دیا گیا۔ اس جنگ کیلئے جو بہانہ تراشا گیا وہ وہی ہمیشہ والا "ایران فوبیا" پر مشتمل پراپیگنڈہ تھا جسے ایک عرصے سے مغربی میڈیا اچھال رہا ہے۔ اس مکمل طور پر غیرمنصفانہ جنگ میں صنعا کو مکمل طور پر نابود کر دیا گیا ہے اور امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی مشاورت اور روزانہ جدیدترین اسلحہ بروئے کار لا کر بڑی تعداد میں بیگناہ انسانوں کا خون بہایا جا چکا ہے۔ خود مغربی میڈیا کے مطابق گذشتہ برس اگست کے مہینے تک 6500 یمنی شہری جاں بحق ہو چکے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ 14 ماہ سے مغربی میڈیا میں یمن میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی یہی تعداد دہرائی جا رہی ہے اور اس میں کسی قسم کا اضافہ بیان نہیں کیا گیا۔ کیا وجہ ہے کہ دنیا والے یمن میں دسیوں ہزار عام شہریوں کی ہلاکت پر مبنی خبروں سے باخبر نہیں ہوتے؟ اس کا جواب واضح ہے۔

اس سال جون کے مہینے میں سعودی سربراہی میں اتحاد نے صنعا کے نواح میں ایسا ہی ایک ہوائی حملہ انجام دیا جس میں بڑی تعداد میں بچے جاں بحق ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں سعودی عرب کی شدید مذمت کی گئی اور اس کا نام بچے قتل کرنے والی رژیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ لیکن کچھ دن بعد ہی اپنے اس موقف سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ بانکی مون نے یہ کہتے ہوئے سعودی عرب کا نام مذکورہ فہرست سے خارج کر دیا کہ ہمیں سعودی فنڈز کی ضرورت ہے جبکہ سعودی عرب نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کا نام اس فہرست سے نہ نکالا گیا تو وہ فنڈز مہیا نہیں کرے گا۔

مغربی میڈیا اپنی بے حد و حصر حکمرانی کی بدولت جیسے چاہتا ہے رائے عامہ ہموار کر دیتا ہے۔ اس وقت ہم مشاہدہ کر رہے ہیں کہ یہ میڈیا شام کے شہر حلب کے مشرقی حصے میں دہشت گرد عناصر کے گرد گھیرا تنگ ہو جانے کے بعد اس علاقے میں موجود عام شہریوں کے حق میں گریبان چاک کئے ہوئے ہے اور میڈیا ہتھکنڈوں کے ذریعے شام میں جاری خانہ جنگی کی ایسی تصویر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ، مغرب اور صدر بشار اسد کے مخالفین انسانی حقوق کی پامالی پر شدید پریشان ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شام میں جاری کشمکش اور خانہ جنگی خود مغرب کی ہی پیدا کردہ ہے جس کا مقصد گریٹر مڈل ایسٹ منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ مغربی میڈیا یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ مغربی طاقتیں شام میں انسانی حقوق کی بحالی کیلئے کوشاں ہیں اور شامی عوام کو آزادی اور نجات دلوانا چاہتے ہیں جبکہ خانہ جنگی اور دہشت گردی کی تمام تر ذمہ داری شام حکومت، اس کے اتحادی ممالک اور صدر بشار اسد پر عائد ہوتی ہے۔ گویا وہ اس واقعے کو بھول چکے ہیں جس میں ایک دہشت گرد نے شامی فوجی کی لاش کی بے حرمتی کرتے ہوئے اس کا سینہ چاک کیا، اس کا دل نکالا اور دانتوں سے چبا کر دنیا والوں کو اپنے وحشیانہ پن اور درندگی سے آگاہ کیا۔ کیا بی بی سی، وائس آف امریکہ، یورو نیوز اور دیگر مغربی میڈیا نے اب تک یمن میں جاری جنگ کے تجزیہ و تحلیل کیلئے کوئی ٹاک شو وغیرہ منعقد کیا ہے؟ یمن میں جاری جنگ جیسے اہم واقعے، جس سے امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے فوجی مفادات وابستہ ہیں، سے چشم پوشی کی کیا وجوہات ہیں؟

امریکہ سمیت تمام مغربی طاقتیں جو دعوے کرتی ہیں ان میں ہر گز مخلص نہیں۔ وہ آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کا نعرہ لگاتی ہیں جبکہ ان کیلئے پہلی ترجیح ان کے سیاسی، اقتصادی اور فوجی مفادات ہیں۔ مثال کے طور پر اس وقت اکثر عرب ممالک میں بدترین آمرانہ نظام حکومت نافذ ہیں لیکن چونکہ یہ ممالک جیسے سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، مصر وغیرہ مغربی بلاک میں شامل ہیں اور امریکہ کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں لہذا ان کے خلاف انگلی تک نہیں اٹھائی جاتی جبکہ مغرب مخالف ممالک جیسے ایران میں اسلامی جمہوری نظام نافذ ہونے اور وسیع پیمانے پر انتخابات منعقد ہونے کے باوجود ان کے خلاف یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ وہاں آزادی اور جمہوریت نہیں۔ امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغ نے یمن کے خلاف سعودی بربریت پر آنکھیں اسی وجہ سے موند رکھی ہیں کہ یمن میں طاقت پکڑتے حوثی قبائل امریکہ مخالف ہیں لہذا ان کا خاتمہ امریکہ کے مفاد میں ہے۔ دوسری طرف شام میں قانونی حکومت کے خلاف برسرپیکار دہشت گرد عناصر کی حمایت کی جاتی ہے کیونکہ اسلامی مزاحمتی بلاک میں شامل شام کی موجودہ حکومت کی سرنگونی امریکی اور اسرائیلی مفاد میں ہے۔ لہذا مغربی میڈیا کیلئے نہ تو انسانی حقوق کوئی اہمیت رکھتے ہیں اور نہ ہی آزادی یا جمہوری اقدار بلکہ وہ چیز جو اس کیلئے انتہائی اہم ہے استعماری طاقتوں کے مفادات ہیں جن کے تحفظ کی خاطر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 575393
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب