1
0
Wednesday 30 Oct 2019 14:41

سیاست بڑی ظالم چیز ہے

سیاست بڑی ظالم چیز ہے
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

بہت عرصہ پہلے پڑھا تھا کہ سر شاہنواز بھٹو کے بیٹے ذوالفقار نے جب اپنے باپ سے سیاست کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے اس میدان میں کودنے سے درپش خطرات سے آگاہ کیا، مگر ذوالفقار کے دماغ پر سیاست کی ایسی دھن سوار تھی کہ اس نے تمام دلیلوں و نصیحتوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے سیاست کا آغاز کر دیا۔ یہ سیاست اس خاندان کے لیے ایک خونی کھیل ثابت ہوئی۔ پہلے بھٹو کا عدالتی قتل ہوا، پھر بھٹو کی بیوہ نے مظالم برداشت کیے اور انتہائی کم عمری میں بے نظیر اس پرخار راستے کی راہی بنیں۔ احتجاج، جیل، تشدد، نظربندی غرض ہر طرح کا حربہ آزمایا جاتا رہا، مگر بے نظیر عوام کی آواز بن کر عالم اسلام کی پہلی وزیراعظم بن گئیں۔ کیسا عجیب کھیل ہے کہ  محترمہ وزیراعظم تھیں اور ان کے سگے بھائی کو گولیاں مار دی گئیں اور ان کا ایک بھائی اس سے پہلے ہی غیر طبعی موت مر چکا تھا۔ اس وقت بھٹو خاندان سے صرف ایک خاتون باقی ہے، جس نے کسی بھی صورت میں سیاست میں نہ آنے کا عہد کر رکھا ہے۔

اس لیے آپ کبھی ان کا نام نہیں سنیں گے اور نہ ہی ان کی کرپشن کی داستانیں منظر عام پر آئیں گی، وہ آج سیاست میں آنے کا ہلکا سا اشارہ بھی کریں تو کئی پانامہ اور ہزاروں وجوہات کفر سامنے آجائیں گی۔ نواز شریف کا سفر بھی دیکھ لیں، پاکستان کے کماو پتر پنجاب کے وزیر خزانہ رہے، پھر وزیراعلیٰ رہے اور تین بار پاکستان کے وزیراعظم رہے، سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا، بس سیاست کی عادت پڑ گئی اور یہ ٹھہری ظالم چیز، نتیجہ دیکھ لیں۔ ایٹمی دھماکے کرکے خود کو مضبوط بھی سمجھ رہے تھے، دو تہائی اکثریت کا زعم بھی تھا۔ مالکوں نے ایسا اٹھا کے پھینکا کہ باپ کا جنازہ بھی نصیب نہ ہوا اور خود جلاوطن تھے کہ باپ کی لاہور میں تدفین کر دی گئی۔ پاکستان میں ترقی کا ہر اشاریہ  بلندی کی طرف جا رہا تھا، خنجراب سے گوادر تک۔ یوں لگتا تھا پورا پاکستان زیرتعمیر ہے، میٹروز، جدید ٹرینیں، موٹرویز، بجلی کے کارخانے اور جانے کیا کیا۔؟ مگر پھر سیاست کے شوق نے آلیا، اختیار کو استعمال کرنے لگے، کچھ سرخ فیتوں کو کراس کرنے کا سوچنے کی جرات کر بیٹھے۔

اس کا نتیجہ بڑا خوفناک نکلا وزارت عظمیٰ کے دوران عدالتوں میں ذلیل و خوار کیا گیا، آئے روز دھرنوں اور ماڈل ٹاون واقعہ کے دباؤ میں رکھا گیا، وزارت عظمیٰ سے ذلت کے ذریعے نکلوایا گیا، جیل ڈالا گیا اور اس طرح کی سیاسی انجینرنگ کی گئی کہ عین الیکشن سے پہلے سزا سنائی گئی اور میڈیا کے ذریعے ایسی فضا قائم کی گئی کہ نواز شریف بھاگ گیا۔ بے ہوش بیوی کو لندن چھوڑ کر واپس آنا پڑا، الیکشن مہم کے دوران نواز شریف کے ساتھ ساتھ  بیٹی کو بھی جیل میں رکھا گیا۔ الیکشن مہم نہیں چلانے دی گئی، ہر اس شخص کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی جو نواز شریف کے ساتھ تھا۔ ویسے تو فیصلہ کرنے والے جج نے اس فیصلے کی بنیاد کو ہی ہلا کر رکھ دیا کہ کس کے کہنے پر یہ فیصلہ سنایا گیا۔ نواز شریف ابھی جیل میں ہی تھے کہ نیب آفس منتقل کیا گیا اور آج موت و حیات کی کشمکش میں چھوڑ دیا گیا ہے۔ میں سوچ رہا ہوں، سیاست کتنی ظالم چیز ہے، شاہنواز اور میاں شریف کے خاندان کو کس چیز کی کمی تھی۔؟ دنیا کی ہر آسائش میسر تھی، مگر مختلف حالات میں سفر کرکے عوامی طاقت کا دباؤ برداشت نہ کرسکے۔

یہ دونوں خود کو، سچ مج میں خود کو وزیراعظم سمجھنے لگے، جس کا ہر دو کو خمیازہ بھگتا پڑا، بلکہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جو قوتیں بھی عوامی جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں، انہیں اقتدار بہت کم نصیب ہوتا ہے، مگر وہ لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔ عوام کی آواز لوگوں کو ایسی حیثیت دے دیتی ہے کہ بہت سے مواقع پر وہ شخصیات ملک سے بھی بڑی ہو جاتی ہیں، وہ ملک سے نہیں ملک ان سے پہچانے جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک کانفرنس میں بہت سے اسکالرز آئے تھے، جب میں نے بتاتا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں، تو بہت سے سکالرز نے کہا بھٹو والا پاکستان؟ میں مسکرا کر کہتا جی بھٹو کا پاکستان۔ جمہور کی طاقت کیا ہوتی ہے؟ اس کا اندازہ محترم جناب عمراں خان صاحب وزیراعظم پاکستان کو ضرور ہوا ہوگا۔ میں ان کا تازہ بیان پڑھ رہا تھا کہ عوام کا منتخب وزیراعظم ہوں، کسی دھرنے کے نتیجے میں استعفیٰ نہیں دوں گا۔ خان صاحب جس دن آپ نے یہ احساس کر لیا کہ آپ عوام کے منتخب وزیراعظم ہیں، اس دن وہ قوتیں آپ کے ساتھ کھڑی ہوں گی، جنہیں آپ اپنا مخالف تصور کر رہے ہیں۔

یہ جمہور کی قوتیں ہیں، جو ان کی آواز میں آواز ملائے گا، یہ اس کے ساتھ ہوں گی۔ کاش یہی بات آپ اس وقت بھی یاد رکھتے، جب آپ ہر روز پارلیمنٹ پر لعنت بھیجا کرتے تھے اور ہر روز یہ دھمکی دیتے تھے کہ پارلیمنٹ پر چڑھ دوڑیں گے اور وزیراعظم ہاوس کو تہس نہس کر دیں گے۔ اگر فرصت ملے تو اپنی ان تقاریر کو ضرور نکال کر دیکھیں، پھر خود سوچیں کہ جس نظام سے جس قدر شفاف منتخب ہو کر، آپ وزیراعظم بنے ہیں، اس کی نسبت زیادہ شفاف انداز سے منعقدہ الیکشنز سے وہ منتخب ہوا تھا۔ میرا خیال ہے، وہ سوچ جو جونیجو جیسے وزیراعظم کو برداشت نہیں کر سکتی، کیا ممکن ہے کہ وہ عمران خان صاحب کو برداشت کر لے۔؟ ایسا بالکل بھی نہیں ہوگا، عمران خان صاحب بھی ایک دن بائیس کروڑ کا بوجھ محسوس کریں گے اور اپنے اختیارات کو تولیں گے اور پھر شائد حساب کتاب کا وقت کم ہو یا نہ ہو، مگر وہ ایسے نہیں رہیں گے۔ میں سوچتا ہوں ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اصل میں بائیس کروڑ لوگوں کی ذمہ داری کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ نواز شریف جیسا آدمی بھی اسے برداشت نہیں کرسکتا اور طاقت مانگنے لگتا ہے، جو ان بائیس کروڑ کا حق ہے۔ پھر یہی احساس ذمہ داری انسان کو طاقتور بنا دیتا ہے کہ بھٹو، بھٹو کا خاندان اور اب نواز شریف کا خاندان سیاست کے ظالمانہ کھیل میں پس رہا ہے اور جانے یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔؟
خبر کا کوڈ : 824679
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Dr Hafiz Rao Farhan Ali
Pakistan
Excellent column with historical evidences
منتخب