1
1
Saturday 22 Jan 2022 16:56

دلوں کے سردار شہید قاسم سلیمانی

دلوں کے سردار شہید قاسم سلیمانی
تحریر: محمد نذیر ناصری

ارشاد باری تعالی ہے: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ" (اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ہیں، انہیں تم مردہ گمان مت کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے ہاں سے رزق پا رہے ہیں) شہادت ایک ایسا عظیم مرتبہ ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ ہر کس و ناکس کو عطا نہیں کرتا بلکہ اسے فقط اپنے ان خاص بندوں کو عطا کرتا ہے کہ جو اس عظیم المرتبت درجے تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک ہر پاک و مقدس ہستی اپنی متاع حیات کو خدا کے راہ میں قربان کرتی چلی آئی ہے۔ ہر زمانے میں ہر شہید نے اپنے لہو سے حق کے پرچم کو سربلند رکھا اور حق کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا، مرد مؤمن کبھی شہادت سے نہیں گھبراتا بلکہ وہ اپنے لہو سے حق کی آبیاری کرتا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔ یقیناً ہر شہید ایک خاص مقام و مرتبے پر فائز ہے اور اس کی شہادت کے اثرات ہر معاشرے میں اسی حساب سے باقی ہیں، لیکن سردار قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد لوگوں میں جو جوش و ولولہ دیکھنے میں آیا، وہ آج تک کسی اور کی شہادت پر دیکھنے میں نہیں آیا۔

شہادت کے بعد ان کے استقبال کے لئے لوگوں کا جو ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دکھائی دیا، اس کی ماضی میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ راقم نے جب اس وقت لوگوں کے جذبات کا ادراک کیا تو یہ سوچنے پہ مجبور ہوا کہ آخر اس کے اسباب و وجوہات کیا ہیں؟ آخر لوگوں کے دلوں پر ان کی کونسی حکمرانی تھی کہ جس کے باعث بلا تفریق چھوٹے بڑے، مرد و زن اور امیر و غریب سب اشکبار تھے اور ان کے جنازے میں شریک ہونے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ لوگ گھنٹوں پہلے سے ان کے جسد کے پہنچنے کے منتظر تھے۔ ان کی شہادت سے عالم اسلام بلکہ پوری دنیا میں ایک عجیب تبدیلی رونما ہوئی اور عراق و ایران کے اندر انقلاب برپا ہوگیا۔ ان کی زندگی کے بارے میں جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو چند ایسے رموز تک ہم رسائی حاصل کرسکتے ہیں کہ جن کی وجہ سے شہید سردار قاسم سلیمانی دلوں کے سردار بن گئے۔ ان عوامل کو یہاں بیان کریں گے:

پہلا عامل: اخلاص
 روایتوں میں ملتا ہے کہ جو بھی شخص اگر کوئی کام فقط خدا کی خوشنودی کے لئے خالصانہ طور پر انجام دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے کارناموں کو دنیا والوں کے سامنے آشکار کر دیتا ہے۔ شہید کے خلوص کا اندازہ یہاں سے ہوتا ہے کہ جب رہبر معظم نے انہیں ایران کے اعلیٰ فوجی اعزاز نشان ذوالفقار سے نوازا تو شروع میں تو انہوں نے لینے سے انکار کیا، لیکن جب سپریم لیڈر نے اصرار کیا تو اس شرط پر انھوں نے قبول کیا کہ تا دم شہادت میں اس رینک کو اپنے کندھے پر نہیں لگاؤں گا۔ اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہید کس قدر اپنے کاموں کو اخلاص سے انجام دیتے تھے۔ اس کے علاوہ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ قم المقدسہ میں شہدائے مدافع حرم کی مناسبت سے ایک پروگرام تشکیل دیا گیا تھا، جس میں شہید سردار سلیمانی نے خطاب کرنا تھا، لیکن انہیں پتہ چل گیا کہ اس پروگرام میں انہیں انعام سے نوازا جائے گا تو انہوں نے فوراً اس پروگرام میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔ یہاں سے ہمیں یہ راز کشف ہو جاتا ہے کہ شہید کس قدر اپنے کاموں کو فقط خدا کی خوشنودی کے لیے انجام دیتے تھے۔ جس کا نتیجہ سب پر عیاں ہے۔ شہید بہت ہی کم اور خاص محفلوں کے علاوہ اپنے فوجی رینک کو استعمال ہی نہیں کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے یہ عظیم مرتبہ انہیں نصیب ہوا۔

دوسرا عامل: اطاعت و بندگی
جو بھی حقیقی معنوں میں اللہ کا بندہ قرار پائے تو پوری دنیا بھی اگر اس کی دشمن بن جائے، تب بھی وہ کسی سے خوف محسوس نہیں کرتا۔ وہ نڈر ہو جاتا ہے۔ خوف اور ڈر اسے ہوتا ہے، جو غیر اللہ کے سامنے جھکے، لیکن جس کا رابطہ اللہ تعالیٰ  سے استوار ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل سے دوسروں کے خوف اور ڈر کو ہی نکال دیتا ہے۔ وہ ایسے رشتے سے منسلک ہو جاتا ہے کہ جہاں پر خوف کا تصور بھی نہیں رہتا۔ جس کی پشت پناہی اللہ رب ذوالجلال کر رہا ہو تو اسے ڈر کس بات کا۔ جو اللہ سے ڈرے ساری دنیا اس سے خوف محسوس کرتی ہے۔ شہید ہمیشہ اپنے خالق کے سامنے سجدہ ریز رہتے تھے۔ جنگی محاذوں پر ہوں یا کسی پرامن مقام پر، شہید ہر حال میں اپنے معبود حقیقی کے ساتھ راز و نیاز میں مصروف رہتے تھے۔ جب انہیں روس میں پیوٹن نے خاص میٹینگ کے لئے بلایا اور اس خصوصی میٹینگ کے دوران میں نماز کا وقت ہوگیا تو شہید نے میٹینگ کو اسی وقت چھوڑ دیا اور اپنے مخصوص مقام پر آکر اپنے خالق کے حضور سجدہ ریز ہوگئے۔ دوسرے تمام افراد انہیں حیرت کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے اور وہ خود دنیا و ما فیہا سے ناطہ توڑ کر اپنے خالق سے رابطہ استوار کئے ہوئے تھے۔

وہاں پر وہ خدا کا شکر بجا لائے اور کہا خدایا! میں تیرا اس بات پر شکر ادا کرتا ہوں کہ ایک زمانہ ایسا تھا کہ اسی جگہ پر اسلام کو ختم کرنے کی سازشیں ہوتی تھیں اور یہاں اسلام کے خلاف منصوبہ بندی کی جاتی تھی، مگر آج وہ وقت آگیا ہے کہ اسلام کے دفاع میں یہاں حکمت عملی طے پا رہی ہے۔ ان کی عبادت و بندگی سبب بنی کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت موجزن ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: "جو لوگ ایمان اور عمل صالح انجام دیتے ہیں، عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں اپنی محبت ڈال دیتا ہے۔" شہید بھی اسی آیت کے مصداق بنے۔ جس طرح امام حسین علیہ السلام نے میدان کربلا میں تمام تر مشکلات اور مصیبتوں کو خندہ پیشانی سے قبول کیا، کیونکہ امام حسین بھی عاشق خدا تھے۔ اسی طرح شہید قاسم سلیمانی نے امام حسین علیہ السلام کی پیروی کرتے ہوئے تمام تر مشکلات کو مات دے کر رب کی خوشنودی مول لی۔

تیسرا عامل: عاشق اہلبیت علیهم السلام ہونا
شہید عاشق اہل بیت علیهم السلام تھے ۔اہل بیت علیهم السلام کے ساتھ بہت ہی عشق و لگاؤ تھا۔ خاص طور پر حضرت زہراء سے خصوصی الفت رکھتے تھے۔ ایام فاطمیہ کے دوران میں شہید خود کاموں کو انجام دیتے تھے۔ امام بارگاہ کی صفائی کرتے تھے اور برتنوں کو دھونے میں دوسروں کی مدد کرتے تھے۔ جب حضرت فاطمۃ الزہراء علیہا السلام کے مصائب پڑھے جاتے تھے تو ان کی حالت غیر ہو جاتی تھی۔ ایک دفعہ مداح حضرت عباس علیہ السلام کے مصائب پڑھ رہے تھے تو شہید دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے تو مداح نے مزید مصائب پڑھنا ہی چھوڑ دیا۔ ہر وقت آپ امام حسین علیہ السلام کے مصائب کو یاد کرکے روتے رہتے تھے۔ اماموں کی ضریح مقدس پر ان کی حالت ہی غیر ہو جاتی تھی۔ لہذا عشق اہل بیت علیہم السلام ہی سبب بنا کہ آپ مدافع حریم اہل بیت علیہم السلام قرار پائے۔

چوتھا عامل: ولی فقیہ کی اطاعت گزاری
مذہب تشیع کے مطابق روایات کی رو سے زمان غیبت میں مراجع عظام کی اطاعت واجب ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے دوران میں مجتہدین امام علیہ السلام کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں اور ان کی اطاعت ضروری ہے۔ شہید کی زندگی میں اگر ہم غور کریں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں نظر آتی ہے کہ کس قدر رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے مطیع تھے اور نہایت ہی خضوع کے ساتھ ان کے محضر میں پیش ہوتے تھے۔ شہید، رہبر معظم کی اطاعت کو اپنے اوپر واجب سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ اپنے وصیت نامے میں بھی اس بات کا تذکرہ کیا ہے اور علماء سے یوں مخاطب ہوئے ہیں: "اس شہید کی مدد کیجئے! یہ بے چارہ اور مظلوم ہے اور ان کا کوئی دفاع کرنے والا نہیں ہے۔"

پانچواں عامل: تواضع
شہید کی خصوصیات میں سے ایک بارز خصوصیت تواضع تھی۔ روایت میں آیا ہے: "مَن تواضع للّه رفعهُ اللّه" "جو تواضع اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ اسے بلند مرتبہ عطا کرتا ہے اور جو متکبر ہو تو خدا اسے ذلیل و رسوا کر دیتا ہے۔" قرآن و احادیث میں تکبر کی بہت مذمت کی گئی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے ناپسند گناہ کبیرہ ہے۔ کبریائی فقط خدا کے لیے ہے۔ اس ذات کے علاوہ کسی کو حق حاصل نہیں کہ تکبر کرے۔ شیطان اسی تکبر کی وجہ سے مردود ہوگیا اور فرشتوں کی صف سے خارج ہو کر تاقیامت لعنت کا مستحق ٹھہرا۔ چنانچہ شہید والا مقام تواضع کی صفت سے آراستہ پیراستہ ہونے کے باعث قیامت تک ان کی شخصیت چمکتی رہے گی اور ہر آنے والے متکبر کا تکبر ان کا نام سنتے ہی خاک ملتا رہے گا۔ شہید کے تواضع کی انتہا یہ ہے کہ آپ شہادت کے بعد بھی تواضع کا دامن تھامے رکھنا چاہتے تھے، لہذا یہ وصیت کر رکھی تھی کہ میری شہادت کے بعد میری قبر پر سرباز (یعنی سپاہی) قاسم سلیمانی لکھنا۔

دشمنان اسلام بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کے لئے زندہ سلیمانی سے زیادہ شہید سلیمانی خطرناک ثابت ہوگا، کیونکہ شہادت کے بعد سلیمانی فقط ایک شخص کا نام نہیں رہا بلکہ یہ ایک منظم تحریک کا نام بن گیا ہے۔ اب ملت کا ہر نوجوان قاسم سلیمانی کے پاکیزہ اہداف کو پایہ تکمیل تک پہنچنانے کے لئے اپنے خون کا آخری قطرے تک بہانے کے لئے تڑپتا ہے اور اس عظیم مشن کی راہ میں جام شہادت نوش کرنے کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھتا ہے۔ دشمن اگر اس زعم میں باطل میں مبتلا ہے تو اپنی اس غلط فہمی کو دور کرے کہ قاسم سلیمانی کو شہید کرنے کے بعد ان کے لئے میدان صاف ہوگیا ہے۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوگا، کیونکہ شہید قاسم سلیمانی نے تو شہدائے کربلا کی سیرت پر چلتے ہوئے پاکیزہ اہداف کے حصول کی راہ میں جام شہادت نوش کرکے اپنی دیرینہ آرزو کو پا لیا، لیکن ان کا خون ملت کے اندر بیداری کی ایک لہر بن گیا ہے اور اب شہید قاسم سلیمانی ایک مضبوط مشن کا نام بن گیا ہے۔ یہ مشن دشمنوں کی نابودی اور ان کے ناپاک عزائم خاک میں ملنے تک جاری و ساری رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس باعظمت شہید کو شہدائے کربلا کے ساتھ محشور فرمائے آمین! "عاش سعیدا و مات شهیدا"
خبر کا کوڈ : 975043
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

غلام محمد
Pakistan
بہت ہی معنی خیز تحریر ہے، ما شاء الله، سبحان الله۔
منتخب
ہماری پیشکش