0
Tuesday 14 May 2013 11:06

مغرب کا دہرا معیار

مغرب کا دہرا معیار
تحریر: جاوید عباس رضوی

مغربی طاقتیں انسانی حقوق کی حمایت کا جتنا بھی دعویٰ کریں یا کرتے رہیں، آج کی دنیا میں کوئی بھی شخص اتنا سادہ نہیں ہے کہ انکی باتوں پر بھروسہ کرے، کیونکہ دنیا کافی عرصہ سے عملی طور پر ان سے غیر انسانی رفتار اور انسانی حقوق کی پائمالی دیکھ رہی ہے، ہم یہاں ماضی کی طرف نہیں جانا چاہتے ہیں کہ جس میں پہلی اور دوسری عالمگیر جنگ میں مغرب کے ہاتھوں کئی ملین بے گناہ انسان مارے گئے بلکہ موجودہ دور کی بات کریں اور عراق و افغانستان میں امریکی اور اسکے اتحادیوں کی فوجی مداخلت کا نتیجہ دیکھیں کہ کس طرح ان دو ملکوں میں لاکھوں لوگوں کی جانیں امریکہ اور یورپی ہوس کی نظر ہوگئیں۔

پہلے تو ہوائی بمباری کے ذریعے دونوں ملکوں کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا گیا، اس کے بعد انسانی سرمایہ کی باری آگئی، مغربی اسلام دشمن غصہ اتنا شدید تھا کہ خواتین اور بچے بھی اس طاغوتی غصے سے محفوظ نہ رہ سکے، البتہ اس دنیا میں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کا قانون جاری ہے، لہذا مغربی ممالک اپنے ان سیاہ کارناموں کے باوجود بھی انسانی حقوق کی باتیں کرتے ہیں، تاکہ حق و باطل کی تشخیص مزید پیچیدہ کر دی جائے، اس بے انصافی کا ثبوت حال ہی میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ادارے کی تہران کے بارے میں تیار کردہ ایک رپورٹ ہے، جس میں ایران میں انسانی حقوق کے حوالے سے کچھ نکات ابھارے گئے ہیں، ان نکات میں جو تعجب خیز بات ہے وہ یہ کہ مغربی طاقتوں سے وابستہ انسانی حقوق ادارے کو ایران میں ضد انقلابی اور بے دین و منحرف افراد کی بہت یاد آئی ہے اور اسی لئے جمہوری اسلامی ایران پر الزام لگایا گیا ہے کہ ایران میں اسلام مخالف افراد اور قومی سلامتی کو درہم برہم کرنے والے افراد کو آزادی حاصل نہیں ہے اور ان افراد پر مختلف قسم کی سختیاں اور پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔

ان جملوں سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ہیومن رائٹس والوں کو ایران میں کس چیز سے پریشانی ہے، واضح سی بات ہے کہ جب تک ایران میں اسلامی نظام باقی ہے تب تک استعمار و استکبار ایران سے راضی ہونے والے نہیں ہیں، ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ جب تم قومی سلامتی کے مسئلہ پر اپنے ملکوں میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف سخت ترین کارروائیاں کرتے ہو اور یہاں تک کہ لوگوں کی نجی زندگی میں مداخلت کرتے ہو، ہولو کاسٹ پر لکھنے والوں کو زندان روانہ کرتے ہو یا مسلمان باحجاب لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے عمومی حق سے روکتے ہو، تو آیا ہمیں (مسلمانوں کو) اپنی ہی سرزمینوں میں اپنے اعتقادات کے دفاع کرنے کا حق نہیں ہے۔؟ مسلمان خواتین پر حجاب پہننے کی پابندی بھی ایک طرح سے استعمار کی انتہاء پسندی ہے، درحقیقت مغرب نہیں چاہتا کہ اس طرح مسلمان خواتین اپنے آپ کو مذہب اسلام کا نمائندہ ظاہر کریں، حجاب پر پابندی انسانی حقوق کی آزادی پر پابندی ہے اور یہ دوسروں کو ان کی مرضی سے زندگی گزارنے سے روکتی ہے، جو کہ دہرا معیار ہی ہے۔

مغربی دنیا نے آزادیٔ اظہار کو ایک بنکر بنا لیا ہے، اہل مغرب مقدسات اسلامی کی توہین کرتے ہیں اور آزادیٔ اظہار کے بنکر میں جا چھپتے ہیں، دہرا معیار اور کیا ہوتا ہے، امریکی اور مغربی دُنیا کو طاقت کے نشے سے باہر نکلنا چاہئے اور جب یہ خود انسانی حقوق اور اخلاق کی بات کرتے ہیں تو پھر اُن کو ایسے افراد کے خلاف بھی تو کارروائی کرنا چاہئے، جو ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے دل دکھانے کی جسارت یا شرارت کرتے ہیں، ان ممالک کے اسی طرز عمل کی وجہ سے یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ اہانت انبیاء، اصحاب کرام، مقدسات اسلامی کے حوالے سے بین الاقوامی قانون بنایا جائے۔

آیا ہم اللہ تعالٰی کے پیغمبروں کی توہین کرنے والوں کو معاف کریں۔؟ آیا ہم بیت المال مسلمین کو نقصان پہنچانے والے افراد کو انعامات سے نوازیں۔؟ کیا ہم خود کو مٹتا ہوا دیکھ کر چپ سادھ لیں؟ کیا ہم انسان کش مظالم پر خاموش رہیں؟ یہ کس قسم کی انسانی حقوق کی باتیں کی جاتی ہیں؟ کاش انہیں شرم آتی، اور شرم کے مارے ڈوب مرتے، جب کہ یہ اتنے بے اصول اور بے رحم و بے شرم ہیں کہ کھلے عام کہتے ہیں کہ دہشت گردی اچھی بھی ہے اور بری چیز بھی ہے! ایک ملک میں انسانی حقوق کی باتیں کرنا ٹھیک ہیں جبکہ دوسرے ملک میں اس موضوع پر چپ رہنا واجب ہے، عراق، افغانستان، بحرین اور شام میں کس کی وجہ سے بے گناہوں کا لہو بہایا جا رہا ہے، پاکستان میں کس کی شیطنت سے قتل و غارت جاری ہے، آیا تمہیں مذکورہ ممالک میں انسانی حقوق کی پائمالی نظر نہیں آتی، ہر چیز میں طاغوتی قوتوں کے پاس دہرا معیار کیوں ہے؟ آیا انکے مجرمانہ کردار نے عالمی سطح پر انکی قضاوت کی کوئی گنجائش رکھی ہے؟ انسانی زندگی کا خصوصاً مسلمانوں کی قیمتی زندگی کا اتنا اتلاف نہیں ہوتا۔

راہ حل: ہمارے امراء اور ہمارے دانشور بے حس ہوچکے ہیں، اگر 57 ممالک کے حکمران اور پوری دنیا کے مسلم امراء اور دانشور ایک زبان ہو کر توہین مقدسات اسلامی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے، تمام 57 ممالک اور دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمان مل کر مِنْ حَیثُ الاُمَّت یہ مطالبہ کریں کہ امریکہ، کینیڈا اور یورپ وغیرہ ویسا ہی قانون مسلمانوں  کے لئے بھی بنائیں جیسے انہوں  نے یہودیوں  کے لئے بنا رکھے ہیں، اور جب تک وہ ایسا نہ کریں  گے، ہم ان سے کوئی معاشی اور سیاسی تعلق نہیں  رکھیں  گے، اور اگر ایسا نہیں  کرسکتے تو پھر خدانخواستہ اسی انجام کے لئے تیار رہنا چاہیے جو قرآن و حدیث کے مطابق بنی اسرائیل کا مقدر ہے، وقت کا اولین تقاضا ہے کہ ہم بھی انسانی حقوق کی پامالی اور استعمار و استکبار کے دوہرے معیار پر عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کریں۔
خبر کا کوڈ : 263378
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب