0
Monday 1 Sep 2014 03:54
"ہارڈ راک" پر غلبے کے اثرات

"عصف الماکول" کے مقابلے میں "ہارڈ راک" کی ناکامی

"عصف الماکول" کے مقابلے میں "ہارڈ راک" کی ناکامی
تحریر: سعداللہ زارعی 

اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے غزہ کے خلاف شروع کیا جانے والا فوجی آپریشن "ہارڈ راک" اسلامی مزاحمت کے "العصف الماکول" دفاعی آپریشن سے روبرو ہوا اور پاش پاش ہوگیا۔ فلسطینی مجاہدین نے اسرائیل کے 50 روزہ فوجی آپریشن کو اس طرح اپنے اندر ہضم کرتے ہوئے اس پر غلبہ قائم کر لیا کہ بعض ماہرین اسے عظیم مادی وسائل پر قدرت خداوندی کے غلبے کی تجلی قرار دینے لگے اور خود فلسطینیوں نے بھی انتہائی ظرافت کا ثبوت دیتے ہوئے غاصب صیہونی رژیم کی اس عبرتناک شکست کو سخت چٹان کے عصف ماکول یعنی ہضم شدہ بھوسے میں تبدیل ہوجانے سے تعبیر کیا ہے۔ 
 غزہ کے فلسطینیوں کی فوجی طاقت اور درحقیقت مزاحمت کا خاتمہ گذشتہ پانچ برس کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے بنیادی اہداف میں شمار ہوتا ہے۔ وہ اسی نعرے کے ساتھ گذشتہ الیکشن میں شریک ہوا تھا اور برسراقتدار آیا تھا۔ نیتن یاہو کے حامیوں کے الفاظ یہ تھے:
"حماس کا خاتمہ ضروری ہے اور بنجمن نیتن یاہو ہی وہ شخص ہیں جو یہ کام انجام دے سکتے ہیں۔" 
 لیکن آج پانچ سال گزر جانے کے بعد غزہ کی اسلامی مزاحمت کے خلاف اسرائیل کی تیسری جنگ کے بعد اسرائیلی روزنامہ ہارٹس لکھتا ہے:
"ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بنجمن نیتن یاہو کا اصلی ہدف ہر حال میں جنگ بندی تک پہنچنا تھا۔ جیسے ہی مناسب موقع مہیا ہوا، انہوں نے فوراً ہی اسے عملی جامہ پہناتے ہوئے جنگ سے فرار اختیار کر لیا۔" 
 
اگرچہ بنجمن نیتن یاہو غزہ کے خلاف جنگ میں پینچائے گئے عظیم مالی و جانی نقصان اور "مستقل جنگ بندی" کے معاہدے پر فلسطینیوں کے دستخط کو غزہ کے خلاف اپنی حالیہ جنگ کے اصلی اہداف کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل اس جنگ میں اپنے اصلی اہداف کی جانب حتٰی ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکا۔ غزہ پر اسرائیل کی تیسری جنگ کے آغاز اور اس کے دوران خود اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے بقول جو امور اس جنگ کے اہداف کے طور پر بیان کئے گئے ان میں "اسلامی مزاحمت خاص طور پر اس کی فوجی طاقت کا مکمل خاتمہ" سرفہرست ہے۔ یہ اس جنگ میں اسرائیل کا اصلی ترین ہدف تھا جو خود اسرائیلی وزیراعظم کی زبانی بیان کیا گیا۔ یہ کہنا بالکل معقول نہیں کہ اسرائیل نے یہ جنگ اس لئے شروع کی تھی کہ اسلامی مزاحمت کے ساتھ ایک مستقل جنگ بندی کا معاہدہ قائم کیا جاسکے۔ اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اس جنگ میں اسرائیل کا مقصد اسلامی مزاحمت کی فوجی طاقت کو جزئی طور پر نقصان پہنچانا تھا۔ 
 
مزید برآں، فلسطینیوں کو مستقل جنگ بندی پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ برعکس وہ فریق جس نے ہمیشہ سے جنگ بندی کے معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کبھی بھی مستقل جنگ بندی کا پابند نہیں رہ سکتا، اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم ہے۔ دوسری طرف موجودہ حالات میں مستقل جنگ بندی ایک وہم و خیال پر مبنی تصور سے زیادہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ جن کے تحت صہیونی رژیم نے مقبوضہ فلسطین پر اپنا قبضہ قائم کر رکھا ہے اور فلسطینی بھی اس قبضے کو قبول نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ حماس کو مکمل طور پر ختم کئے بغیر اس کی فوجی طاقت یا افرادی قوت کو نقصان پہنچانا بھی کوئی ایسا معقول ہدف دکھائی نہیں دیتا، جس کی خاطر اسرائیل نے اپنی تاریخ کی طولانی ترین جنگ لڑی ہو۔ 

صہیونی رژیم خود اس حقیقت کا اعتراف کرچکی ہے کہ غزہ کے خلاف گذشتہ جنگ سے لے کر اس جنگ کی درمیانی مدت میں اسلامی مزاحمت زیادہ جدید قسم کے ہتھیاروں اور میزائلوں سے لیس ہوچکی ہے اور میزائلوں کی تعداد اور ان کے رینج میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ لہذا عقل کا تقاضا ہے کہ اگر جنگ کا نتیجہ مدمقابل کی فوجی طاقت میں اضافے کا سبب بنتا ہے تو اسے کسی حال میں دشمن کے خلاف جنگ شروع نہیں کرنی چاہئے۔ اسی طرح اسرائیل کے فوجی اور سیاسی اداروں میں اہم قومی فیصلے انجام دینے کا عمل بھی اس قدر سادہ نہیں کہ نیتن یاہو کے سطحی اور احمقانہ تصورات انہیں متاثر کر سکیں۔ 

اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی "شاباک" کی جانب سے بنجمن نیتن یاہو کو فراہم کردہ معلومات میں کہا گیا تھا کہ اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس شدید اندرونی اور بیرونی مشکلات اور بحرانوں کا شکار ہوچکی ہے۔ اندرونی سطح پر شدید اختلافات کے باعث حماس حکومت کو محمود عباس کے حوالے کرنے پر مجبور ہوگئی ہے جبکہ بیرونی سطح پر بھی حماس اپنے اہم ترین حامیوں جو اسے بھاری مقدار میں اسلحہ فراہم کرتے تھے یعنی ایران، شام اور حزب اللہ لبنان سے دور ہوچکی ہے اور ان کے ساتھ اس کے شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ شاباک نے اپنی اس رپورٹ میں عوام کے اندر حماس کی گرتی ہوئی محبوبیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا تھا:
"غزہ کے عوام اسرائیل کی جانب سے گذشتہ 7 برس سے جاری محاصرے کے جاری رہنے کو حماس کی حکومت کی ناکام پالیسیوں کا واضح ثبوت قرار دیتے ہیں اور کھلم کھلا اسے اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔" 
 
اسرائیلی حکام، امریکہ، سعودی عرب اور مصر نے شاباک کی جانب سے فراہم کی جانے والی ان معلومات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حماس کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کا منصوبہ بنایا، جس کا اصلی مقصد "غزہ میں اسلامی مزاحمت کا مکمل خاتمہ" تھا۔ انہیں اس کارروائی میں اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا۔ 8 جولائی کو اسرائیل نے غزہ کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے اس پر اپنے ہوائی حملوں کا آغاز کر دیا۔ اسرائیلی حکام کا خیال تھا کہ وہ 5 سے 7 دنوں کے اندر اندر اپنے اصلی اہداف کے حصول میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن جنگ کے پہلے ہفتے میں ہی رونما ہونے والے واقعات نے انہیں حیرت زدہ کر دیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کے شاباک کی پیش کردہ تمام رپورٹس اور معلومات غلط تھیں۔ شاباک کی رپورٹ میں پیش بینی کی گئی تھی کہ جیسے ہی اسرائیل غزہ پر فوجی حملہ کرے گا غزہ کے عوام حماس کی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس طرح غزہ میں ایک عوامی بغاوت جنم لے لے گی۔ لیکن ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا اور غزہ کے غیور فلسطینی عوام نے اسلامی مزاحمتی تنظیموں کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے ان کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا۔ 
 
دوسری طرف غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے ہی اسلامی جمہوریہ ایران اور حزب اللہ لبنان نے اس کی کھل کر مذمت کی اور فلسطینی عوام اور مجاہدین کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا اور انہیں اپنی پوری مدد کا یقین دلایا۔ غزہ پر اسرائیلی فوجی جارحیت نے محمود عباس اور فلسطین اتھارٹی کو کافی حد تک گوشہ نشین کر دیا۔ لہذا جنگ شروع ہونے کے ایک ہفتے بعد ہی امریکی، مصری اور سعودی حکام نے اسرائیل پر جنگ بندی کیلئے زور ڈالنا شروع کر دیا کیونکہ وہ اس نتیجے تک پہنچ چکے تھے کہ جنگ کے ذریعے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کئے جاسکتے۔ اسی طرح خود اسرائیلی حکومت کے اندر بھی جنگ جاری رکھنے یا اسی مرحلے پر ختم کرنے سے متعلق شدید اختلافات رونما ہونا شروع ہوگئے۔ اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے ہنگامی حالت کا اعلان اور جنگی کابینہ تشکیل دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اختلافات حکومتی سطح سے نکل کر فوج اور سکیورٹی اداروں تک بھی پھیل چکے تھے۔ جنگ کے دسویں روز جب اسرائیلی فوج نے غزہ کے خلاف زمینی کارروائی کا آغاز کیا تو یہ اختلافات اپنے عروج پر جا پہنچے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ نے اعلان کیا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے زمینی حملے کے حکم کو اجرا کرنے کیلئے تیار ہے۔ اس طرح اس نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ زمینی حملے کا فیصلہ درحقیقت ایک سیاسی فیصلہ ہے اور فوجی ماہرین اس کی تائید نہیں کرتے۔
 
آخرکار دونوں فریقوں نے ایک انتہائی محدود اور مبہم سے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کئے، جس کی سب سے بڑی شق "مستقل جنگ بندی" پر مبنی تھی۔ البتہ اس معاہدے میں بعض دوسرے امور کی جانب بھی ہلکا سا اشارہ کیا گیا تھا جیسے غزہ کی تین مشرقی راہداریوں میں سے دو راہداریوں کو کھولے جانا، تاکہ غزہ تک روزمرہ ضرورت کی اشیاء اور تعمیراتی مواد جیسے سیمنٹ وغیرہ کی ترسیل ممکن بنائی جاسکے۔ فرانسوی نیوز ایجنسی کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے میں کہا گیا تھا:
"میڈیکل ساز و سامان، کھانے پینے کا سامان اور انفرا اسٹرکچر، واٹر پائپ لائنز، بجلی اور ٹیلیفون کے نظام کیلئے ضروری تعمیراتی مواد کے حامل قافلوں کی غزہ آمدورفت کو ممکن بنایا جائے گا۔" 
اسی طرح اس معاہدے کی ایک اور شق میں کہا گیا تھا کہ غزہ کے ماہی گیروں کو 6 میل کی بجائے 12 میل کے فاصلے تک مچھلیوں کے شکار کی اجازت دی جائے گی، جسے فلسطینی ایک اہم فتح قرار دیتے ہیں۔ 
 
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور بعض دوسرے اسرائیلی حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ حماس کو قبول نہیں کرتے اور صرف فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے ساتھ مذاکرات انجام دیں گے۔ اسی طرح اسلامک جہاد اور حماس کے بعض کمانڈرز نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ ایئرپورٹ کی تعمیر خود کریں گے اور اسے آپریشنل بنائیں گے اور اگر اسرائیل نے اس پر حملہ کیا تو وہ بھی اس کے مقابلے میں اسرائیلی ایئرپورٹ کو اپنے حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔ اسی طرح اسلامک جہاد کے سربراہ رمضان عبداللہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی بندرگاہ کو تعمیر کرنے کے بعد اسے عالمی تجارت کیلئے کھول دیں گے اور اگر اسرائیل نے اس پر حملہ کرنے کی غلطی کی تو اسرائیل کی بندرگاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں گی۔ بعض موصولہ رپورٹس کے مطابق حالیہ جنگ بندی کے معاہدے میں غزہ کے ایئرپورٹ اور بندرگاہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا اور اس بارے میں موجود مسائل کا حل آئندہ مذاکرات تک موکول کر دیا گیا ہے۔ 
 
مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اور اسلامی مزاحمت کے درمیان سکیورٹی صورتحال انتہائی نازک مراحل میں ہے اور ہر لمحہ ایک نئی جنگ کے آغاز کا خطرہ موجود ہے۔ ایسی صورتحال نے فلسطینیوں سے زیادہ اسرائیل کو پریشان کر رکھا ہے کیونکہ اسرائیلی بستیوں کے باسی اسرائیل میں رہنے یا اسے ہمیشہ کیلئے ترک کرنے میں شدید تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں۔ دنیا بھر کے یہودی اپنا وطن چھوڑ کر اسرائیل اس لئے آئے ہیں کہ یہاں سکون کی زندگی گزار سکیں۔ وہ سکون جس کا وعدہ اسرائیل بنانے والوں نے ان سے کیا تھا، لیکن جب وہ یہ محسوس کریں گے کہ اپنے ملک میں ہی زیادہ پرامن اور آرام دہ زندگی گزار سکتے ہیں تو وہ یقیناً اسرائیل کو ترک کرنے میں ہی اپنی بھلائی اور بہتری سمجھیں گے۔ 
خبر کا کوڈ : 407630
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
متعلقہ خبر