0
Tuesday 30 Apr 2013 23:10

پیپلز پارٹی پاک ایران گیس پائپ لائن کو امریکی دباﺅ میں آئے بغیر ہرحال میں مکمل کریگی، لطیف مغل

پیپلز پارٹی پاک ایران گیس پائپ لائن کو امریکی دباﺅ میں آئے بغیر ہرحال میں مکمل کریگی، لطیف مغل
کراچی سے تعلق رکھنے والے لطیف مغل پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے ترجمان اور سیکرٹری اطلاعات ہونے کے ساتھ ساتھ الیکشن سیل پیپلز پارٹی سندھ کے رکن بھی ہیں۔ 1973ء میں آپ نے اپنے زمانہ طالب علمی میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے فلسفہ و نظریات سے متاثر ہو کر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور تمام تر مشکلات کے باوجود آج تک پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ وفاداری نبھاتے ہوئے وابستہ ہیں۔ اسلام ٹائمز نے لطیف مغل کے ساتھ MPA ہاسٹل سندھ میں مختلف ایشوز کے حوالے سے ایک خصوصی نشست کی جس میں آئندہ انتخابات، کراچی سمیت ملک بھی میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدہ، پاک چین گوادر بندرگاہ معاہدہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس موقع پر آپ کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: طالبان کی جانب سے حملے اور دھمکیاں جاری ہیں، کیا انتخابات ہوتے نظر آ رہے ہیں؟ کون سے عناصر ہیں جو انتخابات کو ملتوی کرانا چاہتے ہیں۔؟
لطیف مغل: جی بالکل انتخابات ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ انتخابات کو ملتوی کیا جائے۔ انتخابات جن لوگوں کے مفاد میں نہیں ہے البتہ وہ یہ ضرور چاہتے ہیں کہ انتخابات نہ ہوں۔ کچھ لوگوں کا منتخب ہو کر اقتدار میں آنا ممکن نہیں ہے۔ ان میں جاگیردار، وڈیرے، پیر، سرمایہ دار وغیرہ بھی ہیں۔ وہ ہمیشہ فوج کو اکساتے ہیں کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر لے ملکی حالات کو بنیاد بنا کر۔ فوج بھی کئی بار ان کے جھانسے میں آچکی ہے۔ پھر ایسے عناصر فوج کے کندھے پر سوار ہو کر خود بھی اقتدار میں آجاتے ہیں۔ منسٹر، چیف منسٹر، گورنر بن جاتے ہیں۔ دیکھیں اس وقت انتخابات ہونا ہی ایک واحد آئینی و قانونی راستہ ہے اور انتخابات کو اپنے وقت مقررہ پر تسلسل کے ساتھ ہونا چاہئیے۔ کئی ممالک میں جنگ کے دوران بھی الیکشن ہوئے ہیں۔ سب سے بڑی مثال ہمارے پڑوسی برادر اسلامی ملک ایران کی ہے۔ جنگ کے باوجود بھی ہر سطح کے الیکشن اپنے وقت پر ہوئے۔ افغانستان و عراق میں بھی ہوئے ہیں۔ پاکستان میں کوئی ایسی جنگی حالت نہیں ہے۔ طالبان اور کالعدم تنظیموں کی جانب سے دہشتگردی ہے، تو ہمیں اس کا مقابلہ کرنا چاہئیے نہ کہ دہشت گردوں کے سامنے ہار مان کر انتخابات کو ملتوی کرکے ان دہشت گردوں کی ہمت بڑھائی جائے۔ دہشت گردوں کے مقابلے میں آج فوج اور عوام متحد ہے اور مل کر مقابلہ کر رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: الیکشن کمیشن نے 50 سے زائد دہشتگردوں کو انتخابات میں حصہ لینے کیلئے اہل قرار دے دیا ہے، کیا کہنا چاہیں گے۔؟
لطیف مغل: جو تعداد آپ نے بتائی ہے اس حد تک تو بات صحیح ہے کہ اتنی تعداد میں دہشت گردوں کو اہل قرار دے دیا گیا ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں انہیں اجازت الیکشن کمیشن نے نہیں بلکہ ریٹرنینگ افسران نے دی ہے۔ امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے اور اسکے بعد جانچ پڑتال کا جو مرحلہ تھا اس میں ریٹرنینگ افسران کا جو رویہ تھا اور جو سوالات کئے جا رہے تھے اس سے ایسا لگ رہا تھا کہ آمر ضیاء یا ضیائی نظرئیے کو دوبارہ ملک میں مسلط کرنے کوشش کی جا رہی ہو اور دہشت گردوں کو انتخابات لڑنے کیلئے سپورٹ کیا جا رہا ہو۔

اسلام ٹائمز: طالبان اور کالعدم تنظیموں کی جانب سے بعض سیاسی جماعتوں کو اپنا ضامن کہا جا رہا ہے۔ یہ کون سی جماعتیں ہیں؟ کیا کہنا چاہینگے۔؟
لطیف مغل: میں نواز شریف کا نام لے کر کہوں گا کہ یہ extreme right wing ہے اور یہ دہشت گرد عناصر کو سپورٹ کرتے رہے ہیں۔ میں آپ کی اطلاع کیلئے یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ پنجاب میں خاص طور پر جنوبی پنجاب میں کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کو انتخابی ٹکٹ بھی دئیے گئے ہیں۔ اسامہ بن لادن کے ساتھ بھی نواز شریف کے تعلقات اب ڈھکے چھپے نہیں ہیں، یہ بھی اب منظر عام پر آچکے ہیں۔ نواز شریف کا کالعدم تنظیموں کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے اور اب یہ ساری دنیا پر آشکار ہوچکا ہے۔

اسلام ٹائمز: پیپلز پارٹی آج کراچی میں طالبان دہشتگردوں کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے، مگر اپنے گذشتہ پانچ سالہ دور حکومت میں کیوں ان ٹھکانوں کو ختم نہیں کرسکی جبکہ کراچی سمیت پورا ملک دہشتگردی کا شکار رہا۔؟
لطیف مغل: پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں اپنی بساط کے مطابق دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھرپور حصہ لیا۔ سوات میں جہاں پاکستانی پرچم اتار دئیے گئے تھے، پی پی پی حکومت میں اسے دوبارہ لہرایا گیا۔ دہشت گردی کا نشانہ جتنی پیپلز پارٹی بنی ہے کوئی نہیں بنا۔ یہاں تک کہ پیپلز پارٹی کی سربراہ شہید بے نظر بھٹو نے دہشت گردی کے خلاف اپنی جان پاکستان پر قربان کر دی۔ اسی دہشت گردی کی سوچ نے انہیں نشانہ بنایا۔ سلمان تاثیر کو اسی انتہاء پسند ضیائی سوچ نے دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ ہماری اقلیت برادری اور مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے ہمارے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو اسی سوچ نے نشانہ بنایا۔ آپ نے تو کہہ دیا کہ کیوں پیپلز پارٹی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں کرسکی۔ مگر دیکھیں پیپلز پارٹی کے پاس کوئی الہ دین کا چراغ نہیں تھا۔ دیکھیں پاکستان میں ضیاء دور حکومت کی پیداوار دہشت گردی کی سوچ اور جڑیں بہت گہری ہیں، اسے مکمل ختم کرنے کیلئے جس خلوص سے پیپلز پارٹی نے کام کیا، اسی طرح کوششیں کی جائیں تو آئندہ بیس سال میں اس سوچ کا مکمل خاتمہ ہوگا۔

اسلام ٹائمز: پیپلز پارٹی کے گذشتہ دور حکومت کے آخری ایام میں جب کراچی سمیت ملک بھر میں دہشتگردی جاری تھی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی نے یہ کہہ کر پیپلز پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی کہ ہم پیپلز پارٹی کی کرپشن کا داغ لے کر آئندہ انتخابات میں عوام کے سامنے نہیں جاسکتے۔ آج پھر پیپلز پارٹی ان دونوں جماعتوں کے ساتھ بیٹھ گئی۔ کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
لطیف مغل: سیاست میں کچھ بھی حتمی نہیں ہوتا ہے، چاہے وہ دوستی ہو یا دشمنی۔ ہم آج بھی اپنی جگہ پر کھڑے ہیں جہاں پہلے کھڑے تھے۔ جن دو جماعتوں کا نام آپ نے لیا، ان دونوں جماعتوں نے الزامات لگا کر پیپلز پارٹی سے علیحدگی اختیار کی تھی، بقول آپ کے اور حقیقت بھی یہی ہے۔ اب وہ دوبارہ ہمارے پاس آگئے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ انہوں نے سمجھا ہو کہ وہ پہلے والا فیصلہ غلط ہو، اب انہوں نے صحیح فیصلہ کیا ہو۔ دیکھیں کوئی بھی طبقہ ایسا نہیں ہے جو دہشتگردی سے متاثر نہ ہو۔ دہشتگردی کے خلاف ہم نے اسٹینڈ لیا ہوا ہے، اگر اس دہشتگردی کے خلاف کوئی مشترکہ لائحہ عمل بنتا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ اس حوالے سے ہر سیاسی و مذہبی جماعت کو مل کر بیٹھنا چاہئیے۔ 

اسلام ٹائمز: اہل تشیع مکتب سے تعلق رکھنے والی مذہبی جماعت اسلامی تحریک پاکستان نے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ جبکہ اہل تشیع مسلمانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ سب سے زیادہ پیپلز پارٹی کے ادوار حکومت میں دہشتگردی کا نشانہ بنے۔ اس سے انتخابات میں پیپلز پارٹی پر کیسا اثر پڑے گا۔؟
لطیف مغل: پہلی بات تو یہ کہ اس حمایت سے ہم پر بالکل اچھا اثر پڑے گا۔ ظاہر ہے کوئی بھی جماعت اگر پیپلز پارٹی کو سپورٹ کرتی ہے، اچھی پالیسیوں کی وجہ سے تو ظاہر ہے اس سے تو ووٹوں میں اضافہ ہی ہوگا، نقصان تو نہیں ہوگا اس میں ہمیں فائدہ ہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اہل تشیع محب وطن ہیں، وہ ہمیشہ پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ ووٹ دیتے رہے ہیں اور ابھی بھی ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں گے۔ پیپلز پارٹی نہ تو فرقہ واریت پر یقین رکھتی ہے، نہ ہی لسانیت یا کسی قسم کے امتیازی سلوک پر۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے پیپلز پارٹی ہی وہ واحد جماعت ہے کہ جس میں ہر زبان بولنے والا، ہر مکتب فکر و مذہب سے تعلق رکھنے والا، ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا اپنے آپ کو comfort محسوس کرتا ہے اور ہمیں اپنی اس خصوصیت پر فخر ہے۔ آپ نے کہا کہ شیعہ برادری سب سے زیادہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دہشتگردی کا شکار ہوئے۔ تو دیکھیں پیپلز پارٹی کے ہر دور حکومت میں اسے ناکام بنانے کیلئے ملک بھر میں دہشتگردی کو منظم انداز میں بڑھایا گیا مگر ہم نے پوری طرح اس کا مقابلہ کرنے اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو بہتر کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ کہیں کہیں حکومتی لوگوں کی کمزوریاں رہی ہیں۔

اسلام ٹائمز: کراچی میں گذشتہ روز تین جماعتی پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے رہنماء تاج حیدر نے کہا تھا کہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جہادی تنظیمیں مغربی تائید سے بنوائی گئیں۔ اگر ہم ضیاء کا مقابلہ کرسکتے ہیں تو ضیاء کی باقیات کا بھی کرسکتے ہیں۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ انتخابات کے موقع پر ایسے بیانات دینے سے مغربی ممالک اور امریکہ پیپلز پارٹی سے ناراض ہوسکتے ہیں۔؟
لطیف مغل: مغرب اور امریکہ اگر ناراض ہوتے ہیں تو ہوں۔ تاج حیدر صاحب نے سچی بات کی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ دسمبر 1979ء میں افغانستان میں جو کمیونسٹ انقلاب آیا تھا اسے ناکام بنانے کیلئے اور ویت نام میں اپنی شکست کا بدلا لینے کیلئے روس سے، امریکا نے جو پالیسی بنائی تھی، جس طرح ان نام نہاد جہادی گروہوں کو سپورٹ کیا تھا، ان کو مالی حوالے سے سپورٹ کیا تھا، انہیں اسلحہ دیا تھا۔ نہ صرف خود سپورٹ کیا بلکہ پورے مشرق وسطٰی (middle east) میں جو بادشاہتیں قائم ہیں، ان سے بھی ان جہادی گروہوں کی حمایت کروائی تھی۔ نہ صرف حمایت کروائی بلکہ مشرق وسطٰی (middle east) میں جو دہشتگرد عنصر تھا، جو criminal لوگ وہاں تھے، ان سب کو جیلوں سے نکال کر یہاں پاکستان بھیجا گیا پھر ان دہشتگردوں کو افغانستان بھیجا گیا۔ یہ سارا کچھ امریکی اور مغربی سرپرستی میں ہوا تھا۔ ان دہشتگردوں نے افغانستان میں انقلاب کو ناکام بنانے کیلئے کردار ادا کیا امریکی ایماء پر، مغربی و عرب بادشاہوں کی ایماء پر۔ وہ عناصر آج بھی برسرپیکار ہیں۔ آج بھی افغانستان میں جو بغاوت ہو رہی ہے اس میں وہ ملوث ہیں۔ ہم شروع سے کسی بھی پڑوسی ملک میں مداخلت کے خلاف رہے ہیں۔ اس وقت جب امریکہ آمر ضیاءالحق اور آئی ایس آئی (ISI) کے ذریعے افغانستان میں مداخلت کر رہا تھا اس وقت بھی ہم نے کھل کر اس کی مخالفت کی اور آج بھی مخالفت کرتے ہیں۔ آج پاکستان میں جو دہشتگردی ہے، اس کی جڑیں اسی آمر جنرل ضیاء کی پالیسیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔

اسلام ٹائمز: گذشتہ روز ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ امریکا اور مغربی ممالک پاکستان کو توڑنے کی سازش کر رہے ہیں۔ جبکہ تاج حیدر بھی گذشتہ پریس کانفرنس میں کہہ چکے ہیں کہ جہادی تنظیمیں امریکی و مغربی ممالک نے بنائی ہیں جو کہ آج ملکی سالمیت و بقاء کیلئے خطرہ بن چکی ہیں۔ کیا واقعاً امریکا و مغرب پاکستان توڑنا چاہتے ہیں۔؟
لطیف مغل: صحیح کہا تاج حیدر صاحب نے اور میں نے جیسا پہلے آپ کو کہا کہ یہ جو ساری جہادی تنظیمیں ہیں یہ امریکا اور مغرب نے بنوائی تھیں۔ اس میں مشرق وسطٰی (middle east) کے بادشاہتیں بھی شامل تھیں۔ آج بھی یہ ملک کیلئے زہر قاتل ہیں۔ پورا ملک ان دہشت گرد عناصر کی کارروائیوں کی وجہ سے شدید متاثر ہے اور ملکی سالمیت اور بقاء بھی انہیں دہشت گرد نام نہاد جہادی گروہ کی وجہ سے خطرے سے دوچار ہے۔ دیکھیں پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جو دو قومی نظریئے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ایک ایٹمی پاور بھی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی پاور بنایا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو یہودی لابی ہے، مغرب ہے یا جو اسرائیل کے سرپرست ہیں وہ پاکستان کو طاقتور ملک نہیں دیکھنا چاہتے۔ اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کمزور ہو یا پاکستان تقسیم ہو۔

اسلام ٹائمز: نواز شریف سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اپنی حکومت کے آخری ایام میں پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدہ کیا، تاکہ اسے انتخابی مہم کا حصہ بناسکے ورنہ وہ اسے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں بھی مکمل کرسکتی تھی۔ حقیقت کیا ہے۔؟
لطیف مغل: اس میں ذرہ برابر بھی سچائی نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی نے ایران اور چین کے ساتھ معاہدے اپنے دور حکومت کے آخر میں اس لئے کئے کہ اس سے انتخابی مہم کا حصہ بناتے ہوئے سیاسی فوائد حاصل کئے جاسکیں۔ پاک ایران گیس پائپ لائن پہلے یہ IPI کے نام سے پائپ لائن تھی جس میں بھارت بھی شامل تھا اور تینوں ممالک ابتدائی معاہدے پر 14-15 سال پہلے دستخط کرچکے تھے۔ لیکن امریکی پریشر یہ تھا کہ ایران کے ساتھ کسی قسم کا اقتصادی معاہدہ نہیں کیا جائے اور پاکستان اور بھارت دونوں پر بے انتہاء دباﺅ تھا کہ اس معاہدے کا حصہ نہ بنیں، withdraw کر جائیں۔ اسی امریکی دباﺅ کے نتیجے میں بھارت اس گیس پائپ لائن معاہدے سے الگ ہوگیا۔ اس کے متبادل کے طور پر امریکا نے tapi گیس پائپ لائن کا مشورہ دیا۔ جس میں ترکمانستان افغانستان پاکستان اور انڈیا شامل ہیں، میں ابھی اس کی تفصیلات میں نہیں جاﺅں گا۔ 

اس معاہدے کی تاخیر کا سبب امریکی دباﺅ تھا جس کو پیپلز پارٹی نے مسترد کرتے ہوئے پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدہ کیا۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جس طرح 1973ء میں ہنری کیسنجر (سابقہ امریکی وزیر خارجہ) نے ذوالفقار علی بھٹو شہید کو لاہور کے گورنر ہاﺅس میں یہ دھمکی دی تھی کہ اگر آپ نے فرانس سے ایٹمی ری پروسسنگ پلانٹ کا معاہدہ کیا تو ہم (امریکا) آپ (پاکستان) کو عبرت کا نشان بنا دینگے۔ تو پیپلز پارٹی کی بھی پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے کے حوالے سے امریکا نے اسی شدت کے مخالفت کی۔ اس معاہدے کی تاخیر کا سبب کوئی انتخابی مہم یا سیاسی فوائد کا حصول نہیں ہے بلکہ درحقیقت امریکی مخالفت ہے۔ امریکا اس معاہدے پر روڑے اٹکاتا رہا، ٹانگ اڑاتا رہا۔ لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنا سامراج دشمن کردار پھر دوبارہ زندہ کیا ہے اور اس پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے کو شروع کرکے یہ ثابت کیا کہ پیپلز پارٹی پہلے کی طرح اب بھی سامراج دشمن ہے اور ملکی مفاد کی خاطر امریکا کے کسی بھی دباﺅ میں نہیں آئے گی۔ جس طرح اس وقت شہید ذوالفقار علی بھٹو امریکی دباﺅ میں نہیں آئے تھے بالکل اسی طرح آج صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے بھی شہید بھٹو کی تقلید کرتے ہوئے ہر قسم کے امریکی دباﺅ کو مسترد کرتے ہوئے پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے پر دستخط کر دئیے۔ جس پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔
 
یہ معاہدہ پیپلز پارٹی اور جناب آصف علی زرداری نے ملکی مفاد میں اپنے اوپر بہت بڑا رسک لے کر کیا ہے کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کو جو دھمکی دی تھی ہنری کیسنجر نے اس پر اس نے عمل بھی کیا تھا اور وہی صورتحال آج بھی پیپلز پارٹی کو درپیش ہے۔ پیپلز پارٹی دوبارہ اقتدار میں آکر ہر حال میں پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے پر عمل کرائے گی۔ بالکل اسی طرح پاک چین گوادر بندرگاہ معاہدہ بھی ایک landmark معاہدہ ہے۔ گوادر ایک بہت اہم تیل کی گزرگاہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گوادر کی اسٹریٹجک لحاظ سے عالمی پوزیشن انتہائی اہم ہے۔ ہمارے عظیم دوست ملک چین کے ساتھ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پاکستان نے جو معاہدہ کیا ہے، اس سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی امریکا اور مغرب کے کسی بھی دباﺅ میں نہیں آتی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جو پاک چین دوستی کی بنیاد رکھی تھی اس پر عمل پیرا ہے۔ جس طرح چین نے پاکستان کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا، گوادر بندرگاہ معاہدہ چین پر اعتماد کا اظہار ہے۔ دیکھیں بلوچستان میں جو بغاوت ہے، دہشتگردی ہے، اس میں بین الاقوامی مداخلت ہے۔ اسی طرح امریکا نے چین کے ساتھ معاہدے کی مخالفت کی مداخلت کی، مگر پیپلز پارٹی نے ملکی مفاد میں اس دباﺅ کو مسترد کر دیا۔
خبر کا کوڈ : 259514
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب