1
0
Friday 31 May 2013 20:59

سید خمینی اور سید مودودی کے چاہنے والے پاکستان میں ملکر جدوجہد کر رہے ہیں، اسد اللہ بھٹو

سید خمینی اور سید مودودی کے چاہنے والے پاکستان میں ملکر جدوجہد کر رہے ہیں، اسد اللہ بھٹو
جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر جناب اسد اللہ بھٹو کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ پاکستان خصوصاً کراچی و سندھ بھر میں آپکی اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے کوششوں کو ہر حلقے میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ جماعت اسلامی سندھ کے امیر کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں اور آجکل ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر کی حیثیت سے بھی فعال ہیں۔ اسلام ٹائمز نے امام خمینی (رہ) کی شخصیت، انتخابات کے بعد ملکی صورتحال، اتحاد امت و وحدت اسلامی، شام اور اردن میں مزاراتِ اصحاب رسول (ص) کی بے حرمتی کے حوالے سے مسجد قباء میں قائم جماعت اسلامی کے آفس میں آپ کے ساتھ ایک خصوصی نشست کی۔ اس موقع پر آپ سے کیا گیا انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: کیا عام انتخابات سے پہلے اور بعد میں ملک بھر میں قومیت و صوبائیت کی نئی لہر پیدا ہو رہی ہے؟ کونکہ کوئی بھی جماعت وفاق کی علامت نہیں بن سکی۔
اسد اللہ بھٹو: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ میرا نہیں خیال کہ اس وقت ملک میں ایسی کوئی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ نہ ہی عام انتخابات میں کسی بھی جماعت کی جانب سے یہ تاثر ابھرا ہے سوائے ایم کیو ایم کے۔ مثال کے طور پر نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ کو سندھ سے بھی ووٹ ملے ہیں، ان کے ایم این اے ایم پی اے منتخب ہوئے ہیں۔ سرحد سے بھی ان کے ایم این اے ایم پی اے ہیں۔ اسی طرح عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ملک بھر میں ایم این اے ایم پی اے منتخب ہوئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ سوائے ایم کیوا یم کے پورے پاکستان میں قومی سطح کی سیاست کرنے والی جماعتیں کامیاب ہوئی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی ووٹ ملے ہیں، اختلافات ہمارے اپنی جگہ ہیں، ہمارے منشور اور کام کرنے کا طریقہ الگ ہے مگر پی پی پی ایک متعصب جماعت نہیں بلکہ قومی سیاست کرنے والی جماعت ہے۔ ان کے بھی ملک بھر میں نمائندے کامیاب ہوئے ہیں۔ جہاں تک بات ہے ایم کیو ایم کی تو اس میں کسی کو شک شبہ نہیں ہے کہ انہوں نے کراچی میں تاریخ کی بدترین دھاندلی کی جو کہ عوام اور تمام سیاسی جماعتوں پر واضح ہے، سب سے پہلے جماعت اسلامی نے دھاندلی کے خلاف پولنگ کا بائیکاٹ کیا، امیر جماعت اسلامی منور حسن نے پریس کانفرنس کی، اس کے بعد دھاندلی کے خلاف دیگر جماعتوں نے پریس کانفرنسز کیں، اس میں تحریک انصاف ہے، مجلس وحدت مسلمین ہے، خود پیپلز پارٹی بھی شامل ہے۔ سب سے بڑھ کر خود الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلامیہ جاری ہوا میڈیا میں کہ ہم کراچی میں پرامن اور شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: جماعت اسلامی، تحریک انصاف، مجلس وحدت مسلمین، پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے بائیکاٹ کیا مگر اس کا کیا فائدہ ہوا، اب تو انتخابات کے سارے مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔ وزرائے اعلیٰ کا بھی انتخاب عمل میں آ چکا ہے۔ کیا کہیں گے اس حوالے سے؟
اسد اللہ بھٹو: جمہوریت مسلسل جدوجہد کا نام ہے، تبدیلی کیلئے مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے، بعض اوقات کئی کئی دہائیاں بیت جاتی ہیں منزل تک پہنچنے تک، کئی نسلیں گزر جاتی ہیں۔ ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ انقلاب کے اوائل میں محمد علی رجائی وزیراعظم تھے، پارلیمنٹ میں بم دھماکہ کیا جاتا ہے، وزیراعظم، اسپیکر سمیت درجنوں اراکین پارلیمنٹ شہید ہو جاتے ہیں، لیکن وہاں کسی قسم کی کوئی ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی۔ اس بات کا کریڈیٹ امام خمینی ﴿رہ﴾ کو جاتا ہے، ان کی وہاں اسلامی جمہوریت کیلئے کوششوں کو جاتا ہے۔ امام خمینی ﴿رہ﴾ نے وہاں کوئی عبوری حکومت قائم نہیں کی بلکہ فوری طور پر انتخابات کا اعلان کیا۔ پاکستان میں بھی ہم ایسی جمہوری نظام کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ دیکھیں جمہوریت میں جیتنا بھی جمہوریت ہے اور ہارنا بھی جمہوریت ہے۔ جب ایران میں سٹنگ پریزیڈنٹ ہار سکتا ہے اور اس کی جگہ کوئی دوسرا منتخب ہو کر آ سکتا ہے تو اسی کو جمہوریت کہتے ہیں۔ اسے لئے ہم کہتے ہیں کہ پاکستان میں جتنی بھی برسراقتدار جماعتیں رہی ہیں ان کو یہ سوچنا چاہئیے کہ ہارنا بھی جمہوریت کا نام ہے۔

اسلام ٹائمز: دشمنان عالم اسلام اس وقت عالمی سطح پر متحد ہو کر اسلام کو نابود کرنے کی سازشیں کر رہا ہے، مگر اسلامی ممالک کی صورتحال اس کے برعکس کیوں ہیں؟
اسد اللہ بھٹو: اس وقت واقعاً صورتحال انتہائی افسوسناک ہے کہ مگر اس کے ساتھ ہی جو بات سب سے زیادہ خوش آئند ہے وہ ہے امت کے درمیان اتحاد۔ عوام چاہے مصر کی ہو یا تیونس کی، پاکستان کی ہو یا ایران کی، ترکی کی ہو یا انڈونیشیا کی، بلکہ یورپ، ایشیاء، افریقہ سمیت دنیا بھر کے مسلمان اس حوالے سے ایک طرح کی سوچ رکھتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانان عالم کے اندر فکری وحدت، فکری ہم آہنگی موجود ہے، وہ فرقہ واریت کے خلاف ہیں لیکن سوائے ایک آدھ اسلامی ملک کے، ہمارے تمام مسلمان ممالک کے حکمران امریکا کے ایجنٹ اور پٹھو ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمیں یہ اختلاف نظر آتا ہے۔ ہمارے حکمران کے کچھ نہ کرنے کی اصل وجہ ان کا ہر معاملے میں امریکا سے ڈکٹیشن لینا ہے لیکن امت کے اندر اختلاف نہیں بلکہ اتحاد و وحدت موجود ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں درجنوں غیر ملکی سروے کئے جا چکے ہیں اور سب میں پاکستانی عوام کی اکثریت نے امریکا سے نفرت کا اظہار کیا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ امت جاگ رہی ہے۔ استعمار پاکستان میں شیعہ سنی جھگڑا کرانا چاہتا ہے۔ فرقہ واریت کو جنم دے کر وہ چاہتا ہے کہ جب ایران کے خلاف جب کوئی پابندیاں لگائے، یا اسرائیل کی جانب سے ایرانی ایٹمی پروگرام پر جارحیت کی جائے تو سنی یہ کہے کہ ہمارا کیا واسطہ یہ تو شیعوں پر ہوا ہے۔ اسی طرح جب پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر امریکہ پابندیاں لگائے یا حملہ کرے تو وہاں کی عوام یہ سوچے کہ ہم تو شیعہ ہیں، اگر پڑوس میں ہوا ہے تو ہم کیا کریں۔ مگر ہم ان تمام سازشوں سے مقابلہ کرتے ہوئے وحدتِ امت کے ذریعے امریکا، اسرائیل سمیت تمام سامراجی، طاغوتی قوتوں کو ناکامی سے دوچار کرینگے۔

اسلام ٹائمز: امام خمینی (رہ) کی برسی قریب ہے۔ 1979ء میں ایران میں جب امام خمینی (رہ) کی سربراہی میں اسلامی انقلاب برپا ہوا تو پاکستان میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی (رہ) نے شیعہ مسلمانوں سے زیادہ بڑھ کر اس کا اسقبال کیا۔ کیا کہنا چاہیں گے۔
اسد اللہ بھٹو: امام خمینی رحمة اللہ علیہ کی اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمة اللہ علیہ کی دعوت جو دعوت ہے وہ ایک ہی ہے۔ دونوں ایک ہی دور کے علماء میں سے ہیں، ان کے ساتھ ساتھ اس دور میں تیسری بڑی شخصیت مصر کے حسن البناء تھے۔ ان تمام شخصیات کا مقصد اسلامی انقلاب تھا، ان تمام شخصیات کا مقصد امریکہ، اسرائیل اور دیگر استعماری و استکباری طاقتوں کے خلاف اور مقابلے میں اسلام کا غلبہ و سرفرازی تھا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ تھا جس پر یہ تمام شخصیات ایک تھیں اور آج بھی ہم سب ایک ہیں۔ آج بھی الحمد اللہ ہر جگہ یہ جدوجہد جاری و ساری ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب ایران میں اسلامی انقلاب برپا ہو رہا تھا تو پاکستان میں امام خمینی رحمة اللہ علیہ نے دو نمائندے بھیجے تھے، جن میں سے ایک بعد میں ایران کے وزیر خارجہ بھی بنے۔ دونوں نمائندوں نے آ کر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمة اللہ علیہ سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ ایران میں اسلامی انقلاب کیلئے امام خمینی (رہ) تشریف لا رہے ہیں۔ اس وقت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمة اللہ علیہ نے نہ صرف ان کا استقبال کیا تھا بلکہ ان کی اسلامی حکومت کو پاکستان نے سب سے پہلے تسلیم کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت کی حکومت میں ہمارے، جماعت اسلامی کے چار وزراء تھے جن میں پروفیسر غفور مرحوم، محمود اعظم فاروقی مرحوم، چوہدری رحمت الٰہی، پروفیسر خورشید صاحب شامل تھے۔ انہوں نے ضیاءالحق کو مجبور کیا کہ فوری طور پر ایران کے اسلامی انقلاب کو تسلیم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمة اللہ علیہ نے سعودی عرب کے بادشاہ سے بھی بات کی تھی اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ان کو بھی اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ ایران کے اسلامی انقلاب کو قبول کریں۔ ہم ایران کے اسلامی انقلاب کو شیعہ کے بجائے اسلامی انقلاب سمجھتے ہیں۔ یہ اسلامی انقلاب الحمد اللہ آج تک برقرار ہے، ہمیں خوشی ہے، اللہ اسے مزید قائم و دائم رکھے۔

اسلام ٹائمز: ایران میں امام خمینی (رہ) کی قیادت میں برپا ہونے والے اسلامی انقلاب نے استعمار و طاغوت کے دین و سیاست کے جدا جدا ہونے کے پروپیگنڈے کو بےاثر کر دیا۔ کیا کہیں گے؟
اسد اللہ بھٹو: دیکھیں اسلام میں دین، سیاست، عبادت، عقائد کوئی الگ الگ چیزیں نہیں ہیں۔ بلکہ اصل بنیادی عقائد ہیں، جن کے مطابق ہمارے اوپر عبادات بھی فرض ہیں، اسی طرح ملک کے نظام کو چلانے کیلئے بھی اللہ اور اس کے رسول (ص) کی طرف سے قرآن و سنت میں حکم دیا گیا ہے۔ خود اسلام میں دو قسم کے احکامات ہیں، انفرادی و اجتماعی۔ مثلاَ اگر آپ نے وضو کرنا ہے تو خود کرنا ہے، نماز پڑھنی ہے تو خود بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح روزہ رکھنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ اجتماعی کام ہوتے ہیں جنہیں آپ اجتماعیت یا حکومت کے بغیر ختم نہیں کر سکتے۔ مثلاَ فحاشی و عریانیت کا خاتمہ۔ مثلاَ ملک سے سودی نظام کا خاتمہ۔ ہمارے یہاں سپریم کورٹ سودی نظام کے خلاف فیصلہ دے چکی ہے مگر یہ نظام ختم نہیں ہو سکا۔ عدالتی نظام اسلامی ہونا چاہئیے مگر پاکستان میں نظام انگریز کا دیا ہوا چل رہا ہے۔ اس نظام کو اسلامی حکومت کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارا تعلیمی نظام لارڈ میکالے انگریزوں کا چل رہا ہے، ایک غیر اسلامی نظام۔ اس کو اسلامی بنانے کیلئے حکومت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح معیشت، معاشرت، داخلہ پالیسی، آزاد خارجہ پالیسی سمیت بہت سے ایسے مسائل ہیں جن کا خاتمہ اسلامی نظام حکومت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ سیاست و حکومت اسلام و دین کا حصہ ہے، دین و سیاست جدا جدا نہیں ہیں۔ کیا رسول اللہ (ص) نے اپنے دور میں گورنر اور دیگر عوامی نمائندے نہیں بنائے۔ کیا ان گورنرز اور نمائدگان کا کام اذان دینا اور نماز پڑھانا تھا، ان کا کام کوئی وضو سکھانا تھوڑی تھا۔۔ نہیں، بلکہ ان کا کام اسلامی نظام حکومت چلانا تھا۔ نظام حکومت چلانا تو سنت رسول اللہ (ص) ہے۔ اسلامی نظام حکومت کیلئے تو رسول اللہ (ص) نے عظیم قربانیاں دیں، صحابہ کرام (رض) نے قربانیاں دیں۔ اسلامی نظام حکومت اور سیاست و حکومت کو اسلام کے مطابق بنانے کیلئے امام حسین عالی مقام (ع) نے سب سے بڑی قربانی دی ہے کہ یہاں پر اسلامی نظام ہونا چاہئیے۔ امام حسین (ع) کے قیام کے وقت لوگ نمازیں بھی پڑھ رہے تھے، روزے بھی رکھ رہے تھے، حج بھی کر رہے تھے۔ لیکن اسلامی نظام نہیں تھا، اسلامی احکامات کو تبدیل کیا جا رہا تھا، اس لئے امام حسین (ع) نانا (ص) کے دین کی بقاء اور اسلامی نظام حکومت کیلئے کھڑے ہو گئے اور سب سے بڑی قربانی دی۔ اصل میں یہ استعمار، استکبار، طاغوت کا فلسفہ ہے کہ دین و سیاست جدا ہیں۔ اسی لئے ہم امام خمینی (رہ) کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے عملی طور پر ایک کامیاب اسلامی نظام حکومت، اسلامی ریاست کا قائم کر کے دکھائی ہے۔

اسلام ٹائمز: کچھ عناصر پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ایرانی انقلاب نے پاکستان میں فرقہ واریت کو جنم دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسد اللہ بھٹو: (سوال کاٹتے ہوئے۔۔۔) دیکھیں پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں فرقہ واریت نہیں ہے۔ جو لوگ اس قسم کا پروپیگنڈہ کرتے ہیں، سازشیں کرتے ہیں وہ امریکا اور اسرائیل کے ایجنٹ ہیں، یہ طاغوت و سامراج کے پٹھو ہیں۔ یہ پروپیگنڈہ نہ تو پہلے کبھی عوام میں چل سکا ہے اور نہ اب کبھی کامیاب ہو گا۔ پاکستانی عوام اس سمیت تمام امریکی و اسرائیلی پروپیگنڈوں کو ہمیشہ مسترد کرتی رہے گی۔ میں اس موقع پر مزید کہنا چاہوں گا کہ کراچی سمیت پاکستان بھر میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی گئی، پارا چنار سے لیکر کراچی تک شیعہ سنی جھگڑا کرانے کی سازشیں کی گئیں، مگر الحمدللہ یہ تمام سازشیں ابتک ناکام ہوئی ہیں۔ کہیں ایسا نہیں ہوا کہ کسی سنی عالم کا قتل ہوا یا مسجد میں دھماکہ ہوا تو انہوں نے اہل تشیع کے گھروں یا امام بارگاہوں پر حملے کئے ہوں، یا اگر کسی شیعہ عالم کا قتل ہوا ہو یا عزداری کے اجتماع پر حملہ ہوا ہو تو انہوں نے کسی سنی کے گھر پر حملہ کیا ہو۔ بلکہ سب نے مل کر ان تمام واقعات کی مذمت کی ہے۔ یہ اتحاد امت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ پاکستان میں امریکہ، اسرائیل، بھارت و دیگر اسلام دشمن قوتیں ہیں جو ملک میں شیعہ سنی اتحاد و وحدت کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔ کچھ عرصے پہلے کراچی میں سانحہ عاشور کے بعد حکومت نے فوراً میڈیا میں ایک سر کو پیش کیا کہ یہ خودکش حملہ آور کا سر ہے اور اسے فرقہ واریت کا رنگ دینے کی مذموم کوشش کی مگر میں سلام پیش کرتا ہوں اہل تشیع علماء کو جنہوں نے فوراً میڈیا پر آ کر پریس کانفرنس میں اس کی تردید کی اور کہا کہ یہ ہمارے ایک عزادار کا سر ہے جو اس دھماکے میں شہید ہوا ہے۔ اس طرح پاکستان شیعہ سنی جھگڑے سے بچ گیا اور یہاں فرقہ واریت کی سازش کو ناکام بنا دیا گیا۔

اسلام ٹائمز: کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ امام خمینی (رہ) اور مولانا مودودی (رہ) کے چاہنے والے اگر اسلامی نظام حکومت کے حوالے سے مخلص ہوتے تو مل کر جدوجہد کرتے مگر ایسا نہیں ہے۔ آپ کی اس حوالے سے کیا نظر ہے؟
اسد اللہ بھٹو: میں سمجھتا ہوں کہ سید مودودی اور سید خمینی کے چاہنے والے دونوں مل کر جدوجہد کر رہے ہیں، ایک ہی سمت میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ آپس میں بہترین تعلقات رکھتے ہیں، تعاون کرتے ہیں۔ دیکھیں جمہوری معاشروں میں جماعتیں الگ الگ ہو سکتی ہیں، ضروری نہیں ہے کہ سب اپنی اپنی جماعتیں ختم کرکے ایک جماعت بنا لیں۔ یہاں بھی جماعتیں الگ ہیں، مسلک الگ ہیں لیکن ان کی مشترکہ جدوجہدایک ہی ہدف کیلئے جاری و ساری ہے اور رہے گی۔

اسلام ٹائمز: شام کے حالات آپ کے سامنے ہیں، حال ہی میں شام میں انتہاء پسند باغیوں نے صحابی رسول (ص) حضرت حجر بن عدی (رض) کے مزار کو شہید کر کے انکے جسد مبارک کو قبر سے نکال کر بےحرمتی کی، جبکہ اردن میں حضرت جعفر طیار (رض) کے مزار کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ آپ کی نظر میں کون سے عناصر ان واقعات میں ملوث ہیں؟
اسد اللہ بھٹو: شام کے واقعات میں امریکا، اسرائیل اور اسلام دشمن قوتیں ملوث ہیں، وہاں کے حالات کو سامراجی و استعماری قوتیں اپنے مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کر رہی ہیں۔ حضرت جعفر طیار (رض) ہوں یا حضر حجر بن عدی (رض) یا دیگر صحابہ کرام اور آئمہ کرام ہوں سب کے سب تمام شیعہ سنی مسلمانوں کیلئے انتہائی قابل احترام ہیں اور کوئی مسلمان اس قسم کی ناپاک جسارت کرنا تو دور کی بات سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ تمام واقعات عالم اسلام و مسلمین جہان کو آپس میں دست و گریباں کرنے کی سازشوں کا حصہ ہیں۔ کسی عام آدمی چاہے وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو اس کی قبر کھود کر اس کی لاش کی بے حرمتی کرنا کسی بھی اسلامی مکتب و مسلک و فقہ میں جائز نہیں ہے، چہ جائیکہ کوئی صحابی رسول (ص) یا کسی امام کی شان میں ایسی گستاخی کرنے کا سوچا جائے۔ یہ امریکی و اسرائیلی گماشتوں کا کام ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آخر میں پاکستانی عوام کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
اسد اللہ بھٹو: ہم سب اللہ کے بندے اور اسکے آخری نبی (ص) کے امتی ہیں۔ ہمارا خدا ایک ہے، ہمارا رسول ایک ہے، ہمارا کعبہ ایک ہے، ہمارا قرآن ایک ہے۔ اسلئے ہمارے درمیان مشترکات ہیں۔ ہمارے حقیقی اور مشترکہ دشمن طاغوتی، استعماری، استکباری قوتیں ہیں جن کے سرغنہ امریکا اور اسرائیل ہیں، جن کا ہمیں مل کر مشترکہ جدوجہد کرکے مقابلہ کرنا ہے۔ ہم اتحاد امت اور وحدت اسلامی کے ذریعے عالم اسلام اور مسلمین کے خلاف جو سازشیں ہو رہی ہیں ان سب کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ آخر میں امام خمینی (رہ) کے قول پر اپنی بات ختم کروں گا کہ "امام خمینی (رہ) نے فرمایا کہ فقہ جعفری سے تعلق رکھے والے شیعہ، حنفی، حنبلی، مالکی اور شافعی یہ پانچوں ایک مکے کی طرح ہیں، پانچ انگلیاں جب مل جائیں گی تو ایک مکا بنے گا اور انشاءاللہ یہ اتحاد امت کا مکا جو ہے یہ سامراج اور طاغوت کے جبڑے کو توڑ دے گا"۔
خبر کا کوڈ : 269446
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

بہت اچھا انٹرویو ہے۔ خدا خوش رکھے۔