0
Sunday 16 Jun 2013 22:14

نواز حکومت کا ایجنڈا خطے میں امریکی پالیسیوں کو لاگو اور پاک ایران گیس معاہدہ ختم کرنا ہے، طارق محبوب صدیقی

نواز حکومت کا ایجنڈا خطے میں امریکی پالیسیوں کو لاگو اور پاک ایران گیس معاہدہ ختم کرنا ہے، طارق محبوب صدیقی
طارق محبوب صدیقی پچھلے 40 سال سے سماجی، مذہبی اور سیاسی خدمات انجام دے رہے ہیں اور معاشرہ میں عزت و احترام کے ساتھ ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ آپ نے علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی مرحوم کی قیادت میں 22 سال دینی مذہبی اور سماجی و سیاسی خدمات انجام دی ہیں۔ اس وقت آپ سنی اتحاد کونسل پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہونے کے ساتھ ساتھ انجمن نوجوانان اسلام پاکستان کے سرپرست اعلیٰ اور مرکزی جمعیت علماء پاکستان کے قائم مقام سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے طارق محبوب صدیقی کے ساتھ مختلف موضوعات کے حوالے سے ایک نشست کی جس میں انتخابات کے بعد ملکی صورتحال، نواز حکومت، طالبان سے مذاکرات، پاک ایران گیس پائپ لائن، پاکستان کے اندر غیر ملکی مداخلت اور امن و امان کی صورتحال وغیرہ شامل ہیں۔ اس موقع پر آپ سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: عام انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے والی نئی حکومت کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟
طارق محبوب صدیقی: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر ذی شعور یہ جانتا ہے کہ انتخابی نتائج انجینئرڈ تھے، پہلے سے طے شدہ تھے، موجودہ حکومت کو لانے کا فیصلہ پہلے سے ہو چکا تھا۔ میں اس تاریخی بدترین دھاندلی سے بھرپور انتخابات کے نتائج پر مبارکباد پیش کرتا ہوں چیف جسٹس کو، چیف الیکشن کمشنر کو اور ان نتائج کی مبارکباد پیش کرتا ہوں قومی سلامتی کے اداروں کو۔ حالیہ انتخابات کے نتائج قومی و بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے، محب وطن قومی سیاسی جماعتوں خصوصاً مذہبی جماعتوں کو انتخابات سے دور رکھنے کا بین الاقوامی ایجنڈا تھا۔ موجودہ حکمران بیرونی ایجنڈے کے کمیٹڈ لوگ ہیں۔

اسلام ٹائمز: سنی اتحاد کونسل کا موقف ہے کہ پاکستان میں عالمی ڈیزائن کے مطابق طالبان نواز حکومت قائم کی گئی ہے، جبکہ یہ رائے بھی ہے موجودہ حکومت کا قیام امریکا و سعودی عرب کی ایماء پر کیا گیا، کیا کہیں گے اس حوالے سے؟
طارق محبوب صدیقی: دیکھیں امریکا نے افغانستان کی جنگ پاکستان کے کاندھوں پر سوار ہو کر لڑی، پاکستان کو امریکا نے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا جس کا خمیازہ پاکستانی عوام اور فورسز کو آج تک اٹھانا پڑ رہا ہے۔ 40 ہزار سے زائد شہری اور فورسز کے اہلکار دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ یہ تمام چیزیں ریکارڑ پر ہیں، زمینی حقائق ان تمام کو ثابت کر رہی ہے۔ اب امریکا افغان جنگ سے باہر نکلنا چاہتا ہے۔ افغانستان سے انخلاء کیلئے امریکا کو محفوظ راستہ چاہیئے اور موجودہ پاکستانی حکمران امریکا کیلئے اس بڑھ کر ڈھال نہیں ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اس صورتحال میں بین الاقوامی ایجنڈا، سازش اور قوتیں ملوث ہیں۔ جو طالبانائزیشن کی پرورش کرتی رہی ہیں، طالبانائزیشن کو فنڈنگ، جدید اسلحہ دیتے رہے ہیں۔ اس کے بعد ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قوتیں اب افغانستان سے نکلنے کے بعد اپنا اگلا نشانہ پاکستان کو بنائیں گی۔ جہاں تک بات ہے پاکستان کے اندر سعودی مداخلت و کردار کی، تو دیکھیں ہمارے ایمان کا مرکز و محور سرزمین حجاز ہے لیکن اس سرزمین کو قال رسول اللہ (ص) کی بجائے، اللہ کی حکمرانی کی بجائے، اسکے رسول (ص)، اہلبیت (ع) و صحابہ (رض) کی بجائے سرزمین حجاز میں امریکی، یہودی نظام کو رائج کر دیا گیا ہے۔ معذرت کے ساتھ، امت کے حکمران عیاش ہیں تو ظاہری سی بات ہے کہ وہ اپنی عیاشیوں کیلئے یہود و نصاریٰ و دیگر قوتوں کے زیرنگین ہوتے ہیں۔ آج ہماری بدنصیبی ہے کہ حجاز مقدس پر بظاہر تو نام نہاد مسلم حکمران ہیں مگر ان کے پس پردہ عزائم، پالیسیاں یہود و ہنود کی ہیں۔

اسلام ٹائمز: طالبان اور امریکا کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔ آیا یہ دونوں ایک دوسرے کے حقیقی دشمن ہیں یا بظاہر دشمن کا روپ دھار کر پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں؟ بقول صاحبزادہ حامد رضا کے کہ طالبان داخلی اور امریکا خارجی دشمن ہے پاکستان کا۔
طارق محبوب صدیقی: بالکل صحیح بات ہے، صاحبزادہ حامد رضا میرے امام ہیں، قائد ہیں سربراہ ہیں، انہوں نے سو فیصد صحیح فرمایا ہے۔ جیسا کہ انکے والد گرامی صاحبزادہ فضل کریم مرحوم جن کا طبعی حادثاتی قتل ہوا ہے، نے پوری زندگی طالبانائزیشن، انتہاء پسندی، دہشت گردی کے خلاف گزاری، جہد مسلسل کی۔ سنی اتحاد کونسل وہ واحد سیاسی و مذہبی کونسل ہے جس نے میدان عمل میں نکل کر کھل کر طالبانائزیشن کو للکارا اور انکے عزائم کو بےنقاب کیا۔ اس راہ میں ہم نے انتہائی قیمتی ترین قربانیاں بھی دیں۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی، پیر سمیع اللہ چشتی سمیت سینکڑوں علماء و مشایخ کو قتل کیا گیا، ذبح کیا گیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ طالبان اور امریکا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ امریکا خارجی دشمن ہے پاکستان کا اور طالبان داخلی دشمن ہیں پاکستان کے۔

اسلام ٹائمز: طالبان پاکستان کے داخلی دشمن ہیں جبکہ آج ان سے مذاکرات کی باتیں چل رہی ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات امریکی و سعودی ایماء پر ہونگے، آپ کا موقف کیا ہے؟
طارق محبوب صدیقی: دیکھیں یہ وہی قوتیں ہیں جنہوں نے ان کی پرورش کی، ان سانپوں کو دودھ پلایا، آج انہیں خطرہ ہے کہ یہ انہیں ڈس لے گا۔ میں نے پہلے بھی کہا کہ امریکا افغانستان سے محفوظ انخلاء چاہتا ہے۔ اسی لئے موجودہ حکومت کو پاکستانی عوام پر مسلط کیا گیا ہے تا کہ یہ امریکا کو محفوظ راستہ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس میں سعودی عرب کا مصالحتی کردار ہے۔ سعودی حکمران شریف خاندان اور نواز شریف کے انتہائی قریب ہیں، کاروباری و دیگر حوالوں سے۔ اس لئے سعودی عرب کی چوائس بھی یہی شریف برادران تھے ۔ اسلئے موجودہ حکومت کو بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت وجود میں لایا گیا۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات ان 40 ہزار شہید پاکستانی شہریوں اور فورسز اہلکاروں کے خون سے غداری ہو گی جو ان طالبان دہشت گردوں کی دہشت گردی کا نشانہ بنے۔

اسلام ٹائمز: موجودہ حکومت کے طالبان سے مذاکرات اور امریکا کا افغانستان سے محفوظ انخلاء، ان دونوں باتوں کا آپس میں کیا ربط ہے؟ طارق محبوب صدیقی: دیکھیں امریکا کا افغانستان میں جو ہدف تھا وہ پورا ہو گیا ہے، اس نے وہاں جو تباہی بربادی پھیلائی، طالبان کے نام پر افغان شہریوں، خواتین، بچوں کو بموں سے اڑا دیا، انکا قتل عام کیا۔ یہی سب کچھ اس نے عراق و لیبیا میں بھی کیا۔ اس وقت پاکستان مغربی قوتوں کو ہضم نہیں ہو رہا ہے، عالمی سیاست خصوصاً خطے میں پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے جو ایٹمی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ لہٰذا امریکا اپنی تھانیداری قائم رکھنے کیلئے افغانستان سے نکلنے کے بعد پاکستان کو ہدف بنائے گا، اسے ڈسٹرب کرے گا اور انہیں مقاصد کیلئے ان ہی طالبان دہشت گردوں کو استعمال کرے گا۔ انہیں طالبان دہشت گردوں کو انہی بگڑی ہوئی اولادوں کو جیسا کہ سمیع الحق صاحب نے فرمایا کہ طالبان میرے بیٹے ہیں۔ تو سب سے بڑے مجرم تو سمیع الحق صاحب ہیں۔ مولانا سمیع الحق قومی مجرم ہیں۔ اس وقت مولانا سمیع الحق کا جذبہ حب الوطنی، جذبہ اسلامی، مصالحتی کردار، ایثار و قربانی کہاں تھا کہ جب طالبان دہشت گردی کا بازار گرم کئے ہوئے تھے۔ شہریوں کو سکیورٹی فورسز کو چن چن کر قتل کر رہے تھے، اس وقت مولانا سمیع الحق کا اسلامی حیاء کا جذبہ کہاں تھا۔ آج وہ کہہ رہے ہیں کہ طالبان میرے بیٹے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ایک طرف تو سنی اتحاد کونسل طالبان سے مذاکرات کو 40 ہزار پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے خون سے غداری کہہ رہی ہے اور دوسری طرف اسکا موقف یہ ہے کہ طالبان سے مذاکرات سے پہلے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس بلا کر مشاورت کی جائے۔ کیا کہیں گے اس حوالے سے؟
طارق محبوب صدیقی: بالفرض ہم مان لیتے ہیں کہ پاکستان مسلسل طالبانائزیشن کا شکار ہے، تختہ مشق بنا ہوا ہے، دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ ہم بین الاقوامی سازش کا قلع قمع کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ جنہوں نے یہ سارا جال بچھایا، جو اس کے موجد اور ذمہ دار ہیں۔ اب جبکہ مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی، اے این پی بھی راضی ہیں مذاکرات کیلئے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ یکطرفہ طور پر نہیں، جانبدارانہ نہیں ہونا چاہیئیں۔ مذاکرات سے قبل ہزاروں شہریوں کے لواحقین کو اعتماد میں لیا جائے، افواج پاکستان کو اعتماد میں لیا جائے، آئینی و عالمی قوانین کے تحت مذاکرات کئے جائیں۔ طالبان دہشت گردوں کو سزا بھی دلوائی جائے اور پابند بھی کیا جائے۔ امریکا اور سعودی عرب ہیں جو مذاکرات کیلئے ثالثی کردار ادا کر رہے ہیں۔ تو انہیں ذمہ داری بھی لینی ہو گی، ان دونوں سے حلفیہ لکھوانا ہو گا کہ آئندہ پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی واردات ہوئی تو یہ دونوں ممالک ذمہ دار ہونگے۔ دیکھیں بات ساری یہ ہے کہ اس وقت پاکستان اور عوام دونوں تختہ مشق بنے ہوئے ہیں۔ پوری قوم دہشت گردی سے نجات بھی چاہتی ہے، قومی سلامتی کا تحفظ چاہتی ہے لیکن بین الاقوامی ایجنڈا یہ سب نہیں چاہتا۔ اسی بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت پاکستان ایران گیس پائپ لائن معاہدے پر یو ٹرن لینے کے در پے ہے اسی طرح پاک چین گوادر پورٹ کا معاہدہ بھی سازشوں کا شکار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ہم یہ کہتے ہیں پاک ایران گیس معاہدہ، پاک چین گوادر پورٹ معاہدے قومی معاہدے ہیں، یہ قومی امنگوں کے آئینہ دار معاہدے ہیں۔ ہم ان ایران اور چین سے ان دونوں معاہدوں پر صدر آصف زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ہمارے سیاسی و نظریاتی اختلافات اپنی جگہ لیکن قومی سلامتی کے معاملے پر آصف زرداری اور ان کی جماعت پیپلز پارٹی نے قربانی دی ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ رضا ربانی نے بھی ایک پریس کانفرنس میں اس بات کا اظہار کیا کہ ایران سے گیس معاہدہ ہماری انتخابات میں شکست کا باعث بنا، میں ان کی پریس کانفرنس کی بھرپور تائید اور حمایت کرتا ہوں، انہوں نے بالکل حقائق بیان کئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی تحریک انصاف نیٹو سپلائی اور نواز شریف کی مسلم لیگ ڈرون حملے رکوا پائے گی؟
طارق محبوب صدیقی: موجودہ حکومت نعرے دعوے تو لے کر آئی ہے، اب گیند تو انہیں دونوں جماعتوں کے کورٹ میں ہے نا، پوری قوم دیکھ رہی ہے کہ کون نیٹو سپلائی رکواتا ہے اور کون ڈرون حملے رکواتا ہے۔ یا یہ سب عوام سے جھوٹ بولا گیا تھا اقتدار میں آنے کیلئے۔ اب خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف اور پنجاب اور مرکز میں مسلم لیگ نواز، دیکھتے ہیں یہ دونوں کیا کرتے ہیں۔ مگر معذرت کے ساتھ یہ دونوں افراد امریکی بلاک کے لوگ ہیں۔ یہ امریکا کے لے پالک لوگ ہیں، امریکی ایجنڈے پر ہیں، یہ امریکی گماشتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کو سن 71ء کی تاریخ کے دوراہے پر کھڑا کیا جا رہا ہے، کوئی سیاسی جماعت بھی قومی جماعت بن کر سامنے نہیں آئی ہے۔ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف، بلوچستان میں قوم پرست جماعتیں، اندرون سندھ میں پیپلز پارٹی، کراچی میں ایم کیو ایم اور پنجاب میں گریٹر پنجاب کی مسلم لیگ (ن)۔ یہ سارا 71ء کی تاریخ کو دہرانے کی سازش ہے۔ یہ عالمی ایجنڈا ہے جو امریکا لے کر آیا ہے پاکستان میں۔ افغانستان کو تباہ کرنے کے بعد وہاں سے امریکی انخلاء کے بعد پاکستان اگلا ہدف ہو گا۔ بین الاقوامی ایجنڈا پاکستان توڑنے کی سازش ہے اور اس سازش میں موجودہ حکومت کا ہاتھ کار فرما ہو گا۔ ہمیں موجودہ نواز حکومت کا بھیانک کردار نظر آ رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: کراچی کے حالات پر آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ کراچی میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا یہ عالمی سازش کا شکار ہو چکا ہے؟
طارق محبوب صدیقی: ہم کراچی میں 1986ء سے تباہی دیکھ رہے ہیں۔ اس سازش کو 22 ستمبر 1988ء کو آر سی ڈی گراﺅنڈ ملیر میں سربراہ جمیعت علمائے پاکستان مرحوم شاہ احمد نورانی، سیکرٹری جنرل مولانا عبدالستار خان نیازی نے بےنقاب کر دیا تھا۔ آج وہی حالات، وہی صورتحال کراچی میں نظر آ رہی ہے۔ آپ نے غور کیا کہ کیوں کراچی میں جمعرات جمعہ ہفتہ ہڑتالیں ہوتی ہیں۔ یہ سب عالمی سازش کا حصہ ہے۔ کراچی چونکہ پاکستان کی معاشی و اقتصادی شہ رگ ہے، کراچی کے حالات خراب رکھو گے تو پاکستان عدم استحکام سے دوچار رہے گا۔ اغیار اور ملک میں موجود غداروں کا ایجنڈا یہ ہے کہ قوم کو بھوکا ننگا بنا دو تاکہ وہ بغاوت پر اتر آئے اور پاکستان اور اسلام کو گالی دے۔ لہٰذا قوم کو بھوکا ننگا کرنے کیلئے مسلسل ہڑتالیں، مسلسل یوم سوگ، دہشت گردی کے واقعات عالمی سازش کا حصہ ہیں۔ یہ عالمی استعمار کے ایجنٹ ہیں، یہ محب وطن لوگ نہیں ہیں یہ ملک و قوم کے غدار ہیں، یہ بین الاقوامی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، یہ پاکستان توڑ دو کے درپے ہیں، کراچی عالمی سازشوں کا شکار ہو چکا ہے۔ کراچی میں بیرونی فنڈنگ ہو رہی ہے، بیرونی قوتیں اسلحہ بھی فراہم کر رہی ہیں۔ کچی آبادیوں میں، کراچی کی مضافاتی علاقوں میں دہشت گردوں کو پالا جا رہا ہے۔
اسلام ٹائمز: مسلم لیگ نواز کی حکومت پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے کی تکمیل کرے گی؟
طارق محبوب صدیقی: مسلم لیگ (ن) اور اسکے سربراہ نواز شریف صاحب کا ایجنڈا یہ ہے کہ جنوبی ایشیاء میں امریکی پالیسیوں کو لاگو کیا جائے، انکا تحفظ کیا جائے اور پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے کو ختم کیا جائے۔ یہ یوٹرن لے رہے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے وفاقی وزیر کا انتہائی مایوس کن اور شرمناک بیان ہے کہ ہم ایران سے گیس معاہدے پر نظر ثانی کرینگے۔ یہ لوگ امریکی ایماء پر بھارت کو پاکستانی معیشت پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، بھارتی شرمناک ثقافت کو پاکستان میں اسلامی ثقافت کے مقابلے میں رائج کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اس طرح تحریک آزادی پاکستان کے شہداء کے لہو سے غداری کرنا چاہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: اس صورتحال میں آپ مسلم لیگ (ن) اور انکے سربراہ نواز شریف کو کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟
طارق محبوب صدیقی: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف اور انکی جماعت مسلم لیگ جو کہ پنجاب اور مرکز میں اقتدار میں ہے، اسے چاہیئے کہ امریکی کیمپ سے باہر آئے اور ایران اور چین کے ساتھ مل کر ایک بلاک بنائے۔ یہ اقدام پاکستان کیلئے لازم و ملزوم ہے۔ اسلامی قوتوں اور پاکستان کیلئے یہ بلاک ضروری ہے۔ ایران اور چین کے ساتھ مل کر اگر یہ بلاک نہیں بنایا گیا تو عالمی استعمار امریکا اپنے پاکستان مخالف عزائم میں کامیاب ہو جائے گا۔

اسلام ٹائمز: آخر کیا وجہ ہے کہ مسلم لیگ نواز پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ان کی ایماء پر سعودی عرب اور بعض دیگر عرب ممالک پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرتے ہیں؟
طارق محبوب صدیقی: اگر آپ بات کھل کر کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو بتاﺅں کہ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں باقاعدہ فنڈنگ ہو رہی ہے۔ یہ فنڈنگ متحدہ عرب امارات کر رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات پاک چین گوادر پورٹ معاہدے کے خلاف ہے۔ گوادر بندرگاہ پروجیکٹ اور پلان کو تباہ کرنے کیلئے ختم کرنے کیلئے عرب امارات بلوچستان، کراچی سمیت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ وہاں سے فنڈنگ آ رہی ہے۔ اصل میں انہیں پاک چین گوادر پورٹ معاہدے سے خطرہ ہے، گوادر بندرگاہ کے آپریشنل ہونے سے ان امریکی بلاک کے ممالک کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی، عرب امارات اپنی تھانیداری ختم ہوتے دیکھ رہا ہے گوادر پورٹ کی صورت میں۔ لہٰذا ساری فنڈنگ بلوچستان میں وہیں سے ہو رہی ہے اور یہ فنڈنگ کراچی تک آ رہی ہے۔ ان سب کے پیچھے امریکی ہاتھ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔ پاکستان کو دوست ممالک سے محروم کرنے کیلئے امریکا ہمیشہ بھیانک کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ چین ہمارا دوست ہے، ہر اچھے برے وقت کا ساتھی ہے۔ اسی طرح ایران سے ہمارا اسلامی روحانی رشتہ ہے۔ امریکا اور اسکے حواریوں ممالک نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان میں شیعہ سنی فساد کرنے کی سازش کی۔ کراچی میں آئے دن کبھی شیعہ کو مارا جا رہا ہے تو بھی سنی کو۔ پاکستانی ایجنسیوں اور قومی سلامتی کے اداروں نے جو ٹارگٹ کلرز پکڑے ہیں وہ ایک ہی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہی شیعہ کو مار رہے ہیں وہی سنی کو بھی مار رہے ہیں، اس بات کا انہوں اعتراف بھی کر لیا ہے۔ مگر نہیں پتہ کہ کیوں قومی سلامتی کے ادارے ان دہشت گردوں اور ان کی سرپرستی کرنے والے عناصر کو پاکستانی عوام کے سامنے لا کر بے نقاب نہیں کرتے۔ یہ سب دہشت گرد امریکی پے رول پر کام کر رہے ہیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان میں شیعہ سنی فسادات ہوں۔ لیکن الحمدللہ سنی اتحاد کونسل پاکستان نے یہ تہیہ کر لیا ہے کہ پاکستان میں شیعہ سنی فساد نہیں ہو گا۔ 

ہمارے مرحوم قائد صاحبزادہ فضل کریم کے نظریہ اور خواہش کے مطابق ہم پاکستان میں شیعہ سنی فساد کرانے کی سازش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ ہم سب کی کوشش وحدت مسلمین اور اتحاد و خیر امت کی ہونی چاہیئے۔ میں آخر میں یہ بات ضرور کہنا چاہونگا کہ صرف دو فرقے ہیں اس ملک میں، شیعہ اور سنی۔ اس کے علاوہ یہ وہابی، نجدی سب امریکا کے پیدا کردہ گروہ ہیں۔ مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم نے اپنے ایک تاریخی انٹرویو میں سینئر صحافی فراز زیدی کو پی ٹی وی میں کہا تھا کہ پاکستان میں صرف دو فرقے ہیں، اہل سنت اور اہل تشیع، بس۔ اب جو دیگر گروہ پیدا کر دیئے گئے ہیں، سب کو پتہ ہے کہ کس کے ایجنڈے پر ہیں، کس کے کہنے پر کام کر رہے ہیں، کہاں کہاں سے انہیں فنڈنگ ہو رہی ہے، نت نئے فرقے اور جماعتیں کون بنوا رہا ہے، سب کو پتہ ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں شیعہ سنی مل جل کر رہتے تھے۔ جب پاکستان معرض وجود میں آی تو شیعہ سنی نے مل کر پاکستان بنایا۔ مسئلہ سارا یہ ے کہ پاکستان میں بعض قوتیں فرقہ وارانہ فسادات اور دہشت گردی کی بنیاد پر اہل تشیع اور اہلسنت کو تقسیم کرنے اور انہیں لڑانے کے درپے ہیں۔ مگر ان کے سارے حربے، ہتھکنڈے ناکام ہو گئے ہیں۔ پاکستان میں سنی اتحاد کونسل نے شیعہ سنی فساد کی سازش کو ناکام بنایا ہے اور ہمارے قائد صاحبزادہ فضل کریم مرحوم نے اس راہ میں اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کر دیا اور سنت حسینی ادا کر دی۔
خبر کا کوڈ : 274129
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب