0
Monday 29 Sep 2014 22:53
انقلاب اسلامی ایران کے بعد دنیا کو غلام بنانے کے تمام امریکی و مغربی منصوبے خاک میں مل گئے

داعش کیخلاف عالمی اتحاد امریکا کی بجائے ایران و حزب اللہ کی سربراہی میں بننا چاہیئے، راشد احد

امریکا ہو یا مغرب کسی بھی جانب مسلمانوں کے جھکاؤ سے استعماری قوتوں کا مقصد پورا ہو جائیگا
داعش کیخلاف عالمی اتحاد امریکا کی بجائے ایران و حزب اللہ کی سربراہی میں بننا چاہیئے، راشد احد
سید راشد احد سینئر صحافی اور تجزیہ نگار ہیں، آپ مختلف انگریزی قومی اخبارات اور ٹی وی چینلز سے منسلک رہے ہیں، ریڈیو تہران اور سحر ٹی وی پر بھی آپ کے تجزئیے کافی شہرت رکھتے ہیں، آپ پچیس سال سے زائد عرصے سے عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے سینئر تجزیہ نگار سید راشد احد کیساتھ عالمی حالات کے موضوع پر انکی رہائش گاہ پر ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر آپ کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: کیا عالمی سطح پر امریکا اور برطانیہ کے مفادات ٹکراتے ہوئے محسوس کرتے ہیں؟
سید راشد احد:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ عالمی سطح پر عوام کو کنفیوز کرنے کیلئے ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آیا امریکا اسرائیل کے زیر اثر ہے یا اسرئیل امریکا کے، بالکل اسی طرح مسلمانوں کو کنفیوز کرنے کیلئے اس قسم کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ امریکا اور برطانیہ کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا ہو رہا ہے، ہماری نظر میں یہ محض ایک مفروضہ ہے خاص طور پر مسلمانوں کو کنفیوز کرنے کیلئے، کیونکہ اگر ان دونوں میں کسی بھی جانب مسلمانوں کا جھکاؤ ہوا تو استعماری قوتوں کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ امریکا ہو یا برطانیہ دونوں کے مفادات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور صہیونی اسرائیل کا ہر قیمت پر تحفظ ان دونوں ممالک کو عزیز ہے۔ امریکا اور برطانیہ دونوں اہم اور حساس عالمی امور پر یکساں مؤقف کے حامل ہیں، چونکہ برطانیہ بوڑھا استعمار ہے، لہٰذا عالمی امور خصوصاً تیسری دنیا سے متعلق پالیسی بنانے میں امریکا برطانیہ سے رہنمائی لیتا ہے۔ عراق ہو یا افغانستان یا دیگر اسلامی ممالک پر امریکی جارحیت میں برطانیہ پوری طرح شریک نظر آتا ہے۔ بہرحال اس قسم کا گمراہ کن پروپیگنڈا اس وقت تک بہت مؤثر ہوا کرتے تھے کہ جب تک ایران میں اسلامی انقلاب کا ظہور نہیں ہوا تھا، امام خمینی کی اسلامی انقلابی قیادت نہیں تھی، اس وقت تک تو مسلمان اس قسم کی گمراہ کن پروپیگنڈا کا شکار آسانی سے ہو کر اپنی صلاحیتیں ضائع کر دیتے تھے، لیکن ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد عالمی سطح پر اس قسم کے تمام پروپیگنڈے دم توڑ گئے، بے اثر ہو گئے اور انکی تمام پالیسیاں بھی۔

اسلام ٹائمز: یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امریکا اور عرب ممالک شام پر حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن مغربی ممالک خصوصاً برطانیہ کی عدم دلچسپی کے باعث امریکا شام جارحیت نہیں کر سکا۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟
سید راشد احد:
اسلامی ممالک پر امریکا اور اسکے اتحادی مغربی ممالک کی فوجی جارحیت کے باعث جہاں امریکا شدید ترین اقتصادی بحران کا شکار ہے وہیں مغربی ممالک بھی اقتصادی بحران کی لپیٹ میں ہیں، امریکی کاسہ لیسی کی وجہ سے مغرب بدترین نقصانات سے دوچار ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ برطانیہ سمیت مغربی ممالک کا ساتھ نہ دینے کی وجہ سے امریکا شام پر حملہ نہیں کر سکا۔ شام پر امریکی جارحیت نہ ہونے کی اصل وجہ روس اور چین کی شدید مخالفت ہے جس کے باعث اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شام کیخلاف حملے کیلئے قراردار پاس نہیں کر سکی۔ اگر سلامتی کونسل میں یہ قرارداد پاس ہو جاتی تو مغرب شام پر حملے میں اسی طرح شریک ہوتا جیسے لیبیا، عراق، افغانستان میں شریک ہوا۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کرنا چاہیئے کہ مغرب جو کہ شدید ترین اقتصادی بحران کا شکار ہے اسے جراغ نہیں امریکا کی مخالفت کر سکے اور امریکی پالیسیوں سے سرِمو انحراف کر سکیں۔

اسلام ٹائمز: آپ نے کہا کہ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد امریکی مغریبی پروپیگنڈا غیر مؤثر ہو کر رہ گیا اور انکی پالیسیاں بھی، اس حوالے سے مزید کیا کہیں گے؟
سید راشد احد:
یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کے برپا ہونے سے امریکی و مغربی پالیسیاں اور calculations فیل ہو گئیں، امریکا و مغرب جس نے سوویت یونین، رشین فیڈریشن کو گمراہ کیا جس کی وجہ سے وہ افغانستان گئے اور اس کے بعد امریکا مغرب نے روس کو پاکستانی اسٹبلیشمنٹ اور نام نہاں اسلامی تنظمیوں کے ذریعے افغانستان میں شکست سے دوچار کیا، اس طرح bipolar world جو ہے وہ unipolar worldمیں تبدیل ہو گئی، امریکا اور مغرب اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگے اور دنیا بھی اپنی کے سامنے سرنگوں ہو گئی، اسی اثناء میں ایران میں امام خمینی کی اسلامی انقلابی قیادت میں اسلامی انقلاب برپا ہوا۔ میں آپ کے سوال کا جواب مختصراً صرف ایک مثال سے دینا چاہوں گا کہ جب امریکا شاہ ایران کو اقتدار میں واپس لانے کے حوالے سے مایوس ہوگیا تو انہوں نے سوچا کہ ہم امام خمینی سے دیگر لوگوں کی طرح ڈیل کر لیں گے، لیکن امریکا اور مغرب اس وقت حیرت زدہ ہو کر رہ گیا کہ جب امام خمینی نے ایران واپس آکر فوری طور پر یہ اعلان کیا کہ تمام ملٹی نیشنل کمپنیاں چوبیس گھنٹے کے اندر ایران چھوڑ دیں، امریکی و مغربی استعمار سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک مدرسے کا عالم دین ان کی حساس پالیسیوں پر ایک کاری ضرب لگا سکتا ہے، اس وقت امریکا و مغرب کو تو اس بات کی توقع کسی ایسے شخص سے بھی نہیں تو جو امریکی و مغربی پالیسیوں کو بہت اچھی طرح سے آگاہ تھا، لہٰذا انہیں ایک عام عالم دین سے تو یہ توقع تھی ہی نہیں، ایران میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی وجہ سے امریکا و مغرب کا اثرونفوذ موجود تھا لیکن امام خمینی نے اپنے اس اعلان سے انکے اثرونفوذ کی کمر توڑ کر رکھ دی، امام خمینی عالمی استعماری نظام کے اہم اور حساس مراکز سے آگاہ تھے اور انہوں نے ان کے اہم ترین ہتھیار ملٹی نیشنل کمپنیوں پر کاری ضرب لگائی جس کے بارے میں امریکا اور مغرب کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ اس حقیقت سے خود امریکا اور مغرب بھی انکار نہیں کر سکتا کہ امام خمینی کی قیادت میں برپا ہونے والے انقلاب اسلامی ایران کے بعد دنیا کو غلام بنانے کے تمام امریکی و مغربی منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے، خاک میں مل گئے۔ امام خمینی کی بصیرت کی اس طرح کی لاتعداد مثالیں موجود ہیں۔

اسلام ٹائمز: آپ کے خیال میں عالم مغرب کیا چاہتا ہے؟
سید راشد احد:
مغرب کی ابھی بھی یہی چاہتا ہے کہ اگر امریکا کا تسلط مضبوط ہو جائے تو ہم انجوائے کریں، مغرب ابھی بھی نہیں چاہتا کہ مشرق کی کوئی قوت مضبوط ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکا واقعاً ٹوٹ رہا ہے، کمزور ہو رہا ہے مگر امریکا اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی بھی کرنے کو تیار نہیں ہے اور مغرب بھی امریکی کاسہ لیسی نہیں چھوڑنا چاہ رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مغرب ایران سے بھی اچھے تعلقات چاہتا ہے، معاشی و اقتصادی تعلقات چاہتا ہے، مغرب چونکہ ٹھنڈا علاقہ ہے، اسے بہت زیادہ توانائی کی ضرورت ہے، تیل، گیس کی ضرورت ہے، اب ایران سمیت مشرق وسطیٰ توانائی کے قدرتی ذخائر سے مالا مال ہے اور مغرب چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے یہ سلسلہ منقطع نہ ہو، مگر حقیقت تو یہ ہے مغرب نے امریکا کی کاسہ لیسیوں اور امریکی پالیسیوں کے زیر اثر رہنے کی وجہ سے ایران تو ایران اب اس نے روس کو بھی اپنا دشمن بنا لیا ہے، اب روس سے جو مغربی ممالک کو گیس سپلائی ہو رہی ہے وہ بھی خطرے میں آ گئی ہے، روس جب چاہے مغرب کو گیس بند کر سکتا ہے جس کا مغرب متحمل نہیں ہو سکتا، بہرحال امریکی پالیسیوں کے سبب مغرب جس انتہائی اقتصادی بحران کا شکار ہو چکا ہے، اس سبب سے مغرب اور امریکا کے تعلقات میں Crack محسوس ہو رہا ہے لیکن شاید اس سے زیادہ کچھ نہیں، لیکن یہ سلسلہ ایسے ہی آگے بڑھتا رہا تو یقیناً مغربی عوام اپنی حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہونگی اور مغرب اور امریکا کے تعلقات پر کاری ضرب لگ سکتی ہے۔

اسلام ٹائمز: داعش کے خلاف امریکی سربراہی میں عالمی اتحاد کا کافی چرچا ہے عالمی منظر نامے میں جبکہ ایران نے اس عالمی اتحاد میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے، اس سارے معاملے کو نگاہ سے دیکھتے ہیں؟
سید راشد احد:
انتہائی غیر منطقی بات ہے کہ امریکا جس نے داعش کو پروان چڑھایا، بنایا اب وہ ہی اس کے خلاف اتحاد بنا کر اسکی سربراہی کرے، لہٰذا اگر امریکا کو داعش کو پروان چڑھانے جیسی غلطی کا احساس ہو گیا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنی اس غلطی کا اعتراف کرے کہ اس نے داعش کو غلط بنایا تھا، پھر ماضی، حال اور مستقبل کی نسلوں سے معافی بھی مانگو، کیونکہ داعش سمیت متعدد دہشتگرد تنظیموں کو امریکا نے بنایا، پروان چڑھایا جن کی دہشتگردی کے اثرات سے آئندہ کی نسلیں بھی متاثر ہونگی، اس کے ساتھ ساتھ ان دہشتگرد تنظیموں کے ذریعے اسلام کو دنیا بھر میں بدنام کیا گیا کہ اسلام ایک دہشتگرد مذہب ہے، اب ایران کا ایک اصولی مؤقف ہے کہ امریکا اور مغرب نے داعش اور اس جیسے دیگر دہشتگرد گرہوں کو جنم دیا تو سب سے پہلے اپنی تمام غلط پالیسیوں کی معافی مانگو خصوصاً پوری مسلم دنیا سے اور اس کے بعد بھی تم میں اہلیت نہیں کہ دہشتگردی کے خلاف عالمی اتحاد کی سربراہی کرو، داعش سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کا مقابلہ ایران نے، حزب اللہ لبنان نے اور خطے میں انکے اتحادیوں نے کیا ہے، لہٰذا ایران، حزب اللہ اور انکے اتحادیوں کو ہی حق پہنچتا ہے کہ داعش، النصرہ، فری سیرین آرمی، طالبان کو ختم کرنے میں یا جیش العدل یا جنداللہ جیسے دہشتگرد گرہوں کو ختم کرنے کیلئے انکی سربراہی میں اتحاد بنایا جائے نہ کہ امریکا کی سربراہی میں۔ اور جہاں تک بات ہے صلاحیتوں کی، ٹیکنالوجی کی تو ایران اس میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکا ہے اس کی واضح ترین مثال یہ ہے اس نے حال ہی میں امریکا کی انتہائی جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ڈرون طیارے بغیر تباہ کئے صحیح سلامت اپنے قابو میں کرکے اتارا اور اس کی تمام ٹیکنالوجی کو کاپی بھی کر لیا اس کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی پوزیشن کی برتری کا احساس دنیا پر واضح کر چکا ہے، جیسا کہ دنیا جانتی ہے کہ امریکا اور مغرب تیسری دنیا کے کسی ملک کو گھاس بھی نہ ڈالیں لیکن مجبور ہو کر پانچوں عالمی قوت اور جرمنی مذاکرات کے نام پر ایران کے سامنے بیٹھنے پر مجبور ہوئے یعنی ایک طرف امریکا سمیت تمام عالمی قوتیں اور دوسری طرف ایران اپنے اسی موقف پر قائم و دائم رہنے کے ساتھ بیٹھا تھا کہ صہیونی اسرائیل کو تاریخ کے کوڑے دان میں جانا ہی چاہیئے۔ آخر میں یہی کہنا چاہونگا کہ داعش کے خلاف عالمی اتحاد بننا چاہیئے لیکن شیطان بزرگ امریکا کے بجائے خطے میں دہشتگرد تنظیموں کے حقیقی مخالف ایران اور حزب اللہ کی سربراہی میں بننا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 412374
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب