1
0
Wednesday 5 Oct 2016 20:45
ہمارے تحفظات دور نہ کئے گئے تو عاشور کے جلوس روک کر احتجاج اور عاشورا کے بعد جیل بھرو تحریک کا آغاز کیا جائیگا

تمام شیعہ تنظیموں کو ساتھ لیکر مشترکہ ملی مسائل کے حل کیلئے کوشش کرنا شیعہ علماء کونسل کی پالیسی ہے، یعقوب شہباز

بیلنس پالیسی کے تحت محب وطن ملت تشیع کو ملکی سالمیت پر حملہ آور تکفیری دہشتگردوں کیساتھ ایک ہی صف میں کھڑا کیا جا رہا ہے
تمام شیعہ تنظیموں کو ساتھ لیکر مشترکہ ملی مسائل کے حل کیلئے کوشش کرنا شیعہ علماء کونسل کی پالیسی ہے، یعقوب شہباز
محمد یعقوب شہباز شیعہ علماء کونسل سندھ کے نائب صدر اور پولیٹیکل سیکرٹری ہیں، وہ شہید علامہ حسن ترابی کے داماد بھی ہیں، شہید کے ساتھ ہمراہی کے باعث وہ شروع سے ہی نظریاتی طور پر شیعہ علماء کونسل کے ساتھ رہے، گذشتہ ڈیڑھ سال سے وہ باقاعدہ طور پر شیعہ علماء کونسل سندھ میں اہم عہدوں پر فعالیت انجام دے رہے ہیں۔ زمانہ طالب علمی میں وہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان سے وابستہ رہے، وہ آئی ایس او بلتستان ڈویژن شگر یونٹ کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے محرم الحرام میں سکیورٹی مسائل، عزاداری کو محدود کرنے کی سازش، اہل تشیع مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی دہشتگرد کارروائیوں سمیت دیگر موضوعات کے حوالے سے محمد یعقوب شہباز کے ساتھ ان کے دفتر میں ایک مختصر نشست کی، اس حوالے سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: محرم الحرام میں فول پروف سکیورٹی کے حکومتی دعوؤں کے باوجود گذشتہ روز کوئٹہ میں پانچ شیعہ مسلمان خواتین اور ٹیکسلا میں دو عزاداروں کو دہشتگردوں نے شہید کر دیا، اس افسوسناک صورتحال پر کیا کہیں گے۔؟
یعقوب شہباز:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تکفیری دہشتگردوں کی جانب سے کوئٹہ میں اہل تشیع ہزارہ خواتین کو باقاعدہ شناخت کرکے شہید کرنا اور ٹیکسلا میں دو عزاداروں کو شہید کرنا انتہائی بزدلانہ کارروائیاں ہیں، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، اس کے ساتھ ساتھ تکفیری دہشتگردوں کی جانب سے دن دہاڑے شیعہ خواتین کو دہشتگرد کارروائی کا نشانہ بنانا خود نیشنل ایکشن پلان بنانے والوں اور ارباب اقتدار کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے، بے گناہ شیعہ خواتین کی مظلومانہ شہادت نے سکیورٹی فورسز کے قیام امن کے دعوے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، ایک طرف تو دہشتگرد مظلوم طبقے کو دہشتگردی کا نشانہ بنا رہے ہیں، تو دوسری جانب ریاستی ادارے اور حکمران عوام کو انکے بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کیلئے اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں، مملکت خداداد پاکستان میں اپنے پیاروں کے ہزاروں جنازے اٹھانے کے باوجود ہمیشہ پُرامن رہنے والے محب وطن اہل تشیع مسلمانوں کو انتہائی ظالمانہ بیلنس پالیسی کے تحت ملکی سالمیت پر حملہ آور تکفیری دہشتگردوں کے ساتھ کھڑا کرکے ناروا سلوک برتا جا رہا ہے، لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ مظلوموں اور قاتلوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنے سے گریز کیا جائے، جبکہ تکفیری دہشتگرد عناصر کے خلاف فی الفور کارروائی کرکے مظلوموں کو تحفظ فراہم کیا جائے، ملت تشیع کو عزاداری سمیت اس کے تمام آئینی و بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی سازشوں سے باز آیا جائے۔

اسلام ٹائمز: ملک بھر میں عزاداری کو محدود کرنیکی سازشیں ہو رہی ہیں، سندھ کے حوالے سے کیا صورتحال ہے۔؟
یعقوب شہباز:
جی بالکل، پاکستان بھر میں عزاداری سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کو محدود کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں، گذشتہ کئی سالوں سے اس میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، اس حوالے سے قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی صاحب نے نواز لیگ کی وفاقی حکومت سے رابطہ کرکے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے، عزاداری کو محدود کرنے کی سازشوں کے حوالے سے سب سے زیادہ پنجاب متاثر ہے، وہاں سازشیں تیزی سے جاری ہیں، مشکلات بڑھ رہی ہیں اور اسکے بعد سندھ میں یہ مسائل زیادہ ہیں، پچھلے سال وزیراعلٰی سندھ نے علامہ ناظر عباس تقوی صاحب سے مذاکرات و ملاقات کے بعد عزاداری کو لاؤڈ اسپیکر ایکٹ سے مستثنٰی قرار دیا تھا، لیکن اس کے بعد بھی سندھ کے کئی اضلاع میں اہل تشیع کے خلاف بلاجواز ایف آئی آر درج کی گئیں، اسی تناظر میں گذشتہ ماہ 24 ستمبر کو نشتر پارک کراچی میں شیعہ علماء کونسل نے تحفظ عزا کانفرنس منعقد کی تھی، جس کے بعد یہ معاملات کچھ بہتر ہوئے، اس کے بعد آئی سندھ نے میٹنگ میں علامہ ناظر عباس تقوی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ہم پچھلے سال کاٹی گئیں تمام ایف آئی آر کو قانونی طریقے سے واپس لے لیں گے، جبکہ ضابطہ اخلاق میں عزاداری کو لاؤڈ اسپیکر ایکٹ سے مستثنٰی قرار دینے کی شق کو پچھلے سال کی طرح اس سال بھی شامل کیا گیا، لیکن اب تک اس کا باقاعدہ نوٹی فکیشن محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری نہیں کیا گیا ہے، صوبائی مشیر مذہبی امور عبدالقیوم سومرو نے علامہ ناظر عباس تقوی صاحب کو باقاعدہ فون کرکے بتایا کہ ہم نے نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے، لیکن بہرحال ہم تک یہ نوٹی فیکیشن نہیں پہنچا ہے، ہم حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کی امید رکھتے ہیں اور نوٹی فیکیشن کے منتظر ہیں، کئی اضلاع سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ انتظامیہ بانیان جلوس اور مجالس پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ دوران مجلس لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے پر پابندی ہے، اس کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت کی طرف سے سکیورٹی اقدامات کی آڑ میں سبیل شہدائے کربلا کو بھی متنازعہ بنا کر اس پر پابندی لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پورے سندھ میں عاشور کے جلوس روک کر احتجاج کیا جائیگا اور شیعہ علماء کونسل عاشورا کے بعد جیل بھرو تحریک کا آغاز کریگی۔

اسلام ٹائمز: سندھ بھر میں کئے گئے سکیورٹی اقدامات کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
یعقوب شہباز:
سندھ بھر میں سکیورٹی رسک ابھی بھی باقی ہے، جیسا کہ عید الاضحٰی پر شکارپور میں نماز عید کے موقع پر خودکش بمبار پکڑا گیا، جبکہ ایک نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا، اگر موقع پر موجود افراد شجاعت کا ثبوت نہ دیتے تو بڑا سانحہ رونما ہوسکتا تھا، شکارپور میں اس سے قبل بھی اہل تشیع مسلمانوں پر خودکش حملے ہوچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود پھر دوبارہ دو خودکش حملہ آور باآسانی تمام سکیورٹی اداروں سے بچ کر داخل ہو جاتے ہیں، اہل تشیع نے ایک خودکش حملہ آور کو زندہ پکڑ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا، تقریباً ایک ماہ گزرنے والا ہے، لیکن حقائق کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے، ماضی کی طرح اس بار بھی حقائق کو ہم سے چھپایا جا رہا ہے، جب شکار پور جیسے حساس علاقے میں دو خودکش حملہ آور باآسانی داخل ہوسکتے ہیں تو پھر کراچی سمیت سندھ کے کسی بھی علاقے میں داخل ہوسکتے ہیں، لہٰذا صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے، جسے سب اچھا ہے کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اسلام ٹائمز: پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو ذمہ دار سمجھتے ہیں یا پارٹی اور حکومتی صفوں میں موجود کچھ عناصر معاملات کو خراب کر رہے ہیں۔؟
یعقوب شہباز:
کچھ نادیدہ قوتیں ہیں جو صورتحال کو خرابی کی طرف لے جا رہی ہیں، صوبائی مشیر مذہبی امور ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو کی جانب سے باقاعدہ ہمیں یقین دہانی کرائی گئی، اطمینان دلایا گیا تھا میٹنگز میں کہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا جائیگا، لیکن تاحال کچھ نادیدہ قوتوں کے باعث نوٹی فیکیشن کے جاری ہونے میں تاخیر کی جا رہی ہے، ایام عزا کا آغاز ہوچکا ہے اور صورتحال انتہائی تشویش ناک ہوچکی ہے، پیپلز پارٹی کی اعلٰی قیادت پارٹی اور حکومتی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کو نکال باہر کرتے ہوئے بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتر بنائیں، بہرحال کراچی سمیت سندھ بھر میں سکیورٹی اقدامات اور عزاداری کو محدود کرنے کی سازشوں کے حوالے سے ہمارے تحفظات باقی ہیں، جنہیں فی الفور دور کیا جائے، ورنہ جیسا کہ اعلان کیا جا چکا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو کراچی سمیت سندھ بھر میں یوم عاشور کے جلوس روک کر احتجاج کیا جائیگا اور عاشورا کے بعد جیل بھرو تحریک کا آغاز کیا جائیگا اور حالات کی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔

اسلام ٹائمز: سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے کن اقدامات کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔؟
یعقوب شہباز:
سب سے اہم بات ریاست کا مخلص ہونا ہے، اس کے بعد اقدامات اٹھانے کا مرحلہ آتا ہے، لیکن جب ریاست ہی مخلص نہ ہو تو اقدامات کیسے کئے جا سکتے ہیں، خودکش حملہ آور کو کیسے روک سکتے ہیں، اسے روکنے کے بجائے اس کے داخلے کو روکنا ہوگا، خودکش حملہ آوروں کے مقامی سہولت کاروں کو پکڑ کر ان کا خاتمہ کرنا ہوگا، تکفیری دہشتگرد عناصر کا خاتمہ کرنا ہوگا، اس حوالے سے ریاست کو مخلص ہونا ہوگا، ورنہ صورتحال جوں کی توں رہے گی۔ عید قربان پر شکار پور میں نماز کے موقع پر خودکش حملہ آور بلوچستان سے شکار پور باآسانی پہنچ گئے، ایک گرفتار بھی ہوگیا، مہینہ گزرنے والا ہے، لیکن حقائق کو چھپایا جا رہا ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ ریاست قیام امن اور دہشتگردی کے خاتمے میں مخلص نہیں ہے۔ لہٰذا ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے مذہبی منافرت پھیلانے کی سازشوں میں مصروف تکفیری دہشتگرد تنظیموں کے خلاف خصوصی طور پر کارروائیاں کرے، اتحاد بین المسلمین کی فضا کو مزید بہتر بنانے کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھائے جائیں۔

اسلام ٹائمز: نیشنل ایکشن پلان کی موجودگی میں تکفیری دہشتگرد تنظیموں کی کھلے عام فعالیت کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
یعقوب شہباز:
کراچی میں تو نیشنل ایکشن پلان کافی حد تک کامیاب رہا ہے، شہر میں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہوئی ہے، سیاسی و لسانی دہشتگرد عناصر کے خلاف تو کامیابی سے کارروائیاں جاری ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ تکفیری دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کب کریں گے، مذہب کا نام استعمال کرکے دہشتگردی کرنے والی تکفیری تنظیمیں دندناتی پھر رہی ہیں، ان کو سکیورٹی دی جا رہی ہے، انہیں سرکاری اجلاسوں میں بلایا جا رہا ہے، اس سے تو نیشنل ایکشن پلان متاثر ہو رہا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ تکفیری دہشتگرد تنظیموں، انکے سیاسی و مذہبی سرپرستوں اور سہولت کاروں کے خلاف فی الفور آپریشن کا آغاز کیا جائے، تب جا کر مکمل قیام امن ممکن ہوگا۔

اسلام ٹائمز: محرم الحرام میں سکیورٹی مسائل کے پیش نظر شیعہ علماء کونسل سندھ نے کیا اقدامات کئے ہیں۔؟
یعقوب شہباز:
سال گذشتہ کی طرح اس سال بھی شیعہ علماء کونسل سندھ کے پانچ ہزار رضا کار صوبے بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں، ہم نے سکیورٹی معاملات کے حوالے سے وسیع نیٹ ورک بنایا ہوا ہے، جو آپس میں مربوط و رابطے میں ہے۔

اسلام ٹائمز: ملت تشیع پاکستان ملی مسائل کے حل کیلئے تمام شیعہ تنظیموں کو مشترکہ جدوجہد کرتے دیکھنا چاہتی ہے، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
یعقوب شہباز:
عزاداری سید الشہداء علیہ السلام، تقلید (و مرجعیت)، مرکزیت، رہبریت، ولایت فقیہ، 1400 سالوں سے ان تمام چیزوں پر شیعیت قائم ہے، ان کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں، ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے سب کو ہم آواز و ہم قدم ہو کر مقابلہ کرنا چاہیئے، جس طرح ہم پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کیلئے کام کر رہے ہیں، اسی طرح اتحاد بین المومنین کیلئے بھی کام کر رہے ہیں، اسی طرح پاکستان میں ملت تشیع کو درپیش مسائل کے حل کیلئے بھی فعال ہیں، قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی صاحب کی جانب سے کسی بھی ملی تنظیم کیلئے کہیں پر بھی کسی جگہ بھی کوئی منفی بات آج تک نہ کسی نے سنی ہے نہ دیکھی ہے، ہم تو سب کو ساتھ لیکر چلنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، سب ایک ہو کر مشترکہ مسائل کے حل کیلئے کام کریں، مشترکہ مسائل کے خلاف سب تنظیمیں ہم آواز و ہم قدم ہو جائیں، ہمارے آپ کے اختلاف ملت کو درپیش مشترکہ مسائل کے حل میں رکاوٹ نہیں بننے چاہیئے، شیعہ علماء کونسل دیگر تمام تنظیموں سے بھی اسی قسم کے جذبات کی خواہاں ہے۔

اسلام ٹائمز: ایام عزا کا آغاز ہوچکا ہے، شیعہ علما کونسل مشترکہ مسائل کے حل کیلئے دیگر تمام ملی تنظیموں کیساتھ ملکر مشترکہ جدوجہد کرنیکے حوالے سے کیا اقدامات کر رہی ہے یا کتنی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔؟
یعقوب شہباز:
ہم سندھ کی سطح پر بات کریں تو ہم جب بھی حکومتی و انتظامی اجلاسوں میں جاتے ہیں تو تمام ملی تنظیموں سے ضرور مشاورت کرتے ہیں، کوشش کرتے ہیں کہ اجلاسوں میں تمام شیعہ تنظیموں کا مؤقف ایک ہو، بعض تنظیموں کی طرف سے ابھی بھی کچھ مسائل ہیں، جو ان شاء اللہ جلد حل ہو جائیں گے، ہونا بھی چاہیئے، انہیں بھی سوچنا چاہیئے کہ مشترکہ مسائل کے حل کیلئے ہم آواز ہوں، بہرحال اکثر تنظیمیں ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور تعاون کرتی ہیں۔ عزاداری کو لاؤڈ اسپیکر ایکٹ سے مستثنٰی قرار دینے کے معاملے پر شیعہ علماء کونسل، مجلس وحدت مسلمین، آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی، جعفریہ الائنس سب کا ایک مؤقف ہے، سب ہم آواز ہیں، اجلاسوں کے اندر بھی ہم نے ایک مؤقف اختیار کیا ہے، اس حوالے سے ہم نے سب سے رابطے کئے، پچھلے سال کی طرح اس سال بھی جب شیعہ علماء کونسل نے لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کے مسئلے کو اجاگر کیا تو مجلس وحدت مسلمین نے سب سے زیادہ ہمارا ساتھ دیا ہے، تمام شیعہ تنظیموں کے درمیان رابطے انتہائی ضروری ہیں، ہم اس کیلئے مسلسل کوشاں رہتے ہیں، ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں، پچھلے سالوں میں رابطوں کا فقدان رہا ہے، لیکن پچھلے سال سے ہم نے اس پر کوشش کی ہے، پچھلے سال کی نسبت اس سال رابطوں کی صورتحال بہت بہتر ہے، گذشتہ ماہ 24 ستمبر کو نشتر پارک کراچی میں ہونے والی تحفظ عزا کانفرنس کی دعوت دینے صوبائی صدر علامہ ناظر عباس تقوی کی قیادت میں وفد نے ایم ڈبلیو ایم سندھ کے دفتر کا دورہ بھی کیا تھا، وہاں بھی محرم الحرام میں درپیش سکیورٹی معاملات سمیت دیگر مشترکہ ملی مسائل کے حل اور مزید بہتر رابطوں کیلئے گفتگو ہوئی۔

اسلام ٹائمز: موجودہ حساس صورتحال میں شیعہ تنظیموں کی روش کیا ہونا چاہیئے۔؟
یعقوب شہباز:
تمام تنظیمیں مشترکہ ملی مسائل کے حل کیلئے خلوص کے ساتھ میدان عمل میں اتر آئیں، چاہے وہ شیعہ علماء کونسل ہو یا مجلس وحدت مسلمین، آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی ہو یا جعفریہ الائنس، انانیت کو چھوڑ کر ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے مشترکہ ملی مسائل کے حل کیلئے ایک دوسرے کا ساتھ دیں، ایک دوسرے کے ساتھ قدم ملا کر ہم آواز ہو جائیں، اس حوالے سے ہر سال کی طرح اس سال بھی بھی ہماری بھرپور کوششیں جاری ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے، کیونکہ ہماری ذمہ داری سب سے زیادہ ہے، ہم ملت تشیع کی میزبان تنظیم ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی صورتحال پہلے سے کافی بہتر ہے، ان شاء اللہ شیعہ علماء کونسل تمام شیعہ تنظیموں کو ساتھ لیکر مشترکہ ملی مسائل کے حل کیلئے کوششیں جاری رکھے گی، یہی ہماری پالیسی ہے۔
خبر کا کوڈ : 573086
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
احسن بہت ہی اچهی گفتگو، اسلام ٹائم کا بہتر کردار خدا کا شکر۔
منتخب