1
0
Saturday 30 Mar 2019 17:52

وحدت اسلامی کانفرنس اتحاد امت کیلئے اہم سنگ میل ثابت ہوگی، علامہ احمد اقبال رضوی

وحدت اسلامی کانفرنس اتحاد امت کیلئے اہم سنگ میل ثابت ہوگی، علامہ احمد اقبال رضوی
کراچی سے تعلق رکھنے والے علامہ سید احمد اقبال رضوی اس وقت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے ذمہ داریاں سرنجام دے رہے ہیں، اس سے قبل آپ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکریٹری تربیت کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں سرنجام دے چکے ہیں، آپ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی مرکزی مجلس نظارت کے رکن بھی ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے علامہ سید احمد اقبال رضوی کے ساتھ ایم ڈبلیو ایم کے حالیہ جاری کنونشن اور دیگر ایشو پر خصوصی انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: کنونشن کے بارے میں بتائیں کہ اس بار کنونشن کی کیا تفصیلات ہیں؟۔
علامہ احمد اقبال رضوی:
جی اس بار کنونشن کا عنوان امامؑ عصر سے منسوب ہے، مجلس وحدت مسلمین ایک ایسی جماعت ہے، جو امام عصر علیہ السلام کے ظہور کے لیے کوشاں ہے، اس لئے ہم نے اس کنوشن کا عنوان بھی جان نثاران امامؑ عصر رکھا ہے، اس میں ملک بھر سے تنظیمی احباب شرکت کر رہے ہیں، تمام ضلعوں سے نمائندے شریک ہیں، آج بھی اہم نشستیں ہیں، گزشتہ سال کیا کیا؟ اس کا جائزہ لیا جائیگا، کل یعنی کنونشن کے تیسرے روز ہم نئے میر کارواں، یعنی اگلے تین سال کے لیے سیکرٹری جنرل کا انتخاب کرنے جارہے ہیں۔ کل ہی ایک اہم نشست کا اہتمام ہے، جس میں اہل سنت اور اہل تشیع علماء سمیت ملی شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے۔ کنونشن کے موقع پر تنظیمی احباب کی تربیت کا اہتمام ہوتا ہے، اس کے علاوہ ملکی اور عالمی سطح پر آنیوالی تبدیلیوں اور اپنی ذمہ داریوں پر بھی بحث ہوگی۔

اسلام ٹائمز: کن ملی تنظیموں اور اداروں کو دعوت دی گئی ہے۔؟
علامہ احمد اقبال رضوی:
ہم نے تمام شخصیات اور تنظیموں کو دعوت دی ہے، اس میں امامیہ آرگنائزیشن پاکستان، شیعہ علماء کونسل، آئی ایس او پاکستان، اصغریہ، وفاق المدارس اور عروۃ الوثقیٰ سمیت سب کو دعوت دی ہے۔ کراچی سے بھی شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے، دیگر سیاسی شخصیات کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

اسلام ٹائمز: کنونشن میں منعقد ہونیوالی کانفرنس کا عنوان کیا ہے اور کن اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔؟
علامہ احمد اقبال رضوی:
جی اس کانفرنس کا عنوان وحدت اسلامی ہے، کانفرنس میں شرکت کیلئے تمام ملی شخصیات کو دعوت دی گئی ہے، بشمول علامہ سید جواد نقوی صاحب، اہل سنت میں سے جماعت اسلامی کے رہنماء لیاقت بلوچ سمیت پاکستان عوامی تحریک، پی ٹی آئی، سنی اتحاد کونسل سمیت دیگر اہل سنت شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے۔

اسلام ٹائمز: اس کانفرنس کے اہداف اور مقاصد ہیں۔؟
علامہ احمد اقبال رضوی:
ہمارا مقصد اتحاد کو پرموٹ کرنا ہے، اتحاد بین المسالک سے لیکر اتحاد بین المومنین تک، اس ملک میں نفرت کے بیج گئے ہیں، تکفیریت کو پروان چڑھایا گیا، کافر کافر کے نعرے لگائے گئے، ایسے میں یہ کانفرنس اتحاد و حدت کے عنوان سے اہمیت کی حامل کی ہے۔ کانفرنس کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ شیعہ سنی ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین نہیں کرتے، بلکہ احترام کرتے ہیں، آپ جانتے ہیں کہ مجلس کے قیام کا مقصد ہی اتحاد امت کو پرموٹ کرنا اور فروغ دینا ہے۔ مجلس نے اس فضاء کو پروان چڑھانے میں نہایت ہی عمدہ کردار ادا کیا ہے، جس کے سبھی معترف ہیں۔ ہم ایک امت ہیں اور یہی ہمارا نعرہ ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ مجلس کی گزشتہ سال کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔؟
علامہ احمد اقبال رضوی:
100 فیصد مطئمن کوئی نہیں ہوتا، اجتماعی میدان میں کمی اور کوتاہیاں رہ جاتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر مجلس نے اپنی بساط کے مطابق بہتر کام کیا ہے، سیاسی میدان میں اپنے آپ کو منوایا ہے، شیعہ سنی وحدت کے حوالے سے بہت کام کیا ہے، دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پر کام کیا ہے، اس کا کریڈٹ میں قائد وحدت، علامہ راجہ ناصر عباس کو دوں گا، جنہوں نے قوم کو دلاسہ دیا، کھڑا کیا، اجتماعی میدان میں قوم کے وجود کو تسلیم کرایا، سیاسی میدان میں اہم مقام پیدا کرایا، بدتر حالات کا جواں مردی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ نامساعد حالات کے باوجود قوم کو مایوس نہیں کیا۔

اسلام ٹائمز: وزیراعظم کے بیان کے بعد کیا لگتا ہے، اب کالعدم جماعتوں کی اس ملک میں کوئی جگہ نہیں۔؟
علامہ احمد اقبال رضوی:
میرا خیال ہے کہ ہماری حکومت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ پاکستان کو جتنا نقصان کالعدم تنظیموں نے پہنچایا ہے، تکفیریت اور دہشتگردی نے پہنچایا ہے اتنا کسی اور نے نہیں پہنچایا۔ آج پوری دنیا کے سامنے ہمارا جو امیج بنا ہے، وہ انہی تنظیموں کی وجہ سے بنا ہے۔ ملک کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ تو میرے خیال میں ریاست اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ اب کالعدم جماعتوں کو مکمل طور پر بین کیا جائے اور جہادی کلچر کو ختم کیا جائے۔ یہی پوری قوم کی خواہش ہے۔ ریاست مزید اس چیز کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ آپ دیکھیں ہمارے ہمسایوں سے تعلقات بھی انہی تنظیموں کی وجہ سے خراب ہوتے ہیں۔ اگر آپ کشمیر کی بات کریں تو اس کاز کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں پر زمین تنگ کردی گئی ہے۔ وجہ کالعدم جماعتوں کی کارروائیاں ہیں۔

اسلام ٹائمز: ٹرمپ نے گولان پہاڑیوں پر اسرائیل کا قبضہ تسلیم کرلیا ہے۔ کیا کہتے ہیں۔؟
علامہ احمد اقبال رضوی:
میرے خیال میں ٹرمپ کو لایا ہی اسی مقصد کے لیے گیا ہے، انہوں نے پہلے بیت المقدس پر اسرائیلی قبضہ تسلیم کیا، اب شام کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا قبضہ تسلیم کرلیا ہے، اصل مسئلہ یہی ہے کہ تمام ممالک نے امریکی چودھراہٹ کو تسلیم کرلیا ہے۔ لیکن فکر کی کوئی بات نہیں، ظلمت کی رات طویل ضرور ہے، لیکن اس کا خاتمہ ہوکر رہے گا۔ ایک ناجائز ریاست کو کب تک اس طرح کے ہتھکنڈوں سے محفوظ بنائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 786027
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Pakistan
علامہ احمد اقبال نے بہت زیادہ improve کیا ہے، ماشاء اللہ اتنے زیادہ پیچیدہ اور مشکل سوالات کی گتھی کو کتنی آسانی سے سلجھایا ہے، اللہ آپ کو حفظ و امان میں رکھے۔
منتخب