0
Thursday 25 Jul 2019 23:30
موجودہ حکومت کی کارکردگی غیر تسلی بخش، تاہم پاکستان کے ان حالات کی ذمہ دار سابقہ حکومتیں ہیں

سعودی عرب امریکی کیمپ میں جانے کی بجائے ایران کیساتھ بات کرے، پروفیسر ابراہیم خان

امریکہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر افغانستان سے نکلنے کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے
سعودی عرب امریکی کیمپ میں جانے کی بجائے ایران کیساتھ بات کرے، پروفیسر ابراہیم خان
پروفیسر ابراہیم خان کا شمار ملک کی اہم مذہبی و سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ اسوقت جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر کی حیثیت سے جماعتی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، اس سے قبل وہ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر سمیت مختلف عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ انکا بنیادی تعلق ہنجل امیر خاں ضلع بنوں سے ہے، کالج دور میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوئے، تعلیم مکمل کرنے کے بعد جماعت اسلامی سے وابستہ ہوگئے۔ پروفیسر ابراہیم گومل یونیورسٹی میں جرنلزم ڈیپارٹمنٹ میں بطور لیکچرار بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، وہ جماعت اسلامی کیطرف سے سینیٹر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ ملکی و بین الاقوامی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں، اسلام ٹائمز نے ملنسار طبعیت کے مالک محترم پروفیسر ابراہیم خان کیساتھ ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ادارہ
 
اسلام ٹائمز: عمران خان کی حکومت کیخلاف اپوزیشن جماعتوں کیجانب سے چلائی جانیوالی تحریک میں جماعت اسلامی کہاں کھڑی نظر آتی ہے۔؟
پروفیسر ابراہیم خان:
اصل میں حکومت کی پالیسیوں سے ہمیں شدید اختلاف ہے، جس کا ہم نے اظہار بھی کیا ہے، حکومت کیخلاف ہم نے کئی مواقع پر احتجاج بھی کیا ہے، کئی شہروں میں عوامی مارچ بھی ہوتے رہے ہیں، بہت بڑے بڑے پروگرام بھی ہوئے ہیں۔ اس وقت جو ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کی جو صورتحال ہے، اس سے عام آدمی سخت پریشان ہے۔ موجودہ حکومت کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے، یہ اپنے منشور پر عملدرآمد پر مکمل طور پر ناکام ہیں۔ انہوں نے عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا، یہ لوگ تبدیلی کے نام پر آئے تھے، منفی تبدیلی ضرور آئی ہے، مثبت تبدیلی نہیں آئی۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کا پروگرام بھی عام آدمی کو ریلیف دینے کا نہیں ہے، بلکہ ان کا اپنا ایجنڈا ہے، بجائے اسکے کہ وہ خود کو پاک صاف ظاہر کریں، وہ نہیں کرسکے۔ ملک کے جو موجودہ حالات ہیں، ان میں ماضی کی حکومتوں کا بھی کردار ہے۔ اس لئے ہمارے لئے ممکن نہیں ہے کہ ہم ان پیپلزپارٹی اور نون لیگ کیساتھ ملکر حکومت کیخلاف کوئی تحریک چلا سکیں۔ ہم اپنے طور پر میدان میں ہوں گے اور عوام کو ریلیف پہنچانے کیلئے ہم اپنا پروگرام رکھتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا جماعت اسلامی حکومت کو وقت دینا چاہتی ہے۔؟
پروفیسر ابراہیم خان:
اس پر بھی ذرا منصوبہ بندی اور سوچ بچار کی ضرورت ہے، اگر ایک سال کی روشنی میں دیکھیں تو حکومت ناکام نظر آتی ہے اور مستقبل میں بھی ان سے کوئی زیادہ توقعات نظر نہیں آرہیں، لیکن اس وقت ہم نہیں چاہتے کہ کوئی طالع آزما ان حالات سے کوئی ناجائز فائدہ حاصل کرے، بہت احتیاط سے قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت عوام کا مینڈیٹ درست طریقہ سے استعمال نہیں کر پائی ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ مینڈیٹ عوام کو واپس مل جائے اور پھر عوام کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ ملک کی باگ دوڑ جس کے ہاتھ میں دینا چاہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے حالیہ دورہ امریکہ کے موقع پر کیا پاکستان کا بیانیہ درست انداز میں پیش کیا۔؟
پروفیسر ابراہیم خان:
ان کا یہ دورہ نہ صرف روایتی ثابت ہوا ہے بلکہ انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے کم اور تحریک انصاف کے سربراہ کی حیثیت سے زیادہ بات کی ہے۔ انہیں اس موقع پر پاکستان اور عالم اسلام کا کیس پیش کرنا چاہیئے تھا۔ عمران خان نے گھر کے اندر کے کپڑے گھر سے باہر دھونے کی کوشش کی ہے، جو کہ افسوسناک ہے۔ جو باتیں وزیراعظم صاحب نے امریکہ میں کہیں ہیں، وہ باتیں ہرگز وہاں کرنے کی نہیں تھیں۔ انہیں چاہیئے تھا کہ اس موقع پر عالم اسلام اور اپنے وطن کی بات کرتے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے انہوں نے کوئی بات نہیں کی، لے دیکر اگر ان کے منہ سے کوئی بات نکلی ہے تو وہ شکیل آفریدی کی رہائی کے عوض عافیہ کی رہائی کی۔

حقیقت تو یہ ہے کہ شکیل آفریدی قوم کا غدار ہے اور ڈاکٹر عافیہ مظلوم قوم کی بیٹی ہے، ان دونوں کو ایک نظر سے دیکھنا بالکل بھی انصاف کی بات نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے توہین رسالت (ص) کی مرتکب خاتون آسیہ بی بی، جس کو سپریم کورٹ نے رہا کیا، اس حوالے سے عمران خان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں انہوں نے خود یہ ذمہ داری لی اور کہا کہ ماضی میں حکومتوں نے ایسا نہیں کیا، ہم نے یہ کام کر ڈالا۔ حقیقت میں قوم کی اکثریت پریشان ہے کہ توہین رسالت (ص) کے قانون کیساتھ یہ حکومت کیا کرنے جا رہی ہے۔ لہذا یہ سب باتیں منفی ہیں اور حکومت نے کوئی مثبت اقدامات نہیں کئے۔

اسلام ٹائمز: آپکے خیال میں کیا عمران خان کے دورہ امریکہ سے افغان امن کو آگے بڑھانے میں کوئی مدد ملے گی۔؟
پروفیسر ابراہیم خان:
افغانستان کے مسئلہ کے حل کی کوششیں ضرور ہونی چاہئیں، افغانستان کے امن کیساتھ ہمارا امن بھی منسلک ہے، وہاں جو باتیں ہوئی ہیں، وہ ایک طرف اور ہمارے وزیراعظم کی باتیں دوسری طرف۔ افغان صدر اشرف غنی نے ٹرمپ کی باتوں پر اعتراض کیا، وہاں ہونے والی باتوں سے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ افغانستان میں امن کیلئے ہماری حکومت ہی نہیں کوئی حکومت بھی کوشش کرے تو ہم اس کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہیں۔ تاہم اس دورہ میں افغانستان کے امن عمل کے حوالے سے بھی کوئی حوصلہ افزا بات سامنے نہیں آئی۔

اسلام ٹائمز: کیا امریکہ افغانستان سے نکل کر اس خطہ میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کیلئے ایران کو جنگ میں دھکیلنا تو نہیں چاہ رہا۔؟
پروفیسر ابراہیم خان:
ممکن ہے کہ آپ کی یہ بات درست ہو، تاہم ٹرمپ کا یہ بیان کہ میں افغانستان میں قتل عام نہیں کرنا چاہتا، وگرنہ میں افغانستان کو فتح کر دوں۔ درحقیقت یہ ظاہر کر رہا ہے کہ امریکہ خود افغانستان میں مشکلات میں پھنسا ہوا ہے۔ وہ ایران سے بھی الجھا ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ امریکہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر افغانستان سے نکلنے کا راستہ اختیار کرے۔ یہ مسلمانوں کی سمجھداری اور تدبر پر منحصر ہے کہ وہ امریکہ کی چالوں کو کامیاب نہ ہونے دیں، مسلمان آپس میں ایک دوسرے کی طرف ہاتھ بڑھائیں۔ ترکی نے بہت دانشمندی کا مظاہرہ کیا، اگرچہ شام میں امن بحال نہیں ہوا، تاہم ترکی نے ایران اور روس کیساتھ ملکر معاملات بہتر کئے، جس کی وجہ سے وہاں کے عوام کو ریلیف ملا۔ لہذا ہم سعودی عرب سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ امریکی کیمپ میں جانے کی بجائے ایران کیساتھ بات کرے۔ پاکستان اور ترکی بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔

اسلام ٹائمز: ایران و سعودی عرب کے اختلافات کا کیا حل تجویز کرتے ہیں۔؟
پروفیسر ابراہیم خان:
ایران اور سعودی عرب دو مسلمان ممالک ہیں، ان میں سے کسی کو امریکہ فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ ایران اور سعودی عرب دونوں کا مفاد اس میں ہے کہ وہ آپس میں بیٹھ کر اس مسئلہ پر بات کریں۔ ایسا نہ ہو کہ امریکہ ایران اور سعودی عرب کے اختلافات کو ہوا دے، بلکہ ہمارے اور ایران کے اختلافات کو بھی اس طریقہ سے اچھالے کہ جس سے مسلمانوں کے مابین اختلافات میں اضافہ ہو۔ ہماری حکومت اور قوم کو بھی اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ امت مسلمہ آپس میں یکجان ہو اور پاکستان، ترکی، ایران، سعودی عرب اور عراق مل بیٹھ کر مسائل حل کریں، امریکہ ہمارے مسائل حل نہیں کرسکتا، وہ ہمیں اور بھی الجھائے گا اور ہمیں آپس میں لڑا کر اپنا الو سیدھا کرے گا۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ واحد اسلامی ایٹمی طاقت پاکستان ایران اور سعودی عرب کو ایک ساتھ بٹھا کر مسائل حل کروا سکتا ہے۔؟
پروفیسر ابراہیم خان: ہماری حکومت کا ایسا کوئی پروگرام نظر نہیں آرہا، ہمارے آئین میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ اسلامی دنیا کیساتھ ہم بہترین تعلقات استوار کریں گے۔ یہ ہمارے ایمان کا بھی تقاضا ہے کہ ایسا ہونا چاہیئے کہ ترکی کیساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں اور ترکی کے اندر پاکستان کا بہت احترام ہے، لہذا میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان ترکی کیساتھ ملکر عالم اسلام کے ان مسائل کو حل کرنے اور مسلمانوں کو یکجان کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 807087
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے