0
Tuesday 7 Jan 2014 22:29

سامراج نواز قوتوں کیخلاف اتحاد و بھائی چارے سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں، غنویٰ بھٹو

سامراج نواز قوتوں کیخلاف اتحاد و بھائی چارے سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں، غنویٰ بھٹو
اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو ) کی چیئرپرسن غنویٰ بھٹو نے کہا ہے کہ دنیا خصوصاً پاکستان میں نوآبادیاتی فرسودہ نظام اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ مختلف نوعیت کے معاملات کی بناء پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور ادارتی تنازعات اور بالادستی کی رسہ کشی اپنے عروج پر ہے، سامراجی طبقاتی نظام کی حمایتی قوتیں، سیاستدان اور جماعتیں اپنے اقتدار کی کرسی اور سامراجی نظام کو دوام بخشنے کیلئے انقلاب کی اصل قوت محنت کش طبقات اور غریب عوام کو مذہب، مسلک، قوم، زبان اور نسل کی بنیادوں پر تقسیم کرتے ہوئے اس نوآبادیاتی نظام کو بچانے کی آخری کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ اپنے ایک بیان میں غنویٰ بھٹو نے کہا کہ انگریز کا بنایا ہوا نظام ان کے ملک میں ختم ہو چکا جبکہ ابھی تک پاکستانی عوام پر اپنا تسلط قائم رکھنے کیلئے سامراج نواز حکمران طبقات اس نظام کو تبدیل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان کی بقا و سالمیت سرمایہ دارانہ نظام میں نہیں بلکہ سوشلزم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
 
غنویٰ بھٹو نے کہا کہ جب ملک میں موجود نوآدیاتی سامراجی نظام کو بچانے کیلئے تمام حکمران طبقات الگ سوچ اور جماعتوں کے باوجود بھی ایک ایجنڈے پر متفق و متحد ہیں تو تمام محنت کش طبقات اور پاکستان کے مظلوم عوام کو اس ظالم سامراجی نظام کو تباہ و برباد کرنے کیلئے بھی متحد ہو کر جدوجہد کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ  سامراج مخالف طبقات کو سامراج نواز قوتوں کی سازشوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر اتحاد ملی و یگانگت کو برقرار رکھنا ہوگا، ان کے پاس اتحاد و بھائی چارے سے زیادہ کوئی بڑا ہتھیار نہیں جس کے ذریعے وہ اپنی منزل مقصود تک باآسانی پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی ڈر اور خوف کو محسوس کرتے ہوئے تمام عوام دشمن قوتیں مختلف حیلوں بہانوں سے عوام کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ غنویٰ بھٹو نے عوام کو یقین دلایا کہ نظام کی تبدیلی کے علاوہ ان کے مسائل کا حل ممکن نہیں، اس لئے وہ ایسی کسی بھی تحریک یا تنظیم کا حصہ نہ بنیں جو ان کی طاقت و توانائی کو ماضی کی طرح اقتدار کی کرسی حاصل کرنے کیلئے استعمال کرے۔
خبر کا کوڈ : 338620
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب