0
Monday 31 Mar 2014 07:02

مشرقِ وسطٰی میں جاری خون خرابے کیوجہ عرب ڈکٹیٹر خاندانوں کا ظالمانہ طرزِ حکومت ہے، مشاہد حسین سید

مشرقِ وسطٰی میں جاری خون خرابے کیوجہ عرب ڈکٹیٹر خاندانوں کا ظالمانہ طرزِ حکومت ہے، مشاہد حسین سید
اسلام ٹائمز۔ ترکی دورِ جدید کی مسلم دنیا کا رول ماڈل ہے، ترک فلاحی ادارے کی جانب سے تاریخی فریڈم فلوٹیلا فلسطینی کاز کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوا، پاکستان نے ہمیشہ مشرقِ وسطٰی کی تحاریکِ آزادی کی دامے درمے سخنے مدد کی، قائداعظم مصطفٰی کمال اتاترک کے قدر دان تھے ، مشرقِ وسطٰی میں جاری خون خرابے کی وجہ عرب ڈکٹیٹر خاندانوں کا ظالمانہ طرزِ حکومت، عوام سے دوری اور رائے عامہ کا بیدار ہونا ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید کا پاکستان ترکی کے مڈل ایسٹ خطے میں اثرات کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ ڈیفنس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ترک فلاحی ادارے آئی ایچ ایچ کی جانب سے غزہ میں بسنے والے مظلوم باشندوں کو انسانی ہمدردیوں کی بنیاد پر اشیاء کی فراہمی کی غرض سے 2010ء میں روانہ کیے جانے والے تاریخی فریڈم فلوٹیلا کے بہادرانہ اقدام سے فلسطینی کاز کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے میں مدد ملی۔ وہ پاکستان اور ترکی کے مڈل ایسٹ خطے میں اثرات کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے، جس کے مہمان خصوصی ترک سفیر صادق بابر گرگن تھے۔

سینیٹر مشاہد نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ پاکستانی عوام کے دل دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور یہی جذبہ اسلامی اخوت بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور ذوالفقار علی بھٹو کی خارجہ پالیسی میں کارفرما تھا۔ انہوں نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ مڈل ایسٹ میں جاری تحاریکِ آزادی کو دامے درمے سخنے امداد فراہم کی ہے اور یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ پچاس کی دہائی میں تیونس اور فلسطینی مجاہدین آزادی پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کیا کرتے تھے، اکتوبر 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں پاکستان واحد غیر عرب ملک تھا جو عملی طور پر اسرائیل کے خلاف نبزد آزما تھا اور اس جنگ میں پاکستانی ہوا بازوں نے اسرائیلی جنگی جہاز مار گرائے۔ علاوہ ازیں، بھٹو صاحب نے شام کے صدر حافظ الاسد کو عسکری تعاون مہیا کرنے کی بھی پیشکش کی تھی، تاکہ اسرائیلی جارحیت سے برادر مسلم ملک کو محفوظ رکھا جاسکے۔ انہوں نے اپریل 1974ء میں لاہور میں منعقدہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان کو پہلا ملک ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے کہ جس نے یاسر عرفات کی قیادت میں پی ایل او کو شرکت کی دعوت دیکر فلسطینی عوام کو عالمی سطع پر نمائندگی کا موقع فراہم کیا۔

سینیٹر مشاہد نے مشرقِ وسطٰی میں جاری خون خرابے کی وجہ عرب ڈکٹیٹر خاندانوں کا ظالمانہ طرزِ حکومت، عوام سے دوری اور رائے عامہ کا بیدار ہونا بتایا جبکہ ترکی کو دورِ جدید کی مسلم دنیا کا رول ماڈل قرار دیتے ہوئے ترک وزیراعظم اردگان کی گڈگورنس، اقتصادی اصلاحات، سیاسی استحکام، آزاد خارجہ پالیسی اور دیگر اقدامات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے فریڈم فلوٹیلا کے حوالے سے مزید کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں معصوم افراد شہید ہوئے اور ترک حکومت کے دلیرانہ موقف کی بناء پر اسرائیل کو معذرت کرنی پڑی جبکہ عالمی سطع پر بھی اس افسوسناک واقعے کی مذمت کی گئی۔ سینیٹر مشاہد کا پاکستان اور ترکی کے مابین تعلقات پر کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین عوامی سطح پر مستقل بنیادوں پر والہانہ دوستی قائم ہے، جبکہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح جدید ترکی کے بانی مصطفٰی کمال اتاترک کے قدردانوں میں سے تھے اور اسی بناء پر 1938ء میں انکے انتقال پرملال کے موقع پر قائداعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے برصغیر میں قومی یومِ سوگ کا اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر خبیب فاؤنڈیشن کے چئیرمین ندیم احمد خان، جو بذات خود تاریخی فریڈم فلوٹیلا میں فلسطینی عوام کو مدد فراہم کرنے کیلئے سوار تھے، نے بھی ترک حکومت کی جانب سے سپورٹ فراہم کرنے پر اظہارِ تشکر کیا۔
خبر کا کوڈ : 367460
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے