0
Saturday 22 Nov 2014 23:29

بلوچستان میں خسرہ ایمرجنسی ویکسینیشن مہم دسمبر میں چلائی جائے گی، رحمت صالح بلوچ

بلوچستان میں خسرہ ایمرجنسی ویکسینیشن مہم دسمبر میں چلائی جائے گی، رحمت صالح بلوچ
صوبائی وزیر صحت رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ افغانستان سے بلوچستان کے راستے منشیات اسمگلنگ میں بین القوامی ڈرگ مافیا کے لوگ ملوث ہیں۔ روٹس کی وجہ سے منشیات کے صوبے میں بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کوئٹہ اور تربت میں منشیات کے عادی افراد کے علاج معالجے کے لئے سی ایچ پی سی سنٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ خسرہ اور دیگر بیماریوں سے بچوں کو بچانے کیلئے دسمبر میں صوبہ بھر میں ایمرجنسی ویکسینیشن مہم چلائی جائے گی۔ پولیو کے لئے دوسرے صوبوں کو 10 کروڑ جبکہ بلوچستان کو 5 سے 6 لاکھ روپے فراہم کئے جا رہے ہیں۔ جس سے 80 فیصد تک روٹین ہمونائزیشن کو بڑھانا ممکن نہیں۔ بلوچستان میں پولیو کیسز افغانستان کے قریبی اضلاع میں ہو رہے ہیں۔ ہم روزانہ بنیادوں پر باب دوستی پر آٹھ سو بچوں کو ویکسین پلا رہے ہیں۔ گندے پانی سے سبزیوں کی کاشت بارے بنائی گئی کمیٹی نے رپورٹ دے دی ہے۔ جس پر کارروائی اور اقدامات ہوں گے۔ انسانی جانوں سے کسی کو کھیلنے نہیں دیا جائے گا۔ ہمیں درپیش مشکلات اور چیلنجز اپنی جگہ ہیں تاہم بعض ایسی برائیوں کو جو غیر انسانی روئیوں کے فروغ کا سبب بنتی ہیں کا راستہ روکنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ بلوچستان میں انٹرنیشنل ڈرگ روٹ ہے۔ اس لئے ہمارے نوجوان بھی تیزی سے اس جانب راغب ہو رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہوگی کہ صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ افیون ہو یا چرس سمیت کوئی اور منشیات سب انسانیت دشمن ہیں۔ انسانیت کو اس سے بچانا ہمارا اخلاقی اور مذہبی فریضہ ہے۔ کسی صورت بھی مستقبل کے معماروں کو اس لعنت میں مبتلا نہیں ہونے دیں گے۔ علماء کرام، خطباء، قبائلی رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں کے اکابرین کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہم ملکی اور غیر ملکی تمام اداروں کے ساتھ منشیات کی لعنت کا راستہ روکنے کے لئے کام کے لئے تیار ہیں۔ لوگ انسانیت کو بچانے کے لئے منشیات فروشوں اور دیگر کا بائیکاٹ کریں۔ سرنجز کا دوبارہ استعمال روکنے کے لئے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میری کوشش ہوگی کہ صوبہ بھر میں آٹو میٹک سرنجز کا استعمال ضروری قرار دیا جائے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ملک بھر اور خاص کر بلوچستان میں سرنجز کے دوبارہ استعمال بارے میں مافیا سرگرم عمل ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ ہماری سرکاری ہسپتالوں میں آٹو میٹک سرنج کے استعمال کی کاوشیں ناکا م بنا دی جائیں۔ مگر ایسا نہیں ہو گا۔ اس سلسلے میں سب کو کام کر نے کی ضرورت ہیں۔ سرنجز کا ری یوز ایچ آئی وی ایڈز کا سبب بنتا ہے۔ اسے ختم کریں گے۔ انہوں نے خسرہ اور دیگر بیماریوں کی روک تھام کے لئے دسمبر میں ایمر جنسی ویکسینیشن مہم کا اعلان کیا اور کہا کہ اس سلسلے میں کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبر کا کوڈ : 420915
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب