0
Sunday 2 Jan 2011 12:39

جنرل کیانی کو ا مریکا پر بھروسہ ہے،نہ اس کی افغان پالیسی پر خطرہ مول لینا چاہتے ہیں،امریکی اخبار

جنرل کیانی کو ا مریکا پر بھروسہ ہے،نہ اس کی افغان پالیسی پر خطرہ مول لینا چاہتے ہیں،امریکی اخبار
واشنگٹن:اسلام ٹائمز-جنگ نیوز کے مطابق امریکی اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام نے پاکستان کی طاقتور ترین شخصیت جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بے شمار لیکچرز دیئے مگر وہ تاحال ان کو امریکا کی نئی افغان پالیسی پر عمل درآمد کیلئے قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ جنرل کیانی کو امریکا پر بھروسہ ہے نہ وہ اس کی افغان پالیسی پر خطرہ مول لینا چاہتے ہیں۔ نئی امریکی پالیسی کا مقصد امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء سے قبل پاک افغان سرحدی علاقوں سے القاعدہ اور طالبان کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق جنرل کیانی کے ساتھ امریکی حکام نے چائے پی،گالف کھیلی اور ہیلی کاپٹرز پر پروازیں کیں مگر ان کو قائل نہیں کر سکے۔ جنرل کیانی جو کہ اپنے صدر اور وزیراعظم سے زیادہ کھل کر ملکی سکیورٹی کی حکمت عملی پر بات کرتے ہیں انہوں نے صدر اوباما سمیت امریکی حکام اور ملٹری کمانڈروں کی براہ راست اپیلوں پر مزاحمت کی ہے۔ 
رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وہ جلد اپنا ذہن تبدیل نہیں کریں گے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنرل کیانی ان کی اپیلوں کے باوجود امریکا پر اعتماد نہیں کرتے اور امریکی افغان پالیسی کی ناکامی کی صورت میں متوقع نقصان کے آگے رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتے ہیں۔ مختلف طریقوں سے وہ پاکستان کی جانب سے درپیش سنجیدہ مسائل کے عکاس ہیں۔ اوباما انتظامیہ کے بعض اہم حکام کے مطابق جنرل کیانی جنوبی ایشیاء کی موجودہ صورتحال کے خاتمہ کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں جبکہ امریکی جرنیل مزید ڈرون حملوں کی بات کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شروع میں امریکی حکام جنرل کیانی کی صلاحیتوں کے معترف تھے، جنہوں نے سوات اور جنوبی وزیرستان میں طالبان اور القاعدہ کیخلاف آپریشن کر کے حیران کن نتائج حاصل کئے،جس پر پاکستان کی حیران کن انداز میں فوجی اور اقتصادی امداد بڑھائی گئی، تاہم اب جنرل کیانی شمالی وزیرستان میں زمینی آپریشن نہیں کر رہے۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ جب ان کے پاس وافر نفری ہوئی تو وہ آپریشن کریں گے جو کہ بھارت کے ساتھ بارڈر پر ہے۔ 
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ستمبر میں امریکی ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ کے نتیجے میں پاکستانی فوج کے تین سپاہی شہید ہوئے تھے تو جنرل کیانی کا نیا روپ امریکی انتظامیہ نے دیکھا، جب جنرل کیانی نے افغانستان سے ملحقہ راستہ ہی بند کر دیا، جہاں سے امریکی اورا تحادی فوجیوں کو رسد پہنچائی جاتی تھی۔ امریکی اخبار کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں وائٹ ہاؤس میں صدر اوباما نے جنرل کیانی کو براہ راست جلد شمالی وزیرستان میں کارروائی کی اپیل کی تھی جسے جنرل کیانی نے غور سے سن کر 13 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز صدر اوباما کو دی، جس میں پاکستان کی اسٹرٹیجک پالیسی واضح کی گئی تھی۔ اس دستاویز میں امریکا کے قلیل مدتی اور پاکستان کے کثیر المدتی مقاصد کے درمیان موجود خلا کی نشاندہی کی گئی تھی۔ 
رپورٹ کے مطابق جنرل کیانی وکی لیکس کی جانب سے امریکی سفارت کاروں کی جاری ہونے والی کیبلز سے طیش میں ہیں جیسے کہ ایک کیبل میں کہا گیا تھا کہ جنرل کیانی نے امریکی حکام کے ساتھ گزشتہ سال صدر آصف زرداری کو ہٹانے کی بات کی تھی، جس کے بعد صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی حکمت عملی کا اصل مقصد پاکستان کو غیر جوہری بنانا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنرل کیانی یہ شبہ رکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ امریکا نے افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کر لئے تو یہ پاکستان کو اکیلا چھوڑ دے گا اور پاکستان جوہری اسلحہ سے مسلح بھارت کیخلاف بے یارو مددگار ہو گا۔

خبر کا کوڈ : 48841
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش