0
Thursday 15 Sep 2011 00:24

مسلم دنیا میں اسلامی بیداری کی تحریک بڑی سیاسی تبدیلی اور اسلام کی حکمرانی کا مقدمہ ہے، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

مسلم دنیا میں اسلامی بیداری کی تحریک بڑی سیاسی تبدیلی اور اسلام کی حکمرانی کا مقدمہ ہے، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز- فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مشہد مقدس میں عالمی اہلبیت ع اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے پانچویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام میں رونما ہونے والی اسلامی بیداری کی تحریک بڑی سیاسی تبدیلی اور اسلامی کی حکمرانی کا مقدمہ ہے اور پیروان اہلبیت علیھم السلام کا موقف اس اسلامی بیداری کی تحریک کی حمایت ہے۔
قائد انقلاب اسلامی ایران نے مکتب اہلبیت علیھم السلام کی صلاحیتوں اور برتری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ قوم اور ملک جو دنیا میں پہلی بار اسلام اور قرآن کی بنیاد پر سیاسی نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوا ہے پیروان اہلبیت علیھم السلام میں سے ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ آج مسلم ممالک کے نوجوان اپنی آرزووں کی تکمیل کیلئے مغربی فکری نظام کی بجائے اسلامی تعلیمات کا سہارا لے رہے ہیں اور یہ افتخار ملت ایران کی جانب سے اسلامی انقلاب برپا کرنے کی برکت سے معرض وجود میں آیا ہے۔
ولی امر مسلمین جہان حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مصر، تیونس، لیبیا، بحرین اور یمن میں حالیہ اسلامی بیداری کی تحریکوں کو الطاف خداوندی کا نمونہ قرار دیا اور تاکید کی کہ ہمارا موقف ان تحریکوں کی حمایت اور انہیں مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اسلامی بیداری کی یہ تحریکیں حقیقی دشمن قوتوں یعنی اسرائیل اور امریکہ کے تسلط کے مکمل خاتمے کا باعث بنیں گی۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے خبردار کیا کہ خطے میں اسلامی بیداری کی تحریکوں کو درپیش خطرات سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جن میں سے ایک مختلف اسلامی فرقوں جیسے شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ شیعہ سنی اختلافات بین الاقوامی سیاسی مقاصد کی خاطر ایجاد کئے جاتے ہِیں کہا کہ عالمی استکباری قوتیں اسلام فوبیا کے ساتھ ساتھ شیعہ فوبیا کی مہم بھی چلا رہی ہیں اور ان سازشوں کے مقابلے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تاکید کرتے ہوئے کہ پیروان اہلبیت علیھم السلام امت مسلمہ کے درمیان وحدت اور اتحاد کا عقیدہ رکھتے ہیں کہا کہ امت مسلمہ کی خوشبختی اسکے اتحاد میں مضمر ہے۔ انہوں نے انسانی ضروریات کو پورا کرنے میں مغربی مکاتب فکر کی ناکامی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اور غیرمسلم معاشروں تک جدید ضروریات کے مطابق دینی تعلیمات اور معارف اہلبیت علیھم السلام پہنچانے کی ضرورت ہے۔
قائد انقلاب اسلامی ایران نے کہا کہ عالم اسلام میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیاں روشن مستقبل کی نوید دلاتی ہیں اور اس روشن مستقبل کی علامات واضح ہو چکی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 98851
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے