0
Monday 11 Feb 2013 15:16

انقلاب اسلامی کے بنیادی عوامل و ثمرات پر ایک نظر

انقلاب اسلامی کے بنیادی عوامل و ثمرات پر ایک نظر
تحریر : جابر حسین قادری (جامعہ النجف اسکردو)

انقلاب اسلامی ایران کو کامیابی سے ہمکنار کرنے اور پھر اس کو استحکام و دوام کی شاہراہ پر گامزن کر نے میں درج ذیل امور کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

بانی انقلاب کا سیاسی فکر و تدبر:
آپ بر وقت سامراجی سازشوں سے خود آگاہی حاصل کرنے کے علاوہ ملت ایران خصوصاً علماء حضرات کو ان سامراجی سازشوں سے آگاہ کرکے ان کے مذموم عزائم کو بے نقاب کرتے تھے اور ساتھ ہی سیاسی تدابیر اور راہ حل پیش کرتے تھے۔ انقلاب کے حوالے سے وہ سامراجی طاقتوں سے کسی بھی قسم کی نرمی گوارا نہیں کرتے تھے اور نہ ہی انہیں اپنی ملی مشکلات حل کرنے میں مؤثر سمجھتے تھے۔ چنانچہ اپنے ایک خطاب میں انہون نے فرمایا کہ ہم مشرقی و مغربی سامراج کے ساتھ نرمی کو اپنے مسائل کے حل کی کلید نہیں سمجھتے بلکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ سامراج کے مقابلے میں نرم رویہ ہمیں نابودی اور تباہی کی طرف دھکیلتا ہے اور روز بروز مزید فقیر اور بد بخت بناتا ہے۔ اسی طرح مسلح افواج سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تک ہم استکبار کے خلاف مقابلے کے لئے تیار رہیں گے تب تک کامیابی ہمیں ہی نصیب ہوگی، سپر طاقتوں کے سامنے تواضع و تسلیم مسلمانوں کی ذلت کا باعث ہے۔

ملت ایران: انقلاب کی کامیابی کا بظاہر دوسرا بنیادی سبب ملت ایران کا اپنے ملکی و ملی دشمن (سامراج) کو پہچاننا اور اپنے قائد کی فرمان برداری ہے۔ اگر ملت ایران اپنے ملکی و ملی دشمن کو نہ پہچانتی تو انقلاب کی کامیابی ایک ناممکن سی بات بن جاتی، کیونکہ خود بانی انقلاب کے بقول اس انقلاب کی جڑیں عوام کے اندر موجود ہیں۔ امام خمینی (رح) کی مدبرانہ قیادت کے ساتھ ایران کی باشعور و غیور ملت کی حمایت اس بات کا سبب بنی کہ ایران کو لوٹنے اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے والی ڈھائی ہزار سالہ شہنشایت کو منہ کی کھانی پڑی۔ اقبال کے بقول۔

میرسد مردی کہ زنجیر غلاماں بشکند   
دیدہ ام از روزن دیوار زندان شما

تائید خداوندی: انقلاب کی کامیابی کا ایک بنیادی اور اہم عامل تائید خداوندی ہے، جس کے بغیر کوئی بھی چیز استحکام و دوام نہیں پا سکتی اور نہ ہی مؤثر ہو سکتی ہے۔ جب تک کوئی قوم اپنے اندر حرکت پیدا نہ کر لے تب تک اللہ کی تائید و مدد شامل حال نہیں ہوتی۔ حضرت امام خمینی (رح) کے ذریعے جب ایرانی ملت کے قلب و ضمیر میں حرکت و بیداری آئی اور وہ اپنے اوپر مسلط ظالم شہنشاہیت کا احساس کرنے لگی تو تائید الہی ان کی شامل حال ہوئی اور پوری ملت کے اندر عالمگیر انقلاب ظاہر ہوا۔

انقلاب کی بقاء اور ترقی کے عوامل:
1۔ رہبر انقلاب کی با بصیرت قیادت: امام خمینی (رح) جب خالق حقیقی سے جاملے تو دشمنوں اور سامراجی عناصر نے یہ خیال کیا کہ انقلاب رو بزوال ہوگا لیکن یہ خیال ایک بھول تھی۔ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ بانی انقلاب کی رحلت کے بعد استقامت و بہادری کا درس لینے والے عظیم شاگرد سید علی خامنہ ای جیسی بابصیرت شخصیت موجود ہے جو انقلاب کو استحکام و دوام بخشنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ان باصلاحیت شخصیات نے ملت ایران کو رحلت امام کا احساس ہونے نہیں دیا اور انقلاب کو اپنے متعین راستوں پر رواں دواں رکھ کر امام خمینی (رح) کی رحلت سے پڑنے والے شگاف کو پر کیا۔ رہبر انقلاب حضرت آیت اللہ سید خامنہ ای آج بھی انقلاب اسلامی کو ان ہی خطوط پر رواں دواں رکھنا اپنا اولین فریضۃ سمجھتے ہیں، جنہیں امام خمینی (رح) نے قرآن و سنت کی بنیاد اور زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر متعین فرمایا تھا۔ دشمنان انقلاب خصوصاً امریکہ آج انقلاب کے لئے مختلف مشکلات کھڑی کرنے کی جو کوششیں کر رہے ہیں رہبر انقلاب ان سے بخوبی آگاہ ہیں اور انھیں تائید الہٰی کے ساتھ ساتھ ایران کی باشعور قوم کی حمایت بھی حاصل ہے اس لئے دشمن اپنے عزائم میں ناکام ہیں۔

نور حق شمع الہٰی کو بجھا سکتا ہے کون
جس کا حامی ہو خدا اس کو مٹا سکتا ہے کون

2۔ ملت ایران کی دشمن شناسی:
بانی انقلاب اور رہبر انقلاب نے دشمنوں کی نشاندہی کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جس کی بناء پر آج ایران کا ہر فرد اپنے ملک و ملت اور انقلاب کے دشمنوں کو پہچانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملت ایران دشمن کی سازشوں کے خلاف رہبر انقلاب کے احکامات پر کٹ مرنے کو تیار نظر آتے ہیں اور دشمنان ایران و انقلاب کے لئے آج سب سے زیادہ مشکل مسئلہ یہی ہے۔

انقلاب کے ثمرات: انقلاب کے استحکام و بقاء کا ایک بنیادی عامل اس کے معنوی و مادی فوائد و اثرات ہیں۔ انقلاب اسلامی ایران نے زندگی کے ہر شعبے میں ایران کو حیرت انگیز ترقی سے ہمکنار کیا اور اس خیال کو غلط ثابت کیا کہ انقلاب آزادی کو سلب کرے گا اور ملک کو ترقی کے بجائے زوال سے ہمکنار کرے گا۔ اس کا ثبوت وہ اعداد و شمار ہیں جن کے مطابق انقلاب کے بعد زندگی کے تمام شعبوں میں حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے۔

اسی طرح انقلاب کے معنوی فوائد کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔
1۔ علوم دینی کے لاکھوں پروانوں کو علوم آل محمد (ص) کی روشنی سے بہرہ مند کرنا۔
2۔ مادیات کے حصار سے معنوی و انسانی اقدار کی طرف عام لوگوں کی واپسی۔
3۔ اسلامی احکام و شریعت کا مکمل نفاذ۔
4۔ عادل، اسلام شناس، عالم، عوام دوست اور جامع الشرائط فقیہ کی حکومت۔
6۔ نئی نسل کی صحیح انسانی اور اسلامی تربیت۔
7۔ پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک نئے عزم و حوصلے، جذبہ ایمانی اور فکری تبدیلی سے ہمکنار کرنا۔

یہی وجہ ہے کہ آج لبنانی، فلسطینی، کشمیری اور دیگر نہتے مسلمان اپنے مسلح دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں اور اپنی آزادی و خودمختاری کی خاطر جان دینے سے دریغ نہیں کر رہے ہیں۔ انقلاب کے ان فوائد کی بناء پر ہی آج دنیا کا ہر غیر متعصب ملک اس انقلاب کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 238805
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے