0
Wednesday 13 Nov 2013 00:59

لاہور کی تاریخی عزاداری (حصہ سوئم)

لاہور کی تاریخی عزاداری (حصہ سوئم)
تحریر: سید صفدر ہمدانی
ترتیب و اضافہ: سردار تنویر حیدر

1958ء کے بعد سے اب تک اس جلوس کا راستہ یہ ہے کہ نثار حویلی سے نکلنے کے بعد محلہ چہل بیبیاں سے ہوتا ہوا محلہ شیعاں کی مسجد میں پہنچتا ہے جہاں اذان اور نماز فجر کے بعد زنجیر زنی ہوتی ہے۔ یہاں سے یہ جلوس چوہٹہ مفتی باقر، چوک مسجد وزیر خان، کشمیری بازار، ڈبی بازار، چوک رنگ محل، گمٹی بازار، پانی والا تالاب، تحصیل بازار اور بازار حکیماں سے ہوتا ہوا گامے شاہ پہنچ کر ختم ہوتا ہے۔ بازار حکیماں وہی جگہ ہے جہاں 1933ء اور 1935ء کے درمیان سر مراتب علی شاہ نے امام باڑہ سیدہ مبارک بیگم تعمیر کروایا جہاں لاہور کی قدیمی اور معروف مجالس منعقد ہوتی رہیں اور یہ سلسلہ تا دم تحریر جاری ہے۔ اسی علاقے میں کوچہ فقیر خانے میں امام باڑہ فقیر سید حسن الدین بھی معروف ہے۔ شہر کے اندر ہی اندر اس جلوس کے نکلنے کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ تین یا چار بار بہت شدید شیعہ سنی فسادات اسی جلوس کے موقع پر اندرون شہر میں ہوئے۔ 1963ء میں بھاٹی دروازے کی اونچی مسجد سے ذوالجناح پر اینٹوں کی بارش کی گئی جس سے کئی ہلاکتیں بھی ہوئیں اور لاہور شہر کی فضا کافی عرصے تک خراب رہی۔

ایک زمانہ تھا جب لاہور میں واحد ذوالجناح نوابین کا تھا لیکن پھر الف شاہیوں اور آغا شاہ زمان نے بھی ذوالجناح رکھنے شروع کئے اور اب آج دو ہزار آٹھ میں لاہور میں ساٹھ سے زیادہ ذوالجناح ہیں اور شہر میں سات محرم کو سات ذوالجناح نکلنے کی روایت بدستور قائم ہے۔ لاہور شہر کے طول و عرض میں ایک ہزار سے زیادہ مقامات پر مجالس امام حسین کا سلسلہ محرم کی پہلی شب سے شروع ہو کر چہلم امام تک جاری رہتا ہے اور اسی طرح لاہور میں کربلا گامے شاہ بھی محرم کی مجالس کا ایک مرکزی نکتہ ہے۔ موچی دروازہ میں مبارک اور نثار حویلی اور وسن پورہ کی مسجد علامہ حائری کے علاوہ ہزاروں عزاء خانوں میں سے چند نام اس طرح ہیں۔ رباط حیدریہ موچی دروازہ، حسینہ حال جس کا پرانا نام امام باڑہ تکیہ نتھے شاہ تھا، امام باڑہ ارسطو جاہ رجب، امام باڑہ سید واجد شاہ، امام باڑہ کشمیریاں، امام باڑہ شیر گڑھیاں، امام باڑہ غلام علی اور ڈپٹی غلام حسن، امام باڑہ رضا شاہ صفوی، امام باڑہ ایوب شاہ، امام باڑہ لال حویلی، امام باڑہ خواجگان نارووالی، امام باڑہ جعفر علی میر، امام باڑہ قصر سکندر، امام باڑہ غریب نینوا، امام باڑہ امیر پہلوان اور اکبر شاہ، امام باڑہ سیدے شاہ اور خواجہ علی محمد، امام باڑہ بازار حکیماں اور تکیہ میراثیاں، امام باڑہ مائی عیداں، حسین منزل، مبارک بیگم، کاشانہ رضویہ، گامے شاہ، ایرانیاں، حسینیہ پاک نگر، مرزا نتھا، ڈاکٹر ریاض علی شاہ (جہاں لاہور میں صبح کی سب سے پہلی مجلس ہوتی ہے) امام باڑہ علی مسجد، قصر حسن، مسجد نور، رشی بھون، شیخ سعادت علی، سید اظہر حسن زیدی، عطیہ اہلبیت، دربار حسینی، بھوگیوال، ریلوے بیرکس، بی بی پاک دامناں، قصر زہرہ، آغا شاہ زمان، امام باڑہ مظفر علی شمسی، حافظ کفایت حسین، کرنل فدا حسین، سجادیہ، خواجہ ذوالفقار علی، امامیہ ہال، خیمہ سادات، بیت السادات، باغ گل بیگم، قصر بتول، سید شوکت حسین رضوی، سادات منزل، گلستان زہرا، خانہ زینبیہ، نجف منزل، شاہ نجف گلبرگ، اسد بخاری، میڈم نور جہان، مراتب علی شاہ، علی رضا آباد، کلسی ہاؤس، زیدی ہاؤس، پانڈو اسٹریٹ، بلاک سیداں، بلتستانیہ، جامعہ المنتظر، سیٹھ نوازش علی، کوٹھے پنڈ، مرزا محمد عباس، مومن پورہ، باٹا پور، سید حسن عباس زیدی، وجاہت عطرے، عالم شاہ، سیدن شاہ، جیا موسٰی، کٹرہ ولی شاہ، الف شاہ دلی دروازہ، سوڈیوال، شاہ خراسان، محلہ داراشکوہ، حویلی میاں خان، لال پُل مغلپورہ اور کاشانہ شیخ دولت علی۔

لاہور میں اردو مجالس کے علاوہ فارسی، عربی، پنجابی اور کشمیری مجالس کا بھی رواج رہا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب ختم ہو چکا ہے یا پھر شاید کسی ایک جگہ پر جاری ہو۔ کشمیری مجالس کا رواج تو ابھی ستر کے عشرے کے آواخر تک خوب تھا اور کشمیری ذاکرین میں موسیٰ شاہ اور احمد علی کو بہت مقبولیت تھی۔ اسی طرح لاہور میں جن علماء نے اپنے علم و فضل کے چراغ روشن کئے ان میں مہدی خطائی، ملا ابراہیم، ملا معصوم، ملا فقیر اللہ، عماد الدین، راجو بن حامد، ابوالقاسم حائری، سید علی الحائری، شیخ عبدالعلی ہروی تہرانی، آغائے بارھوی، ارسطو جاہ سبزواری، شمس العلماء سید سردار حسن، علامہ ابن حسن نو نہروی، علامہ ہندی، سید کلب حسین، ضمیر الحسن نجفی، حافظ کفایت حسین اور لکھنؤ کے علامہ نقی عرف نقن میاں، حافظ ذوالفقار علی، مولانا اظہر حسن زیدی، فاتح ٹیکسلا مولانا بشیر، ابن حسن نجفی، مرزا یوسف حسین اور ضامن حسین، مولانا ظفر مہدی، حافظ سیف اللہ، اسمعیل دیو بندی، مرتضیٰ حسین فاضل، نصیر الاجتہادی، مفتی جعفر حسین، مولانا اختر عباس، علامہ طیب الجزائری، مولانا اکبر عباس اور افسر عباس، سید محمد جعفر زیدی، محبوب ہمدانی اور سید ظفر حسین کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اسی فہرست میں ایک نام غلام الحسنین ‘‘پنڈت نیک رام‘‘ کا ہے جنہیں سننے کی سعادت ہمیں بھی نصیب ہوئی۔ عشق شبیر کی لو کب اور کہاں بھڑک اٹھے کچھ علم نہیں ۔ اسی کا اعجاز پنڈت نیک رام تھے جو ہندو سے شیعہ ہوئے تھے اور پھر انہوں نے اپنی ساری زندگی فضائل و مصائب آل محمد بیان کرنے میں گزار دی۔

اسی طرح سے لاہور میں، ذاکرین، مرثیہ نگاروں، شعرائے اہلبیت، سلام ،سوز اور نوحہ خوانوں کی بھی ایک نہایت طویل فہرست ہے جن میں سے چند نام یہ ہیں۔ منظور حسین برا، ریاض حسین موچھ، سائیں اختر حسین، حامد علی بیلا، بشیر علی ماہی، رجب علی، سید ناصر جہان، نذر حسین، پرویز مہدی، میر ناظم حیسن ناظم، شکور بیدل، اداکار محمد علی، منظور جھلا، سید نازش رضوی، آفتاب حسین لکھنوی، فیروز علی کربلائی، مشیر کاظمی، فیروز علی کربلائی، ظہور حیدر جارچوی، کاظمی برادران، سہیل بنارسی، سید جرار حسین، سید محسن علی، امانت علی،  فتح علی، پیارے خان، حسین بخش گلو، چھوٹے غلام علی، شوکت علی، غلام علی، ڈاکٹر صفدر حسین، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، حکیم احمد شجاع، قیصر بارھوی، وحید الحسن ہاشمی، پروفیسر مسعود رضا خاکی، میر ناظم حسین ناظم، سیف زلفی، ظفر شارب، جعفر طاہر، جوش ملیح آبادی اور ایسے ہی کتنے ناموں کو بھلایا نہیں جا سکتا۔

مرثیہ تحت اللفظ کے بعد اب جیسے علماء اور جید خطبا کا عہد ختم ہو چکا ہے اور مجالس پڑھنے والوں میں کمرشل ازم کے رواج نے علمی اور فکری مجالس کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اب محرم کی مجالس میں مقبول ذاکروں، نوحہ خوانوں کی آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں اور سی ڈیز بڑی تعداد میں رواج پا گئی ہیں اور پہلی محرم سے کیبل آپریٹرز نے چند چینلوں کو دن رات کے لیے مسلسل مجالس اور نوحہ خوانی کے پروگراموں کے لیے مخصوص کر دیا ہے جو محرم کی تقریبات میں ایک نیا اضافہ ہے۔ اسی طرح ٹی وی چینل اور ایف ایم ریڈیو کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر بھی ریکارڈ شدہ مجالس کے ساتھ ساتھ براہ راست یعنی لائیو مجالس کا نشر کرنا بھی رواج پا گیا ہے۔ محرم کی مجالس کا بنیادی پہلو تو مذہبی ہے لیکن اس سے انکار نہیں کہ لاہور شہر کی تہذیبی روایات بھی اس میں گہری پیوست ہیں اور بہت بڑے پیمانے پر ہونے والی نذر نیاز اور لاکھوں لوگوں کے شہر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کےلیے ٹرانسپورٹ کے استعمال سے کاروبار کو جو فروغ ملتا ہے وہ اس کا ضمنی پہلو تو ہے لیکن کم اہم نہیں۔
خبر کا کوڈ : 318927
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے