0
Monday 1 Dec 2014 09:58

امام موسیٰ کاظم (ع) کا سیاسی طرز زندگی

امام موسیٰ کاظم (ع) کا سیاسی طرز زندگی
تحریر: فرحت حسین
Hussainfarhat604@gmail.com

جب امام موسیٰ کاظم (ع) کا نام سنا جائے یا زبان پہ جاری کیا جائے تو آپ کی عبادت و ریاضت اور قید فورا ذہن میں آ جاتی ہے جس کی وجہ سے ایک امام عابد، متقی، پرہیزگار اور قیدی ذہن میں آتا ہے جس طرح امام زین العابدین (ع) کا ذکر سن کر ایک ایسا امام ذہن میں آتا ہے جو عبادت گزار ہو جس کا مسجد و مصلٰی کے علاوہ کہیں تعلق نہ ہو وہ منبر و محراب تک محدود ہو، یہ تمام صفات امام کی اچھی اور قابل داد ہیں مگر امام کو ان ہی صفات میں محدود کر دینا یہ درست نہیں ہے یہ ظلم تو بنی امیہ اور عباس نہ کر سکے جس ظلم کو ہم کرنے کی جسارت کر رہے ہیں کیوںکہ وہ آئمہ (ع) کی ظاہری قیادت کو حکومت وقت کو بچانے کے لیے حکومت سے جدا رکھنے کی کوشش کرتے، جس وقت ان کو امام علیہ السلام کی قیادت کا حکومت وقت کو خطرہ ہوتا تو امام کو راستے سے ہٹا دیتے یا ہٹانے کی کوشش کرتے لہذٰا انہوں نے آئمہ طاہرین کی
صفات کو صرف حکومت کی خاطر چھپایا۔ بہرحال امام معصوم کی تمام صفات کا اس کالم میں ذکر نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کی فہرست طویل ہے۔ البتہ کچھ ایسی صفات ہیں جن کا نہ صرف تذکرہ نہیں ہوتا مگر کتابوں میں بھی خاص عنوانات کے ساتھ موجود نہیں بلکہ ان کو تلاش کرنا پڑتا ہے، ان میں سے ایک صفت سیاسی طرز زندگی اور دوسری صفت نسل سادات کی حفاظت کرنا اور اس نسل کی
ترویج کرنا ہے جس کے اثرات کو آج ہم حضرت ابوالقاسم الموسوی الخوئی (رہ) کے علمی کارناموں کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں اور حضرت سید روح اللہ الموسوی امام خمینی جیسی شخصیت کی صورت میں بھی دیکھ رہے ہیں، امام خمینی (رہ) بھی امام موسیٰ کاظم (ع) کی اولاد میں سے وہ شخصیت ہیں جنہوں نے
دنیائے اسلام کو ایک ایسا نظام دیا جس کے ذریعہ اسلامی دنیا کا سرفخر سے بلند ہو گیا ہے اور آج اسلامی دنیا میں حق و حقیقت کی پہچان اور علامت بن چکا ہے۔ ان دونوں صفات کو بھی یہاں تفصیل سے ذکر کرنا مشکل ہے۔ صرف امام موسیٰ کاظم (ع) کی سیاست کا تذکرہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

جس دور میں امام موسیٰ کاظم (ع) زندگی بسر کر رہے تھے وہ عباسی حکمرانوں کے ظلم و استبداد کا پہلا مرحلہ تھا انہوں نے علویوں کے نام پر قبضہ کرنے کے کچھ عرصے بعد لوگوں اور خصوصاً علویوں کے ساتھ نسبتا نرم رویہ اختیار کیا لیکن جوں ہی انہیں حکومت پر کنٹرول حاصل ہوا اور انہوں نے اپنے اقتدار کی بنیادیں مضبوط کر لیں اور دوسری طرف علویوں کی حمایت میں مختلف
تحریکیں اٹھنے لگیں جن کی وجہ سے ان پر سخت خوف و ہراس طاری ہو گیا، اس انتہائی دشوار دور میں شیعوں اور علویوں کی جانب سے عباسی خلفاء کے خلاف متعدد تحریکیں اٹھیں ان میں سے اہم ترین (ہادی عباسی کے دور حکومت میں) حسین بن علی (شہید) کی تحریک نیز ہارون کے دور میں عبداللہ کے بیٹوں یحییٰ اور ادریس کی تحریک تھی۔ درحقیقت عباسیوں کے اہم ترین رقیب علوی
تھے۔ حکومت ان پر سختی سے نظر رکھتی تھی۔ نہ صرف نظر رکھتی تھی بلکہ منصور نے بڑی تعداد میں علویوں کو شہید کیا اور ان کی ایک کثیر تعداد اس کے قیدخانوں میں موت سے ہم آغوش ہوئی۔ عباسیوں کا یہ دباؤ اس زمانے میں شروع ہوا جس سے پہلے امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہم السلام اپنے بہت سارے شاگردوں کی تربیت کر کے شیعوں کی علمی اور حدیثی بنیادوں
کو مستحکم کر چکے تھے، اور شیعوں کے درمیان ایک عظیم تحریک کی بنیاد رکھ چکے تھے۔ امام موسیٰ کاظم اس دور کے بعد دباؤ کا مرکز بنے اس کے ساتھ ساتھ آپ کی ذمہ داری یہ تھی اس علمی تحریک میں شیعوں کے درمیان فکری توازن برقرار کریں۔ عباسی حکمراں امام کی قیادت میں شیعہ نامی کسی گروہ کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ ہارون ایک سال حج کیا کرتا اور دوسرے سال جنگ کے لیے جایا کرتا تھا سن 179 ہجری جو حج پر جانے کا سال تھا وہ مدینہ آیا اور اپنے استقبال کے لیے آنے والے مدینہ کے عمائدین کے ہمراہ جن میں امام موسیٰ کاظم (ع) بھی شامل تھے روضہ رسول (ص) سے مخاطب ہو کر بولا، یا رسول اللہ (ص) اب جو کام میں کرنا چاہتا ہوں اس کے لیے آپ سے معذرت خواہ ہوں، میں موسی بن جعفر کو گرفتار کرنا چاہتا ہوں کیونکہ وہ آپ کی امت میں اختلاف ڈالنا اور ان کا خون بہانا چاہتے ہیں۔

ہارون یہ دکھاوا اس لیے کر رہا تھا کہ لوگ امام کو فرزند رسول (ص) کی حیثیت دیتے تھے اور اس دور میں امام مدینہ منورہ میں لوگوں کی توجہ کا مرکز تھے اور اسی لیے ہارون الرشید اپنی تمام تر
طاقت اور اقتدار کے باوجود اس قسم کی توجیہات کرنے پر مجبور تھا تاکہ لوگ آپ (ع) کے اس اقدام سے نفرت کا اظہار کریں اور انہیں مسترد کر دیں۔ ہارون نے اسی مسجد میں امام (ع) کو حراست میں لینے کا حکم جاری کیا اور اس نے حکم دیا کہ دو قافلے تیار کیے جائیں ایک کو کوفہ کی طرف اور دوسرے کو بصرہ کی سمت روانہ کیا جائے اس نے امام کو ان سے ایک قافلے ساتھ روانہ کر دیا اس نے ایسا اس لیے کیا تھا تا کہ لوگوں کو پتا نہ چل سکے کہ امام
کو قید کر کے کہاں رکھا جا رہا ہے۔ امام (ع) کی سیاسی بصیرت سے وقت کے حکمران بھی ڈرتے تھے۔ چونکہ آپ کی سیاسی سیرت ان کی سمجھ سے بالاتر تھی کہ آپ ایک صحابی کو حکومت وقت سے جدا رہنے کی پُرزور تلقین کرتے ہیں جیسا کہ صفوان جمال ہے اور ادھر سے انسانیت کی فلاح و بہبود اور انسانوں کے حق میں بہتری لانےکے لیے علی بن یقطین جیسے صحابی کو حکومت میں وزیر کے طور پر رہنے کے لیے مشورہ دیتے ہیں۔ اس سیاسی بصیرت کی حکومت وقت نے سزا یہ دی کہ امام علیہ السلام کو ساری زندگی قید کی صعوبتوں میں بسر کرنی پڑی۔ حکومت اس بات کو مکمل طور پر بھانپ چکی تھی کہ اگر امام کو آزاد کر دیا جائے، امام کی سیاسی بصیرت کی وجہ سے انقلاب کربلا کی طرح ایک ایسا انقلاب آ سکتا ہے، جس میں باطل یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ ہم کسی کو شکست دے رہے ہیں مگر حق و حقیقت کی فتح و کامرانی ہوتی ہے۔ یہ آپ (ع) کی سیاسی دانشمندی کا مظہر ہے جو آپ نے
سیاسی طور پر اپنا رکھی تھی۔
صحافی : ایم صادقی
خبر کا کوڈ : 422392
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب