0
Tuesday 9 Jun 2015 09:42

سعودی عرب اور منظم شدت پسندی

سعودی عرب اور منظم شدت پسندی
تحریر: سید رضا حسینی

مشرق وسطی کا خطہ ہمیشہ سے انتہائی تیز رفتار اور مسلسل سیاسی تبدیلیوں کا مرکز رہا ہے اور اس خطے میں قومی و مذہبی تنوع ہونے کے ناطے اکثر اوقات فوجی ٹکراو اور جھڑپیں معمول کی بات سمجھی جاتی ہیں۔ اسی طرح مشرق وسطی اپنی اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر نت نئے سیاسی و فوجی واقعات رونما ہونے کا مرکز بن گیا ہے۔ ان حالات میں خطے کی مستحکم اور طاقتور حکومتوں کا کردار ابھر کر سامنے آتا ہے۔ دوسری طرف مشرق وسطی کا ایک اہم ایشو خطے میں موجود "شدت پسندی" کا ہے۔ اگر ہم آج مشرق وسطی میں جنم لینے والی اسلام پسندی کا دعوی کرنے والی تحریکوں کا جائزہ لیں تو دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر گروہ اور تحریکیں شدت پسندانہ اقدامات میں ملوث ہیں۔ تحریر حاضر میں ہم مشرق وسطی میں موجود شدت پسندی کے معرض وجود میں آنے اور اس کی بقا میں سعودی حکومت کی پالیسیوں کے کردار پر روشنی ڈالیں گے۔

علم سیاسیات میں شدت پسندی کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ ہر ایسا اقدام جس کا مقصد دوسروں کو جسمانی یا روحانی اذیت پہنچانا ہو۔ شدت پسندی کی کئی اقسام ہیں۔ اس تعریف کی روشنی میں سعودی حکومت ہمیشہ سے خطے میں موجود شدت پسندی اور تناو کے فروغ، آزادی خواہ تحریکوں کو کچلنے، اسلام کا شدت پسندانہ اور غیرانسانی چہرہ متعارف کروانے اور دیگر اسلامی فرقوں کے تشخص اور موجودیت کو نظرانداز کرنے میں انتہائی بنیادی اور مرکزی کردار ادا کرتی آئی ہے۔ آل سعود رژیم کے اس کردار کو صحیح انداز میں درک کرنے کیلئے وہابی اور سلفی طرز تفکر، آل سعود حکومت کا ڈھانچہ، سعودی حکومت کی پالیسیوں اور خارجہ سیاست میں اس کے اقدامات کا بغور مطالعہ بہت ضروری ہے۔ لہذا سعودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے دو بنیادی محور درج ذیل ہیں:
1۔ سلفی اور نیو سلفی فکری محور
2۔ سماجی – سیاسی قدامت پسندی اور مصلحت اندیشی کا محور

درحقیقت یہ دو محور ایکدوسرے کی تکمیل اور توسیع کرتے ہیں۔ سلفی سوچ، سلف صالح کی طرف واپس پلٹنے کے دعوے کے ذریعے مسلمانوں اور خطے کی عوام کے خلاف شدت پسندانہ فتووں اور نسخوں کے صادر ہونے کا منبع فراہم کرتی ہے۔ 18 ویں صدی میں محمد ابن سعود اور محمد ابن عبدالوہاب کے باہمی اتحاد اور گٹھ جوڑ کے نتیجے میں آل سعود حکومت کی تشکیل کے آغاز سے ہی ہم منظم انداز میں شدت پسندی کے فروغ کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس وقت سے لے کر آج تک آل سعود رژیم کی پشت پناہی سے انجام پانے والے شدت پسندانہ اور دہشت گردانہ اقدامات کی مختلف مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ سوویت یونین کی جانب سے افغانستان پر فوجی جارحیت کے بعد پوری عرب دنیا سے مجاہدین کو افغانستان میں جمع کر دیا گیا تاکہ وہ کمیونسٹ کافروں کا مقابلہ کر سکیں۔ اس جہاد کا نتیجہ طالبان اور القاعدہ جیسے گروہوں کی پیدائش کی صورت میں ظاہر ہوا۔ سعودی حکام کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق امریکی پالیسیاں تبدیل ہونے سے قبل اسامہ بن لادن اور طالبان کی حمایت، 1980ء کی دہائی میں ایرانی حاجیوں کا قتل عام، دیگر اسلامی فرقوں کے خلاف سیٹلائٹ اور ٹی وی چینلز کی تشکیل اور ان کی مالی حمایت، دیگر اسلامی فرقوں کے تشخص اور ان کی مذہبی رسومات کے خلاف قدغن عائد کیا جانا، فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینا، اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی حمایت، گذشتہ چند سالوں کے دوران مظلوم فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی کھلی بربریت کی مذمت نہ کرنا، تکفیری سلفی گروہوں داعش، النصرہ فرنٹ وغیرہ کی مالی، اخلاقی، فکری اور لاجسٹک سپورٹ کرنا اور پھر حال ہی میں یمن کے خلاف ظالمانہ اور احمقانہ فوجی جارحیت کا ارتکاب، مذکورہ بالا دو محور کی روشنی میں ہی قابل فہم ہیں۔

اپنے مدعا کو بہتر انداز میں بیان کرنے کیلئے افغانستان پر سوویت یونین کی فوجی جارحیت کے بعد طالبان اور القاعدہ کی شکل میں اسلامی شدت پسندی جنم لینے میں مذکورہ بالا دو محوروں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ "تکفیریت" سعودی عرب کی ایک دیرینہ روایت ہے۔ بلکہ یہ کہنا بہتر ہو گا کہ آل سعود حکومت کی تشکیل اور خلافت عثمانیہ سے اس کی جدائی کی بنیاد ہی عثمانی خلیفہ اور حکام کی تکفیر پر استوار کی گئی۔ محمد بن عبدالوہاب نے عثمانی حکمرانوں کی تکفیر کے ذریعے محمد ابن سعود کے برسراقتدار آنے اور آل سعود کی حکومت تشکیل پانے کی راہ ہموار کی۔ اس بات کا واضح ثبوت "ائمہ الدعوہ النجدیہ" کے ابتدائی خطوط کا مطالعہ کرنے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ افغانستان پر سابق سوویت یونین کی فوجی جارحیت کے وقت وہابی حکومت اور علماء کا نظریہ اسلامی سرزمین سے کفار کو نکال باہر کرنے پر استوار تھا۔ دوسرے الفاظ میں سابق سوویت یونین سے مقابلے کی بنیاد تکفیر پر رکھی گئی تھی۔ البتہ آج آل سعود حکومت اس بارے میں مختلف موقف اختیار کرتی نظر آتی ہے۔ سعودی حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ تکفیری سوچ اور شدت پسند تکفیری گروہوں کی پیدائش کا منشا افغانستان تھا۔ شہزادہ ترکی فیصل کا ترجمان اور واشنگٹن میں سعودی عرب کا سفیر، جمال خشوجی ستمبر 2005ء میں سعودی چینل العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتا ہے:"سعودی عرب نے جہادی سوچ کے حامل افراد کو افغانستان بھیج کر بہت اچھا کیا۔ تمام جہادی سوچ رکھنے والے افراد 1992ء میں وطن واپس آگئے اور اس سے پہلے سعودی عرب میں کوئی تکفیری سوچ کا حامل فرد موجود نہ تھا۔"

لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ سیاسی تجزیہ کاران اور تاریخی و سیاسی محققین کی اکثریت اس بات پر متفق دکھائی دیتی ہے کہ تکفیری سوچ کی پیدائش کا حقیقی مآخذ خود سعودی عرب ہے۔ لہذا اسی طرز تفکر کی بنیاد پر جہادی سوچ رکھنے والے افراد کو افغان جہاد کے نام پر افغانستان بھیجا گیا اور اس طرح طالبان اور القاعدہ جیسی شدت پسند تکفیری تنظیموں کے معرض وجود میں آنے کی راہ ہموار کی گئی۔ ان جہادی سوچ کے حامل افراد نے حتی افغانستان سے سابق سوویت یونین کی شکست اور پسپائی کے بعد بھی اس ملک کو ترک نہ کیا۔ لیکن سعودی حکومت کی جانب سے اپنا موقف تبدیل کرنے کی حقیقی وجہ کیا ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کیلئے افغانستان پر طالبان حکومت کی تشکیل اور اس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے "دہشت گردی کے خلاف جنگ" یا War against Terror کے نعرے سے افغانستان پر فوجی حملہ کر دینے جیسے حقائق کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے۔

11 ستمبر 2001ء یا نائن الیون کے بعد امریکہ کی سربراہی میں اتحادی فورسز کی جانب سے افغانستان پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس کے بعد سعودی عرب کو اپنے اسٹریٹجک اتحادی امریکہ کے مقابلے میں ماضی جیسی عمل کی آزادی حاصل نہ رہی، خاص طور پر ایسے حالات میں جب نیویارک کے دہشت گردانہ واقعات میں سعودی شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی منظرعام پر لائے گئے تھے۔ لہذا آل سعود حکومت ان سیاسی تحفظات اور مصلحت اندیشی کے باعث ماضی کی مانند ایک اسلامی سرزمین (افغانستان) پر مغربی فوجوں کی یلغار پر ماضی جیسا موقف اپنانے سے قاصر رہی اور تکفیریت کے عقیدے کے مطابق عمل نہ کر سکی۔

ایک اور اہم نکتہ جس پر توجہ کی ضرورت ہے وہ سعودی عرب کے سیاسی سیٹ اپ میں دینی عناصر اور وہابی علماء دین کا کردار ہے۔ سعودی عرب میں موجود وہابی دینی عناصر ہمیشہ حکومتی پالیسیوں کے تابع رہے ہیں۔ انہیں عناصر نے سابق سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں جہادی اور تکفیری سوچ پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا اور انہیں دینی عناصر نے نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی سربراہی میں مغربی فوجوں کی جارحیت کے دوران قدامت پسندانہ اور مصلحت اندیشانہ سوچ پھیلانے میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ سعودی وہابی علماء دین ایک ایسی برزخ میں گرفتار ہیں جس کے ایک جانب شریعت ہے اور دوسری جانب حکومتی تقاضے اور دستورات قرار پائے ہیں۔ اب ان کا اصلی مسئلہ یہ ہے کہ کس کو کس پر ترجیح دیں؟ شریعت کو حکومت پر یا آل سعود رژیم کو شریعت پر؟ ماضی کے تجربات سے واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے وہابی مفتیوں کے نزدیک ہمیشہ آل سعود حکومت کے سیاسی مفادات اور دستورات کو دینی احکام اور شریعت پر فوقیت حاصل رہی ہے۔ وہابی مفتیوں اور علماء دین میں آل سعود حکومت اور اس کی پالیسیوں سے ہٹ کر سوچنے یا فیصلے کرنے کی ہر گز جرات نہیں۔ معروف سعودی وہابی مفتی "بن باز" جس نے افغانستان پر سابق سوویت یونین کی فوجی جارحیت کے دوران تمام مسلمانوں پر جہاد کو واجب عینی قرار دیتے ہوئے مجاہدین کو افغانستان جانے کا حکم دیا تھا اور افغانستان کی آزادی کیلئے لڑی جانے والی جنگ کو اسلامی سرزمین پر جارح قوت اور کافر حربی کے خلاف مشروع جہاد کے طور پر پیش کیا تھا، اسی اسلامی سرزمین پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی یلغار کے وقت خاموش تماشائی بن کر رہ گیا۔ ایسے فتووں کی ایک اور مثال اسی سعودی مفتی بن باز کی جانب سے سرزمین وحی یعنی حجاز میں غیرمسلم اور کفار کے داخلے کو حرام قرار دیا جانا ہے۔ لیکن جب 1990ء میں صدام حسین کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد امریکہ نے سعودی عرب میں فوجی اڈہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں امریکی فوجی اور فوجی مشیر سرزمین حجاز میں داخل ہو گئے تو بن باز نے سعودی حکومت کی جانب سے ان فوجیوں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت کو مکمل طور پر جائز قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ فیصلہ دین اور شریعت اور اس کے گذشتہ فتوے سے کوئی تضاد نہیں رکھتا۔

مذکورہ بالا مطالب سے واضح ہو جاتا ہے کہ سعودی مفتیوں اور علماء دین کے فتوے پوری طرح سے حکومتی پالیسیوں اور مفادات کے تابع ہیں لہذا آل سعود رژیم کو ایک اسلامی حکومت نہیں کہا جا سکتا۔ سعودی حکومت کی جانب سے مسئلہ فلسطین، شام میں بدامنی، اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اور روحانی باپ ہونے کے ناطے تکفیری دہشت گردی کی حمایت وغیرہ جیسے ایشوز پر اپنائی جانے والی پالیسیاں اس مدعا کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی ہمیشہ کمزور اور مہنگی رہی ہے۔ گذشتہ دو عشروں کے دوران ہم نے دیکھا کہ طالبان، القاعدہ اور دولت اسلامیہ (داعش) جیسے شدت پسند گروہ ابتدا میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ رہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب ان کی آگ خود سعودی عرب کے دامن کو چھونے لگی تو سعودی حکومت نے ان سے فاصلہ اختیار کرنا شروع کر دیا۔ داعش جو نظریاتی اعتبار سے سعودی وہابیت اور منحوس تکفیری سوچ کی پیداوار ہے، 2011ء اور 2012ء میں نہ صرف اخلاقی اور سیاسی طور پر سعودی عرب کی حمایت یافتہ رہی ہے بلکہ سعودی عرب اسے فوجی امداد بھی فراہم کرتا رہا ہے۔ آج خود سعودی عرب داعش کی لگائی ہوئی آگ کی لپیٹ میں ہے۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی بنیاد اس وقت ڈالی گئی جب سعودی عرب اور خطے کی بعض دوسری حکومتوں نے ہر قیمت پر شام میں صدر بشار اسد کی حکومت کو گرانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس مقصد کے حصول کیلئے انہوں نے داعش اور دوسرے تکفیری دہشت گرد گروہوں کی مدد کرنا شروع کر دی۔

داعش کا تجربہ اور اس سے پہلے والے تجربات (طالبان، القاعدہ وغیرہ) ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی عرب اپنے ہی پیدا کردہ تکفیری دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ان تکفیری گروہوں نے ایک طرف تو خطے کے ممالک کو نقصان پہنچایا اور سکیورٹی مشکلات پیدا کرنے کے علاوہ ہزاروں بیگناہ انسانوں کی جان لے لی اور مشرق وسطی کے مسلمانوں کی توجہ ان کے حقیقی دشمن یعنی اسرائیل سے ہٹا دی اور دوسری طرف اپنے بانی یعنی سعودی حکومت کی ساکھ کو بھی بہت نقصان پہنچایا اور امت مسلمہ میں سعودی حکومت کی حیثیت برباد کر کے رکھ دی۔ سعودی عرب کی کمزور اور بچگانہ خارجہ پالیسی کا اندازہ ان گروہوں کی تشکیل سے لگایا جا سکتا ہے اور اگر ہم یمن کے خلاف آل سعود رژیم کی حالیہ جارحیت کو مدنظر قرار دیں تو اس امر کو اور بھی آسانی سے درک کیا جا سکتا ہے۔

آل سعود رژیم کی جانب سے خطے کے مسلمانوں کے خلاف دہشت گردانہ پالیسیاں اپنائے جانے کی ایک اور وجہ سعودی حکومت کی ریڈیکل قدامت پسندی ہے جس کی بنا پر وہ ہر ایسی سیاسی تبدیلی سے خوفزدہ ہے جو اس کے کنٹرول سے باہر انجام پا رہی ہو۔ مزید وضاحت یہ کہ آل سعود رژیم کی سیاسی و سماجی ریڈیکل قدامت پسندی اس وقت تحجر میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جس طرح سعودی حکومت ملک کے اندر شیعہ مسلمانوں، خواتین اور جمہوریت پسند حلقوں کی جانب سے اپنے حقوق کی بازیابی کی خاطر اٹھنے والی ہر آواز کو طاقت کے زور سے دبا دیتی ہے، اسی طرح خطے میں جنم لینے والی ہر ایسی آزادی پسند اور جمہوری تحریک کو بھی دہشت گردانہ پالیسیوں کے ذریعے کچلنے کی کوشش کرتی ہے جو اسے اپنے سیاسی مفادات کی راہ میں رکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں جنم لینے والی اسلامی بیداری کی تحریک اس قسم کی تحریکوں کا ایک واضح نمونہ ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب سے لے کر مصر میں اخوان المسلمین کے انقلاب تک، تیونس کا انقلاب، عراق کی آزادی، بحرین کی انقلابی تحریک اور آخرکار یمن میں جنم لینے والی جمہوری اور اسلامی تحریک ان سعودی پالیسیوں کی زد میں ہیں۔ مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت سعودی عرب کو ہر گز گوارا نہ تھی کیونکہ آل سعود رژیم وہابیت سے ہٹ کر کسی بھی دینی مسلک اور سوچ کا طاقت میں آ جانے سے شدید خوفزدہ ہے۔ لہذا 6 ارب ڈالر میں مصری فوج کو خرید کر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹا دیا گیا۔

نتیجہ:
تحریر حاضر میں انتہائی مختصر انداز میں مشرق وسطی میں پائی جانے والی حال اور ماضی کی شدت پسندی میں سعودی حکومت کے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ شدت پسندی یا دوسرے الفاظ میں سعودی حکومت کی خارجہ اور حتی داخلہ پالیسیاں دو بنیاد محور پر استوار ہیں: سلفی اور نیو سلفی تکفیری سوچ اور دوسرا سیاسی و سماجی قدامت پسندی اور مصلحت اندیشی۔ اس مدعا کو ثابت کرنے کیلئے تاریخ سے مثالیں بیان کی گئیں جن میں مسئلہ افغانستان، افغان جہاد، افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی جارحیت، داعش اور دوسرے تکفیری دہشت گرد گروہوں کی تشکیل میں سعودی حکومت کا کردار اور ملک کے اندر اور خطے میں جنم لینے والی جمہوریت پسند تحریکوں کو طاقت کے زور پر کچلنے کی پالیسی شامل ہیں۔ 
خبر کا کوڈ : 465700
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے