0
Friday 18 Oct 2019 17:42

اربعین سید الشہداء، حسینت اور ہم

اربعین سید الشہداء، حسینت اور ہم
تحریر: سید نجیب الحسن زیدی

ہم سب آہستہ آہستہ اس عظیم الشان انسانی اجتماع کے لئے خود کو تیار کر رہے ہیں، جسکی نظیر  شاید اس دنیا میں ملنا مشکل ہو ، اپنی نوعیت کے اعتبار سے  اربعین سید الشہداء کا اجتماع اتنا منفرد و بے نظیر ہے کہ اسے دنیا کے کسی بھی اجتماع سے قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ کہاں لوگوں کے اندر خدمت کا یہ جذبہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ لوگ اپنے گھروں کو زائرین کے لئے چھوڑ دیں خود سختی و مشکلات میں رہیں، لیکن گھر کی ضرورت کا سارا سامان زائرین کے لئے فراہم کریں، کہاں ایسا دیکھنے  کو مل سکتا ہے کہ بڑی سے بڑی پوسٹ اور بڑے سے بڑے منصب پر فائز انسان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ زائرین حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کے سامنے سر جھکا کر کھڑا ہو جائے اور اس کے کسی کام آ سکے، کہاں یہ چیز نظر آتی ہے کہ لوگ مختلف ملک و رنگ و نسل سے ہونے کے بعد ایک ہی حسینی رنگ میں ڈھل کر شاہراہ توحید پر گامزن ہو جاتے ہیں اور دنیا و اسکے تعلقات سے ماوراء انکے پیش نظر بس یہ ہوتا ہے کہ مولا آپکی بارگاہ میں آ رہے ہیں، ہمیں  اپنے پاس بلا لو، ہمیں بندگی کے وہ گر سکھا دو کہ ہم جب واپس پلٹیں تو ایسے بندہ پروردگار ہو کر پلٹیں، ایسے تمہارے عاشق بن کر پلٹیں کہ ساری دنیا مل کر بھی ہمارے ثبات قدم میں لغزش پیدا کرنا چاہے تو نہ کرسکے۔

اربعین حضرت ابا عبداللہ الحسین محض ایک انسانی اجتماع نہیں، جو ہر سال ایک غم کی فضا میں منعقد ہوتا ہے بلکہ حسینیت کا ایک ایسا دسترخوان ہے جسکی روحانی غذا کا لوگ پورے سال انتظار کرتے ہیں، ایسی معنوی فضا جس میں لوگ مل جل کر ایک ہی مقصد کی طرف گامزن ہوتے ہیں اگر اربعین سید الشہداء کے ظرف وجودی سے استفادہ کیا جائے اور اسکی برکات کو بجا طور پر یکجا کیا جائے تو شیعت کا ایسا مضبوط قلعہ تیار ہو سکتا ہے جسکی طرف دشمن نظر بھر کے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا یوں تو آج بھی دشمن کی ہمت نہیں کہ جہاں حقیقی حسینیت پائی جاتی ہے اس طرف نظر اٹھا کر دیکھے لیکن اگر وہی طاقت جو کچھ مقامات پر ہے شیعوں کو حاصل ہے اگر پورے شیعہ معاشرے میں منتقل ہو جائے تو یقینا دشمن کی نیندیں حرام ہو سکتی ہیں، یہ اربعین کی خوشگوار فضا پوری شیعت کے لئے مسلسل نیکی و خیر کی طرف دعوت سلیقہ دیتی (1) ہے تو برائیوں سے سماج کو پاک رکھنے کے قرآنی حکم کی عملی  تصویر کو پیش کرتی ہے، اسی کے ساتھ دشمنوں کے ساتھ تعاون نہ کرنے کے قرآنی  اصول کو بھی عملی طور پر  بیان کرتی ہے۔(2)
 
شک نہیں کہ ایک دوسرے کے حق کی راہ میں ہاتھ تھامنے، لوگوں کی مدد کرنے  نیز ظلم کے خلاف لڑنے اور رب کے سامنے سر جھکانے کے سلسلہ سے اربعین سے زیادہ بہتر اجتماعی فضا کسی اور زمانے میں فراہم نہیں ہوتی ہے، یا تو یہ ماہ مبارک رمضان کی برکت کے طفیل ممکن ہوتا ہے کہ لوگوں کے وجود کے اندر بندگی  کا احساس بالعموم جاگتا ہے، یا پھر یہ ایام عزا و اربعین میں ممکن ہو پاتا ہے، ماہ مبارک میں ہم سفرہ خدا پر ہوتے ہیں اور ایام عزا و خاص کر اربعین کے موقع پر دستر خوان ِ کرم سید الشہداء پر، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، ہمددردی اور دوسروں کی مشکلوں کو حل کرنے کا یہ جذبہ جو ان خاص ایام میں پیدا ہوتا ہے اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ زندگی کے تمام ہی ایام میں یہ جذبہ مطلوب پروردگار ہے۔(3) اب ہماری کوشش یہ ہونا چاہیئے کہ جو جذبہ زندگی کے تمام لمحوں میں مطلوب رب ہے اگر کچھ خاص ایام میں پیدا ہو رہا ہے، تو کیا کچھ ایسا کریں کہ اسے محفوظ رکھا جا سکے اور اسے مزید اس طرح پروان چڑھایا جا سکے کہ کبھی فروکش نہ ہو۔ "تعاونوا علی البر والتقٰوی" کی کتنی حسین و بےنظیر مثال ہے۔

اربعین سید الشہدا کی یہ فضا جس میں ہم جی رہے ہیں، اس اربعین سید الشہداء کی معنوی فضا میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم تعاون علی الخیر کی قرآنی اصل پر بھی توجہ کریں کہ یہاں پر مراد لوگوں کی امداد و یا انکا تعاون نہیں ہے، بلکہ آیہ کریمہ میں تعاون کو مطلق طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ اب یہ تعاون چاہے کسی نیک کام میں ہو یا کسی کی امداد میں ہو کسی کی مشکل کو حل کر دینا مالی مشکلات کو دور کرنا کسی پریشانی میں کام آنا بھی نیکی و بر ہے، اور کسی کو دیندار بنانا بھی تعاون ہے، تعاون مطلوب پروردگار ہے مطلق طور پر بس شرط یہ ہے کہ یہ تعاون راہ خدا میں بر و تقٰوی کی راہ میں ہو اور کسی کے ساتھ ہماری شراکت یا ہماری جانب سے کسی کو دی جانے والی امداد اس بات کا سبب نہ بنے کہ  ظلم و سرکشی کو شہہ ملے، چونکہ تعاون کے لئے خیر و تقوٰی شرط ہے، اثم و عدوان  کے تحت کیا جانے والا تعاون ہرگز قابل قبول نہیں ہے، چاہے دنیا کی نظر میں کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو۔

اثم و عدوان کا فرق:
یوں تو گناہ و جرم کو مطلق طور پر اثم کہا جاتا ہے۔ (4) لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ اثم ایسے جرم و برائی کو کہتے ہیں جسکا اثر خود انسان تک محدود رہتا ہے اور دوسروں تک اس کے مخرب اثرات نہیں پہنچتے، جیسے شراب پینا، تارک صلاۃ ہونا وغیرہ لیکن عدوان ایسی سرکشی ہے اور ایسا گناہ ہے جسکے اثرات دوسروں تک بھی پہنچتے ہیں جیسے حقوق الناس کا ضائع کرنا وغیرہ (5) بعض دانشوروں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ دونوں ہی کے معنی ایک ہیں، لیکن اگر ساتھ ساتھ ایک ہی مقام و جگہ پر ذکر ہوں تو اثم ایک ایسے گناہ کو کہا جائے گا جس میں دوسروں کے حقوق کا تجاوز نہیں ہے، لیکن عدوان ایسا گناہ ہوگا جس میں دوسروں کے حقوق کا تجاوز شامل ہے، مثال کے طور پر کسی کو بے نماز بنانے کے لئے کوئی شخص وسائل فراہم کرتا ہے اور منصوبہ بندی کرتا ہے کہ فلاں شخص بےنمازی بن جائے تو یہ اعانہ بر اثم قرار پائے گا لیکن کوئی کسی کو لوٹنے کے لئے کسی کے ساتھ فراڈ کرنے کے لئے  منصوبہ بندی کرے اور اپنے وسائل و اختیار کا استعمال کرے تو یہ اعانہ بر عدوان  ہوگا۔ (6) 

اعانہ علی الاثم العدوان میں محض مادی وسائل کی فراہمی ہی نہیں ہے، بلکہ اگر کہیں سکوت اس بات کا سبب بن رہا ہو کہ اثم و عدان کی زیادتی ہو، لوگوں کے حقوق کو ضائع کیا جائے تو یہ سکوت بھی اعانہ علی الاثم والعداون ہوگا، چنانچہ اگرکوئی  ظالم حاکم منصب حکومت پر رہتے ہوئے لوگوں پر ظلم و ستم کو روا رکھ رہا ہے اور ناحق لوگوں کو قتل کر رہا ہے، معاشرے میں دہشت پھیلا رہا ہے اور کوئی اسکے خلاف نہیں بولتا تو یہ بھی اعانہ علی الاثم والعدوان ہے۔ جیسا کہ حضرت سید الشہداء علیھم السلام نے منزل بیضہ پر خطبہ دیتے ہوئے حر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا "اے لوگو  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں، کوئی ایسے  جابر حاکم کو دیکھے، جو حرام الٰہی کو حلال کر رہا ہو  عہد الٰہی کو توڑ رہا ہو، رسول اللہ کی سنت کی مخالفت کر رہا ہو، لوگوں میں گناہ و سرکشی  کے ساتھ عمل کر رہا ہو، پس اگر کوئی اپنے عمل اور قول سے اس کے خلاف کچھ نہ کہے تو خدا کو حق حاصل ہے اسکا ٹھکانہ بھی وہیں قرار دے جہاں اس ظالم و جابر حاکم کا ہے۔ (7) ظالم کی کسی بھی اگر کہیں بھی مدد ہوتی ہے تو یہ ایک حرام کام ہے اور فقہا نے اسے معونہ ظالمین کے تحت بیان کیا ہے اور ظالم کی مدد کی حرمت پر فتوی دیا ہے اور روایات میں ایک ظالم  کے خلاف جہاں نہ بولنے والے کی سزا بھی وہی بیان کی گئی ہے جو ایک ظالم حاکم کی ہے، وہیں ایک ظالم کی مدد کرنے والا خود بھی ظالم کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ امام رضا علیہ السلام کی حدیث میں ارشاد ہوتا ہے"جو بھی ظالم کی مدد کرے وہ ظالم ہے اور جو ظالم کو ذلیل و خوار کرے وہ عادل ہے"۔ (8)

تعاون علی الاثم والعدوان اور ایک غلط طرز فکر:
گناہ و سرکشی کی راہ میں تعاون و شرکت ہر اعتبار سے دین کی نظر میں مذموم ہے لیکن ہمارے یہاں ایک عجیب و غریب تصور پیدا ہو گیا ہے اور وہ ہے کہ اگر کہیں کہا جاتا ہے کہ آپ فلاں ظالم کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں، یا مثلا الیکشن کے وقت کہا جاتا ہے کہ فلاں کو جتوانے پر کیوں تلے ہیں، جبکہ اسکا کوئی امیج نہیں ہے کوئی شخصیت نہیں ہے، الٹا اسکا ظلم و ستم لوگوں پر آشکار ہے تو ہم میں بہت سے افراد یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم کونسا اس کے ظلم میں شریک ہیں، ہم فلاں کے ساتھ اس لئے کھڑے ہیں کہ ہم نہیں ساتھ دیں گے تو کوئی اور دیگا اور فلاں کو تو اقتدار میں آنا ہی ہے لہٰذا جب اقتدار کی کرسی پر کسی ظالم کو پہنچنا ہی ہے تو کیوں نہ ہم اسکے حمایتی بن جائیں، ہو سکتا ہے بعد میں ہمارے کام آجائے یہ ایک نہایت غلط تصور ہے اور دین ہرگز اسے قبول نہیں کرتا ہے بلکہ دین کہتا ہے اگر کوئی ظالم و جابر ہے تو اسکے خلاف آواز بلند کرو، احتجاج کرو، ایسا کچھ نہ کرو کہ اسکے ظلم پر پردہ پوشی کا سبب بن جاؤ اور کسی بھی طرح تم ظالم کی حمایت کا سبب بنے تو تمہیں بھی وہی سزا ملے گی، جو ایک ظالم و جابر حکمران کی ہوگی۔ لہٰذا ہمیں بہت ہی سوچ سمجھ کر کسی خاص پارٹی کی حمایت یا مخالفت میں سامنے آنا چاہیئے پہلے دیکھ لینا چاہیئے کہ کسی کو دی جانے والی ہماری حمایت مظلوموں کے خیمے کی کمزوری کا سبب تو نہیں، ظالم کے خیمے کی مضبوطی کا باعث تو نہیں۔

ہم حسینی ہیں اور ہمارا تعلق کربلا سے ہے تو ہمارا مزاج بھی حسینی ہونا چاہیئے۔ حسینی مزاج کا امتیاز یہ ہے کہ یہ کسی بھی دور کے یزید کے سامنے نہیں جھک سکتا، یہ مزاج سر کٹانا گوارا کرتا ہے سر جھکانا گوارا نہیں کرتا۔ ایسے میں ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے حسینی ہونے کے ناطے اپنے دور کی یزیدیت کو ہم کس قدر پہچان پا ررہے ہیں اور کس قدر یزیدیت کو سر عام ذلیل و خوار کرنے کا دم خم ہمارے وجود کے اندر ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ مصلحتوں کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے ہم ایسی منزل پر پہنچ جائیں جہاں سے ہمارا اور حسین (ع) کا فاصلہ بہت دور ہو جائے، مصلحت پسندی اچھی چیز ہے اور دین بھی اس سے نہیں روکتا لیکن کبھی کبھی ہم مصلحت پسندی کے جال میں اس طرح گرفتار ہو جاتے ہیں کہ مصلحت کی چھری سے کہیں شریعت کو ذبح کرتے ہیں اور کہیں حقیقت کا گلا کاٹتے ہیں، کیا یہ افسوس کا مقام نہیں ہے کہ مسلسل ڈیڑھ مہینے سے ہمارے وطن عزیز میں ایک خاص علاقے اور خطے کے لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے اور  لوگوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے عرصہ حیات کو ان پر تنگ کر دیا گیا ہے لیکن ہر طرف خاموشی ہے اور کوئی ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہے، کوئی بولے نہ بولے لیکن ایک حسین شناس  انسان کو تو بولنا چاہیئے۔ ایک حسینی مزاج رکھنے والے کے لئے تو ضروری ہے کہ ظلم کے خلاف احتجاج کرے ۔

ایام عزا سے اور خاص کر اربعین سید الشہداء سے بہتر اور کونسی فضا ہوگی، جس میں ہم ظالموں کو بےنقاب کر سکیں، ایام عزا سے بہتر کونسا موقع ہوگا کہ ہم حق بیانی کرتے ہوئے لوگوں تک پیغام حسینیت کو پہنچائیں، امام حسین علیہ السلام نے کربلا محض ۶۱ ہجری کے لئے تعمیر نہیں کی تھی کہ ۶۱ ہجری کے بعد اسکا ہم سے کوئی رابطہ نہ ہو بلکہ یہ کربلا اس لئے تعمیر کی تھی کہ اسکے آئینہ میں ہم ہر دور کی یزیدیت کو پہچان جائیں اور لوگوں کی شناخت پیدا کریں۔ ہزاروں نقابوں میں چھپے ہوئے ظالموں کو پہچان جائیں، انکے نقاب ظلم کو الٹ کر رکھ دیں اور لوگوں کو اچھائیوں اور خیر کی طرف بلائیں، ایک اچھے اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کی کوشش کریں اور ایک اچھا اور صحت مند معاشرہ اسی وقت وجود میں آ سکتا ہے جب ہم ان لوگوں کو معاشرہ سے باہر کا راستہ دکھائیں جو معاشرے میں ظلم و ستم کے رواج کا سبب بن رہے ہیں خود تو ظالموں کے ساتھ حشر و نشر کرتے ہی ہیں۔ ایک ظالم کے منفور چہرے کو مثبت بنا کر پیش کرنے میں بھی پیچھے نہیں رہتے، ایسے ہی تمام لوگوں سے بچ کر رہنے کی ضرورت ہے۔ امید کہ ہم حسینت کے پرچم کے زیر سایہ اس طرح سر بلند ہو کر جئیں گے کوئی بھی وقت کا یزید ہمیں نہ جھکا سکے  گا، جہاں بھی ظلم و ستم ہوگا ہم اس کے خلاف سب سے پہلے بولیں گے اور ہرگز مظلوموں کی حمایت میں کسی بھی طرح کی کوتاہی نہیں کریں کہ قرآن کریم کی دعوت ہے نیکی و خیر کی طرف ایک دوسرے کا تعاون کرو اور برائی و سرکشی کی منزل پر کسی کی ہمراہی نہ کرو  کہ اللہ کا عذاب شدید ہے۔ (9) اربعین کا یہ عظیم الشان اجتماع ہمیں دعوت دے رہا ہے کہ خیر و تقوی کی طرف مل کر آگے بڑھیں، ان لوگوں کا ساتھ دیں جو حسینی طرز عمل کے ساتھ شاہراہ حیات پر گامزن ہیں اور ان کے خلاف یکصدا اٹھ کھڑے ہوں، جو  ظلم و ستم کا شیوہ اپنا کر یزیدیت کی راہ پر گامزن ہیں۔ اگر اربعین جیسے روح پرور موقع پر بھی ہم حسینیت  کی آواز و اسکی جہت کو نہ پہچان سکے تو پھر کب پہچانیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 حواشی:
 [1] وتعاونوا علی البر والتقوی
[2]  ۔ وَلا تَعاوَنوا عَلَى الإِثمِ وَالعُدوانِ  وَاتَّقُوا اللَّهَ  إِنَّ اللَّهَ شَديدُ العِقابِ
[3] ۔اعلموا ان حوائج الناس الیکم من نعم الله علیکم فلاتملوا النعم فتتحول الی غیرکم;،مستدرک الوسائل، ج 12، ص 369 .، جان لو کہ تمہاری طرف لوگوں کی حاجتیں اللہ کی جانب سے ایک نعمت ہیں پس نعمتوں  کے سامنے سستی مت دکھاو کہ یہ دوسروں کی طرف پلٹ جائیں گی ۔
من نفس کربة مؤمن فرج الله عنه کرب الدنیا والاخرة ،  جو کسی مومن کے دل سے رنج و غم کو اٹھا دے  خدا دنیا و آخرت میں اسکے غموں کو دور کرے گا ۔ کشف الغمه، ج 2، ص 29 .
واجر للناس علی یدی الخیر ولاتمحقه بالمن ، پروردگار  لوگوں کے نیک کاموں کو میرے ذریعہ  انجام دے اور منت کی بنا  پر انہیں  انہیں ضائع نہ ہونے دے صحیفه سجادیه، دعاءنمبر 20 .
[4]  ۔ کلانتری، الیاس. لغات قرآن در تفسیر مجمع‌البیان. چاپ اوّل. تهران: انتشارات بیان.1363: 12،
[5]  ۔ تاجدینی، علی. (1382). فرهنگ جاویدان المیزان. چاپ اوّل. تهران: نشر مهاجر.
[6]  ۔ سلوک عاشورائی ، ص ۱۷
[7]  ۔أَیُّهَا النّاسُ؛ إِنَّ رَسُولَ اللّهِ(صلى الله علیه وآله) قالَ: «مَنْ رَأى سُلْطاناً جائِراً مُسْتَحِلاًّ لِحُرُمِ اللهِ، ناکِثاً لِعَهْدِ اللهِ، مُخالِفاً لِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ، یَعْمَلُ فِی عِبادِاللهِ بِالاِثْمِ وَ الْعُدْوانِ فَلَمْ یُغَیِّرْ عَلَیْهِ بِفِعْل، وَ لاَ قَوْل، کانَ حَقّاً عَلَى اللهِ أَنْ یُدْخِلَهُ مَدْخَلَهُ»
 طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۰۳.
[8]  ۔ من اعان ظالما فھوا ظالم و من خذل ظالما فھوا عادل ، بحار الانوار جلد ۹۳، ص ۲۲۱
[9]  ۔  وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ مائدہ ۲
خبر کا کوڈ : 824238
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے