0
Monday 20 Aug 2012 13:20

کامرہ چھاؤنی پر حملہ

کامرہ چھاؤنی پر حملہ
 تحریر: جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم

کامرہ چھاؤنی پاکستان کا ایک جیٹ Capable ہوائی اڈہ ہی نہیں بلکہ پاکستان کا مایہ ناز ایرونائیکل کامپلکس بھی ہے، جہاں نہ صرف پاکستان ایئرفورس کے جہازوں کی مرمت اور اپگریڈیشن ہوتی ہے بلکہ یہ پاک چین تکنیکی تعاون سے بننے والے دنیا کے ایک مانے ہوئے لڑاکا جہاز جے ایف 17تھنڈر کی اسمبلی لائن بھی ہے۔ اس بیس پر ہمارے SAAB 2000 وہ اویکس طیارے بھی موجود تھے جو پاکستان نے 2008ء میں سویڈن سے تقریباً2.5 بلین ڈالر کے خریدے۔ یہ طیارے دراصل ایسے ہوائی ریڈارز ہیں جو تقریباً 254 میل دور اڑنے والے جہازوں کی بھی نشاندہی کر دیتے ہیں۔

SAAB 2000 جہاز جب ہوا میں بلند ہو کر تقریباً 31000 فٹ سطح سمندر سے اٹھ جاتا ہے تو پھر یہ تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار مربع میل کے وسیع علاقے کو اپنے ریڈارز کی نظر میں رکھتا ہے۔ ایسے تین جہاز پورے وسطی یورپ کی فضاؤں کو مکمل اپنے ریڈاروں کی نظروں میں گرفتار کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے پاس اس وقت ایسے تین جہاز موجود ہیں، جن کو جنگی حالات میں اگر فضا میں بلند کر دیا جائے، تو وہ دشمن کی مشکوک ہوائی کارروائی کا اُن کے پاکستانی سرحدوں کے اندر داخل ہونے سے قبل پتہ لگا سکتے ہیں۔ ان AWACS طیاروں کی رفتار کوئی 654 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔
 
یوں تو کامرہ کامپلکس کے علاقہ میں دہشت گردوں نے پہلے2007ء میں بچوں کی ایک سکول بس اور بعد میں 2009ء میں چھاؤنی کے ایک بیریئر پر خودکش حملے کئے تھے، جن میں کچھ جانی نقصان بھی ہوا تھا، لیکن حالیہ حملہ مکمل تیاری کے ساتھ ایک بہت ہی سنگین گوریلا حملہ تھا، جس میں نو تربیت یافتہ دہشتگرد بلٹ پرؤف جیکٹس پہنے اور پاتھوں میں راکٹ لانچر اٹھائے شامل تھے۔ ایسے حملے کسی مذہبی تنظیم، کرائمز کرنے والے عادی مجرموں یا مذہبی جنونیوں کے کسی ٹولے کے بس کی بات نہ تھی۔ اس حملے کے پیچھے وہ بین الاقوامی پاکستان دشمن طاقتیں تھیں، جنہوں نے ان حملہ آوروں کو ایٹمی پاکستان کے نہایت قیمتی اور حساس طیاروں کی اہمیت، اُن کو پارک کرنے والے ہینگرز کی نشان دہی، گوریلوں کو اس حملے کیلئے تربیت، اُن کی مالی امداد، اُن کو بلٹ پروف جیکٹس کی فراہمی اور اسلحہ وغیرہ کی ترسیل کا مکمل بندوبست بھی کیا۔ 

ڈیورینڈ لائن کے پار یا ہماری قبائلی پٹی سے اٹھ کر جب یہ گوریلا گروپ شہروں، دیہاتوں اور شاہراہوں سے ہوتا ہوا سارے پولیس کے ناکے پھلانگتا ہوا اور ریاست کی پولیس، انٹیلی جنس بیورو، سول آرمڈ فورسز اور وزارتِ داخلہ کے سارے سکیورٹی کے نظام کو دھوکہ دیتا کامرہ چھاؤنی کی دیوار تک آ پہنچا، تو سمجھ لیں کہ ان دہشت گردوں کے سیڑھی لگا کر کامرہ چھاؤنی کی9 فٹ اونچی دیوار پھلانگنے سے پہلے ہی ہمارے ریاستی انٹیلی جنس اور سکیورٹی فیل ہوگئی۔
 
لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ حملہ شروع ہونے کے بعد جس جرات، حب الوطنی، بہادری اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ ہماری افواج پاکستان کے مجاہدوں نے کیا، اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ خصوصاً سپاہی آصف کی جرات کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے، جس نے نو دہشتگردوں کا تن تنہا مقابلہ کرکے تقریباً بیس سے پچیس منٹ اُن کی یلغار کو روکے رکھا۔ اس قیمتی وقت کے اندر ہمارے بیس کے اندر موجود ساری سکیورٹی فورس مکمل حرکت میں آگئی اور سارے حملہ آوروں کا صفایا کر دیا۔
 
سپاہی آصف نے یہ معرکہ اپنی جان کی بازی لگا کر سرانجام دیا، جس پر اسے نشان حیدر ملنا چاہیے۔ سپاہی آصف نے اپنی جوان بیوی کو بیوہ اور بچوں کے تیم ہونے کی پرواہ نہیں کی اور قومی مفاد کے تحفظ میں جان نثار کر دی۔ پھر بیس کمانڈر ایئرکموڈور اعظم نے جوابی حملے کو خود لیڈ کیا اور زخمی ہوگئے۔ یہ بھی پاکستان کی مایہ ناز اور دنیا کی مانی ہوئی بہادر فوج کی روایات کے عین مطابق تھا۔ یہ فوج ہے جس میں ہمارے آفسرز ہمیشہ اپنی سپاہ کو میدان جنگ میں عملی طور پر لیڈ کرتے ہیں۔ اس لئے پاکستان میں فوجی شہادتوں میں آفسرز ٹو ٹروپ ریشو دنیا میں تقریباً سب سے زیادہ ہے۔ 

قارئین، ایسے حملوں کے کچھ چھوٹے اور کچھ بہت بڑے مقاصد ہوسکتے ہیں۔ چھوٹے مقاصد میں تو پاکستان کی افواج کو جانی اور مالی نقصان پہنچانا شامل ہیں، لیکن بڑے مقاصد میں اس بین الاقوامی پراپیگنڈے کو تقویت دینا ہے، جس میں مغربی میڈیا اور ہنود و یہود کی لابیاں یہ چلا چلا کر کہہ رہی ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار غیر محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور ان پر دہشتگرد قابض ہو سکتے ہیں۔ اس لئے حملے کے فوراً بعد نیویارک ٹائم اخبار میں یہ بہت بڑا جھوٹ بھی چھپا کہ کامرہ میں ایٹمی ہتھیار بھی موجود تھے۔
 
قارئین، اس میں شک نہیں کہ کامرہ پر حملہ دراصل پاکستان کی ریاست اور ہماری قومی سلامتی پر حملہ تھا۔ جس کا ہماری افواج نے منہ توڑ جواب دیا۔ مغربی میڈیا ہماری افواج کی اس بہادری کا ذکر تو نہیں کرتا، جس کی وجہ سے افواج پاکستان کے غیور مجاہدوں نے دہشت گردوں کی اس خطرناک اور مزموم کوشش کو ناکام بنا دیا۔ وہ بار بار پاکستان کی غیریقینی داخلی صورت حال اور پھر ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہیں، تاکہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو چھیننے کیلئے راہ ہموار کی جا سکے۔ 

پاکستان کے P3اورین بحری جاسوس جہازوں پر کراچی کی مہران بیس پر حملہ اور SAAB 2000جہازوں پر کامرہ کامپلکس میں یلغار اور اس سے پہلے راولپنڈی جی ایچ کیو اور بعد میں اگست 2008ء میں واہ چھاؤنی کے گیٹوں پر خودکش حملے ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ ہمیں اپنے گھر کی طہارت تو ہر حالت میں کرنی ہے، لیکن ہمیں یہ بھی ضرور ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اب ایٹمی اور اسلامی پاکستان کی قومی سلامتی کے دشمن صرف سرحدوں کے اندر ہی نہیں، سرحدوں سے باہر بھی ہیں اور وہ زیادہ خطرناک اس لئے ہیں کہ اُنہوں نے پاکستان دوستی کا لبادہ بھی اوڑا ہوا ہے، جن کا مقابلہ کرنے کیلئے قومی اتحاد کی جتنی آج ضرورت ہے، اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔
خبر کا کوڈ : 188821
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب