0
Monday 21 Oct 2013 00:21

امریکی امداد کی بحالی، پاکستان کو دوبارہ استعمال کرنیکا منصوبہ؟

امریکی امداد کی بحالی، پاکستان کو دوبارہ استعمال کرنیکا منصوبہ؟
تحریر: تصور حسین شہزاد

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے دورہ امریکا کے شور و غل کے درمیان یہ نوید جانفزا ان کے امریکی سرزمین پر قدم رنجہ ہونے سے پہلے ہی سنائی دے رہی تھی کہ امریکا نے پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور بظاہر یہ فیصلہ خاموشی سے کیا گیا ہے مگر اس خاموشی کی گونج بھی چاردانگ عالم میں سنائی دے رہی ہے۔ جب سے جان کیری نے امریکی وزارت خارجہ کا چارج سنبھالا ہے، تب سے وہ امریکا و پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی شکر رنجیوں کو دور کرنے کیلئے کوشاں رہے۔ پاکستان کیلئے فوجی و اقتصادی امداد کی بحالی انہی کی کاوشوں کا ثمر ہے۔ جان کیری کی سربراہی میں کام کرنیوالے امریکی محکمہ خارجہ نے بھی کانگریس کو باور کرایا کہ دہشت گردی کی جنگ کے حوالے سے پاکستان کو امداد کی بحالی ناگزیر ہے کیونکہ 2014ء میں افغانستان سے امریکی و نیٹو افواج کے انخلاء کے حوالے سے پاکستان کے تعاون کی اشد ضرورت ہے اس لئے پاک امریکا اسٹریٹیجک تعلقات کی بحالی کا اعلان کیا گیا۔ قبل ازیں دہشت گردی کی جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کرنیوالے پاکستان کے ساتھ امریکا کے تعلقات اس وقت بگاڑ کا شکار ہو گئے تھے جب نیٹو افواج نے سلالہ چیک پوسٹ پر بلاجواز حملہ کر کے 24 پاکستانی فوجیوں کو شہید کر دیا تھا اس پر پاکستان نے امریکا سے سخت احتجاج کیا اور شدید عوامی ردعمل پر حکومت نے نیٹو افواج کی براستہ پاکستان سپلائی لائن روک دی تھی۔ مزید برآں ایبٹ آباد آپریشن میں پاکستان حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر اسامہ بن لادن کے مبینہ ٹھکانے پر حملہ کر کے اسے ہلاک کرنے کی امریکی واردات پر حکومت اور پارلیمنٹ نے سخت ردعمل دیا اور اسے پاکستان کی آزادی و خودمختاری پر کھلا حملہ قرار دیا گیا اس سے بھی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو فروغ ملا اور پھر رفتہ رفتہ دونوں ملکوں کے درمیان دوریاں بڑھتی چلی گئیں۔

جان کیری کے وزارت خارجہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکی پالیسی میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہونے لگے اور ان کی کوششوں سے طرفین میں پائی جانے والی بدگمانیاں ختم کرنے کی سبیل پیدا ہوئی اور پھر جولائی، اگست میں امریکی محکمہ خارجہ اور بین الاقوامی امداد کے ادارے کی جانب سے کانگریس کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری پیدا ہو چکی ہے اور وقت کے تقاضوں کے پیش نظر اب وہ پاکستان کو دوبارہ وسیع پیمانے پر امریکی امداد کے سلسلے کی بحالی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کانگریس کو اعتماد میں لینے کیلئے واضح کیا گیا کہ اس امداد کی بیشتر رقم پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصے کے طور پر ادا کی جائے گی۔ امریکا نے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونے کے باعث2011-12ء میں پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ میں لاجسٹک سپورٹ مہیا کرنے کے عوض وعدہ کی گئی رقم میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا اور اب بھی جو امداد بحال کئے جانے کی نوید سنائی جا رہی ہے اس میں یہ روح فرسا خبر بھی شامل ہے کہ پاکستان نے جتنا عرصہ نیٹو سپلائی معطل کئے رکھی اس دورانیے کیلئے اخراجات کی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔ یوں سات ماہ کی بندش کا ہرجانہ بھی پاکستان کو ادا کرنا پڑے گا جبکہ ملنے والی رقم بھی یک مشت پاکستان کو نہیں ملے گی اور ذرائع کے مطابق ہر تین ماہ بعد دس کروڑ ڈالر ماہانہ کی شرح سے تیس کروڑ ڈالر ادا کئے جائیں گے اور یہ بھی صرف اگلے سال یعنی دسمبر2014ء تک اس کے اتحادی امدادی فنڈ کا یہ سلسلہ بھی منقطع ہو جائے گا۔ اس کے بعد فوجی و اقتصادی امداد کی مد میں امریکا پاکستان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا اس بارے میں ابھی امریکا کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ حالیہ چند ہفتوں کے شٹ ڈاؤن کے باعث امریکا کو اربوں ڈالر کا جو نقصان ہوا ہے اس نے امریکی معیشت کی چولیں ہلا دی ہیں جو پہلے ہی عراق، افغانستان جنگ کے باعث شدید ترین دباؤ میں تھی۔

گو کہ امریکا پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ میں لاجسٹک سپورٹ مہیا کرنے کے حوالے سے اتحادی امدادی فنڈ مہیا کرنے کا پابند تھا مگر اسے پرویز مشرف کے دور میں تسلسل کے ساتھ اطلاعات مل رہی تھیں کہ سابق صدر پرویز مشرف اور ان کی حکومت کے اراکین دس سال سے زیادہ عرصے تک افغانستان اور دہشت گردی کی جنگ میں امریکا کو بے وقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کرتے رہے اور اس ضمن میں ملنے والی اربوں ڈالر کی امداد کو اپنے مقاصد کیلئے غبن کرتے رہے اور یوں اربوں ڈالر کی امریکی امداد کرپشن کی نذر ہوتی رہی۔ البتہ امداد کی بحالی ان شواہد کی روشنی میں کی جا رہی ہے جن کے مطابق پاکستان نے افغان سرحد سے ملحقہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں میں تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں کر کے دہشت گردوں کو شدید زک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ البتہ پاکستان امریکا سے بعداصرار اپنے علاقے میں امریکی ڈرونز حملوں کی بندش کا تواتر کے ساتھ مطالبہ کرتا رہا ہے۔

اب بھی لندن سے امریکا روانگی کے موقع پر وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ امریکی صدر باراک اوباما سے بدھ کے روز ہونے والی ملاقات میں پاکستان کی حدود میں امریکی ڈرونز حملوں کا معاملہ اٹھائیں گے اور ان سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ پاکستان کے اندر یہ ڈرونز حملے فوری بند کرے کیونکہ یہ حملے پاکستان کی آزادی و خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی ہیں۔ سفارتی ذرائع نوازشریف کے اس پرعزم لب و لہجہ سے یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ اب امریکا کو ڈرونز حملوں کے ضمن میں پاکستان کی شکایت پر غور کرنا ہی پڑے گا اس لئے شاید اس نے پہلے کی نسبت ڈرونز حملوں میں کمی کر کے اس سلسلے میں مثبت پیشرفت کا عندیہ دے دیا ہے۔ اگرچہ کچھ تجزیہ کار اس حوالے سے بہت زیادہ پرامید ہیں تاہم ایک طبقہ اس کے دوسرے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ دوسرے طبقے کی یہ امیدیں امریکی امداد کی بحالی کے تناظر میں بجا ہی دکھائی دیتی ہیں کیوں کہ امریکہ مفاد پرست دوست ہے جس کو جب کوئی کام نکلوانا ہوتا ہے تو پاکستان کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کیلئے امداد کا لالی پاپ دے دیتا ہے، امداد کی قسطیں بھی اس انداز میں کی جاتی ہیں کہ پاکستان ’’آلہ کار‘‘ بننے کے لئے مجبور ہو جاتا ہے۔ حالیہ امداد کی بحالی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امریکہ کسی نئے محاذ کے لئے پاکستان کو ایک بار پھر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر چکا ہے۔
خبر کا کوڈ : 312688
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش