0
Saturday 2 Nov 2013 15:14

بحرین کا عوامی انتفاضہ، مشکلات اور امکانات

بحرین کا عوامی انتفاضہ، مشکلات اور امکانات
تحریر: سید راشد احد

بحرین کی آبادی کم و بیش 12 لاکھ ہے، جہاں 70 فیصد تناسب کے ساتھ شیعہ آبادی کی اکثریت ہے۔ سال 2011ء میں تیونس اور مصر میں حکومت مخالف عوامی تحریکوں کی کامیابی کے بعد بحرین کے عوام بھی ان کی روش پر عمل کرتے ہوئے اپنے ملک کی بدعنوان شاہی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ شروع میں تو بحرینی عوام نے بہت ہی کم مطالبات کے لیے اپنی تحریک شروع کی تھی جو چند سیاسی اصلاحات اور آئینی شہنشاہیت پر مشتمل تھے۔ درحقیقت ان مطالبات میں کہیں بھی آل خلیفہ حکومت کی برطرفی کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ بحرینی عوام محض ملک کے سیاسی نظام میں اپنی شمولیت کے خواہاں تھے اور اپنے ملک کے مستقبل کو بہتر بنانا چاہتے تھے۔ آل خلیفہ حکومت کی اخلاقی و مالی بدعنوانی اور اس کی جانب سے اختیارات کا غلط استعمال حکومت کے خلاف عوام کے اٹھ کھڑے ہونے کی بنیادی وجہ تھی۔ حکومتی بدعنوانی کی واضح مثال یہ ہے کہ خلیج فارس کے اس ملک پرشاہی خاندان کا مکمل قبضہ ہے۔ اسکے 98 فی صد ساحلی علاقے آل خلیفہ کی ذاتی ملکیت خیال کیے جاتے ہیں اور جہاں بحرینیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔

ادھر چند سالوں سے بحرین جرائم پیشہ افراد کی محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ مافیا گروپوں کی جانب سے انسانی اعضاء اور خواتین کی اسمگلنگ کا کام بہت ہی منظم طریقے سے ہورہا ہے۔ اس صورتحال نے مناما کو دنیا کے اہم ترین مرکزِ جرائم میں تبدیل کردیا ہے۔ نسلی اور مذہبی تفریق و امتیاز کے پیش نظر بہت سارے مبصرین اس ملک کی صورتحال کو جنوبی افریقہ کے اپارتھیڈ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ لہذا کہا جاسکتا ہے کہ حکومت مخالف عوامی تحریک اپنی روح میں ایک طرح سے شہری حقوق کی بازیابی کی تحریک ہے۔ یہ صورتحال تھی جس میں 14 فروری 2011ء کو بحرینی عوام نے آل خلیفہ حکومت کے خلاف قیام کیا۔ بحرین میں سیاسی فعالیت کے حامل کارکنان اس دن کو ’ یوم غضب ‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور عوام کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ اجتماعی مظاہروں کے ذریعے اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کریں۔ عوام کے مطالبات کا پہلا جز سیاسی اصلاحات پر مشتمل ہے۔ یعنی وہ وزیراعظم یا اعلیٰ ترین انتظامی سربراہ کو عوام کا منتخب کردہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی بحرینی عوام ان سیاسی کارکنوں اور شیعہ علماء کی بھی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں جنہیں آل خلیفہ حکومت نے اگست 2010ء سے زندان میں قید کر رکھا ہے۔ علاوہ ازیں سیاسی سرگرمیوں کی آزادی، اظہارِ رائے کی آزادی، سیاسی پارٹیوں کی تشکیل کی آزادی اور اسی طرح کے اور کچھ دوسرے مطالبات تھے جس کے لیے بحرینی عوام نے حکومت مخالف احتجاجی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ لیکن بجائے اس کے کہ آل خلیفہ حکومت بحرینی عوام کے مطالبات پرتوجہ دیتی کہ جن کے جائز اور معقول ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، اس نے اپنی انٹیلیجنس فورسز اور میڈیا کو اس پروپیگینڈہ مہم پر لگا دیا کہ جمہوریت کے نام پر چلائی جانے والی یہ تحریک شیعوں کی تحریک ہے جو ملک کی سنی حکومت کو برطرف کرکے شیعوں کو برسرِ اقتدار لانے کی خواہاں ہے۔ اس پروپیگنڈے کا ابتداء میں یہ اثر ہوا کہ سنی اقلیت اس تحریک میں شرکت سے گریزاں رہی لیکن رفتہ رفتہ ان کے سامنے بھی آل خلیفہ حکومت کے مکر و فریب کا پردہ چاک ہونے لگا خصوصاً جب مغرب کی پٹھو اس شاہی حکومت نے سنی سیاسی کارکنوں کو بھی گرفتار کرکے زندانوں کے حوالے کرنا شروع کردیا۔ پھر تو بحرینیوں کی یہ حکومت مخالف تحریک ایک بھرپور عوامی تحریک میں تبدیل ہو گئی کہ جن میں عوام کے تمام طبقات شامل ہیں۔

اس عوامی تحریک کو دبانے کے لیے آل خلیفہ حکومت ہر قسم کے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے کام لے رہی ہے۔ حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں درجنوں بحرینی مارے جا چکے ہیں اور سینکڑوں زندان میں قید ہیں۔ علاقے کی تمام شاہی حکومتیں بحرینی عوام کے خلاف آل خلیفہ حکومت کی مدد کررہی ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت آلِ خلیفہ حکومت کی مدد کے لیے کافی پہلے بحرین میں اپنی فوج بکتر بند گاڑیوں کی بڑی تعداد کے ساتھ روانہ کرچکی ہے جو بحرینی عوام پر ذرا رحم نہیں کھاتی۔ سعودی عرب کی سربراہی میں خلیج فارس تعاون کونسل کی سیکورٹی فورسز اور آلِ خلیفہ حکومت باہم مل کر عوام پر ظلم و تشدد ڈھا رہی ہیں۔

بحرین کے معاملے میں مغرب کا دوہرا میعار بہت زیادہ آشکار ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک دنیا میں ایسی جمہوریت کے علمبردار ہونے کادعویٰ کرتے ہیں کہ جن کی بنیاد ’’ ایک شخص ایک ووٹ ‘‘ ہو۔ لیکن یہ لوگ ایسی جمہوریت کی حمایت وہیں کرتے ہیں جہاں ان کے مفادات اس کی اجازت دیتے ہوں لیکن جب بحرین میں جہاں کی اکثریت شیعوں کی ہے تو وہاں یہ آل خلیفہ کے سنی شاہی خاندان کی حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بحرین کی سنی اقلیت بھی آل خلیفہ کے خلاف چلنے والی احتجاجی تحریک میں اب شامل ہے۔

جو ملک امریکہ اور مغرب کی ماتحتی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو وہاں امریکہ کی جانب سے حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا بلا کسی ٹھوس شواہد کے بھی بہت شور مچایا جاتا ہے لیکن بحرینی حکومت جو پوری طرح امریکہ کی تابعدار ہے امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کو ایک عرصۂ دراز سے اپنے ساحل پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دے رکھی ہے۔ چونکہ امریکہ اپنے فوجی اڈے کے ذریعہ خلیج فارس میں اپنے مفادات کے حصول کو ہر ممکن طریقے سے یقینی بنانے کے درپے ہے لہذا بحرینی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی بھیانک خلاف ورزیوں کو امریکہ نظر انداز کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکہ کے لیے یہ چشم پوشی ایسی حالت میں اور بھی ناگزیر ہوجاتی ہے جبکہ بحرین کی شاہی حکومت کے صیہونی حکومت کے ساتھ بہت ہی خاص قسم کے تعلقات ہوں۔ بحرین واچ آرگنائزیشن نے ایسے دستاویزی شواہد کا انکشاف کیا ہے کہ جن سے بحرین کی وزارتِ داخلہ کے ذریعہ امریکہ اور برطانیہ سے زہریلے اشک آور گولوں اور گرینیڈز کی خریداری کے ٹینڈر کا پتہ چلا جس کا اجراء اسی سال جون میں کیا گیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت بحرینی حکومت نے 10 لاکھ 80 ہزار اشک آور گولوں، 90 ہزار اشک آور گرینیڈز اور 1 لاکھ 45 ہزار تیز روشنی کے ساتھ شدید قسم کی آواز پیدا کرنے والے گولوں کی خریداری کا سودا کیا ہے۔ بحرینی حکومت نے لوگوں کے گھروں میں ایسے گولے پھیکنے کا سلسلہ عرصۂ دراز سے شروع کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے۔ میڈیا ان مہلک شیلز اور گرینیڈز کی خریداری کے حوالے سے اس بات کو بہت شد و مد کے ساتھ بیان کر رہا ہے کہ انہیں بحرینی حکومت نے جنوبی کوریا اور جنوبی افریقہ سے خریدا ہے۔ اس سے قبل امریکی و برطانوی حکومت نے بحرینی حکومت کے ساتھ منظور شدہ ایکسپورٹ کنٹریکٹ کے تحت یہ چیزیں بحرین کو سپلائی کیا تھا۔ اب عیارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی اور برطانوی کمپنیوں نے اوور سیز دلالوں کے واسطے سے اپنے کارگوز کا راستہ تبدیل کردیا ہے۔

بحرین کی آل خلیفہ حکومت جس بھیانک انداز میں اپنے عوام کے انسانی حقوق کو پامال کررہی ہے مغربی میڈیا اس پر خاموش ہے۔ مغربی میڈیا جمہوریت کے مطالبے میں ڈھائی سال سے مسلسل جاری انتہائی پر امن عوامی تحریک کو اہمیت دینے سے انکاری ہے جبکہ عراق میں جاری دہشت گردی کو یہی مغربی میڈیا مسلسل کوریج دے رہا ہے تاکہ لوگوں کو پیغام دیا جائے کہ عراق کی حکومت ایک غیر مقبول حکومت ہے۔ بحرین کی عدالتیں مکمل طور سے شاہی حکومت کی تابع ہیں اور ان عدالتوں کے فیصلے صد فیصد شاہی حکومت کے حق میں ہوتے ہیں لیکن مغرب کو اس پر کوئی بھی پریشانی نہیں ہے۔ چند روز پہلے بحرینی عدالت نے 4 نوجوانوں کو 10 سال قید کی سزا سنائی۔ مجرموں کا اعترافِ جرم اس سزا کی بنیاد ہے جو شکنجے دے کر انہیں کرایا گیا تھا۔ الوفاق نامی اپوزیشن پارٹی کے سینیئر رہنما خلیل مرزوق کو حال ہی میں گرفتار کر لیا گیا ہے کہ جس کے بعد بحرین کی سیاسی فضا مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ فی الوقت ان پر مقدمہ چل رہا ہے لیکن یہ یقینی ہے کہ انہیں سزا ہوگی اس لیے کہ بحرین میں عدالتیں اصلاً شاہی حکومت کی وفادار ہیں۔

صحافیوں، بلاگرز، فوٹو گرافرز، شعراء، وکلاء، اساتذہ اور انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے افراد کو دہشت گردی کے جھوٹے الزام کے ساتھ جیلوں میں ڈالا جارہا ہے۔ بحرینی یوتھ سوسائٹی کے صدر محمد المسکتی پر دہشت گردی کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں تفتیش کے مرحلے سے گزارا جا رہا ہے۔ المسکتی کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ انہوں نے چند ہفتوں قبل اقوام متحدہ کی کونسل برائے حقوق انسانی جینوا میں عوام کے خلاف آل خلیفہ حکومت کے روز افزوں ظلم و تشدد کے شواہد پیش کیے تھے۔ اس کھلی victimisation پر تو مغرب کو چیخ اٹھنا چاہیے تھا لیکن مغرب نہ صرف خاموش ہے بلکہ آل خلیفہ حکومت کی در پردہ حوصلہ افزائی کررہا ہے۔

محمد المسکتی کے ساتھی ناجی فتیل، نبیل رجب اور عبد الہادی الخواجہ کو کہ جن کا عالمی سطح پر حقوقِ انسانی کے دافع ہونے کی حیثیت سے بڑا احترام پایا جاتا ہے، بحرینی حکومت نے سالوں سے جیل میں قید کر رکھا ہے۔ ان پر دہشت گردی اور بغاوت کا بالکل جھوٹا الزام حکومت کی طرف سے عائد کیا گیا ہے۔ اس وقت بحرین میں جو عورت، مرد یا بچہ آلِ خلیفہ کی غیر قانونی حکومت کی مخالفت کرتا ہے اسے فوراً دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔ یوں تو بحرینی حکومت پر امن مظاہرین کو کچلنے میں شروع سے سفاک رہی ہے لیکن اب یہ اپنے واشنگٹن اور لندن کے آقاؤں کی سرپرستی میں اپنی مطلق العنانیت کو جعلی قانونیت کا جامہ پہنانے کی کوشش میں ہے اور پروپیگنڈوں کے سہارے عوام کے جمہوری مطالبے کو یا کسی بھی مخالف آواز کو جرم و جنایت سے تعبیر کر رہی ہے۔ وحشت و بربریت پر پردہ ڈالنے کے لیے بحرینی حکمرانوں نے امریکی و برطانوی پبلک ریلیشنز میڈیا فرموں کو کروڑوں ڈالر کے عوض ٹھیکہ دے دیا ہے جن میں Bell Pottinger اور Hill & Knowlton خاص طور سے قابل ذکر ہیں جن کو آل خلیفہ حکومت نے اپنے خون سے آلودہ ہاتھوں کے داغ دھونے کی ذمہ داری سونپی ہے۔

واضح رہے کہ یہ دونوں مغربی میڈیا فرمیں disinformation کے فروغ میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتیں مغربی میڈیا عام طور سے ان جرائم کے حوالے سے اندھا اور گونگا ہوجاتا ہے جو اسکے سیاسی آقاؤ ں کے مفادات کی تکمیل کررہے ہوتے ہیں۔ یہ اپنے آقاؤں کے جرائم کو چھپانے کے لیے جھوٹی خبریں شائع کرنے سے بھی نہیں چوکتا۔ اس کی متعدد مثا لیں ماضی اور حال دونوں میں ملتی ہیں۔ ابھی گذشتہ ہفتہ ایک 17 سالہ بحرینی نوجوان جس کا نام علی خلیل السباغ تھا بحرینی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس شیعہ نوجوان کا تعلق بنی جمرہ نامی شیعہ گاؤں سے تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سادہ لباس میں ملبوس سیکورٹی فورسز نے بہت ہی قریب سے اسکی گردن پر سرِ راہ اس وقت گولی ماری جب وہ اپنے گھر کی طرف جارہا تھا اور یہ نوجوان شہید ہوگیا۔ بحرینی حکومت نے اسے فوراً ہی دہشت گرد قرار دیا تاکہ اپنی ریاستی دہشت گردی پر فی الفور پردہ ڈال سکے۔ مغرب کی دو اہم نیوز ایجنسیاں ایسوسیٹڈ پریس اور رائیٹرز سراسر دروغ گوئی سے کام لیتے ہوئے اس بھیانک واقعہ قتل کے متعلق ایک مختصر سی رپورٹ تیار کرتی ہیں جسے واشنگٹن پوسٹ اور شکاگو ٹریبیون شائع کرتے ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ علی کوئی دھماکہ خیز مواد اپنے ہاتھ میں لے جا رہا تھا کہ اس کے پھٹنے سے اس کی موت واقع ہوگئی۔

سوال یہ ہے کہ مغربی میڈیا باالخصوص مین اسٹریم میڈیا کیوں بحرین میں عوام کے خلاف انجام دیے جانے والے جرائم پر پردہ ڈال رہا ہے؟ اس سوال کا حقیقت پر مبنی جواب یہ ہے کہ امریکہ اس منطقے میں اپنے اسٹریٹیجک مفاد رکھتا ہے اس لیے کہ اس علاقے میں تیل اور قدرتی گیس کے بڑے ذخائر ہیں، خلیج فارس میں آبنائے ہرمز ہے جہاں سے دنیا کا 40 فیصد تیل گزرتا ہے۔ امریکہ کا بحرین میں پانچواں بحرینی بیڑہ ہے جو علاقے کی فوجی نگرانی پر مامور ہے۔ جہاں تک خود بحرین میں تیل اور گیس کے قدرتی ذخائر کی بات ہے تو وہاں بہت بڑے ذخائر نہیں ہے بلکہ نسبتاً چھوٹے ذخائر ہیں لیکن یہاں کی فسطائی حکومت تیل و گیس سے مالا مال خلیجِ فارس میں مغرب کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے پہلو سے بہت ہی زیادہ اہم ہے۔ مغرب کی بالادستی کا انحصار خطے میں مغرب کے حمایت یافتہ عرب حکومتوں یعنی سعودی عرب، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کی بقاء پر ہے۔

اگر خلیجِ فارس میں یہ جمہوریت دشمن حکومتیں باقی رہتی ہیں تو مغرب کو تیل اور گیس کی فراہمی فراوانی کے ساتھ جاری رہیگی نیز مغربی ممالک کی گرتی ہوئی معیشت کو عرب کی یہ فسطائی حکومتیں اپنے پیٹرو ڈالرز سے سہارا دیتی رہینگی۔ علاوہ ازیں یہ عوام دشمن عرب حکومتیں تیل اور گیس کی دولت کو اربوں اور کھربوں ڈالرز کے امریکی اور برطانوی اسلحے خرید کر اپنے گوداموں میں بھرتی رہیں گی۔ ان تمام باتوں سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان عرب ممالک کو ایران کے خلاف ایک مشترکہ فوجی محاذ میں تبدیل کر نے کے منصوبے کو عملی شکل دی جاسکے گی جس کی آزمائش یا ٹرائل کم تر سطح پر مغرب نے شام میں کیا ہے لیکن شام میں مغرب کی پالیسی بری طرح شکست سے دوچار ہونے کے بعداب یہ امکان معدوم ہوتا جارہا ہے کہ ان فسطائی عرب حکومتوں کے تعاون سے مغرب اس خطے میں کوئی کامیابی حاصل کرسکے گا۔

علاقے میں ایران ایک ایسی قوت بن کر ابھری ہے کہ اب یہ توقع کرنا فضول ہے کہ خطے میں کوئی بھی تبدیلی ایران کی مرضی کے خلاف ہوگی۔ مذکورہ عرب فسطائی حکومتوں نے اور ترکی کی اردگان حکومت نے اسرائیل کے ساتھ گہری مفاہمت کرتے ہوئے اپنی اس کوشش میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا کہ امریکہ شام پر براہ راست فوجی حملہ کردے لیکن اس کے بر عکس امریکہ کی آخری لمحوں میں ذلت آمیز پسپائی سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ایران، عراق، شام اور حزب اللہ لبنان کے متحدہ محاذ کے مقابلے میں کسی گروہ کا کامیابی حاصل کرنا ایک امر محال ہے۔ اگر مغربی ممالک کے لیے اسرائیل درد سر بن گیا ہے تو ان رجعت پسند عرب شاہی حکومتوں سے مغرب کی طوطہ چشمی بعید از امکان نہیں ہے۔ ایسی صورت میں آل خلیفہ کے خلاف بحرین کی عوامی تحریک کو حتماً کامیاب ہونا ہے۔ اس کامیابی میں ممکن ہے وقت تھوڑا مزید لگ جائے لیکن بحرینی عوام کا مستقبل انتہائی روشن ہے اور آل خلیفہ خاندان کا مستقبل انتہائی تاریک ہے۔
خبر کا کوڈ : 316827
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے