1
0
Sunday 10 Feb 2013 19:30

اسلامی انقلاب کی سالگرہ مبارک

اسلامی انقلاب کی سالگرہ مبارک
 تحریر: ڈاکٹر آر اے سید

10 فروری، 22 بہمن بروز اتوار کو ملت ایران ایک بار پھر اسلامی انقلاب کے مقاصد اور اسلامی جمہوری نظام کے اقدار کے ساتھ تجدید عہد کرنے اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کی چونتیسویں سالگرہ کا جشن پورےجوش وخروش سے منانے کے لئے پوری طرح متحد اور تیار ہے۔ وہ انقلاب جو حالیہ صدیوں کا بے مثال اور منفرد انقلاب ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ اسلام اور ایران کی تاریخ میں بھی یہ ایک لاجواب انقلاب ہے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی منفرد خصوصیات اسے دنیا میں آنے والے دیگر انقلابات سے ممتاز بنا دیتی ہيں۔ بیسویں صدی میں روس کا انقلاب آیا ہے اور اس سے پہلے اٹھارہویں صدی میں فرانس کا انقلاب آيا، مگر ان انقلابات کی بنیادیں چونکہ مادیات پر استوار تھیں اس لئے بہت جلد انہوں نے اپنا اثر کھو دیا۔ فرانس اور روس کے انقلابات کا تو خود ان ملکوں کے اندر بھی کوئی اثر دیکھنے کو نہيں ملتا۔ یہ دونوں انقلابات صرف کتابوں میں پڑھے جاسکتے ہيں۔

 فرانس کے انقلاب میں لافایٹ اور اورلئین جیسے لیڈروں نے خود کو قائد کے طور پر پیش کیا، لیکن ان میں سے کسی نے بھی انقلاب کی تحریک اور اس کی کامیابی کے بعد کے برسوں میں مکمل طور پر انقلاب فرانس کی قیادت نہيں کی، اسی طرح بیسویں صدی میں روس میں آنے والے انقلاب میں اگرچہ لینن کا چہرہ ایک لیڈر کی حیثیت سے سامنے آیا، مگر رومانوفوں کی حکومت کو گرانے میں ان کا کوئي کردار نہيں تھا۔ نہ تو روس کا انقلاب نظریاتی تھا اور نہ ہی اس کے لیڈر نظریاتی تھے، بلکہ یہ لوگ انقلاب کے بعد سامنے آئے ہيں۔ اسی طرح فرانس کے انقلاب میں بھی نظریات اور آئيڈیالوجی کا کوئی کردار نہيں تھا یہ تو کلیسا کے خلاف ایک انقلاب تھا۔

 لیکن جب ہم ایران کے اسلامی انقلاب پر نظر ڈالتے ہيں تو امام خمینی (رہ) جیسے عظیم الشان قائد اس کی قیادت کرتے ہوئے نظر آتے ہيں اور ان کی الہی شخصیت ہی ایران کے اسلامی انقلاب کو دوسرے انقلابات سے ممتاز بناتی ہے، کیونکہ امام خمینی (رہ) جیسی شخصیت کسی بھی انقلاب میں دیکھنے کو نہيں ملتی۔ ایران کا اسلامی انقلاب ایک مدبر و ذہین فقیہ اور ایک بے مثال فلسفی کی زیرقیادت چلائی جانے والی تحریک کا ثمرہ ہے، ایسے فقیہ جنھوں نے شروع سے اس انقلاب کی باگ ڈور سنبھالی اور کامیابی کے بعد اس کو ہر طرح کی گزند سے محفوظ رکھ کر آنے والی نسلوں کے سپرد کیا۔ امام خمینی (رہ) مکتب اہل بیت (ع) و قرآن کے تربیت یافتہ تھے اور انہوں نے اسلامی انقلاب کو اسلام اور اہل بیت (ع) کی تعلیمات کے ہی زیرسایہ آگے بڑھایا اور انقلاب کی کامیابی کے دس برسوں بعد تک طرح طرح کے طوفانوں اور فتنہ و سازشوں کی آندھیوں سے بچا کر اس کو آفاقی بنا دیا۔ 

روس کے انقلاب کی جب ہم بات کرتے ہيں تو جب وہ رونما ہو رہا تھا تو نہ صرف آس پاس کی حکومتوں بلکہ دنیا کی کسی بھی حکومت نے انقلابیوں کی مخالفت نہيں کی، کیونکہ اس وقت کی روسی حکومت کی جرمنوں، عثمانیوں اور جاپانیوں سے جنگوں کی وجہ سے سب نے انقلابیوں کی ہی حمایت کی اور فرانس میں بھی لوئیس شانزدھم کی آسٹریا، روس، اسپین اور دیگر ملکوں سے طولانی جنگ کی وجہ سے وہاں بھی سب نے انقلابیوں کی حمایت کی۔ مگر ایران کا اسلامی انقلاب کچھ ایسے حالات میں رونما ہوا، جب مشرق و مغرب کی تمام بڑی طاقتیں شاہ کی ظالم حکومت کی بھرپور حمایت کر رہی تھیں اور اس بات کی کوشش کر رہی تھیں کہ جیسے بھی ہو انقلاب کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے۔ چنانچہ دنیا کی تمام بڑی طاقتوں نے مل کر ایران عراق کے ڈکٹیٹر صدام کے ذریعہ غیر مساوی جنگ مسلط کرا دی، جو آٹھ سال تک جاری رہی اور اس میں بھی ایران کے جیالوں نے ہی کامیابی حاصل کی۔

 ایران کے اسلامی انقلاب کا جو سب سے اہم نعرہ تھا وہ سامراج کی مخالفت پر مبنی تھا اور اس نے اپنی پہچان ہی اس نعرے کو بنایا کہ نہ مشرق و نہ مغرب، ہم کسی بھی بلاک میں نہيں ہیں، بلکہ ہم ایک اسلامی جمہوری نظام قائم کریں گے، جو اسلامی تعلیمات پر استوار ہوگا۔ اسی لئے اس وقت اور آج بھی دنیا کے مبصرین کا یہی کہنا ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب ایسے عالم میں کامیاب ہوا، جب وہ ہر طرف سے یلغاروں کا شکار تھا اور اسلامی انقلاب نے اس وقت داخلی استبداد اور غیرملکی سامراج کی کمر توڑی جب دنیا کی کوئی بھی سیاسی طاقت ایران کے عوام کے ساتھ نہيں تھی۔
 
ملت ایران نے عدل و انصاف کے حصول اور ظلم و بدعنوانی سے رہائی نیز دین و معنویت کی حکمرانی کے لئے امام خمینی (رہ) کی قیادت میں انقلاب برپا کیا اور اپنے اس عظیم اقدام کے ذریعے علاقائی اور عالمی سطح پر سیاسی تبدیلیوں کا سرچشمہ بن گئی، ایک ایسی تبدیلی جس نے سامراجی طاقتوں کو مشتعل اور آگ بگولہ کر دیا۔ درحقیقت جیسا کہ رہبر انقلابی اسلامی حضرت آیت اللہ العظمٰی خامنہ ای نے تہران کی نماز جمعہ کے ایک خطبہ میں تاکید فرمائی تھی، اسلامی جمہوری نظام اور انقلاب کی پائیداری کا راز، ملت ایران کی استقامت ہے، جو اسلامی انقلاب کی کامیابی کی شکل میں جلوہ گر ہوئی ہے۔ ملت ایران متحد ہو کر بدعنوان طاقتوں کے سامنے ڈٹ گئی اور دنیا بھر کی قوموں کے سامنے اپنی علمی، سیاسی اور ثقافتی کامیابیوں کے درخشاں کارنامے پیش کرکے نظام ساز آئيڈیل میں تبدیل ہوگئی۔ بہت سے سیاسی اور سماجی ماہرین و محققین کا خیال ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب نے عالمی سطح پر نیز اسلامی ممالک میں مختلف معاشروں کے عوام کی سیاسی فکر کو بلند کیا اور ان کی بیداری میں موثر کردار ادا کیا ہے۔
 
اس میں کوئی شک نہيں کہ اسلامی نظام اس کے بعد ہر قسم کے دباؤ کے سامنے ڈٹ جائے گا اور امریکہ اور صیہونیزم نیز دنیا کے منہ زوروں اور سامراجوں کا ٹولہ، سیاسی، اقتصادی ہتھکنڈوں، دھمکی اور تہمت یا اپنے ایجنٹوں کی تحریکوں سے اس انقلاب کو نقصان نہيں پہنچا پائے گا۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تین عشروں کے دوران رونما ہونے والی تبدیلیوں سے ثابت ہوگیا کہ اسلامی انقلاب سے الہام پانے والی بیداری ایک ایسی مستحکم تحریک ہے، جس نے سامراج اور سیاسی طاقتوں کے ہاتھوں ہونے والی قوموں کی توہین کو مسترد کرکے دنیا کی قوموں تک حریت کا پیغام پہنچایا ہے۔

اسلامی انقلاب کی بے شمار خصوصیات ہيں، جن میں سے ایک اس کا دوٹوک اور صاف و شفاف موقف تھا۔ ایران کے اسلامی انقلاب اور امام خمینی (رہ) نے جس طاقت کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائی وہ امریکہ تھا اور دنیا کو بتا دیا کہ سب سے بڑا شیطان امریکہ ہے اور آج چونتیس برس کا عرصہ گذر جانے کے بعد ایشیاء سے لے کر یورپ اور افریقہ سے لے کر لاطینی امریکہ والے امام خمینی (رہ) کے اس قول کو عملی شکل میں دیکھ رہيں اور خود بھی اپنی زبان سے یہ کہہ رہے ہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا شیطان امریکہ ہے۔ اسلامی انقلاب نے گذشتہ چونتیس برسوں میں پوری دنیا پر اپنے اثرات مرتب کئے ہیں۔ آج لبنان، فلسطین عراق، شام اور تیونس و مصر میں اسلامی اقوام نے اسی اسلامی انقلاب سے الہام لیتے ہوئے استکباری اور سامراجی طاقتوں کو لرزہ براندام کر دیا ہے۔ آج مسلمہ امر یہ ہے کہ ملت ایران نے گذشتہ چونتیس برسوں ميں ہر طرح کے دباؤ اور سختیوں کا مقابلہ کیا ہے، تاکہ اسلامی انقلاب کے ثمرات و نتائج کی اپنے خون سے حفاظت کرسکے۔ البتہ اس استقامت کی اس نے بھاری قیمت بھی چکائی ہے۔
خبر کا کوڈ : 54270
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

دست خدا بر سر ما۔۔خامنہ ای رہبر ما!
منتخب