0
Saturday 2 Jun 2012 20:05

تاریخ امام خمینی کے کردار کو کبھی نہیں بھلا سکتی، علامہ غلام عباس رئیسی

تاریخ امام خمینی کے کردار کو کبھی نہیں بھلا سکتی، علامہ غلام عباس رئیسی
حجتہ الاسلام و المسلمین علامہ غلام عباس رئیسی کا تعلق اسکردو کے نواحی گاوں چنداہ سے ہے۔ آپ کا شمار حوزہ علمیہ قم کے معروف اساتید میں ہوتا ہے۔ آپ تقریباً پنتیس سال سے تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں، آپ پاکستان سطح کے جید علمائے کرام میں شمار کئے جاتے ہیں، آپ کے دروس لوگوں کے لئے روحانی فیض کا باعث بنتے ہیں، اس وقت آپ جامعہ عروۃ الوثقی لاہور کے مسئول ہیں۔ امام خمینی رہ کی برسی کی مناسبت سے اسلام ٹائمز کی جانب سے آپ سے لیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
 
اسلام ٹائمز: آپ نے دینی تعلیم کا آغاز کب اور کہاں سے کیا۔؟
علامہ غلام عباس رئیسی: میں پہلی دفعہ سات سال کی عمر میں اپنے بھائی کے ہمراہ نجف اشرف گیا، اس وقت امام خمینی نجف میں ہوتے تھے۔ وہاں امام خمینی کی دولت سرا پہ ملاقات بھی ہوتی تھی۔ جس طرح عام طلباء بھی امام سے ملاقات کرتے تھے اس وقت اگرچہ میں دینی طالب علم نہیں تھا، اس کے باوجود امام کی مقناطیسی شخصیت نے میرے دل میں جگہ بنالی تھی۔ ان دنوں ہمارے سارے طلباء نجف سے نکالے گئے تو اس وقت میں بھی کراچی آگیا۔ کراچی میں آکے ساڑے چار سال مدرسہ جعفریہ میں پڑھنے کے بعد 1979ء کے آخر یعنی انقلاب اسلامی کا پہلا سال تھا جو کہ کامل نہیں ہوا تھا، ایران چلا گیا۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے اس وقت ایران میں بازرگان کی حکومت مستعفی ہوگئی تھی۔ الیکشن کی تیاریاں عروج پر تھیں، امیدواروں میں بنی صدر بھی شامل تھا۔ انہی دنوں ایران میں اندرونی بغاوتیں بھی شروع ہو چکی تھیں۔ جس دن ہم زاہدان پہنچے، اس دن زاہدان میں بغاوت شروع ہوگئی، پھر قم پہنچنے کے مختصر عرصہ بعد ترکوں نے قم پر دھاوا بول دیا تھا۔ قومیت کے نام پر ایران کو توڑنے کی سازشیں عروج پر تھیں۔ الیکشن کے بعد بنی صدر جیت گیا، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس نے امام سے قربت ظاہر کرکے عوام کو گمراہ کیا اور بعد میں اس کی خیانتیں سامنے آگئیں۔ ان دنوں میری عمر اکیس سال تھی۔

اسلام ٹائمز: جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ عراق سے پاکستانی طلاب کو نکالا گیا اس کا اصل سبب کیا تھا۔؟
علامہ غلام عباس رئیسی: ظاہر ہے عراقی حکومت متعصب اور سوشلسٹ حکومت تھی اور علماء زیادہ تر نجف میں تھے۔ حکومت نجف کو توڑنا چاہتی تھی۔ ڈکٹیٹر حاکم کسی کی بھی طاقت کو برداشت نہیں کر سکتی تھی اور حوزہ یقیناً ایک طاقت تھی۔ لہٰذا صدام اور حسن بکر نے یہ فیصلہ کیا کہ نجف اشرف کو غیر عربوں سے خالی کیا جائے، کیونکہ ظاہر ہے عرب طلباء کی تعداد اتنی زیادہ نہیں تھی، بس یہی وجہ تھی۔

اسلام ٹائمز: آپ جب ایران پہنچے تو حوزہ میں کون سے معروف اساتذہ تھے جن سے آپ نے کسب فیض کیا۔؟
علامہ غلام عباس رئیسی: پاکستان سے جب ہم ایران پہنچے۔ عقائد، علم الکلام اور رسائل حوزہ کے معروف استاد آیت اللہ اعتمادی سے دروس حاصل کئے۔ کفایہ، درس اخلاق وغیرہ آیت اللہ فاضل، آیت اللہ تبریزی، آیت اللہ وحید، آیت اللہ اردبیلی، آیت اللہ محمود ہاشمی سے پڑھتے رہے اور آقائے مصباح کے موسسہ میں بھی کچھ دیر پڑھا۔ اس کے علاوہ تخصص علم کلام کے لیے حوزہ علمیہ قم کا جو ادارہ آیت اللہ آقائے سبحانی کے زیر سرپرستی میں چل رہا ہے وہاں بھی کسب فیض ہوا۔ حوزہ جانے کے بعد ہمارا قابل ذکر جو کام ہے وہ تدریس ہے، اس حوالے سے عرض کرتا چلوں 35 سالوں سے تدریس کے فرائض بھی سرانجام دے رہا ہوں۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتاتا چلوں حوزہ کے دروس میں سب سے زیادہ فقہ، اصول کے علاوہ فلسفہ، عقائد اور دیگر علوم ہوتے ہیں۔ انقلاب اسلامی کے سبب تمام اسلامی علوم کا مطالعہ بھی ضروری تھا۔ اس لیے اسلام سے مربوط تمام موضوعات کا مطالعہ کرتا تھا۔

اسلام ٹائمز: امام خمینی کو ظالم شاہ نے کن مقاصد کی حصول کے لیے عراق روانہ کیا تھا۔؟
علامہ غلام عباس رئیسی: امام خمینی کو عراق بھیجنے کا ہدف یہ تھا حوزہ علمیہ قم اس وقت حوزہ علمیہ نجف سے علمی لحاظ سے کم تر ہے، جب امام نجف جائیں گے تو وہاں بڑے علماء کے سامنے ان کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔ اس کے نتیجے میں ان کی کوئی تقلید نہیں کرے گا۔ جب علمی مقام نہ رہے تو حوزہ میں ان کا کوئی مقام نہیں رہے گا اور انقلاب کے اثرات بھی ختم ہو جائیں گے اور کچھ لوگوں کو عراق میں بھی مامور کیا، تاکہ امام کو مشکوک بنا کر پیش کریں۔ انہوں نے کوشش بھی کی کہ امام کو کم علم، فسادی اور مشکوک ظاہر کریں۔ 

حتٰی کہ علم اصول کی پہلی کتاب اگرچہ کوئی خاص علمی کتاب نہیں ’’معالم الاصول‘‘، اس کتاب کے حوالے سے کسی شخص نے کہا کہ خمینی کو چاہیے کہ اس کتاب کا مطالعہ کریں۔ لیکن دشمنوں کی ساری کوششیں ناکام ہوگئیں۔ سارے طلاب ان کو دل سے چاہتے تھے۔ خصوصاً بلتستان والے تو ان کے مرید تھے۔ اس کی اہم وجہ شاید نظریاتی بنیادوں کے سبب نہ ہو، بلکہ امام کا عدالتی پہلو ہو کیونکہ امام نے قوم و لسانیت کے فرق کو یکسر مٹا دیا تھا۔ سب کے ساتھ مساوی سلوک کرتے تھے۔ اس زمانے میں یہ پہلی مثال تھی۔

اسلام ٹائمز: امام کو عراق میں کن مشکلات کا سامنا تھا۔؟
علامہ غلام عباس رئیسی: امام کا عراق میں یہ مسئلہ تھا کہ عراق والے امام کو جانتے نہیں تھے اور عراق میں اس وقت جتنے علماء تھے، وہ پرانے استادوں کے شاگرد تھے، وہ آپ کو جانتے نہیں تھے۔ اس وجہ سے آپ کے مقلدین بھی نہیں تھے۔ اس بنا پر انقلابی تحریک نہیں چلا سکتے تھے۔ اس کے علاوہ ہر سطح پہ آپ کو مخالفتوں کا سامنا تھا۔ کچھ علماء نقل کرتے ہیں کہ اس وقت کے ایک عظیم مجتہد آیت اللہ حکیم تھے اور بعید نہیں ان کا یہ نظریہ نہ ہو۔ جب امام نے فرمایا کہ میں نے امام حسین ع کی سیرت پر عمل کیا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس صلح حسن بھی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے لیکن سیاسی بصیرت چاہیے، سمجھنے کیلیے کہ یہ وقت صلح حسن کا ہے یا قیام حسینی کا۔ 

اس قسم کی مشکلات امام خمینی کو درپیش تھیں۔ ان دنوں حوزہ والے ولایت فقیہ پر بحث ہی نہیں کرتے تھے، اگر کرتے بھی تو اس حوالے سے سے کہ یتیموں پر، بیواؤں پر، پاگلوں پر، ان کی ولایت ہے یا نہیں؟ ایسے ابحاث میں الجھ کر رہ جاتے تھے۔ عجیب بات ہے ایک جگہ ایک ڈاکٹر کی ضرورت ہو، تو واجب ہے وہاں یہ کام کرنا جسے واجب کفائی کہا جاتا ہے۔ لیکن حکومت تو ضرورت اسلامی ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر معاشرہ چل ہی نہیں سکتا۔ عجیب بات ہے ایک ڈاکٹر اور ایک انجینئر تو ضروری ہو، لیکن حکومت اسلامی ضروری نہ ہو، حالانکہ یہ مادری حیثیت رکھتا ہے۔

اسلام ٹائمز: انقلاب ایران کے وقت امام کی حکمت عملی کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ غلام عباس رئیسی: ایران میں انقلاب اسلامی کے لیے امام کی حکمت عملیوں کے بارے میں امام کی سب سے اہم صفت خدائی پہلو ہے۔ دوست دشمن سب اس پر متفق ہے۔ دوسرے یہ کہ سارے ایرانی سمجھتے تھے کہ آپ مخلص ہیں۔ ساتھ دینے کے لیے قوم آمادہ تھی۔ اپنے قائد پر مکمل اعتماد کرتے تھے اور اپنے امور کو فرض سمجھ کر انجام دیتے تھے، باقی اللہ پر توکل کرتے تھے۔ جو سمجھ میں آجائے ان پر عمل پیرا ہوتے تھے۔ امام کے بقول چند مواقع پر ایسے اقدامات اٹھائے جس کا نتیجہ نقصان تھا لیکن خدا نے ان میں ایسی کامیابی عطا کی کہ لوگ سوچتے رہ گئے۔ یعنی ان مواقع پر امداد غیبی بھی ہوتی تھی، جیسا کہ واقعہ طبس ہے، اس کے علاوہ جنگ کے دوران بھی امداد غیبی شامل حال رہی ہے، لیکن مہم مسئلہ یہ ہے امام کا خدا پر ایمان اور لوگوں کا ان پر مکمل اعتماد تھا، اسی نے کامیابی دلائی۔

اسلام ٹائمز: امام خمینی کے ساتھ آپ کا رابطہ کن بنیادوں پر قائم تھا۔؟
علامہ غلام عباس رئیسی: امام کے ساتھ میرا رابطہ دو بنیادوں پر قائم تھا ایک آپ کے تقویٰ اور دوسرے آپ کے انقلابی افکار۔ اس وجہ سے امام سے خصوصی لگاؤ تھا اور یہ کہ آپ پہلے فقیہہ ہیں جنہوں نے حکومت اسلامی کے حوالے سے عملاً کام کیا۔ آپ کی آواز اسلام کی آواز تھی۔ اس حوالے سے ظاہر ہے کہ جتنا دین سے لگاؤ ہو، انسان کو اتنا امام سے لگاؤ ہوتا ہے۔ جیسا کہ شہید باقر الصدر نے فرمایا تھا کہ امام خمینی میں اس طرح ضم ہو جاؤ، جس طرح وہ اسلام میں ضم ہوگئے تھے اور قرآن میں بھی ہے کہ خدا لوگوں کے دلوں میں متقی کی محبت ڈال دیتا ہے۔

اسلام ٹائمز: امام خمینی کی شخصیت کے کس پہلو نے آپ کو متاثر کیا۔؟
علامہ غلام عباس رئیسی: امام کی مرجعیت کے علاوہ جس صفت میں آپ ممتاز مقام رکھتا ہیں، وہ آپ کا بے مثال تقویٰ، بصیرت اور حکومت اسلامی کے لیے کوشش ہے۔ لہذا تاریخ امام خمینی کے کردار کو کبھی نہیں بھلا سکتی۔ مثلا جنگ کے دنوں امام کا ایک جملہ میرے لیے نہایت پرکشش جملہ تھا۔ وہ یہ کہ امام نے فرمایا میں زہر کا پیالہ پیوں گا۔ امام اور بھی باتیں کرسکتے تھے کہہ سکتے ہم یہ ہوئے ہم وہ ہوئے وغیرہ لیکن امام عین حقیقت بتا رہے تھے کہ فتح کے ساتھ قربانی دینا زہر کا پیالہ پینے کے مترادف تھا۔ 

عام سیاست دانوں کی طرح اپنی ہر ناکامی کو کامیابی قرار نہیں دیا۔ یہ ان کی روحانی عظمت کی دلیل ہے، اسی طرح جب عراق نے حملہ شروع کیا، عراق نے ایران کے 12000 مربع زمین پر قبضہ کیا تھا اور خرم شہر میں بھی جنگ جاری تھی، کافی قربانی کے بعد جب خرم شہر آزاد ہوا تو امام خمینی نے فرمایا کہ خرم شہر کو ہم نے نہیں خدا نے آزاد کیا ہے۔ اسی طرح جب امام پیرس سے تشریف لائے۔ جہاز سے اترے، اس وقت شاہ شہر سے فرار کر چکا تھا۔ ایک صحافی نے آپ کے احساسات کے متعلق سوال کیا تو آپ نے کمال بے نیازی کے ساتھ فرمایا ’’ہیچ ‘‘ عجیب مقام تھا امام کا۔

اسلام ٹائمز: امام کی وفات کے وقت آپ کے احساسات کیا تھے اور عوام کے جذبات کے بارے میں آپ کیا فرمانا چاہیں گے۔؟
علامہ غلام عباس رئیسی: حقیقت یہ ہے کہ ہم سب ہمیشہ پریشان رہتے تھے، امام کی شخصیت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ ہوسکتا ہے پیغمبر کے بعد سقیفہ والی صورتحال بن جائے اور اسلام حملہ سے دوچار ہو جائے اور توقع بھی یہی تھی کہ امام انہی دنوں میں دنیا سے کوچ کر جائینگے۔ لیکن زیادہ خوف اس حوالے سے تھا کہ امام کا جانشین کیا سنبھال سکے گا کہ نہیں۔ وہ بھی اس عظیم ذمہ داری کو جب پوری دنیا دشمن ہو۔ اندر بھی منافق ہے اور باہر کفار و مشرکین۔ جب آپ وفات پاگئے تو فوری طور پر خبرگان کا اجلاس طلب کرلیا گیا، جس میں متفقہ طور پر رہبر معظم سید علی خامنہ ای کو منتخب کیا گیا، اگرچہ آپ راضی نہ تھے۔ تشیع جنازہ رہبر کی قیادت میں ہوئی۔

جنازہ کے وقت جب ہم بہشت زہراء گئے اس وقت ہم جوان تھے، جنازہ میں تقریباً 40 کلومیٹر پر محیط لوگ تھے۔ ہم چلنے کے عادی نہیں تھے اور زیادہ چلنے کے سبب گرے جا رہے تھے، لیکن اس سے زیادہ مسافت طے کرکے ایران کی خواتین کی کثیر تعداد گودوں میں بچے لئے شریک تھیں۔ پورا ایران عاشورا کا منظر پیش کر رہا تھا، ہر کوئی نوحہ کناں تھے۔ جنازہ میں متوقع خدشات کے پیش نظر ہیلی کاپٹر کو تین مرتبہ لائے اور آپ کی لاش کو آخر کار سپاہوں کی محافظت میں اتارا گیا۔ زیارت کے لیے لوگ تڑپ رہے تھے۔ یہ عجیب عشق کا عالم تھا اور واقعاً ہر کسی کو آپ سے حقیقی عشق تھا۔
خبر کا کوڈ : 167445
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب