0
Tuesday 14 Oct 2014 23:20
ایک باپ اپنی اولاد کی پٹائی تو کرتا ہے لیکن کبھی اسے جان سے نہیں مارتا

داعش امریکہ اور اسرائیل کی اولاد ہے جسکا اصل ہدف اسلامی مزاحمتی بلاک کو کمزور کرنا ہے، ڈاکٹر ھیثم صقور

داعش امریکہ اور اسرائیل کی اولاد ہے جسکا اصل ہدف اسلامی مزاحمتی بلاک کو کمزور کرنا ہے، ڈاکٹر ھیثم صقور
اسلام ٹائمز۔ امریکہ نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے بارے میں دوغلی پالیسیاں اپنا رکھی ہیں۔ اکثر سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکہ اس گروہ کو ختم کرنا نہیں چاہتا۔ حال ہی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے امریکہ کی سربراہی میں تشکیل پانے والے داعش مخالف اتحاد کے بارے میں کہا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی داعش کے خلاف کوئی موثر اقدام انجام دینا نہیں چاہتے، بلکہ وہ خود اچھی طرح جانتے ہیں کہ عراق میں جس نے داعش کو شکست دی وہ عوام اور مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمٰی سیستانی کا فتویٰ تھا۔ ماضی میں بھی امریکہ نے شام کے خلاف ایک بین الاقوامی اتحاد تشکیل دیا تھا لیکن وہ شام حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ 
 
ڈاکٹر ھیثم صقور یورپ میں مقیم ہیں۔ ان کا تعلق شام سے ہے اور وہ شام میں قومی مفاہمتی عمل کے انتہائی سرگرم رکن ہیں۔ وہ بلغاریہ میں ایک تحقیقاتی مرکز کے سربراہ ہیں۔ ان سے خطے کی موجودہ صورتحال خاص طور پر تکفیری دہشت گرد گروہ داعش اور اس کے خلاف بننے والے بین الاقوامی محاذ کے بارے میں بات چیت کی گئی ہے، جو اسلام ٹائمز اردو کے قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ 
 
سوال: جیسا کہ آپ جانتے ہیں امریکہ اور اسکے مغربی اور عرب اتحادی ممالک نے حال ہی میں دہشتگرد گروہ "داعش" سے مقابلے کے بہانے ایک فوجی اتحاد تشکیل دیا ہے۔ آپکی نظر میں اس اتحاد کے اصل اہداف کیا ہیں۔؟
ڈاکٹر ھیثم صقور: اس میں کوئی شک نہیں کہ داعش مخالف اتحاد کو تشکیل دینے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا اصل مقصد اسلامی مزاحمتی بلاک کو کمزور کرنا ہے۔ میں یہ بات یورپی میڈیا کا بغور جائزہ لینے اور ان کا دقیق مطالعہ کرنے کے بعد کر رہا ہوں۔ جیسا کہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یورپی ذرائع ابلاغ مکمل طور پر صہیونی لابی کے زیر اثر ہیں۔ یورپ کے بعض پرائیویٹ ذرائع ابلاغ سے شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق امریکہ کی سربراہی میں تشکیل پانے والے حالیہ داعش مخالف اتحاد کا اصل مقصد داعش کی نابودی نہیں کیونکہ دنیا کا کوئی باپ اپنے بیٹے کو جان سے مارنے کی کوشش نہیں کرتا اور کوئی ایسا بھائی نہیں جو اپنے بھائی کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ داعش امریکہ اور اسرائیل کی اولاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیرس میں تشکیل پانے والے اس داعش مخالف اتحاد کا اصل مقصد اسلامی مزاحمتی بلاک کو کمزور کرنا ہے۔ اسلامی مزاحمتی بلاک میں شام، عراق، ایران، حزب اللہ لبنان شامل ہیں اور انہیں روس، چین اور برکس (BRICS) کے رکن ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ لہذا اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای کا بیان عین حقیقت ہے۔ انہوں نے حقیقت کو بیان کیا ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ امریکہ کی سربراہی میں تشکیل پانے والا یہ اتحاد ایک شیطانی اتحاد ہے، جس کا اصل مقصد داعش کی نابودی نہیں۔ 
 
سوال: آپ نے کہا کہ امریکہ کی سربراہی میں تشکیل پانے والے داعش مخالف اتحاد کا اصل مقصد اسلامی مزاحمتی بلاک کو کمزور کرنا ہے، کیا آپ کے پاس اس دعوے کی کوئی دلیل بھی ہے۔؟
ڈاکٹر ھیثم صقور: جی ہاں۔ یہ ممالک شام میں خانہ جنگی کے آغاز سے کئی سال پہلے سے ہی خطے میں موجود اسلامی مزاحمتی بلاک کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف تھے۔ ان سازشوں کا مقصد اس بلاک کو ختم کرنا یا کمزور کرنا تھا۔ وہ شام کی مسلح افواج کو نابود کرنا چاہتے تھے۔ اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ شام کو توڑ کر تقسیم کر ڈالتے۔ انہوں نے گذشتہ چند سالوں کے دوران شام کو توڑنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ لیکن یہ تمام سازشیں ناکام ہوئیں اور وہ اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کا شکار ہوئے، بلکہ شام کی مسلح افواج پہلے سے زیادہ مضبوط ہوچکی ہیں۔ شام کی مسلح افواج کو ایران کی حمایت حاصل ہے اور ہم اس ضمن میں ایران اور دوسرے دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ شام کی مسلح افواج اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہیں، جسکے نتیجے میں شام اپنے پاوں پر کھڑا ہے اور بحرانی صورتحال سے عبور کرچکا ہے۔ جب امریکہ، اسرائیل اور مغربی طاقتوں نے دیکھا کہ ان کی تمام سازشیں ناکام ہوگئی ہیں تو انہوں نے داعش کی نابودی کے بہانے نیا فوجی اتحاد تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ اتحاد درحقیقت ایک شیطانی اتحاد ہے۔ شام اور عراق اسلامی مزاحمتی بلاک میں شامل دو بڑے ملک ہیں۔ داعش مخالف اتحاد نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز عراق سے کیا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کا اصل ہدف شام اور شام کی مسلح افواج ہیں اور اگر انہوں نے دیکھا کہ وہ ایران کے خلاف بھی اقدام کرسکتے ہیں تو اس سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ میرے دعوے کی بہترین دلیل حال ہی میں ایرانی حدود میں داخل ہونے والا اسرائیل کا بغیر پائلٹ ڈرون طیارہ ہے جو ایران کی جوہری تنصیبات کی جانب رواں دواں تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ خطے کے بعض اسلامی ممالک بھی امریکہ کی اس شیطانی سازش کا حصہ ہیں اور وہ امریکہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ انہیں اسلامی ممالک نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی مالی اور فوجی مدد کی ہے جو انتہائی غیرانسانی اور اخلاق سے گرا ہوا فعل ہے۔ وہ قدیم ثقافت اور تاریخ کے حامل ملک شام کو نابود کر دینا چاہتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شام کی مسلح افواج اسلامی مزاحمتی بلاک کا حصہ ہیں اور اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ڈٹی ہوئی ہیں۔ شام کے عوام ایران کی حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کے شکرگزار ہیں۔ 
 
سوال: آپکی نظر میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں کیجانب سے داعش مخالف اتحاد تشکیل دینے کی کیا وجوہات ہیں؟ اور یہ بھی بتائیں کہ امریکی سربراہی میں یہ اتحاد داعش کو ختم کرنے میں کس حد تک سنجیدہ ہے۔؟
ڈاکٹر ھیثم صقور: اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ جب داعش نے عراق کے کرد نشین علاقے اربیل پر حملہ کیا تو امریکہ اور مغربی ممالک پریشان ہوگئے کیونکہ اس علاقے میں ان کے مفادات ہیں اور انہیں اپنے مفادات خطرے میں پڑتے ہوئے نظر آئے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ داعش کا مکمل خاتمہ نہیں چاہتے۔ لہذا اس کے خلاف اتحاد بنا کر میدان میں اتر آئے، تاکہ اسے نابودی سے بچا سکیں۔ آپ دیکھیں کہ اب تک امریکی جنگی طیارے تقریباً 130 بار داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرچکے ہیں جبکہ 2003ء کی خلیجی جنگ میں عراقی جنگی طیارے ہر روز 1000 ہوائی حملے انجام دیتے تھے۔ لہذا انتہائی واضح ہے کہ وہ داعش کو ختم کرنا نہیں چاہتے۔ عراق پر امریکی سربراہی میں تشکیل پانے والے اتحاد کے ہوائی حملوں کے بعد داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر شام بھاگ گئے ہیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک بھی یہی چاہتے تھے۔ ترکی نے اعلان کیا ہے کہ جب تک شام میں صدر بشار الاسد برسراقتدار ہیں وہ داعش مخالف اتحاد میں شامل نہیں ہوگا۔ ترک حکام کو جان لینا چاہئے کہ ان کی مرضی کے برخلاف صدر بشار الاسد حکومت پر باقی رہیں گے۔ بشار الاسد اسلامی مزاحمتی بلاک کا حصہ ہیں اور یہ بلاک کبھی بھی ختم نہیں ہوگا۔ یہ بلاک فلسطین کی آزادی کیلئے بنا ہے اور انشاءاللہ فلسطین کی آزادی تک باقی رہے گا۔ 
 
سوال: آپ نے کہا کہ امریکی سربراہی میں داعش مخالف اتحاد کیجانب سے عراق پر ہوائی حملوں کا مقصد تکفیری دہشتگردوں کو شام کی جانب بھگانا تھا، آپکی نظر میں ان کا شام کیجانب بھاگ جانے کے بعد اس اتحاد کا اگلا قدم کیا ہوگا۔؟
ڈاکٹر ھیثم صقور: میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر واقعاً ان کا مقصد داعش کو ختم کرنا ہے تو وہ دنیا کے مختلف حصوں سے مسلح دہشت گرد عناصر کی شام اور عراق آمد کو کیوں نہیں روکتے؟ داعش سے وابستہ تکفیری دہشت گرد عناصر اردن، لبنان اور ترکی سے مسلسل عراق اور شام میں داخل ہو رہے ہیں۔ ترکی اور شام کے درمیان 38 کلومیٹر لمبی مشترکہ سرحدی پٹی ہے۔ مجھے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ شام سے ملحقہ ترکی کے سرحدی علاقوں میں داعش کے دہشت گردوں کو فوجی ٹریننگ کیلئے باقاعدہ مراکز اور کیمپس موجود ہیں۔ ترکی کے سرحدی قصبے "ریحانیہ" سے لے کر شام کی سرحد تک کئی صحرائی اسپتال بنائے گئے ہیں، جہاں داعش سے وابستہ زخمی ہونے والے دہشت گردوں کا علاج معالجہ کیا جاتا ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھا ہے۔ اگر وہ واقعی داعش کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو مسلح دہشت گردوں کو ترکی میں داخل ہونے سے روکیں۔ اس وقت بھی پوری دنیا سے یہ دہشت گرد ترکی آ رہے ہیں اور وہاں فوجی ٹریننگ لینے کے بعد انہیں اسلحہ دیا جاتا ہے اور وہ شام میں گھس جاتے ہیں۔ یہ سارا کام خطے کے بعض ممالک کی مالی مدد اور امریکہ، اسرائیل اور ترکی کی انٹیلی جنس ایجنسیز کے ذریعے انجام پا رہا ہے۔ 
 
سوال: سیاسی ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر امریکہ داعش کو ختم کرنے میں مخلص ہے تو پھر اس وقت داعش کیخلاف کوئی اقدام نہیں کیا جب وہ شام میں سرگرم عمل تھی اور شام حکومت کیخلاف لڑ رہی تھی۔؟
ڈاکٹر ھیثم صقور: جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ ایک باپ کبھی بھی اپنے بیٹے کو جان سے نہیں مارتا۔ ایک باپ اپنے بیٹے کی پٹائی تو کر سکتا ہے لیکن کبھی بھی اسے قتل نہیں کرسکتا۔ امریکہ اور اسرائیل نے خطے میں داعش کی بنیاد رکھی ہے اور اس کا مقصد شام اور عراق کی مسلح افواج کو اس کے ساتھ الجھانا تھا۔ وہ اس گروہ کو ختم کرنا نہیں چاہتے۔ امریکہ اور مغربی ممالک نے اعلان کیا ہے کہ داعش کے خلاف جنگ لمبی مدت کی جنگ ہوگی اور اس دوران وہ خطے میں اپنی فوجیں موجود رکھیں گے۔ اس سے پہلے بھی ایسی رپورٹس ملی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے بھاری مقدار میں اسلحہ ترکی منتقل کیا ہے۔ یہ اسلحہ موصل میں تکفیری دہشت گرد عناصر کے زیر استعمال رہا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ترکی سے عراق میں تکفیری دہشت گرد عناصر کو یہ اسلحہ کس نے پہنچایا؟ اس سوال کا جواب قابل غور ہے۔ 
 
سوال: امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی مزاحمتی بلاک کو کون سی حکمت عملی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہئیں۔؟
ڈاکٹر ھیثم صقور: ہمیں خداوند متعال کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اس بلاک کے رہنما انتہائی آگاہ اور ہوشیار ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس وقت کون سا اقدام انجام دیں۔ میری بات کا واضح ثبوت حال ہی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای کی جانب سے داعش مخالف اتحاد کے بارے میں موقف اختیار کیا جانا ہے۔ امریکی سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری اقدامات واضح ہیں۔ خداوند متعال سورہ انفال کی آیت 60 میں فرماتا ہے:
وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدْوَّ اللّهِ وَعَدُوَّکُمْ۔ 
لہذا میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی مزاحمتی بلاک میں شامل ممالک اور گروہوں کو اپنی مسلح افواج کی طاقت میں اضافہ کرنا چاہئے اور آپس میں متحد ہو کر ان سازشوں کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ مستقبل میں زیادہ خطرناک سازشوں اور حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 
خبر کا کوڈ : 414637
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب