0
Saturday 19 Nov 2011 01:04

بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینا کشمیریوں کی جدوجہد اور قربانیوں کی توہین ہے، میاں محمد اسلم

بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینا کشمیریوں کی جدوجہد اور قربانیوں کی توہین ہے، میاں محمد اسلم
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد میاں محمد اسلم نے کہا ہے کہ بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینا کشمیریوں کی جدو جہد آزادی اور قربانیوں کی توہین ہے حکمران فیصلے کرتے ہوئے شکم کے بجائے دل و دماغ سے فیصلے کریں، انہوں نے کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی دباؤ کے آگے بے بس حکمران ملک وقوم کی تقدیر سے کھیل رہے ہیں، ایسے وقت میں جبکہ بھارت میں بھی کشمیریوں کے حق میں آوازیں بلند ہورہی ہیں جسکی تازہ مثال بھارتی دانشور ارون دھتی کا کشمیری مظالم کے خلاف بیان ہے ایسے میں بھارت نوازی کی اس کوشش سے پاکستان کے ہاتھ کچھ آئے یا نہ آئے مگر بھارت معاشی بالادستی کے ساتھ ساتھ سیاسی فوائد سمیٹنے کی بھر پور پوزیشن میں ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن کی کال پر ملک گیر یوم احتجاج کے موقع پر اسلام آباد پر یس کلب کے سامنے منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد زبیر فارو ق خان، کاشف چوہدری، ملک عبدالعزیز، خالد فاروق اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے وفاقی کابینہ کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کے فیصلے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت کبھی ہمارا خیر خواہ نہیں رہا، اس نے ہمیشہ بغل میں چھری منہ میں رام رام والی پالیسی اپنائی ہے، چند روپوں کے فائدے کے لئے تحریک آزادیِ کشمیر کی بے توقیری آزادی کی عظیم جدوجہد اور قربانیوں کی نفی ہے۔ بیرونی دباؤ میں آکر حکمران سب کچھ کھوتے جارہے ہیں بھارت کا پاکستان پر معاشی بالادستی کا خواب ہمارے نام نہاد حکمرانوں کے ہاتھوں پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو کنارے لگا کر تجارت کی جائے یا کوئی اور قدم اٹھایا جائے اسکا براہ راست فائدہ بھارت کو ہی پہنچے گا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت جو پہلے ہی زبوں حالی کاشکار ہے مزید ٹھپ ہوجائے گی، بھارت تجارت کی آڑ میں ہمیں نقصان پہنچانے کے مذموم عزائم پر با آسانی عمل کرسکے گا، اس سے نہ صرف تحریک آزادی کشمیر بلکہ پاکستان کی سلامتی کو بھی شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے کہا اعتماد سازی اور تعلقات میں بہتری کے لئے سب سے پہلا قدم مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان عدم اعتماد کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے جسے بھلا کر بیرونی دباؤ میں کوئی بھی قدم اٹھانے اور مصنوعی مسکراہٹیں بکھیرنے سے امن قائم نہیں ہوسکتا موجودہ حکمرانوں کی آواز میں آواز ملانے والا خواہ کوئی بھی ہو قوم کسی کو بھی کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی سلامتی کا سودا نہیں کرنے دے گی۔
خبر کا کوڈ : 115056
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے