?>?> سانحہ کوہستان کیخلاف ملک بھر کے 80 سے زائد شہروں میں لاکھوں افراد کے احتجاجی مظاہرے - اسلام ٹائمز
0
Friday 2 Mar 2012 18:45

سانحہ کوہستان کیخلاف ملک بھر کے 80 سے زائد شہروں میں لاکھوں افراد کے احتجاجی مظاہرے

سانحہ کوہستان کیخلاف ملک بھر کے 80 سے زائد شہروں میں لاکھوں افراد کے احتجاجی مظاہرے
اسلام ٹائمز۔ کوہستان کے علاقے میں بس کے مسافروں کو شہید کرنے کے واقعہ کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی طرف سے 80 سے زائد شہروں میں جمعہ کی نماز کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے فلک شگاف نعرے لگا کر امریکی سی آئی اے اور موساد کے پروردہ دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کے مکمل خاتمے اور ملک بھر میں ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں اور محب وطن پاکستانیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی صدائیں بلند کیں۔ احتجاجی مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور سیاہ پٹیاں اپنے بازئوں پر باندھ رکھی تھیں، بینرز اور پلے کارڈ پر امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد، سی آئی اے اور موساد کے ایجنٹ مردہ باد، رینجرز اپنا رویہ درست کرے، ملت جعفریہ کو تحفظ فراہم کیا جائے کے نعرے درج تھے۔ 

اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی طرف سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں سینکڑوں مظاہرین نے شرکت کی اور دہشتگردوں سے بھرپور نفرت کا اظہار کیا۔ احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کو للکارتے ہوئے کہا کہ ہم دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ سے ڈرنے والے نہیں۔ ہمارے دین اور آئمہ نے ہمیں ظلم اور طاغوتی طاقتوں کے سامنے ڈٹ جانے کا حکم دیا ہے۔ دین اسلام کی اصل تعلیمات اور نظریات کا فروغ ہماری منزل ہے اور ہم اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوہستان کے علاقے میں بس روک کر اس میں موجود ایک خاص فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو شناخت کر کے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ فائرنگ کرتے وقت دہشتگردوں نے عورتوں اور بچوں کی تمیز کا خیال بھی نہیں رکھا۔ علامہ امین شہیدی نے کہا کہ اس سے قبل ان دہشتگردوں نے پاراچنار میں مسجد کے باہر دھماکہ کر کے درجنوں اہل تشیع کو شہید کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ سمیت ملک کے تمام شہروں میں کئی دہائیوں سے کالعدم جماعت سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے دہشتگرد مومنین کو نشانہ بنا کر شہید کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود حسینیت کا علم اٹھانے والے لوگ اپنے مقصد اور ہدف سے پیچھے نہیں ہٹے۔
 
علامہ اصغر عسکری نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مخصوص ادارے ان دہشتگردوں کے سروں پر سے ہاتھ ہٹا لیں تو یہ بزدل اپنے بلوں سے نکل کر بھاگنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دہشتگردی کی لہر پاکستان اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی و معاشی تعلقات متاثر کرنے کی ایک سازش ہے۔ علامہ اصغر عسکری نے کہا کہ امریکی سی آئی اے اور موساد کے یہ ایجنٹ بربریت پھیلا کر ہمیں ہمارے مقصد سے دور نہیں کر سکتے۔ 

مولانا سید حسنین عباس گردیزی نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور تمام تر سکیورٹی ایجنسیاں ہمیں تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی عدلیہ بھی ہمیں انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ مولانا فخر علوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد امریکی ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں اور ملک میں فرقہ واریت پھیلا کر انتشار پیدا کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں لیکن ہم خون کے آخری قطرے تک ان دہشتگردوں کا مقابلہ کریں گے۔ 

علامہ اصغر عسکری نے خطاب کرتے ہوئے کہا قاتلوں کی سرپرست اعلٰی امریکی اور اسرائیلی حکومتیں ہیں۔ جب تک پاکستانی حکومت امریکہ اور امریکی پالیسیوں سے جان نہیں چھڑائے گی اس وقت تک دہشتگردوں اور ان کے ٹھکانوں کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔ ریلی کے اختتام پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی طرف سے مطالبات پیش کیے گئے۔ 

مطالبات:۔ 
1۔ شاہراہ ریشم کو ملت جعفریہ سے متعلق محب وطن مسلمانوں کے سفر کے لیے محفوظ بنایا جائے۔
2۔ رینجرز کو گلگت سے ہٹا کر شاہراہ ریشم پر تعینات کیا جائے۔
3۔ کارگل لداخ روڈ کو فوری طور پر کھولا جائے۔
4۔ اسلام آباد سے گلگت C-130 فضائی سروس شروع کی جائے۔
5۔ شہیدوں کے ورثاء کو 50 لاکھ روپے فی کس ادا کیے جائیں اور لواحقین کو سرکاری ملازمت دی جائے۔ 

اگر ایک ہفتے کے اندر ان مطالبات کو تسلیم کر کے ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا تو گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں اہل تشیع سڑکوں پر نکل آئیں گے اور پارلیمنٹ ہائوس، وزیراعظم ہائوس، ایوان صدر، وزرائے اعلٰی اور گورنر ہائوسز سمیت جی ایچ کیو کا گھیرائو کیا جائے گا۔
 
کراچی:۔
 کراچی میں پرانی نمائش پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی طرف سے بعداز نماز جمعہ احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مولانا صادق تقوی نے کہا کہ ملک بھر میں قتل و غارت گری اور بم دھماکوں کا بازار گرم ہے اور دہشتگرد اپنے آقائوں کو خوش کرنے کے لیے اہل تشیع کو خصوصیت کے ساتھ نشانہ بنا رہے ہیں۔ حالیہ دہشتگردی کی لہر میں شدت ایرانی صدر احمدی نژاد کے دورہ پاکستان کے بعد آئی ہے کہ جب دونوں ممالک ایک دوسرے سے امریکی دبائو اور دھمکیوں کے باوجود بھرپور تعاون کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ اس دہشت گردی کا مقصد پاک ایران تعلقات اور بڑھتے ہوئے تعاون میں رخنہ ڈالنا ہے۔ مولانا صادق تقوی نے کہا کہ دہشتگردوں کو اپنے مقاصد میں بری طرح ناکامی ہو گی۔ مولانا حیدر عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ایجنٹ ملک بھر میں شیعوں کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن ہم ان دہشتگردوں کے عزائم کے سامنے مضبوط دیوار کی طرح کھڑے رہیں گے۔ شہادت ہماری میراث ہے اور ٹارگٹ کلنگ کر کے اور خودکش حملوں سے ہمیں خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔ مولانا عباس وزیری نے کہا کہ ہم اس ملک کے محب وطن شہری اور ذمہ دار ترین لوگ ہیں۔ مومنین کو دہشتگردی کا نشانہ بنا کر پورے خطے کو آگ و خون میں دھکیلنے کی سازش ہو رہی ہے۔ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسے گروپوں کو ریاستی اداروں کی بھی پشت پناہی حاصل ہے۔ 

علی اوسط نے خطاب کرتے ہوئے دہشتگردی کی تازہ لہر کو فرقہ واریت پھیلانے کی سازش قرار دیا۔ احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے محمد مہدی نے کہا کہ کوہستان کے علاقے میں بس پر حملہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں اور انتظامیہ اور حکومت ہمیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔
 
لاہور:۔
 لاہور کے علاقے سمن آباد میں مسافروں کی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالخالق اسدی نے کہا کہ ملک بھر میں اہل تشیع کو شہید کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور کئی دہائیوں سے اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ریاستی ادارے سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسے دہشتگرد گروپوں کی سرپرستی کرتے ہیں جو نہایت افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کو بے نقاب کرنے کا وقت آگیا ہے۔ 

مولانا احمد اقبال رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کی سازش کی جا رہی ہے اور ایک خاص فرقے سے تعلق رکھنے والے محب وطن مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی اگر اس دہشتگردی کا خاتمہ نہ ہوا تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ 
مولانا اقبال کامرانی نے کہا کہ ملک کی سکیورٹی ایجنسیاں ہوش کے ناخن لیں اور دہشتگردوں اور ان کی کمین گاہوں کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔ مولانا اسد نقوی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دہشتگردوں کے پیچھے چھپے چہروں کو بے نقاب کیا جائے۔ سید ناصر شیرازی نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردوں نے سرکاری سرپرستی میں اپنی جڑوں کو مضبوط کیا، لیکن اب ان دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کی ضرورت ہے، تاکہ ملک میں امن کا دور شروع ہو۔ 

پشاور:۔ 
پشاور میں احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سبیل حسن مظاہری نے کہا کہ ایرانی انقلاب سے لے کر آج تک پاکستان بھر میں شیعوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ چن چن کر شیعہ اہم شخصیات اور عام لوگوں کو ٹارگٹ کلنگ کر کے شہید کیا جا رہا ہے۔ شہادت ہماری میراث ہے اور دہشتگردی کر کے ہمیں راہ حسینیت سے دور نہیں کیا جا سکتا۔ 
مولانا عارف شاکری نے کہا کہ سانحہ کوہستان نے کراچی سے خیبر اور مظفرآباد تک مومنین سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ذی شعور انسان کو افسردہ کر دیا ہے۔ ہر آنکھ اشکبار ہے اور دہشتگردوں سے غیر معمولی نفرت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
 مولانا غضنفر کاظمی نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی فرقہ وارانہ دہشتگردی ایک گہری سازش کی عکاس ہے۔ تمام اہل دانش اور ذی فہم پاکستانیوں اور مسلمانوں کو مل کر دہشتگردوں کے سرپرستوں کے خاتمے کے لیے حکمت عملی تیار کرنی ہو گی۔ مولانا سیدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملت جعفریہ کے افراد کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ 

کوئٹہ:۔
 کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سید ہاشم موسوی نے کہا کہ پاکستان میں کراچی سے لے کر خیبر اور مظفرآباد تک ملت جعفریہ کے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے روپ میں چھپے یہ دہشتگرد دراصل طاغوت کے ایجنٹ ہیں۔ ملک بچانے کے لیے ان طاغوتی قوتوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ 
مولانا مقصود حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ کوہستان پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں ایک اور اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشتگردوں کا اپنے خون کے آخری قطرے تک تعاقب کریں گے۔ مولانا ولایت حسین نے خطاب کرتے ہوئے دہشتگردی کے اس واقعہ کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ انسان کے روپ میں چھپے ان درندوں کو کیفرکردار تک پہنچانا نہایت ضروری ہے۔ 

کوہاٹ:۔ 
ملک کے دیگر شہروں کی طرح کوہاٹ میں بھی سانحہ کوہستان کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ارشاد حسین نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ دہشتگردی کے ان واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت شیعیان حیدر کرار کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومتی وعدوں پر اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ مولانا غلام حسین نے خطاب کرتے ہوئے سانحہ کوہستان کو دہشت گردی کا بدترین واقعہ قرار دیا کہ جس میں خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ مولانا حسین اصغر نے کہا کہ دہشتگرد ہمیں ہمارے مقصد اور پرچم حسینی سے دور نہیں کر سکتے، ہم حق کے پرچم کی خاطر ہر دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ 

مولانا کوثر عباس نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہ دہشتگردوں کا تعلق چھپ کر وار کرنے والوں کے خاندانوں سے ہے۔ اس دہشتگردی سے ہمیں ان کی نسل کے حوالے سے بھی بھرپور معلومات ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان بزدل دہشتگردوں کا بھرپور مقابلہ کرنے اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کا مقابلہ جاری رکھیں گے۔ اس حوالے سے سیکورٹی ایجنسیوں کو اپنے رویے اور پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
 
دریں اثناء ملتان، جھنگ، ڈیرہ غازی خان، ضلع جعفرآباد، ڈیرہ مراد جمالی، ڈیرہ اللہ یار، گلگت، بلتستان، ہنزہ، استور، مظفرآباد، کوٹلی، میرپور، لاڑکانہ، شکارپور، میرپورخاص، خیرپور، سکھر، نواب شاہ، رانی پور، سکرنڈ، دائود، حیدرآباد، خیرپورناتھن شاہ، بدین، جیک آباد، سبی، سرگودھا، فیصل آباد، چنیوٹ، کبیروالا، خانیوال، بھکر، ڈیرہ اسماعیل خان، سیالکوٹ، رحیم یار خان، خان پور، کندھ کوٹ، راجن پور اور صادق آباد سمیت 80 سے زائد شہروں میں سانحہ کوہستان کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
خبر کا کوڈ : 142320
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش