0
Saturday 10 Mar 2012 21:40

کالعدم تحریک طالبان پاکستان شدید اندرونی اختلافات کا شکار

کالعدم تحریک طالبان پاکستان شدید اندرونی اختلافات کا شکار
اسلام ٹائمز۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ایک مرتبہ پھر اختلافات کا شکار ہو گئی ہے، اور طالبان کمانڈر فقیر محمد کی برطرفی نے ان اختلافات میں شدت پیدا کر دی ہے، ٹی ٹی پی میں اختلافات کی رپورٹس سب سے پہلے اس وقت سامنے آئی تھیں جب اگست ۲۰۰۹ء میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ان کا کمانڈر بیت اللہ محسود مارا گیا تھا، اس کے بعد نوجوان انتہاء پسند کمانڈر حکیم اللہ محسود نے طالبان کی قیادت سنبھالی اور تحریک طالبان پاکستان کو القاعدہ کے نزدیک دھکیلا، بعض اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے سربراہ ملا عمر نے تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈروں کو امریکہ کے ساتھ بحالی اعتماد کے مذاکرات کی کیوجہ سے حملے روکنے کا کہا تھا اور حکیم اللہ محسود واحد کمانڈر تھا جس نے اس پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

جس کے بعد حکیم اللہ محسود کے اپنے حریف کمانڈر ولی الرحمان کے ساتھ اختلافات شدت اختیار کر گئے، طالبان کی صفوں میں حالیہ اختلافات اس وقت منظر عام پر آئے جب مولوی فقیر محمد جو کہ ولی الرحمان کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا کو تحریک طالبان پاکستان کے ایک اجلاس میں برطرف کر دیا گیا، واضح رہے کہ مولوی فقیر محمد ماضی میں ہونے والے امن معاہدوں میں حکومت پاکستان اور طالبان کے مابین پل کا کردار ادا کر چکا ہے، فقیر محمد کی برطرفی کے بعد سے طالبان کے اختلافات بڑھ گئے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ تحریک طالبان پاکستان مختلف الخیال شدت پسندوں کا گروپ ہے، اس وجہ سے اختلافات کا پیدا ہونا فطری تھا۔

دو روز قبل ایک طالبان کمانڈر نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی طالبان کمانڈرز حکومت پاکستان کیساتھ امن مذاکرات سے قبل آپس میں پائے جانے والے اختلافات کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اس سلسلے میں طالبان کی صفوں میں اختلافات کو دور کرنے کی کوششوں کے طور پر طالبان کمانڈرز سرجوڑ کر مذاکرات کر رہے ہیں، طالبان رہنماء کا کہنا تھا کہ کمانڈرز کے درمیان مذاکرات کا یک نکاتی ایجنڈا ایک پالیسی اپنانے پر متفق ہونا ہے، طالبان کمانڈر نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات ایک دوسرا معاملہ ہے۔ پہلے ہم اپنے اختلافات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں پھر حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا جائیگا، اس نے تصدیق کی کہ حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمان کے درمیان سنگین اختلافات پائے جاتے ہیں۔

گزشتہ روز کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے برطرف رہنماء مولوی فقیر محمد نے غیر ملکی میڈیا کو دیئے جانے والے انٹرویو میں کہا کہ اسے بھی میڈیا ہی کے ذریعے سے معلوم ہوا ہے کہ اسے تحریک طالبان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، اس نے کہا کہ وہ تحریک کے اس فیصلے کی نہ تصدیق اور نہ ہی تردید کر سکتا ہے۔ مولوی فقیر محمد نے بتایا کہ اسے کچھ معلوم نہیں کہ اسے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کس شوریِٰ نے کیا ہے اور اس میں کون کون لوگ شامل تھے اور ایسا کیونکر کیا گیا ہے۔
 
طالبان کمانڈر کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے اس نے جتنی مرتبہ بھی حکومت سے امن مذاکرات کئے تو تحریک کے اکابرین کو اعتماد میں لیا گیا اور اس سلسلے میں ہونے والے ہر فیصلے سے تحریک کے امیر حکیم اللہ محسود اور دیگر کو آگاہ رکھا گیا۔ فقیر محمد نے افغان طالبان کی امریکہ سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سرحد پار طالبان امریکہ سے بات چیت کر سکتے ہیں تو یہاں کے طالبان بھی مذاکراتی عمل میں شامل کیوں نہیں ہو سکتے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کے درمیان اختلافات کی ایک وجہ حکومت کیساتھ مذاکرات بھی ہیں، مولوی فقیر محمد گزشتہ کچھ عرصہ سے حکومت کیساتھ ان ڈائریکٹ رابطے میں بھی ہے، جنوری میں مولوی فقیر محمد درجنوں ساتھیوں کے ہمراہ مذاکرات کیلئے باجوڑ کے حکومتی حمایت یافتہ قبائلی مشران کے پاس آیا تھا اور ان سے مذاکرات کی ایک سے زائد نشستیں بھی ہوئی تھیں، ذرائع کے مطابق یہی وجہ ہے کہ حکیم اللہ محسود اور اسکے ہم خیال کمانڈر، مولوی فقیر محمد کے تحریک طالبان کا مزید حصہ رہنے کے حق میں نہیں، اور فقیر محمد کے قریبی دوست ولی الرحمان نے بھی فقیر محمد کی حمایت میں ہی حکیم اللہ محسود کیساتھ اختلاف کیا ہے، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ مختلف حکومتی اراکین تحریک طالبان کیساتھ مذاکرات کی تردید کر چکے ہیں، لیکن در پردہ طالبان کیساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ 

ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے نمائندوں کے مابین مذاکرات کی بعض آزاد ذرائع تصدیق کر رہے ہیں لیکن حکومتی سطح پر اس مذاکراتی عمل کی مسلسل تردید کی جا رہی ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان میں مختلف امور پر جنم لینے والے اختلافات اس وقت اپنے عروج پر ہیں اور مولوی فقیر محمد جیسے طالبان کمانڈر کی برطرفی کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے، اور صوبائی حکومت کے ترجمان میاں افتخار حسین نے اس اقدام کو سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز اور شدت پسندوں کی شکست سے تعبیر کیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 144293
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب