0
Saturday 21 Nov 2009 11:14

’’امریکی مافیا‘‘ چومسکی کی نظر میں

’’امریکی مافیا‘‘ چومسکی کی نظر میں
ڈاکٹر انور سدید
امریکی دانشور نوآم چومسکی کا بنیادی موضوع تو لسانیات ہے لیکن ان کو زیادہ شہرت امریکی سیاست کے ایک کڑے نقاد کی حیثیت میں ملی ہے۔اسکے سیاسی تبصروں کو امریکی انتظامیہ نے ہمیشہ تشویش کی نظر سے دیکھا کیونکہ چومسکی نے ڈیمو کریٹک اور ری پبلکن پارٹی کی حکومتوں کے دوغلے کردار کو بے نقاب کرنے میں کبھی لگی لپٹی نہیں رکھی اور اپنے تجزیوں میں عالمی امن و انصاف کو فوقیت دی۔یہی وجہ ہے کہ انہیں پوری دنیا میں لیکچر دینے کیلئے بلایا جاتا ہے۔
گزشتہ دنوں لندن کے سکول آف اورنٹیئل اینڈ ایفریقین سٹڈیز میں چومسکی کے دو لیکچروں کا انتظام کیا گیا (واضح رہے کہ نوآم چومسکی چند سال قبل پاکستان بھی آئے تھے اور انہوں نے لاہور میں دانشوروں کو نہ صرف خطاب کیا بلکہ انکے چبھتے ہوئے سوالات کے دو ٹوک جوابات بھی دیے تھے جنہیں امریکہ مخالف حلقوں نے بہت پسند کیا تھا اور پھر چومسکی کے خیالات کی گونج اخبارات میں سنائی دیتی رہی)۔لندن میں چومسکی کے ان دو لیکچروں کی رپورٹنگ مامون العباس نے کی ہے جو اس وقت میرے پیش نظر ہے۔
مامون العباس نے ’’انٹرویو‘‘ میں لکھا ہے کہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اپنی دو میعادیں (8 برس) پوری کرنے کے بعد صدارتی عہدے سے دستبردار ہو گئے تو مہذب دنیا نے سکھ کا سانس لیا لیکن امریکہ کے سرکردہ دانشور نوآم چومسکی نے برملا کہا کہ نئے صدر باراک اوباما سے واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں کسی نمایاں تبدیلی کی توقع ہرگز نہ کی جائے۔ لندن کے دو لیکچروں میں چومسکی نے دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد سے لیکر آج کے دور تک امریکہ کی خارجہ پالیسی کا تجزیہ کیا تو متعدد مثالوں سے واضح کیا کہ گزشتہ 60 برس کے دوران امریکی ڈاکرائن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔چومسکی نے کہا کہ اوباما نے صدارت کا عہدہ سنبھالا تو کنڈو لیزا رائس نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ سابق صدر کے دوسرے دور کی خارجہ پالیسی کو جاری رکھیں گے اور اب تک کے حالات ظاہر کرتے ہیں کہ لہجے کی تبدیلی کے سوا باراک اوباما نے بش کی پالیسی پر ہی عمل کیا ہے۔
اوباما نے باتیں ہی باتیں کی ہیں لیکن جو کچھ عمل میں آ رہا ہے وہ بالکل مختلف داستان سامنے لاتا ہے اور یہ قطعاً اطمینان بخش نہیں ہے۔مثال کے طور پر امریکہ کے اس بنیادی تصور میں کوئی تبدیلی نہیں آئی کہ اگر ہم مشرق وسطیٰ کے تیل کے ذخیروں پر کنٹرول حاصل کر لیں تو ہم پوری دنیا کو امریکہ کے زیرنگیں لا سکتے ہیں۔
چومسکی نے اس امریکی ’’ڈاکٹرائن کو مافیا پرنسپل‘‘ سے موسوم کیا جس میں ’’گاڈ فادر‘‘ حکم عدولی یا نافرمانی کو برداشت نہیں کرتا اور دوسروں کو سبق سکھانے کیلئے کڑی سزا دیتا ہے۔ (ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے تختے تک پہنچا کر،جنرل ضیاالحق کو طیارے میں حادثے کا شکار بنا کر اور نواز شریف کے خلاف فوجی شب خون مار کر،فوجی غاصب جنرل پرویز مشرف کی ’’روح جہاد‘‘ مافیا ڈاکٹرائن کے تحت ہی قبض کر لی گئی تھی اور انہوں نے ایک مڈنائٹ کال پر دہشت گرد بش کو بے بنیاد الزامات کی اساس پر افغانستان پر حملہ کرنے کیلئے امریکہ کی تمام شرائط قبول کر لی تھیں۔ اب صدر زرداری عملی طور پر پرویز مشرف سے بھی زیادہ سہمے ہوئے نظر آتے ہیں اور قصرِ صدارت کے بنکر Bunker میں پناہ گزین ہیں)۔
چومسکی کی رائے میں ’’امریکہ ’کامیاب سرکشی‘ کو ایک متعدی وائرس قرار دیتا ہے جس کے اثرات بڑی تیزی سے پھیلتے ہیں‘‘ چنانچہ سرکشی کے آثار ظاہر ہوتے ہی سرکشی ابھارنے والوں کا قلع قمع کر دیتا ہے۔امریکہ نے اس وائرس کو تہران میں 1953ء میں ابھرتا دیکھا تو ایران کی جمہوریت کا تختہ الٹ دیا اور مقصد ایران کے تیل پر قبضہ قائم رکھنا تھا۔
چومسکی نے کہا 1979 میں ’’ایرانی وائرس‘‘ پھر ابھرا۔ امریکہ نے پہلے حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے فوجی بغاوت کو ہَوا دی۔ناکام ہوا تو عراق کے آمر صدر صدام حسین کو آلہ کار بنایا اور بڑے بے رحمانہ انداز میں صدام کو ایران پر چڑھا دیا۔یہ لڑائی آٹھ سال تک چلتی رہی لیکن امریکہ ایران کو جھکا نہ سکا اور اسے مختلف صورتوں میں اب تک سزا دے رہا ہے۔چومسکی نے امریکی میڈیا کے اس خیال کو بے معنی اور لغو قرار دیا کہ مستقبل کی ایٹمی قوت ایران مشرق وسطیٰ میں اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے جس کے پاس ایٹم بموں کا ذخیرہ موجود ہے اور ایٹم بم کی عدم موجودگی میں ایران کا اسرائیل پر میزائل حملہ ایسے ہی جیسے کوئی سیارچہ کرہ ارض کو نشانہ بنا لے۔ اس کے برعکس ایٹمی طاقت اسرائیل کے پاس جو میزائل ہیں وہ اپنے دفاع کیلئے نہیں بلکہ یہ ایران پر حملے کیلئے ہیں۔
چومسکی نے لندن میں اپنی تقریر کے دوران سامعین کو یاد دلایا کہ امریکہ عراق اور ایران سے پہلے اور بعد میں صدام حسین کی پشت پناہی کس سرگرمی سے کرتا رہا تھا۔ صدام حسین سے سابق امریکی صدر ریگن کی محبت میں کوئی کمی نہ آئی اور سینئر بش نے تو 1989 میں عراقی انجینئروں کو جدید ترین ہتھیاروں کی تربیت کیلئے امریکہ آنے کی دعوت دی تھی امریکی تعاون کے اس دور میں ہی صدام حسین نے اپنے عراقی عوام کیخلاف ظلم و جبر کا بازار گرم رکھا تا آنکہ 1990 میں امریکہ کے قریبی حلیف ملک کویت پر حملہ کر دیا۔اس حملے کیلئے امریکی سفیر کے اشارے سے قطع نظر اب صدام کو ہٹلر کا مثل قرار دیا گیا اور اس کیخلاف امریکہ نے انسانیت کش پابندیاں لگوا دیں۔
چومسکی نے کہا عراق پر 2003ء کا امریکی حملہ جھوٹے الزامات اور غلط بیانیوں کی اساس پر کیا گیا۔اس ناجائز اور ناروا حملے پر امریکہ کے جن دانشوروں نے شدید اعتراضات لگائے اور تنقید کی ان میں باراک اوباما بھی شامل تھے۔
اوباما کے نزدیک یہ غلطی تھی یا ’’سٹرٹیجک بلنڈر‘‘ لیکن یہ اس عظیم غلطی کے مطابق تھی جس کی طرف سے جرمنی کے جنرل سٹاف نے سٹالن گراڈ پر حملہ کرتے وقت ہٹلر کو متوجہ کرایا تھا۔ چومسکی نے اوباما انتظامیہ کو یاد دلایا کہ امریکی عوام کے دباؤ کے باوجود عراق سے انخلا کی صورت پیدا نہیں گئی اور اس ملک میں امریکی فوج کے طویل قیام کے آثار نمایاں ہیں اور اوباما کے دور میں بغداد کے عظیم سفارت خانے کو وسیع تر کیا جا رہا ہے۔
چومسکی نے امریکہ کو عراقی عوام کے مطالبے پر 2006ء میں عام انتخابات کے انعقاد کا کریڈٹ دیا ہے جبکہ بش انتظامیہ اس انتخاب کے حق میں نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج سرکش اور باغی عراقیوں کو بے تحاشا گولیوں کا نشانہ بنا سکتی تھی لیکن عراق کے بازاروں اور شاہراہوں پر احتجاج کرنے اور امریکہ کیخلاف نعرے لگانے والے لاکھوں پُرامن عراقی شہریوں پر گولی نہیں چلا سکتی۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ غیر متشدد عوام کے دباؤ کے سامنے جھکنے پر مجبور تھا۔ اس سے چومسکی نے یہ نتیجہ نکالا کہ عوام الناس کا اجتماعی دباؤ اور احتجاج مغرب اور دوسرے ممالک کی حکومتوں پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے (یہاں پاکستان کے 16 مارچ 2009ء کے پُرامن لانگ مارچ کی مثال دی جاسکتی ہے جو اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت بحالی پر منتج ہوا جبکہ آصف علی زرداری اسے 2008 سے لٹکائے چلے آرہے تھے اور بھوربن معاہدے سے انحراف پر یہ بیان بھی دے چکے تھے کہ ’’سیاسی وعدے قرآن اور حدیث کے احکام نہیں ہوتے‘‘)۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں عراق اور ویت نام کی جنگ میں موازنہ کیا جاتا ہے تو یہ بات نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ ویت نام کی جنگ کے آغاز میں عوام کی طرف سے کسی قسم کی اپوزیشن نہیں کی گئی تھی لیکن عراق کے جنگ میں امریکہ کو پوری دنیا کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یہ عالمی مخالفت مؤثر ثابت ہوئی چنانچہ امریکہ عراق میں وہ جنگی حربے استعمال نہ کر سکا جو اس نے ویت نام میں بے محابا کئے تھے۔ مزید برآں بش انتظامیہ اس دباؤ کے تحت ہی قدم قدم پر اپنے جنگی مقاصد تبدیل کرتی رہی جو پسپائی کے مترادف قرار پا سکتی ہے۔
عراق میں انتخابات کرانا احتجاج کرنے والے عراقیوں کی کامیابی تھی۔چومسکی کے مطابق عراقی عوام کے احتجاج کے زیر اثر ہے امریکہ کو بالآخر اپنے تمام مقاصد سے جن کیلئے یہ جنگ چھیڑی گئی تھی دست کش ہونا پڑا۔ انکی رائے میں عوام الناس کا اجتماعی احتجاج نتیجہ خیز ثابت نہ بھی ہو تو اس کے اثرات سے انکار ممکن نہیں۔اگر احتجاج نہ ہو اور عوام خاموش رہیں تو طاقتور حکمران بے لگام ہو سکتا ہے اور ظلم کر سکتا ہے جیسا کہ کمبوڈیا اور شمالی لاؤس میں ہوا۔‘‘ 
چومسکی کی رائے میں ترکی اگر چاہے تو اس خطے میں ایک نمایاں آزاد کردار کا حامل ملک بن سکتا ہے لیکن اس کے لئے ترکی کو داخلی طور پر کچھ فیصلے کرنے ہوں گے کیا وہ مغرب کا سامنا کر سکتا ہے اور یورپین یونین کے لئے قابل قبول ہو سکتی ہے؟ یا کیا وہ حقیقت کو سمجھ سکتا ہے کہ یورپی لوگ نسل پرست ہیں اور ترکوں کی یونین میں شمولیت کو کبھی قبول نہیں کریں گے اور اس کے داخلے میں رکاوٹیں پیدا کرتے رہیں گے۔ 2003 میں جب ترکی نے عوام کے مطالبے پر عراق پر حملے میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیا تھا تو ترکی نے واقعی ایک آزاد ملک کا حقیقی کردار ادا کیا تھا اور اس حملے کے خلاف اپنے عوام کی رائے کو اہمیت دی تھی۔ اٹلی اور سپین نے اپنے عوام کی رائے کو عراق کے خلاف امریکی جنگ کی سخت مخالف تھی اہمیت نہ دی امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی حمایت کی اور اپنی فوجیں بھیج دیں۔ چنانچہ اٹلی اور سپین کے مقابلے میں ترکی زیادہ جمہوری ملک ہے جہاں عوام کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے اور اب اسرائیل اور امریکہ کی فوجی مشقوں میں ترکی نے عدم شرکت کا فیصلہ کیا ہے تو یہ بھی اس کی آزادی اور خود مختاری کا مظہر ہے۔
چومسکی نے مغرب کی حکومتوں کے بارے میں کہا کہ وہ تھوسی ڈائڈس Thucy dides کے اصول پر عمل کرتی ہیں جو یوں ہے کہ طاقتور اپنی مرضی کے مطابق کام کرتا ہے کمزور لوگ اس کا نقصان اٹھاتے ہیں جو ان کے لئے لازم اور ضروری ہے۔مزید برآں مغرب اپنے عوام کو خوف Fear Factor سے بھی ہانک رہا ہے۔چنانچہ میڈیا اور دانشوروں کی سازشی اجتماعیت سے عوام کو باور کرایا جاتا ہے کہ ان کی حکومت جو مظالم ڈھا رہی ہے وہ ’’قومی دفاع‘‘ کے لئے ہیں اور دوسرے ملکوں میں مداخلت انسانیت کی خدمت کے لئے؟ اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہو سکتا ہے۔
افغانستان کی جنگ کے بارے میں چومسکی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اوباما نے نیٹو Neto کو استعمال کر کے جارج ڈبلیو بش کی چھیڑی ہوئی جنگ کو وسعت دے دی ہے۔ مزید برآں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ امریکہ تیل کی توانائی پر اپنا کنٹرول قائم رکھنے کے لئے بھی نیٹو کو استعمال کر رہا ہے۔ یہ تصور حقیقت پر مبنی تھا کہ مشرق وسطیٰ کے تیل کے چشمے تزویراتی طاقت کا عظیم ترین ذخیرہ ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں اسے قدرت کے بڑے بڑے مادی انعامات میں شمار کیا جاتا ہے۔آئزن ہاور کے الفاظ نے ’’تیل کے اس ذخیرے نے ہی اس خطے کو تزویراتی اہمیت عطا کر دی ہے۔‘‘ مشرق وسطیٰ پر امریکہ کا کنٹرول درحقیقت پوری دنیا پر امریکی کنٹرول کے مترادف ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے امریکہ مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کا راستہ روک رہا ہے،ترقی کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے اور ظالمانہ اور آمرانہ حکومتوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔
صومالیہ،دارفور اور کانگو میں امریکی عیاری کی مثالیں پیش کرنے کے بعد چومسکی نے حماس سے ’’سیز فائر‘‘ توڑنے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا اور غزہ کے محاصرے کو جنگ سے تعبیر کیا،بش اور اوباما نے اسرائیل کو امداد بند کرنے کی دھمکی تک نہیں دی،دونوں نے اسرائیل پر حقیقی معنوں میں کبھی دباؤ نہیں ڈالا اور اس کی سرپرستی اور معاونت کا سلسلہ جاری رکھا۔ان حالات میں اسرائیل کو کیا ضرورت ہے کہ وہ فلسطین سے اوباما کی کھوکھلی ہمدردی پر اعتراض کرے۔
حالات کی نامساعدت کو نوآم چومسکی نے تسلیم کیا لیکن انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اسرائیل کے انسانی جرائم اب منکشف ہو رہے ہیں اور رائے عامہ امریکہ اور برطانیہ کے خلاف ہوتی جا رہی ہے تاہم اسرائیل اپنا وطیرہ تبدیل نہیں کرے گا اس کے لئے مغربی ممالک اور بالخصوص امریکہ میں رائے عامہ بیدار کرنے اور حقائق سے آگہی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔عوامی دباؤ سے حالات کا رخ موڑا جاسکتا ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومتوں کے دروغ پر مبنی پروپیگنڈے کے برعکس عوام کو سچی باتوں اور عریاں حقیقتوں سے باخبر رکھا جائے اور مختلف مسائل و معاملات پر انہیں اپنی رائے خود بنانے کا موقع دیا جائے۔
نوآم چومسکی کی تقریروں کے مندرجہ بالا اقتباسات میں اہل پاکستان کے لئے سوچنے کا بہت سا مواد موجود ہے۔ ہمیں ایک آزاد ملک کی نعمت سے قائداعظم محمد علی جناح سرفراز کر گئے لیکن ان کی وفات کے بعد ملک کی حکومت پر بیوروکریسی نے قبضہ کر لیا اور پاکستانی عوام کو متحدہ قوم بنانے کا عمل کمزور پڑتا چلا گیا اور اب اکیسویں صدی کے پہلے دہے (عشرہ) میں جنرل پرویز مشرف کے فوجی شبِ خون اور اب صدر زرداری کی نااہلی اور بدعملی سے امریکی عملداری اتنی بڑھ گئی ہے کہ آزادی کا تصور ہی معدوم نظر آ رہا ہے اور امریکی بالادستی میں قوم غلامی کی زنجیروں میں پھنسی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ چومسکی نے اپنی متذکرہ بالا تقریروں میں پاکستان کے موجودہ ناگفتہ بہ حالات کا تجزیہ نہیں کیا لیکن انہوں نے عوام کی قوت پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے وہ ایک عملی پیغام کی حیثیت رکھتا ہے اور اس پیغام سے پاکستان کے پسے ہوئے،کچلے ہوئے اور حکومت گزیدہ عوام بھی استفادہ کر سکتے ہیں بلاشبہ عوام الناس کا پُرامن احتجاج ہی پاکستان کی تقدیر تبدیل کر سکتا،عقابوں کے نشیمن کو زاغوں کے نرعے سے نجات دلا سکتا ہے،جمہوریت کی بقا کا ضامن بن سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 15415
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب