0
Sunday 29 Nov 2009 12:11

رہبر معظم کا حجاج بیت اللہ الحرام کے نام اہم پیغام

رہبر معظم کا حجاج بیت اللہ الحرام کے نام اہم پیغام
رہبر معظم کا حجاج بیت اللہ الحرام کے نام اہم پیغام
رہبر معظم انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے عظیم پیغام میں تمام مسلمانوں اور حجاج کرام کو حج کے گرانقدر اور پرغنیمت موقع پر اہم اور اصلی ذمہ داریوں کو پہچاننے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: آج امت اسلامی کی سب سے اہم اور بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ آپس میں محبت و الفت اور اخوت و برادری کے رشتوں کو مضبوط و مستحکم بنائیں ، مختلف روپ دھارنے والے استعماری عفریت کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کریں اور قول و عمل کے ذریعہ مشرکین سے برائت کا اظہار کریں ۔
پیغام کا متن حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
حج کا موسم عالم آفاق میں توحید کی ضوفشانی،تابندگي ،نورانیت اور معنویت کی فصل بہار ہے؛حج کا آئین ایسا صاف و شفاف چشمہ ہے جو حاجی کو غفلت اور گناہ کی آلودگیوں سے دور اور اسے پاک و پاکیزہ بناتا ہے خدا داد فطرت کی نورانیت کو اس کی روح و جاں میں دوبارہ جلوہ گر کرتا ہے۔ میقات حج میں فخر و مباہات کے لباس کو اتارنا اور سب کا ایک ہی رنگ میں لباس احرام زیب تن کرنا ، امت اسلامی کی یکجہتی و یکرنگی کا مظہر اور پوری دنیا میں مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کا شاندار نمونہ ہے حج کا نعرہ ایک طرف: "فالھکم الہ واحد فلہ اسلموا وبشرالمخبتین" ، اور دوسری طرف ؛ "والمسجد الحرام الذی جعلنہ للناس سوآء العاکف فیہ والباد" کا آئینہ اور اسی طرح کعبہ کلمہ توحید کی نمائندگی کے علاوہ توحید کلمہ اور اسلامی برادری و برابری کا بھی مظہر ہے۔
دنیا کے گوشہ گوشہ سے جو مسلمان خانہ کعبہ کے طواف اور حرم پیغمبر اکرم (ص)کی زیارت کے ذوق و شوق سے جمع ہوئے ہیں انھیں امت اسلامی کو درپیش دردناک مسائل اور عظيم چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھانا اور باہمی اتحاد و یکجہتی کو مزید مضبوط و مستحکم بنانا چاہیے۔ آج اسلام دشمن عناصر کا ہاتھ امت اسلامی میں تفرقہ و اختلاف پیدا کرنے کے لئے پہلےسے کہیں زيادہ آشکار اور متحرک ہے جبکہ آج امت اسلامی کو اتحاد و یکجہتی اور ہمدردی و ہمدلی کی پہلے سے کہیں زيادہ ضرورت ہے۔ آج اسلامی سرزمین پر خونخوار دشمن المناک حادثات کو جنم دے رہے ہیں؛ فلسطین صہیونیوں کے خونخوار پنجوں میں مزید درد و غم میں مبتلا ہے؛ بیت المقدس کو زبردست خطرات کا سامنا ہے؛ غزہ کے مظلوم عوام بے رحمانہ قتل عام کے بعد بھی اسی طرح دردناک اور سخت و دشوار شرائط میں زندگی بسر کر رہےہیں؛افغانستان میں غاصب و تسلط پسند طاقتیں ہر روز نئے مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں؛ عراق میں بدامنی نے لوگوں سے آرام و سکون کو سلب کر لیا ہے؛ یمن میں برادر کشی نے امت اسلامیہ کے دل پر ایک نیا داغ لگا دیا ہے۔
دنیا بھرکے مسلمانوں کو غور و فکر کرنا چاہیے کہ حالیہ برسوں میں عراق ، افغانستان اور پاکستان میں رونما ہونے والی دہشت گردی ، بےگناہ لوگوں کا قتل عام، بم دھماکوں، جنگوں اور فتنوں کا جو بازار گرم ہے ان کی تکمیل کی سازشیں اور منصوبے کہاں تیار ہو رہے ہیں؟ علاقہ میں امریکہ کی ظالم فوج کے تسلط اور داخلے سے قبل علاقہ کی مسلمان قومیں کیوں اس درد و رنج و مصیبت میں مبتلا نہ تھیں؟ تسلط پسند طاقتیں ایک طرف فلسطین ، لبنان اور دیگر علاقوں میں عوامی مزاحمتی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دیتی ہیں اور دوسری طرف علاقائی قوموں کے درمیان قومی اور مذہبی منافرت پھیلانے والے دہشت گردوں کی حمایت اور راہنمائی کرتی ہیں ۔ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کی قومیں برطانیہ،فرانس اور دیگر مغربی ممالک کے استعماری پنجوں میں کئی برسوں تک ذلت و حقارت میں جکڑی رہیں۔ انھوں نے ان کے قدرتی وسائل کو تباہ و برباد کیا،ان کے جذبہ آزادی کو بے رحمی کے ساتھ کچلا اور عرصہ دراز تک علاقائی قومیں غیر ملکی حملہ آوروں کی حرص و طمع کا شکار رہیں،جب اسلامی بیداری اور عوامی مزاحمتی تحریکوں کا آغاز ہوا اور جذبہ شوق شہادت،جہاد فی سبیل اللہ اور الی اللہ جیسے بے مثال عوامل نے بین الاقوامی ستمگروں پر قافیہ حیات تنگ کیا تو استعماری طاقتوں نے مکارانہ پالیسیوں کو تبدیل کر کے اپنی گذشتہ پالیسیوں کی جگہ نئی استعماری پالیسیوں کو اختیار کیا اور اسلام کو شکست دینے کے لئے مختلف روپ دھارنے والا استعماری بھوت آج اپنی تمام توانائیوں کو لیکر میدان میں اتر آیا ہے،فوجی طاقت،آہنی پنجہ،آشکارا و غاصبانہ قبضہ،شیطانی تبلیغات کا سلسلہ،تمام ذرائع ابلاغ کے ذریعہ جھوٹے پروپیگنڈوں اور افواہوں کا منظم سلسلہ طے شدہ منصوبہ کے تحت دہشت گردانہ قتل اور ٹارگٹ کلنگ سے لیکر منشیات،بد اخلاقی کی تبلیغ و ترویج ،جوانوں کے عزم و حوصلہ پر کاری ضرب اور مزاحمتی مراکز پر مکمل سیاسی حملہ،مسلمان بھائیوں کے درمیان قومی اور مذہبی منافرت اور تعصب کو ہوا دینا دشمن کی سازشوں کا اہم حصہ ہے۔
اگر امت اسلامی اور مسلمانوں کے درمیان محبت،حسن ظن،ہمدردی اور ہمدلی پیدا ہو جائے اور تعصب و منافرت کی فضا ختم ہو جائے تو دشمنوں کی سازشوں کا بہت بڑا حصہ خود بخود ختم اور غیر مؤثر ہو جائے گا،امت اسلامی پر کنٹرول اور تسلط کا ان کا شوم منصوبہ نقش بر آب اور شکست سے دوچار ہو جائے گا۔
اس عظیم مقصد کو عملی جامہ پہنانےکے لئے حج ایک عظیم موقع ہے۔
مسلمان باہمی تعاون اور قرآن و سنت کے مشترکہ اصولوں پر عمل و اعتماد کرتے ہوئے طاقت اور قدرت حاصل کریں اور مختلف روپ دھارنے والے اس شیطانی عفریت کے مد مقابل کھڑے ہو جائیں،اس کو اپنے ایمانی جذبے اور پختہ عزم کے ذریعہ مغلوب بنائیں۔ حضرت امام خمینی (رہ) کے دروس کی پیروی میں اسلامی جمہوریہ ایران کامیاب مزاحمت کا اعلی اور شاندار نمونہ ہے۔دشمنوں کو اسلامی جمہوریہ ایران میں زبردست شکست ہوئی۔تیس برسوں تک سازش،دشمنی،8 سالہ مسلط کردہ جنگ ،کودتا،اقتصادی پابندیاں،ایرانی اثاثہ کا منجمد کرنا،نفسیاتی و تبلیغاتی جنگ،جدید علوم و ٹیکنالوجی میں ایران کی پیشرفت و ترقی کو روکنے کی کوشش،پرامن ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں گمراہ کن پروپیگنڈے،حتی حالیہ انتخابات میں آشکارا اور واضح مداخلت اور تمام دیگر میدانوں میں دشمن کی تمام کوششیں شکست و ناکامی سے دوچار ہوئی ہیں۔قرآن مجید کی یہ آیۃ: انّ کیدالشیطان کان ضعیفا" ایرانیوں کے سامنے دوبارہ مجسم ہو گئی۔ اور دنیا کے ہر گوشہ میں عزم و ایمان پر مبنی مزاحمت نے لوگوں کو مغرور و مستکبر دشمن کے سامنے پھر سے صف آرا کیا،مؤمنوں کو فتح و کامیابی اور ستمگروں کو ذلت و رسوائی نصیب ہوئی،لبنان میں 33 روزہ نمایاں کامیابی،غزہ میں حالیہ تین برسوں میں کامیاب اور سرافراز جہاد اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے۔
اس الہی وعدہ گاہ میں حاضر ہونے والے تمام نیک و سعادتمند حاجیوں بالخصوص اسلامی ممالک کے خطباء،علماء اور حرمین شریفین کے خطباء جمعہ سے میری استدعا ہے کہ وہ مسئلہ کا درست ادراک کریں اور آج اپنی ذمہ داری کو اچھی طرح اور فوری طور پر پہچان لیں،اپنی پوری قدرت و توانائی کے ساتھ دشمنوں کی سازشوں سے اپنے سامعین و مخاطبین کو آگاہ کریں اور عوام کو محبت و الفت اور اتحاد کا درس دیں اور مسلمانوں کے درمیان بدگمانی اور سوء ظن پیدا کرنے والی ہر بات سے پرہیز کریں،جو بھی نعرہ و فریاد و فغاں ہے اس کو امت مسلمہ کے دشمنوں،امریکہ اور صہیونزم کے خلاف زوردار آواز میں بلند کریں اور اپنے قول و عمل کے ذریعہ مشرکین سے برائت کا اظہار کریں۔
اللہ تعالی کی بارگاہ سے اپنے لئے اور آپ سب کے لئے رحمت و نصرت اور مدد طلب کرتا ہوں۔
والسلام علیکم
سید علی حسینی خامنہ ای
سوم ذی الحجہ الحرام 1430

خبر کا کوڈ : 15966
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب