0
Wednesday 12 Jun 2013 19:26
شام کے مسئلے کو اب بھی پرامن طور پر حل کیا جاسکتا ہے

ایران کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کیلئے، مشرق وسطٰی میں تشدد کا ذمہ دار مغرب ہے، ولادیمیر پیوٹن

ایران کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کیلئے، مشرق وسطٰی میں تشدد کا ذمہ دار مغرب ہے، ولادیمیر پیوٹن
اسلام ٹائمز۔ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے مشرق وسطٰی میں تشدد پر کا ذمہ دار مغرب کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ باہر بیٹھے لوگ مشرق وسطٰی کو اپنی پسند کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں۔
روسی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ مشرق وسطٰی میں یہ کیوں ہو رہا ہے، جو لوگ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کے بعد امن ہو جائے گا یہ سچ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ باہر سے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا قطعاً مطلب یہ نہیں کہ روس بشار الاسد کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تنازعات کو بغیر پیشگی شرط کے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
 
ادھر روس کے صدر نے کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاو کے معاہدے پر پابندی سے عمل کر رہا ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوٹین نے منگل کے روز راشا ٹو ڈے ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاو معاہدے پر پابندی سے عمل کر رہا ہے اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں مغربی ممالک کے دعووں کے باوجود اس حوالے سے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔ روسی صدر کا کہنا تھا کہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کیلئے ہے۔ امریکہ، مغربی ممالک اور ان کے بعض اتحادیوں نے ایران پر پابندیاں لگانے کے بہانے بارہا ایران پر اس کے پر امن جوہری پروگرام میں انحراف پائے جانے کا بے بنیاد الزام عائد کیا، لیکن اسلامی جمہوری ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران این پی ٹی کا رکن ملک ہے، اس لئے اسے پر امن مقاصد کیلئے جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ 

دیگر ذرائع کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد اپنے عوام کے مطالبے کے مطابق ملک میں اصلاحات کا نفاذ کرکے تنازع سے بچ سکتے تھے۔ روسی صدر نے یہ بات ماسکو میں انگریزی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینل کے دفتر کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ شام میں سنجیدہ تبدیلیاں لائی جانی چاہیے تھیں اور قیادت کو بروقت اس معاملے کو محسوس کرنا چاہیے تھا اور تبدیلیوں کے لیے کوشش کرنی چاہیے تھی۔ اگر ایسا ہوجاتا تو پھر شام میں اس وقت جو کچھ رونما ہو رہا ہے یہ نہ ہوتا۔ انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ شام کے معاملات میں غیر ملکی مداخلت کی صورت میں اس ملک کے قدرتی وسائل کی خاطر بڑی جنگ چھڑ جائے گی، جس سے اس خطے میں سرگرم دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے گی۔ تاہم ولادی میر پیوٹن نے زور دے کر کہا کہ مسئلہ شام کو پرامن طریقے سے حل کیے جانے کا امکان اب بھی موجود ہے۔
 
انھوں نے شام کے بیرون سے تعلق رکھنے والے بعض لوگوں پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے کو ایک ہی طرز پر تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ جمہوریت کی آواز بلند کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے امن وامان قائم ہو جائے گا لیکن یہ ہر معاملے میں نہیں ہوسکتا۔ انھوں نے واضح کیا کہ روس بشار الاسد کے وکیل کے طور پر کام نہیں کر رہا ہے اور توقع ظاہر کی کہ روس اور امریکہ کی مجوزہ عالمی امن کانفرنس سے شامی بحران کے حل کے طریقے وضع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ امریکہ اور روس کی یہ مجوزہ کانفرنس پندرہ اور سولہ جون کو جنیوا میں منعقد ہو رہی ہے۔ توقع ہے کہ اس میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندے شرکت کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ عالمی برادری کو کم شدت کے جوہری بم کے استعمال کے منصوبے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو ممکن قرار دے دیا جائے تو اس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اور ویسے بھی جوہری بم کی شدت کی مناسب حد کون متعین کرے گا؟
خبر کا کوڈ : 273018
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب