0
Tuesday 10 Dec 2013 14:19

ایران کیخلاف نئی پابندیوں کیصورت میں جنیوا سمجھوتہ ختم ہوجائیگا، محمد جواد ظریف

ایران کیخلاف نئی پابندیوں کیصورت میں جنیوا سمجھوتہ ختم ہوجائیگا، محمد جواد ظریف
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ہم اس بات پر آمادہ نہیں ہیں کہ کسی قسم کے دباو کے تحت مذاکرات کریں، ایسی صورت میں جنیوا سمجھوتہ منسوخ ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکی کانگریس اسلامی جمہوری ایران کے خلاف مزید پابندیوں کا بل مںظور کرے گی تو یہ اس بات کی نشانی ہوگا کہ امریکی حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے اور وہ کسی راہ حل تک نہیں پہنچنا چاہتی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ان خیالات کا اظہار سوموار کے روز امریکی میگزین "ٹائم" میں چھپنے والے اپنے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ میں امریکہ میں داخلی طور پر موجود پیچیدگیوں اور مسائل سے آگاہ ہوں، لیکن یہ میرے لئے توجیہ پذیر نہیں ہیں، ہماری بھی پارلیمنٹ ہے، مذاکرات میں ناکامی میں ناکامی کی صورت میں ہماری پارلیمنٹ بھی مختلف طرح کے قوانین منظور کر سکتی ہے، تاکہ ان پر عمل کیا جائے، لیکن اگر اس کام کا آغاز کر دیا جائے تو میرا خیال نہیں ہے کہ ہم کسی راہ حل تک پہنچ پائیں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا یہ موقف ایسی صورت میں سامنے آیا ہے جبکہ امریکی کانگریس کے کچھ جنگ طلب ارکان اسلامی جمہوری ایران کی ایٹمی فعالیت کے جاری رہنے کی وجہ سے اس ملک کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کیلئے بحث و گفتگو میں مصروف ہیں۔

دیگر ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جاوید ظریف نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس کی جانب سے ایران پر کسی قسم کی نئی پابندی عائد کرنے کی صورت میں عالمی طاقتوں کے ساتھ کیا جانے والا جوہری معاہدہ ختم ہوجائے گا۔ امریکی میگزین میں شائع ہونے والے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران دباوٴ کے تحت مذاکرات کرنے کو پسند نہیں کرتا۔ اگر امریکی کانگریس نئی پاپندیاں لگائے گی تو اس سے ان کی غیر سنجیدگی ظاہر ہوگی، اور ایسی کوئی پابندی عائد کی گئی جس کا اطلاق چھ ماہ کے عبوری معاہدے کے بعد ہوا تو بھی جوہری معاہدہ ختم ہوجائے گا۔ مذاکرات کی ناکامی کے نتیجے میں ایرانی پارلیمنٹ بھی اس کے جواب میں اقدامات اٹھانے کا اختیار رکھتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 329177
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے