0
Monday 15 Nov 2010 13:28

ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کا حجاج بیت اللہ الحرام کے نام اہم پیغام

ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کا حجاج بیت اللہ الحرام کے نام اہم پیغام
اسلام ٹائمز- قائد انقلاب اسلامی ایران کے دفتر کی ویب سائٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے حجاج بیت اللہ الحرام کے نام ایک اہم پیغام جاری کیا ہے۔ پیغام کا متن قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ 
بسم اللہ الرّحمن الرّحیم 
والحمدللہ رب العالمین و صلی اللہ علی سیدنا محمد المصطفی و آلہ الطیبین و صحبہ المنتجبین
شروع کرتا ہوں خدا کے نام سے جو بڑا مہربان و رحیم ہے اور تمام حمد و ستائش اس اللہ سے مخصوص ہے جو تمام عالمین کا پروردگار ہے اور اللہ کی جانب سے صلوات و سلام ہو ہمارے سید وسردار حضرت محمد مصطفی اور ان کی پاکیزہ آل پر اور ان کے منتخب اصحاب پر ۔
کعبہ اتحاد و عزت کا راز، توحید و معنویت کی نشانی، حج کے موسم میں امید و اشتیاق سے معمور دلوں کا میزبان ہے جو رب جلیل کی دعوت پر جواب دیتے اور لبیک کہتے سراسر عالم سے بھاگتے ہوئے آئے ہیں، امت مسلمہ اس وقت اپنی وسعت و گوناگونی اور ایمانی گہرائی کی چنی ہوئی تصویر، جو اس دین حنیف کے پیرووں کے دل پر حکمراں ہے اپنے بھیجے ہوئے افراد کی نگاہوں سے، جو دنیا کے چاروں گوشوں سے یہاں اکٹھا ہوئے ہیں مشاہدہ کر سکتی ہے اور اس عظیم و بے نظیر سرمائے کو صحیح طور پر پہچان سکتی ہے۔
یہ اپنی تجدید شناسی میں مدد کرتی ہے کہ ہم مسلمانوں کو آج کل کی دنیا میں اپنے مناسب مقام کا علم ہوسکے اور ہم اس سمت میں اپنے قدم بڑھائیں۔
آج کی دنیا میں اسلامی بیداری کی بڑھتی ہوئی لہر وہ حقیقت ہے جو امت اسلامیہ کو ایک اچھے کل کی نوید سنا رہی ہے، تین دہائی قبل سے جب اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلامی جمہوری نظام کی تشکیل کے ساتھ یہ قوی و مقتدر موج شروع ہوئی ہے ہماری یہ عظیم امت کسی توقف کے بغیر ترقی کی طرف گامزن ہے اس نے اپنی راہ سے تمام رکاوٹیں برطرف کر کے کئي مورچوں کو فتح کرلیا ہے بڑی طاقتوں کی دشمنی کے طریقۂ کار اور زيادہ پیچیدہ ہوجانے کے باعث بھاری اخراجات کے ساتھ جو کوشش وہ اسلام سے مقابلے کے لئے کررہے ہیں وہ بھی ان ہی ترقیوں کی وجہ سے ہے، اسلام ہراسی کو ہوا دینے کی راہ میں دشمن کے وسیع پروپیگنڈے، اسلامی فرقوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے اور فرقہ وارانہ تعصبات کو برانگیختہ کرنے کے لئے جلد بازي کی حرکتیں، اہلسنت کے لئے شیعوں سے اور شیعوں کے لئے اہلسنت سے جھوٹی دشمن تراشیاں، مسلمان حکومتوں کے درمیان تفرقہ افگنی اور اختلافات کو بڑھا وا دیکر اسے دشمنیوں میں تبدیل کرنے اور ناقابل حل جھگڑے بنادینے کی کوششیں اور جوانوں کے درمیان برائی اور بدتہذیبی پھیلانے کے لئے اطلاع رسانی اور خفیہ کارکردگی کے سرکاری و غیر سرکاری اداروں سے استفادہ یہ تمام کے تمام سراسیمگی اور آشفتہ وری کے ردعمل ، بیداری اور عزت و آزادی کی طرف امت اسلامیہ کی متین و سنجیدہ حرکت اور محکم و استوار اقدامات سے مقابلے کے لئے ہی دیکھنے میں آرہے ہیں ۔
آج تیس سال پہلے کے برخلاف ، صیہونی حکومت کوئي ناقابل شکست ہیولی نہیں رہ گئی ہے۔ دو دہائی پہلے کے برخلاف امریکہ اور مغرب، مشرق وسطی کے سلسلے میں بے چون و چرا فیصلے کرنے والی قوتیں نہیں ہیں، دس سال پہلے کے برخلاف ایٹمی ٹیکنالوجی اور دوسری پیچیدہ قسم کی ٹیکنالوجیاں علاقے کی مسلمان ملتوں کے لئے ان کی دسترس
سے دور کوئی افسانوی چیز شمار نہیں ہوتیں؛ آج ملت فلسطین استقامت کی چیمپئن ہے ، ملت لبنان، اکیلے ہی صیہونی حکومت کی کھوکلی ہیبت کو چکنا چور کر دینے والی تینتیس روزہ جنگ کی فاتح ہے اور ملت ایران بلند و بالا چوٹیوں کی طرف گامزن علمدار و خط شکن ہے۔
آج امریکہ سب سے بڑی قوت! خود کو اسلامی علاقے کا کمانڈر سمجھنے والا، صیہونی حکومت کا اصل پشتپناہ اپنے آپ کو اس دلدل میں گرفتار پا رہا ہے جو اس نے خود افغانستان میں تیار کیا ہے، عراق میں، ان تمام جرائم کے ساتھ جو اس نے اس ملک کے لوگوں پر کئے ہیں، کنارے لگنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ مصیبت زدہ پاکستان میں ہمیشہ سے زيادہ نفرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ آج اسلام مخالف مورچہ جو دو صدیوں تک اسلامی ملتوں اور حکومتوں پر ظالمانہ حکم چلاتا چلا آ رہا تھا اور ان کے ذخیروں کو لوٹ کھسوٹ رہا تھا اپنے اثر و رسوخ کے زوال کے ساتھ اپنے خلاف مسلمان ملتوں کی دلیرانہ ایستادگي واستقامت کا شاہد اور نظارہ گر ہے۔
اور اس کے بالمقابل اسلامی بیداری کی تحریک روز افزوں گہری ہوتی اور پھیلتی جا رہی ہے۔ ان امید افزا بشارت کے حامل حالات میں مسلمان ملتوں کو چاہئے کہ ایک طرف ہمیشہ سے زيادہ مطمئن ہو کر اپنے منظور نظر مستقبل کی طرف قدم بڑھائیں اور دوسری طرف ہمیشہ سے زيادہ اپنی عبرتوں اور سبقوں کی طرف سے ہوشیار و خبردار رہیں۔ یہ عمومی خطاب بلاشبہ دوسروں سے زيادہ دینی علماء، سیاسی لیڈروں، روشن فکروں اور جوانوں کو متعھد اور وفادار دیکھنا چاہتا ہے اور ان سے مجاہدت اور پیش قدمی کا مطالبہ کرتا ہے۔
قرآن کریم آج بھی بالکل واضح الفاظ میں ہم سے مخاطب ہے:
کنتم خیر امّۃ اخرجت للنّاس تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر و تؤمنون باللہ ( آل عمران/ 110)
(تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لئے نمایاں کیا گیا ہے تم لوگوں کو اچھائی کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو)۔
اس عزت آفریں خطاب میں امت اسلامیہ کو پوری بشریت کے لئے ایک وجود قرار دیا گيا ہے اور اس امت کی پیدائش کا مقصد، انسان کی نجات اور انسان کی بھلائي ہے۔ ان کا ایک بڑا فریضہ بھی اچھائی کا حکم دینا برائی سے منع کرنا اور خدا پر پکا ایمان رکھنا ہے۔ کوئي اچھائي (معروف) بڑی شیطانی طاقتوں کے چنگلوں سے ملتوں کی نجات سے بڑھ کر اور کوئی برائی (منکر) بڑی طاقتوں کی غلامی اور ان کے ساتھ وابستگي سے بدتر نہیں ہے۔ آج فلسطین کی ملت اور غزہ میں محصور کر دئے جانے والوں کی امداد، افغانستان، پاکستان، عراق، اور کشمیر کی ملتوں کے ساتھ ہمدردی اور ہمراہی، امریکہ اور صیہونی حکومت کی زیادتیوں کے خلاف مجاہدت اور استقامت، مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی پاسبانی اور اس اتحاد کو چوٹ پہنچانے والی بکی ہوئي زبانوں اور کثیف و آلودہ ہاتھوں سے پیکار اور تمام اسلامی حلقوں میں مسلمان جوانوں کے درمیان احساس ذمہ داری اور دینداری و بیداری کی ترویج و فروغ، بہت بڑے فرائض ہں جو خواص امت سے تعلق رکھتے ہیں۔
حج کا پرشکوہ منظر، ان فرائض کی انجام دہی کے لئے زمین ہموار ہونے کی نشان دہی کرتا اور ہم کو دوگنی کوشش اور چوگنی ہمت و محنت کی دعوت دیتا ہے۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ
سید علی حسینی خامنہ ای
یکم ذی الحجۃ الحرام 1431 ہجری 
08 / 09 / 2010۔
خبر کا کوڈ : 44189
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب