1
0
Saturday 28 Mar 2015 22:10
یمن میں سعودی عرب کی شکست حتمی ہے

سعودی عرب مظلوم فلسطینیوں کی مدد کیلئے فوجی اتحاد تشکیل دے کر کاروائی کیوں نہیں کرتا، سید حسن نصراللہ

سعودی عرب مظلوم فلسطینیوں کی مدد کیلئے فوجی اتحاد تشکیل دے کر کاروائی کیوں نہیں کرتا، سید حسن نصراللہ
اسلام ٹائمز- حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کل جمعہ 27 مارچ کی رات یمن کی صورتحال اور مشرق وسطی کے حالات کے بارے میں تقریر کرتے ہوئے یمن کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں مغرب نواز اتحاد کی فوجی کاروائی کو "جارحیت پر مبنی اقدام" قرار دیا اور کہا کہ یمن کے عوام سعودی جارحیت کے خلاف دفاع کا پورا حق رکھتے ہیں۔ 
 
سعودی عرب یقینا شکست کھائے گا اور یمنی عوام کی کامیابی قطعی ہے:
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ مظلوم فلسطینی قوم کئی عشروں سے صہیونی رژیم کے ظلم و ستم کے خلاف مدد کیلئے پکار رہی ہے۔ لبنانی عوام نے بھی 1982ء میں مسلمانوں کو اپنی مدد کیلئے پکارا۔ لبنان کو اب تمہاری (سعودی حکام) کی ضرورت نہیں لیکن مظلوم فلسطینی آج بھی عرب ممالک سے مدد طلب کر رہے ہیں لیکن کوئی ان کی مدد کو تیار نہیں۔ پس کیا ہوا کہ عرب ممالک یمن کے خلاف اکٹھے ہو گئے؟ ان میں ایسی شجاعت اور قوت فیصلہ کہاں سے آئی؟ گذشتہ چند سالوں کے دوران ہمارے خطے میں جو کچھ بھی ہوا، سعودی عرب ٹس سے مس نہ ہوا، لیکن آج ہوا جس کے باعث اس نے فوجی کاروائی شروع کر دی ہے؟ کیا دنیا کی طاقتور ترین فوج کے حامل اسرائیل کی جانب سے درپیش خطرے نے آپ کو پریشان کر دیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی اسرائیل کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے اور اس کے خلاف کسی "فیصلہ کن طوفان" آپریشن کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ 
 
سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر تم لوگ یمن کی جدید صورتحال کے بارے میں پریشان ہو اور تم لوگوں کا مقصد منصور ہادی کو یمن واپس لوٹانا ہے تو مقبوضہ فلسطین کو آزاد کروانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ ہمیں دکھ اس بات کا ہے کہ گذشتہ سالوں کے دوران مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں عرب ممالک کا کوئی "طوفان" اسرائیل کے خلاف کیوں نہیں چلا؟ طوفان تو دور کی بات اسرائیل کے خلاف ہلکی سی ہوا بھی نہیں چلتی۔ 
 
یمن پر حملے کیلئے سعودی عرب کے پیش کردہ بہانے نامعقول ہیں:
سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان سید حسن نصراللہ نے یمن پر جارحیت کیلئے سعودی عرب کے پیش کردہ بہانوں کو مکمل طور پر نامعقول قرار دیتے ہوئے کہا: "سعودی عرب نے یمن پر حملے کے تین بہانے پیش کئے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ یمن کے قانونی صدر کو واپس اقتدار میں لوٹانا چاہتا ہے۔ اگر مان بھی لیا جائے کہ منصور ہادی یمن کا قانونی صدر ہے، تو کیا یہ جواز یمن کے خلاف جنگ کے آغاز کیلئے کافی ہے؟ آپ نے اس سے پہلے تیونس کے خلاف ایسا اقدام کیوں نہیں کیا؟ وہاں بھی عوام نے زین العابدین کے خلاف انقلاب کر کے اسے ملک سے نکال باہر کیا تھا۔ مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کے خلاف رونما لینے والے انقلاب کے بارے میں سعودی عرب کا دشمنانہ موقف کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سعودی عرب نے اس وقت نہ ہی تیونس اور نہ ہی مصر کے خلاف اپنے بقول قانونی صدور کے اقتدار کو بچانے کیلئے کسی قسم کا فوجی اتحاد تشکیل نہیں دیا۔ پس یمن کے خلاف کیوں تشکیل دیا؟ لہذا یہ انتہائی نامعقول بہانہ ہے اور بڑا جھوٹ ہے اور کسی قانونی صدر کو واپس اقتدار میں لوٹانے کا راستہ بھی یہ نہیں جو اپنایا گیا ہے۔ 
 
سعودی عرب کا دوسرا بہانہ یہ ہے کہ یمن کی تازہ صورتحال سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کی قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ میں ان سے پوچھوں گا کہ اس دعوے کی دلیل کیا ہے جس کی بنا پر یمن میں قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا گیا ہے؟ یہ اقدام انسانیت کے منافی ہے اور دین خدا میں بھی اس کی اجازت نہیں۔ بلکہ یہ جرج بش کی منطق کے مطابق ہے جو افراد کی نیتوں اور ارادوں کی بنا پر ان کے قتل عام کو جائز قرار دیتی ہے۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ یمن کے تمام مسائل کی وجہ وہاں موجود دہشت گردی، خراب معیشت اور ترقی کا فقدان ہے۔ گذشتہ دسیوں سال سے یمن اس صورتحال کا شکار ہے۔ یمن کی قوم نے کیا کیا ہے جو سعودی عرب اور خلیجی ممالک کیلئے خطرے کا باعث بن گیا ہے؟ جو کچھ ہمارے علم میں ہے اس کے مطابق انصاراللہ میں سرگرم ہمارے بھائی سعودی عرب، قطر اور دوسرے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ رابطے میں تھے۔ وہ سابق سعودی فرمانروا ملک عبداللہ کی نماز جنازہ میں بھی شریک ہوئے۔ لیکن ملک عبداللہ کی وفات کے بعد سعودی عرب نے ان سے رابطہ ختم کر دیا۔ انصاراللہ نے کبھی بھی سعودی عرب کے خلاف اعلان جنگ نہیں کیا بلکہ وہ مذاکرات کے خواہاں تھے۔ 
 
یمن پر فوجی جارحیت کیلئے سعودی عرب کی جانب سے پیش کردہ تیسرا بہانہ، جس کا سب سے زیادہ نامعقول ہونے کے باوجود عرب میڈیا سب سے زیادہ اسے پیش کر رہا ہے، یہ ہے کہ ایران یمن پر قبضہ کر چکا ہے اور ہم یمن میں ایران کی مداخلت ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے جسے رائج کیا جا رہا ہے۔ آپ کے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ایران نے یمن پر قبضہ کر لیا ہے؟ قبضے اور تسلط کی واضح علامات اور اثرات پائے جاتے ہیں۔ کیا یمن میں ایران کی فوج موجود ہے؟ کیا یمن میں ایران کا کوئی فوجی اڈہ ہے؟ کیا واقعاً ایران نے یمن پر قبضہ کر لیا ہے؟"
 
یمن پر جارحیت کی اصل وجہ سعودی عرب کی بیمار ذہنیت ہے:
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ یمن پر حالیہ جارحیت کی حقیقی وجہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی بیمار ذہنیت ہے جس کی بنا پر وہ خطے کی اقوام اور عوام کی آزادی اور خودمختاری کو برداشت نہیں کر سکتے۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ خطے میں جس جگہ عوام اپنی آزادی اور خودمختاری کی کوشش کرتے ہیں، فورا سعودی بلاک ان کے مقابل آن کھڑا ہوتا ہے۔ تیونس، مصر اور لیبیا کے انقلابی عوام کے ساتھ سعودی عرب کے رویے کی اصلی وجہ بھی یہی ہے۔ ایسی بیمار ذہنیت کا نتیجہ وہ غلط پالیسیاں ہیں جو آج سعودی عرب نے اپنا رکھی ہیں اور ان کا شکست سے روبرو ہونا یقینی امر ہے۔ سعودی عرب سمجھتا ہے کہ یمن اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور اب اپنے عوام کی ملکیت بن چکا ہے جہاں یمنی عوام اپنی مرضی کے حکمران خود چن کر اقتدار میں لا سکتے ہیں۔ سعودی عرب یمن پر اپنا کھویا ہوا تسلط اور قبضہ واپس لوٹانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے وہ یمنی عوام اور فوجیوں کا قتل عام کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ 
 
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ سعودی عرب کی غلط اور نامعقول پالیسیوں کی وجہ سے خطے میں ایران کی مقبولیت کے دروازے کھل گئے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب اور اس کے مغرب نواز اتحادیوں کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ آپ ہیں نہ ایران۔ اصل مسئلہ خطے کے مسائل سے آپ کی ناواقفیت اور عدم آگاہی ہے۔ جب 1982ء میں اسرائیل کی صہیونی رژیم نے لبنان پر قبضہ کر لیا تو شام کے علاوہ تمام عرب ممالک نے لبنان کو اکیلا چھوڑ دیا۔ لبنانی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کے ساتھ دوستی کریں جو ان کی حمایت کرتا ہے، چاہے وہ شام ہو یا ایران یا کوئی اور ملک۔ ایران دنیا کے اس کونے سے آیا اور لبنان کی مدد کی۔ اس نے لبنان کو اکیلا نہیں چھوڑا اور لبنانی عوام کی پکار پر لبیک کہی اور اپنے تجربے، اسلحے اور ہر ممکنہ وسیلے سے لبنانیوں کی مدد کی۔ لبنان میں جاری مزاحمت لبنانی تھی۔ 
 
عراقی عوام کا خودکش دھماکوں سے قتل عام کرنے والا سعودی عرب تھا:
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ بندر بن سلطان (سعودی عرب کا سابق انٹیلی جنس چیف) وہ شخص تھا جس نے تکفیری دہشت گروہ "داعش" کو پیسہ اور اسلحہ فراہم کیا اور پھر ان درندوں کو آزاد چھوڑ دیا۔ سعودی عرب نے پہلے عراق میں صدام حسین کو ایران کے خلاف جنگ پر ابھارا اور دونوں ممالک کو تباہ و برباد کر دیا۔ اس کے بعد امریکی صدر جرج بش کو عراق کے خلاف فوجی کاروائی پر اکسایا۔ سعودی حکام عراق پر امریکی فوجی حملے کا حصہ تھے۔ اس کے بعد جب سعودی حکام نے دیکھا کہ عراقی عوام صدام حسین کے شر سے نجات ملنے کے بعد اپنی آزادی اور خودمختاری کے خواہاں ہیں تو تکفیری دہشت گرد عناصر کو عراق کی جانب دھکیل دیا۔ میں عراقی عوام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ پوری دنیا کو یہ حقیقت بتائیں کہ وہ قوت جس نے خودکش بمبار اور خودکش گاڑیاں عراق میں داخل کیں اور ان کا قتل عام کیا اور اس کی نظر میں کرد، عرب، شیعہ اور سنی میں کوئی فرق نہیں تھا، سعودی رژیم تھی۔ سعودی حکام کا آخری جرم داعش کو اسلحہ سے لیس کر کے شام بھیجنا ہے۔ وہ شام میں بشار اسد اور عراق میں نوری مالکی کی حکومت گرانا چاہتے تھے۔ 
 
سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ہم نے لبنان میں اسرائیل کو شکست دینے کے بعد چاہا کہ اپنی کامیابی کو دوسرے عرب ممالک تک بھی پھیلائیں، لیکن وہ ہچکچا گئے اور یہ تصور کرنے لگے کہ ہماری طرف سے ان کو پیش کی جانے والی مدد ایک ایرانی اور مذہبی مدد ہے۔ ایران نے کبھی بھی لبنان پر قبضہ نہیں کیا اور کبھی بھی اپنا ارادہ لبنان پر مسلط نہیں کیا۔ انہوں نے مظلوم فلسطینی قوم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، اعراب اور خلیجی حکومتوں نے مظلوم فلسطینی عوام کو تنہا چھوڑ دیا تاکہ وہ اسرائیل کے مقابلے میں قتل ہوتے رہیں اور جلاوطنی پر مجبور ہوتے رہیں اور امریکہ سیاسی راہ حل کی تلاش کرتا رہے۔ امریکی راہ حل سراب کے سوا کچھ نہیں۔ سید حسن نصراللہ نے عرب ممالک کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا: "آپ لوگوں کے پاس بے تحاشہ اور لاتعداد دولت ہونے کے باوجود فلسطینی عوام غربت اور افلاس کا شکار کیوں ہیں؟ اگر انہیں اسلحہ فراہم نہیں کرنا چاہتے تو ہمیں بھی تمہارے اسلحے، سپاہیوں اور "فیصلہ کن طوفان" کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایرانی عوام موجود ہیں جو تمام تر اقتصادی پابندیوں کے باوجود فلسطینیوں کی مدد میں مصروف ہیں"۔ 
 
ایران سلطنت نہیں بلکہ ایک اسلامی ملک ہے جو دوسری اقوام کی مدد کرتا ہے:
سید حسن نصراللہ سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان نے ایران کے بارے میں جاری منفی اور زہریلی پروپیگنڈے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے کبھی بھی ہم پر اپنی رائے زبردستی مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی اور لبنان کے داخلی معاملات کے بارے میں کبھی ہم سے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ ہم مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی سلطنت کا نام نہیں بلکہ ایک اسلامی ملک ہے جو دوسری مظلوم اور مسلمان اقوام کی بھرپور حمایت اور مدد کرتا ہے۔ اس نے ہمیشہ لبنان، شام، عراق، فلسطین اور یمن کی مسلمان اقوام کی مدد کی ہے اور اس کے عوض نہ ان سے کوئی مطالبہ کیا ہے اور نہ ہی اپنا موقف ان پر مسلط کرنے کی کوشش کی ہے۔ 
 
یمن میں سعودی عرب کی شکست حتمی ہے:
سید حسن نصراللہ نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ یمنی عوام کے ساتھ اپنی دشمنی کو ختم کر کے پرامن اور سیاسی طریقے سے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے۔ صرف اسی صورت میں موجودہ بحرانی صورتحال کو سلجھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یمن کے خلاف سعودی جارحیت کی حمایت کرنے والے ممالک کے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ضمیر اور دین اسلام کی روشنی میں بننے والی ذمہ داریوں پر عمل کریں۔ سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان نے جارح قوتوں کے مقابلے میں دفاع کو مظلوم یمنی عوام کا مسلمہ حق قرار دیتے ہوئے کہا: "یمنی عوام مزاحمت کا راستہ جاری رکھیں گے اور کامیابی سے ہمکنار ہوں گے، کیونکہ یہ الہی اور تاریخی قانون ہے۔ کیا سعودی فوج امریکی فوج سے زیادہ طاقتور ہے؟ آج امریکی فوج عراق میں کن حالات کا شکار ہے؟ کیا سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی فوجی قوت اسرائیل آرمی سے زیادہ طاقتور ہے؟ اسرائیل آرمی کا غزہ میں کیا انجام ہوا؟"
 
سید حسن نصراللہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا: "ابھی سعودی عرب کے پاس اس بات کا موقع موجود ہے کہ وہ یمنی عوام کے ساتھ برادرانہ انداز میں پیش آئے اور خود کو ذلت سے نجات دلائے۔ انہیں ہوائی حملوں اور بمباری سے خوش نہیں ہونا چاہئے۔ تمام فوجی تحقیقاتی ادارے اور ماہرین متفق القول ہیں کہ فضائی کاروائی اور بمباری سے کسی جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ سعودی عرب کی زمینی فوج کہاں ہے؟ سعودی عرب پاکستان، مصر اور اردن کی زمینی فوج کو میدان جنگ میں بھیجنا چاہتا ہے، لیکن خطے کی عوام اچھی طرح آگاہ ہے کہ سعودی حکومت کا خاتمہ یقینی ہے"۔ 
 
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یمن کے عوام اپنی سرزمین اور اپنے وقار کا دفاع کریں گے۔ عرب ممالک کو چاہئے کہ وہ یمنی عوام کے قتل عام میں مشارکت کی بجائے سیاسی راہ حل اپنانے کی کوشش کریں جس کا موقع ابھی باقی ہے۔ یمنی عوام الہی اور تاریخی قانون کی بنا پر یقینا کامیاب و کامران ہوں گے اور جارح قوتوں کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 
خبر کا کوڈ : 450623
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
بسم الله الرحمن الرحیم
خدا آقای خامنہ ای کو سلامتی دے۔
سعودیہ کو برباد کرے۔
منتخب