0
Tuesday 31 May 2011 14:20

علم کا حصول ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض جبکہ طالبان تعلیمی اداروں کو دھماکوں سے اڑا رہے ہیں

علم کا حصول ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض جبکہ طالبان تعلیمی اداروں کو دھماکوں سے اڑا رہے ہیں
پشاور:اسلام ٹائمز۔ افغانستان سے متصل فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں دہشت گردوں کی طرف سے سکولوں کی تباہی اب ایک معمول سا بنتا جا رہا ہے اور طالبان نہاہت بے دردی کے ساتھ قومی دولت کو تباہ کر رہے ہیں۔ انکے عقل میں یہ نہیں آ رہا کہ سکولوں کو تباہ کرنا ملک و قوم کی موجودہ و آئندہ نسلوں سے دشمنی ہے اور پاکستان کے عوام ان کو اس وطن دشمنی پر کبھی معاف نہیں کریں گے۔ سکول قومی اثاثے ہیں جہاں اس ملک کے بچے اور بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر آئندہ ملک و قوم کی خدمت کرتے ہیں۔ پاکستان میں پہلے ہی 25 ملین بچے اور بچیاں حصول تعلیم کی نعمت سے محروم ہیں۔ تعلیم ایک ایسی بنیاد اور ستون ہے جس پر ملک کی سلامتی کا تمام دارومدار اور انحصار ہے۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی میں بے حد اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم کی اہمیت کا اعتراف ازل سے ہر مہذّب معاشرہ کرتا آیا ہے اور ابد تک کرتا رہے گا۔ 21ویں صدی میں تعلیم کی اہمیت پہلے کی نسبت زیادہ تسلیم کی جا رہی ہے۔ آج کی زندگی میں تعلیم سے شعور آتا ہے۔ آج کے ترقیاتی دور میں تعلیم کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ تعلیم انسان کو اپنی صلاحیت پہچانے اور ان کی بہتر سے بہتر تربیت کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوتی ہے۔ تعلیم یافتہ لوگ ہی ایک بہتر سماج اور ایک ترقی یافتہ ملک و قوم کی تعمیر کرتے ہیں اور معاشی ترقی کیلئے اس کی اہمیت ناگزیر ہے۔ قوموں کے عروج و زوال کی کہانی میں تعلیم کا کردار بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ جس قوم نے اس میدان میں عروج حاصل کیا، باقی دنیا اس قوم کے سامنے سرنگوں ہوتی چلی گئی۔
قرآن کا پہلا لفظ ہی اقراء ہے اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اس میدان میں اپنے قدم جمائے رکھے، دنیا پر حکمرانی کرتے رہے۔ اور جیسے جیسے "اقراء" کا درس ان کے ذہنوں سے محو ہوا، غلامی نے ان پر اپنا گھیرا تنگ کر دیا۔ انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف، علم و آگہی کی بدولت حاصل ہے۔ دین و دنیا کی تمام تر ترقیاں اور بلندیاں علم ہی کے دم سے ہیں۔ اس لئے اسلام نے سب سے زیادہ زور علم حاصل کرنے پر دیا ہے۔ اور رسول گرامی ص کا ارشاد ہے۔ "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔"
طالبان نے اب تک 10000 سے زیادہ طلبہ و طالبات کے سکولوں کو تباہ و برباد کر کے قرآن کریم کے احکامات اور رسول (ص) کی احادیث کی صریحا خلاف ورزی کا ارتکاب کیا۔ اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے ان درندوں نے اپنے حملوں کے دوران سکولوں کے بچوں، بچیوں اور اساتذہ کو بھی نہیں بخشا۔ طالبان کے مزید حملوں کے خوف سے صوبہ کے 205 پرائمری سکول بند کر دیئے گئے، جس سے ہزاروں بچیاں تعلیم سے محروم ہو گئیں۔ 30 فیصد سے زیادہ لڑکیاں سوات میں 2006ء اور 2007ء میں طالبان مولوی فضل اللہ کی دھمکی آمیز ریڈیو تقریروں کی وجہ سے سکول چھوڑ گئیں۔ طالبان نے سوات میں سکول کی بچیوں کے سکول جانے پر پابندی عائد کر دی۔ طالبان نے 19 جنوری 2011ء کو پشاور کے ایک نجی سکول کے باہر دھماکہ کیا، جس سے دو افراد ہلاک اور 15 بچے زخمی ہو گئے، اس سے دو سال قبل طالبان نے کیڈٹ کالج رزمک کے 200 سے زائد طلباء کو اغوا کیا تھا۔ سکولوں اور دیگر سرکاری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری مقامی طالبان وقتاً فوقتاً قبول بھی کرتے رہے ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اِن حملوں میں فاٹا اور خیبر پختونخوا میں کم سے کم ایک ہزار سے زیادہ سکول، بنیادی صحت کے مراکز اور دیگر سرکاری و نیم سرکاری دفاتر کو تباہ کیا جاچکا ہے۔ ان دھماکوں کی وجہ سے ہزاروں طلبہ تعلیم کےحصول سے محروم ہو چکے ہیں۔ پتہ نہیں ان وحشی درندوں کو تعلیم اور تعلیمی اداروں سے اس قدر چڑ کیوں ہے اور یہ لوگ پاکستانی مسلمانوں کو زیور تعلیم سے بے بہرہ کیوں رکھنا چایتے ہیں؟ کیا ان کو پاکستانی مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور شعور و آگہی کا کوئی لحاظ ہے؟ یا یہ لوگ فاٹا اور خیبر پختونخواہ کے عوام کو جارج بش کے دھمکی کو عملہ جامعہ پہناتے ہوئے پتھر کے دور میں لے جانا چاہتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 75836
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب