1
0
Thursday 16 Apr 2015 12:54

متحدہ عرب فورس، فوجی اتحاد یا سیاسی گٹھ جوڑ؟

متحدہ عرب فورس، فوجی اتحاد یا سیاسی گٹھ جوڑ؟
تحریر: شاہین زین علی
 
حال ہی میں مصر کے شہر شرم الشیخ میں عرب لیگ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں رکن ممالک نے متحدہ عرب فورس بنانے پر اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر رکن ملک نے مختلف محرکات کے تحت اس منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ محرکات آپس میں زیادہ ہم آہنگ بھی نظر نہیں آتے۔ ممکنہ متحدہ عرب فورس، جس کا کردار عرب لیگ کے ملٹری ونگ جیسا ہو گا، کی تشکیل کے بارے میں درج ذیل اہم نکات قابل غور ہیں: 
 
1)۔ خطے کے موجودہ حالات کے تناظر میں ایسی فورس کی تشکیل کا قانونی جواز بذات خود ایک حل طلب مسئلہ ہے۔ دوسری طرف عرب لیگ نے شام کی رکنیت معطل کر کے اس کی جگہ شام مخالف گروہوں کو دی ہوئی ہے۔ شام، عرب دنیا کا ایک اہم ملک شمار ہوتا ہے اور اس کی غیرموجودگی میں ایسے فیصلے کا قانونی جواز مشکوک ہو جاتا ہے جس کے حتمی صورت اختیار کرنے میں عرب لیگ کے تمام رکن ممالک کی منظوری کی ضرورت ہے۔ اسی طرح شرم الشیخ میں منعقدہ عرب لیگ کے اجلاس میں یمن کے مستعفی صدر کی شرکت بھی اس اجلاس کے فیصلوں کو قانونی طور پر مشکوک اور متزلزل بنا دیتی ہے کیونکہ خود یمن کے مستعفی صدر کی اپنی قانونی حیثیت بھی تزلزل اور شکوک و شبہات کا شکار ہے۔ 
 
2)۔ عرب لیگ کے رکن ممالک کی متفاوت ساخت، ایسی ممکنہ متحدہ عرب فورس کو ہمیشگی تناو اور داخلی کشمکش کا شکار کر دے گی۔ ماضی میں جنرل ڈی گال کے زمانے میں فرانس اور امریکہ کے درمیان پائی جانے والی کشیدہ صورتحال کے مغربی فوجی اتحاد "نیٹو" پر اثرات ایسی متحدہ فورسز پر رکن ممالک کے کشیدہ تعلقات کے اثر کا واضح نمونہ ہیں۔ جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ اور فرانس میں جنرل ڈی گال کے زمانے میں پائی جانے والی جزئی کشیدگی، آج کے دور میں بعض عرب ممالک میں پائی جانے والی شدید کشیدگی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ قطر اور سعودی عرب کے تعلقات، عمان کی پالیسیاں، عراق اور شام کی صورتحال اور لبنان کی کمزور اور متزلزل کابینہ، وہ موارد ہیں جو متحدہ عرب فورس کی کارکردگی کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔ 
 
3)۔ مسئلہ فلسطین: مسئلہ فلسطین اور متحدہ عرب فورس کی تشکیل کے ساتھ اس کا تعلق انتہائی قابل غور امر ہے۔ عرب لیگ کے رہنماوں اور متحدہ عرب فورس کی تشکیل کا منصوبہ بنانے والوں کو ان سوالوں کا جواب دینا چاہئے: اس فورس کا "غزہ کی پٹی" کے ساتھ تعلق کس نوعیت کا ہو گا؟ اس متحدہ عرب فورس کی تشکیل میں مغربی کنارے میں موجود فلسطینی حکومت کا کردار کیا ہو گا؟ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے پر ممکنہ اسرائیلی جارحیت، جس کا امکان ہر لحظہ پایا جاتا ہے، کی صورت میں اس متحدہ عرب فورس کا ردعمل کیا ہو گا؟ مسئلہ فلسطین اس متحدہ عرب فورس کے سامنے ہمیشہ ایک بڑے چیلنج کی صورت میں موجود رہے گا اور عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کا تاریخی جائزہ لینے سے قوی امکان یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ متحدہ عرب فورس اسرائیل کے مقابلے میں اپنے پہلے راونڈ میں ہی شکست کھا کر پیچھے ہٹ جائے گی۔ 
 
4)۔ ممکنہ متحدہ عرب فورس کی جانب سے خطے میں موجود مسائل کے بارے میں یکساں رویہ اختیار کیا جانا ابھی سے انتہائی شکوک و شبہات کا شکار ہے۔ عرب لیگ کے بعض رکن ممالک کی جانب سے شام، عراق اور بحرین کے سیاسی حالات کے بارے میں دوغلے معیاروں کی بنیاد پر مختلف رویے اپنائے جانا اور ان ممالک میں سرگرم حکومت مخالف گروہوں کے بارے میں یکساں پالیسی اختیار نہ کئے جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مستقبل میں بھی مشابہ موارد میں متحدہ عرب فورس کا رویہ مشکلات کا شکار رہے گا۔ کس منطق کے تحت شام کی قانونی حکومت کے مقابلے میں سرگرم دہشت گروہوں کی مدد اور حمایت کی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف بحرین اور یمن میں آمرانہ نظام حکومت کے خلاف برسرپیکار جمہوریت پسند مخالفین کو کچلنے کیلئے فوجیں بھیج دی جاتی ہیں؟ رکن ممالک کے مابین انجام پانے والے معاہدے کے نتیجے میں ایسی متحدہ فورس بنانا ناممکن ہے جو ایک طرف تو اپنی ایک رکن حکومت کے خلاف لڑ رہی ہو جبکہ دوسری طرف "قانونی جواز کے دفاع" کے بہانے دوسری رکن حکومت کا دفاع کرنے میں مصروف ہو۔ ایسی پالیسی اتخاذ کئے جانے کا نتیجہ متحدہ فورس کے قبل از وقت زوال کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ جبکہ متحدہ عرب فورس کی جانب سے تمام عرب حکومتوں کے بارے میں یکساں پالیسی اختیار کئے جانا بہت ناممکن نظر آتا ہے۔ 
 
5)۔ سعودی عرب کا مرکزی کردار اور اسے درپیش چیلنجز: آل سعود حکومت ایسی ممکنہ متحدہ عرب فورس کی تشکیل اور بقا میں مرکزی کردار ادا کرنے کی بہت زیادہ مشتاق نظر آتی ہے۔ "عربی اتحاد" میں شامل سعودی عرب کے بعض اتحادی ممالک کی جانب سے یمن پر ہوائی حملوں کا آغاز ایسی ممکنہ متحدہ عرب فورس کی تشکیل کا مقدمہ اور مبنا قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بارے میں سعودی عرب کو دو بڑے چیلنجز درپیش ہیں: پہلا یہ کہ یمن کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا نتیجہ نامعلوم اور مبہم ہے۔ اگر یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کو شکست ہو جاتی ہے تو متحدہ عرب فورس اپنے آغاز سے ہی بہت بڑے دھچکے کا شکار ہو جائے گی۔ دوسرا چیلنج خود سعودی عرب کا مستقبل ہے۔ اس وقت سعودی عرب اپنے اردگرد موجود مسائل کو حل کرنے میں بری طرح ناکامی کا شکار ہو چکا ہے۔ ایک طرف سابق سعودی فرمانروا ملک عبداللہ کی وفات کے بعد اس ملک میں شروع ہونے والی شدید سیاسی کشمکش کا اب تک جاری رہنے اور دوسری طرف مختلف خطوں میں براہ راست اور بالواسطہ فوجی مداخلت کے ذریعے مطلوبہ سیاسی اہداف کے حصول میں شدید ناکامی نے سعودی عرب کی سیاسی اور فوجی طاقت اور اعتبار کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اسی طرح ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان ابتدائی سیاسی معاہدے کی وجہ سے خطے میں سعودی عرب کی پوزیشن تبدیل ہو جانے سے بھی یہ ملک عرب لیگ اور اس کے ملٹری ونگ میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کی صلاحیت کھو دے گا۔ سعودی عرب کے علاوہ کوئی دوسرا عرب ملک بھی ایسا مرکزی کردار ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ لہذا سعودی عرب کے مرکزی کردار اور مالی اور سیاسی مدد کے بغیر، انتہائی بعید نظر آتا ہے کہ ممکنہ متحدہ عرب فورس سوڈان، لیبیا اور الجزائر جیسے غریب اور پسماندہ ممالک کے ذریعے خطے میں موجود مسائل کو اکیلے کنٹرول کرنے میں کامیاب رہے گی۔ 
 
مذکورہ بالا نکات کی روشنی میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ متحدہ عرب فورس کا تصور اور اس کی تشکیل کیلئے انجام پانے والا معاہدہ، ایک دفاعی – سکیورٹی معاہدے کی بجائے خود عرب لیگ میں موجود مشکلات اور مسائل پر قابو پانے کی ایک سیاسی تگ و دو ہے۔ البتہ اس بات کا امکان بھی دور از ذہن نہیں کہ بعض خاص حالات میں عرب لیگ سے باہر قوتوں کی حمایت اور مدد کے ذریعے اسے ایک علاقائی طاقت بنا کر جنوب مغربی ایشیا کے حالات پر موثر قوت کے طور پر سامنے لایا جائے۔ ہر لمحہ یہ امکان پایا جاتا ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین عرب لیگ کا ملٹری ونگ تشکیل پانے کے بارے میں اپنے موقف کا اظہار کریں جو اس کی تقویب کا باعث بن جائے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو اس صورت میں متحدہ عرب فورس صرف ایک علامتی فورس کی حد تک باقی رہ جائے گی۔ 
خبر کا کوڈ : 454786
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

نورسید
Pakistan
یہ متحدہ فورس صرف مسلمانوں کے خلاف استعمال ہوگی؟
مثال اور ثبوت یمن، بحرین اور شام وغیرہ ہیں۔