2
0
Sunday 3 Jul 2016 01:35

مسئلہ یمن میں اقوام متحدہ کا جنگ افروزانہ کردار

مسئلہ یمن میں اقوام متحدہ کا جنگ افروزانہ کردار
تحریر: مہدی شکیبائی

اقوام متحدہ اپنی تاسیس کے بعد اس وقت تاریخ کے ایسے دور سے گزر رہی ہے جو اکثر بین الاقوامی مبصرین کی نظر میں جدید انسانی تاریخ کا اہم ترین اور فیصلہ کن ترین مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں ذکر ہوا ہے "انسانی حقوق سے متعلق ایشوز پر توجہ" 1945ء میں اس تنظیم کے معرض وجود میں آنے کی بنیادی ترین وجہ تھی۔ دوسری عالمی جنگ اور نسل کشی کے زمرے میں آنے والے واقعات رونما ہونے کے بعد ایک ایسی نئی تنظیم کی تشکیل کے بارے میں عالمی اتفاق رائے پیدا ہوا جو مستقبل میں مشابہہ ناگوار حادثات کی روک تھام میں موثر ثابت ہو سکے۔ ایسی تنظیم کی تشکیل کا بنیادی مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی موصولہ شکایات کو مناسب انداز میں پرکھنے اور ان پر مناسب ردعمل ظاہر کرنے کیلئے ایک قانونی ڈھانچے کی ایجاد تھی۔ اقوام متحدہ کا چارٹر تمام رکن ممالک پر انسانی حقوق کا احترام اور پابندی لازم قرار دیتا ہے اور سب پر زور دیتا ہے وہ اس مقصد کے حصول کی ہر ممکنہ کوشش انجام دیں۔

انہیں بنیادوں پر حال ہی میں اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں سعودی عرب کی سربراہی میں یمن کے خلاف جنگ میں مصروف اتحاد کو عمومی مقامات کو نشانہ بنانے، عام شہریوں کے قتل عام اور 60 فیصد سے زائد یمنی بچوں کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا۔ لیکن سعودی عرب اور یمن کے خلاف جارحیت میں اس کے اتحادیوں نے اس رپورٹ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے غیرمعمولی اقدام انجام دیتے ہوئے یمن کے خلاف جارحیت میں مصروف سعودی عرب کی سربراہی میں فوجی اتحاد کا نام انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکال دیا۔ ان کا یہ اقدام انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنا۔ یمن میں سعودی اتحاد کے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی یہ رپورٹ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کی جانب سے تیار کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں 13 ماہ کے دوران سعودی عرب اور اس کے دیگر اتحادی عرب ممالک کی جانب سے یمن کے خلاف جارحیت کے دوران جاں بحق ہونے والے بیگناہ شہریوں اور بچوں کے اعداد و شمار جاری کئے گئے تھے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کی جانب سے مارچ 2015ء سے شروع ہونے والی یمن کے خلاف جارحیت میں اب تک 7 ہزار سے زائد بیگناہ شہری جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ اسی طرح دسیوں ہزار شہری جنگ کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

سعودی اتحاد کی جانب سے یمن پر ہوائی حملوں میں 80 فیصد انفرااسٹرکچر، اسپتال، صحت کے مراکز، غذائی مواد اور دوائیوں کے ذخائر، اسکول، عام افراد کی رہائشگاہیں اور بنیادی ڈھانچے تباہ ہو چکے ہیں۔ اس رپورٹ میں سعودی اتحاد کی جانب سے ممنوعہ جنگی ہتھیاروں کے استعمال کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اسی رپورٹ کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فہرست جاری کی جس میں سعودی عرب اور یمن کے خلاف جارحیت میں شریک اس کے اتحادی ممالک کا نام بھی شامل تھا۔ بان کی مون جن کے عہدے کی مدت پوری ہونے والی ہے اور صرف دو ماہ بچ گئے ہیں نے قلابازی لگاتے ہوئے بعض ممالک کی جانب سے شدید دباو کے نتیجے میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کا نام انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکال دیا۔ البتہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ بان کی مون اپنے اپنائے ہوئے موقف یا فیصلے سے پیچھے ہٹے ہیں۔ گذشتہ سال جب جنیوا 2 مذاکرات میں شرکت کیلئے مختلف ممالک کو دعوت دی جا رہی تھی تو بان کی مون نے ایران کو بھی دعوت دے دی لیکن جب دعوتنامے بھیجنے کی باری آئی تو امریکہ اور سعودی عرب کے دباو کے باعث اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ایران کو دعوتنامہ بھیجنے سے گریز کیا۔

اقوام متحدہ کے نائب سیکرٹری جنرل ششی تھرو جنہوں نے 2006ء میں بان کی مون سے رقابت بھی کی، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کیلئے ان ضروری خصوصیات کے بارے میں جن کی روشنی میں سلامتی کونسل اس عہدے کیلئے مناسب امیدوار کا انتخاب کر کے اس کا نام جنرل اسمبلی کو بھیجتی ہے، کہا: "اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل نقطہ نظر، پلاننگ، صلاحیتوں، فصاحت و بلاغت یا پرکشش شخصیت کے باعث انتخاب نہیں کیا جاتا۔ یہ سیاسی عہدہ جس کی ذمہ داریوں کی وضاحت تفصیل طلب کام ہے ایسے قواعد و ضوابط کے تابع ہے جو زیادہ تر سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کی جانب سے بنائے گئے ہیں۔ کئی مواقع پر ایسے شخص کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے طور پر انتخاب کیا گیا ہے جو پیش آنے والے واقعات اور ایشوز پر شدید ردعمل سے پرہیز کرتا ہو۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین ایسے شخص کو اس عہدے کیلئے ترجیح دیتے ہیں جو لیڈر بننے کی بجائے ان کے سامنے تابعداری کا اظہار کرے۔ یہ رویہ اتنی جلدی تبدیل ہونے والا بھی نہیں"۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ارتکاب کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالے جانے کے بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

1۔ اقوام متحدہ کے فیصلوں کا بے اعتبار ہو جانا: اقوام متحدہ کے سابقہ رویے کے پیش نظر عالمی رائے عامہ آج کے بعد اقوام متحدہ کے فیصلوں کے منصفانہ اور آزادانہ ہونے کو قبول نہیں کرے گا۔ اقوام متحدہ ایسا ادارہ ہے جس کی بنیادی ترین ذمہ داری انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سدباب کرنا اور دنیا میں امن و امان کے قیام کا زمینہ فراہم کرنا ہے لیکن اس ادارے کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے اس قسم کے فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ادارہ دنیا کے مختلف حصوں میں انسانی حقوق کو محفوظ بنانے اور امن و امان قائم کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے۔ یہ تاثر دنیا کے مختلف ممالک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر جری کر دے گا اور انہیں انسانیت کے خلاف جرائم انجام دینے کی ترغیب دلائے گا۔

2۔ اقوام متحدہ کا جنگ افروزانہ کردار: کویت میں جاری امن مذاکرات کے دوران سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا یہ اقدام درحقیقت یمن کے خلاف جنگ میں مصروف سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کو سبز جھنڈی دکھانے کے مترادف ہے تاکہ وہ ایک سال سے زیادہ اپنی جارحیت کو قانونی جواز کا حامل ظاہر کر سکیں۔ اسی طرح سعودی اتحاد اپنے حریف کو مطلوبہ مطالبات منوانے کیلئے مزید شدت پسندی اور جنگی جنون اختیار کرنے کے راستے پر گامزن ہو گا۔ اس طرح درحقیقت خود اقوام متحدہ نے ہی جنگ کی آگ کے شعلے مزید پھیلنے کا زمینہ فراہم کیا ہے اور اپنے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔

3۔ یمن کے مسئلے میں اقوام متحدہ کی غیرجانبداری کا متنازعہ ہو جانا: گذشتہ کئی ماہ سے اقوام متحدہ کی ثالثی میں یمن کے مسئلے کو پرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن بان کی مون کے حالیہ اقدام نے اقوام متحدہ کی غیرجانبداری پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے موقف میں اچانک تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ اب غیرجانبدار نہیں رہی بلکہ وہ بھی یمن جنگ کا فریق بن چکی ہے اور جنگ کا فریق کبھی بھی عادلانہ اور منصفانہ انداز میں ثالثی کا کردار ادا نہیں کر سکتا۔ لہذا کم از کم یمن کے مسئلے میں اقوام متحدہ کی حیثیت اور اعتبار ختم ہو چکا ہے۔
خبر کا کوڈ : 550448
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
جنگ افروزانہ کردار???اس کا کیا مطلب ہے
Iran, Islamic Republic of
جنگ کی آگ بھڑکانے اور جلتی پر تیل ڈالنے والا کردار
منتخب